سنہری یادیں ۔۔ واجد امیر

اُسی زمانے میں جب ایک روپے کی تین تصاویر بنتی تھیں کبھی مبشر (چچا ذاد ) کے ساتھ کبھی اپنے نو زائدہ بھانجے بھانجیوں کے ساتھ خوب تصویریں اُتروائی گئیں کچھ بچ گئیں کچھ پھاڑدیں گئیں تصویریں بنوانے کا شوق ہمارا خاندانی تھا تب بھی تھا جب شاذو نادر تصاویر اُتاری جاتی تھیں اب بھی ہے جب سب کچھ بہت معمول کی بات ہو کے رہ گیا ہے ۔
           تصویر سے یاد آیا ساتویں یا آٹھویں کلاس میں ہوں گے ہمارے ساتھ دو بھائی پڑھتے تھے منور اور اقبال۔ اُس زمانے میں دو بھائیوں کا ایک کلاس میں داخلہ دلوایا جاتا تھا ایک تو فیس کم ہو جاتی تھی دوسرے آنے جانے میں آسانی ہوتی تھی یہ بھی عام تھا کہ دو بھائی ایک ہی کلاس میں پڑہتے ہوں ان کے علاوہ بھی چار پانچ جوڑے بھائیوں کے تھے ان میں سے دو بھائیوں کی لوہے کی گرِل کھڑکیاں بنانے کا کام تھاان بھائیوں کے نام ہم قافیہ ہوتے تھے انور سرور ، چمن گلشن ، وغیرہ وغیر ہ منور و اقبا دونوں بھائی ہی دوست تھے مگر ہمیںطعنے مارتے تھے کہ تم تو دوسرے بھائی کے دوست ہوان کا گھر نیشنل ٹاؤن میں ہوتا تھا اور اس کے اطراف بھی کھیت تھے ان کی کوٹھی بہت بڑی تھی ان کے والد کا کوئی اچھا بزنس تھا ایک دن اقبال نے اسکول کے راستے ہی سے ہمیں اُچک لیا کہ میری کمیٹی نکلی ہے اور ہم عیاشی کریں گے سو ہم ڈبل ڈیکر بس پہ بیٹھ کے چڑیا گھر چلے گئے خوب سیر کی کھایا پیا جب اسکول کا وقت ختم ہونے لگا تو ہم واپس کرشن نگر آگئے اور ہم نے نوری بلڈنگ نکڑ پہ فوٹوگرافر سے تصویریں بھی اُترائیں یہ سب آئیدیے اقبال کے تھے کہ پیسے جو اُس کے تھے ایک ایک پوز ہم نے ایکشن لگا کےکیلا کھاتے ہوئے بھی بنایا پھر یہ ہنگامہ پرور دن تمام ہوا اگلے دن منور نے بتایا اقبال کی کمیٹی نہیں نکلی تھی بلکہ امی کی کمیٹی نکلی تھی جو اقبال نکال لایا سو اب کیا ہوسکتا تھا چڑیا کھیت چگ گئیں تھیں ۔
       انہیں بھائیوں کو پروجیکٹر پہ فلم لگانے کا بہت شوق تھا او رکہیں سے چھوٹا سا پروجیکٹر لایا بھی گیا ایک فلم کا ایک آدھ سین دیکھا بھی گیا اس کے لیے گھر کی دیوار کا کوئی بستر کی چادر ٹانگ کے فلم کا ایک آدھ سین بغیر آواز کے دیکھا جاتا تھا اور پھر تالیاں ۔ آج کے نسلِ نو کو کیا معلوم کہ جوانہیں ایک کلک پہ دکھائی دے رہا ہے ہم اس کے ایک ایک سین کے لیے کتنے پاپڑ بیلتے تھے ۔ پھر وہ بچپن کی دوستیاں دوریوں میں بدل گئیں منور فلمی اسٹوڈیو میں کہیں گم ہو گیا اور اقبال کی دکان جیل روڈ کی توسیع کی زد میں آگئی ہم ایک دوسرے کو بھول گئے۔
       بھٹو صاحب کے زمانے میں ٹیلی ویژن میں ضیا محی الدین شو شروع ہوا جسے دیکھنے کے لیے بہت اہتمام کیا جاتا تھا ہمارے گھر میں این ، ای ، سی ٹیلی ویثرن تھا جو ۱۹۶۵؁ کی جنگ کے دوران آیا تھا یہ ٹیلی ویثرن بہت عرصہ ساتھ رہا ۔ ٹیلی ویژن کا وقت شام پانچ بجے سے رات گیارہ بجے تک تھا البتہ ستر کی دہائی میں اتوار کی صبح نشریات ہوا کرتی تھیں جن میں عمدہ غزلیں اور گیت نشر ہوتے تھے آج کی تمام تر مشہور غزلیں اُسی زمانے کی تھیں ۔
             یہ بھی عجیب بات تھی کہ لاہور کے تقریباً بڑےبڑے تعلیمی اداروں میں ہمارے خاندان کے لوگوں کی کیفے ٹیریا تھے معلوم نہیں کیوں یہ لوگ اس کام میں آئے جبکہ سراج تایا گورنمٹ کالج کے گریجویٹ تھے تھے حمید چچا ایم اے او کالج امرتسر سے تھے میٹرک سے کم کسی کی بھی تعلیم نہ تھی جبکہ اس زمانے میں میٹرک بہت سمجھی جاتی تھی اس کے بے باوجود یہ سب پاکستان آکے ایک ہی کاروبارسے منسلک ہو گئے اور یہ تھا ریستورنٹ کا پہلے ہی پاک ٹی ہاؤس اور چینیز لنچ ہوم سے جو ابتدا ہوئی تو ہم سب اسی میں کھپتے چلے گئے البتہ ٹھیکیداری اور ہسپتالوں میں اشیاکی سپلائی کا کام کرتے رہےاور پھر انہوں نے بھی نشتر ہسپتال میں سپلائی کاکام کرتےکرتے نشتر کاکیفے ٹیریا لے لیا یہی بعد ازاں بڑے تایا جی کومل گیا گواسمیں کچھ شکر رنجیاں بھی ہوئی مگر یہ تو ہوتا ہے خاندانوں میں ۔
ایک وقت میں نشتر ہسپتال ، کنگ ایڈورد ، پنجاب یونیورسیٹی نیو کیمپس ، پنجاب اسمبلی ، پیپلز ہاؤس ،انجینیرنگ یونیوسٹی ، اٹامک انرجی کمیشن، ریڈیو پاکستان، ہائی کورٹ ایف سی کالج ، ایم اے او کالج کے کیفے ٹیریا اسی خاندان کے پاس رہے اس کے علاوہ ائرپورٹ اور سینکڑوں جگہوں پہ پارٹیاں اور کیٹرنگ کا کام انہی کے سپرد تھا پہلی مرتبہ جب شاہ ایران پاکستان آیا تو شالامار باغ میں مہمانوں کی تواضع کے لیے پاک ٹی ہاؤس کو شرف بخشا گیا ۔۔
 ہمارے دادا کی بہت سی جائداد تھی جس میں سے کچھ کے بدلے ہمیں پاکستان میں جائداد ملی جیسے ایک مکان اور دو بیٹھک ( چھوٹے مکان)کی جگہ کرشن نگر کا بڑا مکان الاٹ ہوا برف کے کاربار کی وجہ سے برف کے کارخانے الاٹ ہوئے ان سب میں سے جو برف کا کارخانہ الاٹ ہوا تھا وہ بینک سکوئر نیلا گنبد میں تھا اس زمانے میں اس کے سامنے برٹش یا امریکن کونسلیٹ تھا ایہ کارخانہ فروخت ہوا تو اس کی جگہ کا حصہ اباجی کو تقریناً بیس ہزار ملا تھا اس زمانے میں چوہان روڈ اور ّآخری بس اسٹاپ کے نذدیک جگہ پانچ سوروپے مرلہ زمین تھی ایک جگہ زمین خریدنے کے لیے بیعانہ بھی ہو گیا تھا پھر بہن کی شادی آگئی اورمرحلہ کھٹائی میں پڑ گیا ایک دکان جو ٹیکسالی دروازے میں تھی اباجی کے نام تھی اسے بھی بیچ دیا گیا چودہ ہزار میں فروخت ہوئی اوریہ بھی اس کاروبار میں اور منجلی بہن کی شادی میں لگ گئے اور کاروبار بھی کیا تھا کسی نے اباجی مرحوم کو ایک کینٹین کا بتایا جسے ہم نے شروع کیا یہ قزافی اسٹیڈیم سے پہلے ایک گلی اُترتی تھی اسی میں اٹامک انرجی کمیشن کا سب آفس تھا ۔
         جیسا کے نام سے ظاہر ہے یہ کینٹین ایک اہم ادارے میں تھی سو اس میں ہر کس ناکس کا داخلہ ممکن نہیں تھا صرف وہی لوگ اندر آتے تھے جو ملازم تھے یہ نئی کینٹین اچھی صاف ستھری تھی اس کے ساتھ ایک خوبصورت برآمد بھی تھا اس کے عقب میں کھلی جگہ تھی ہر طرف باغیچے تھے کینٹین کے اند کھلا ہال کمرہ تھا جس کے ایک طرف کاونٹر تھا جس کے پیچھے کچن تھا کچن بھی کھلا ہوا دار تھا اس میں الیکٹرک کے چولہے تھے اس زمانے میں ابھی یہاں سوئی گیس نہیں آئی تھی ۔
     ہم دونوں باپ بیٹےصبح سائیکلوں پہ سامان لاد کے منہ اندھیرے نکل پڑتے اور شام کو گھر واپس آتے اللہ جانے یہ کہاں سے آیا مگر ہمارے پاس ایک ملازم تھا جو پاک ٹی ہاؤس اور چینیز لنچ ہوم والے بیروں کا رشتہ دار تھا یہ لمبا تڑنگا پکے رنگ اور چمکیلی آنکھوں والا چرب زبان اور سست انسان تھا شایدیہ لاہور کے اُس زمانے کے بیشتر ریستورانوں میں کام کر چکا تھا اور سب جگہ سے نکالا گیا تھا دوسرے ملازم نہیں ملتے تھے کبھی ایک لڑکا جو صفائی کرتا تھا اسی سے ہم کچھ تھوڑا بہت کام کروالیتے تھے اسےبھی کام سیکھنے کا شوق تھا مگر کچھ فضول کے مذہبیوں نے اعتراض کر دیا مرتا کیا نہ کرتا اسی پریشانی سے بچنے اور کچھ مذید لڑکے ملازم رکھنے کے لیے ہم بیری والےاحاطے گئے اس جگہ دور دور کوئی ٹریفک یا انسان نظر نہ آتا تھا ہم واقعی یہاں جا کے خوف ذدہ ہوئے یہ جہاں اب ایوانِ اقبال ہے یہاں ایک کچی بستی ہوتی تھی جہاں اسکردو گلگت سے آئے ہوئے لوگ رہتے تھے اسے بیری والا احاطہ کہتے تھےچونکہ یہ نور بخشی تھے اور شیعہ تھے اوران کی امام اشرف چچا بارگاہ بھی تھی سواسی امام بارگاہ یا مسجد کے پاس کچھ لوگ مل گئے جن سے ہم نے ان لوگوں سے پوچھا جو کام کرنا چاہتے ہوں اور پتا بھی سمجھایا پھر ایک اسکردو کا بلتی آگیا یہ پہلے پہل بہت خوفزدہ اور ڈرا ہوا رہتا تھا پھر اسے کچھ بہتر کردیا اسی لمبوترے نے ۔یہ سکردو والا لڑکا بالکل ناواقف تھا اوراسے ہر کام سمجھانا پڑتا تھا ۔
اُن دنوں ہمارا یار چندا بھی فارغ تھا ایک دن چندا کے ابا کہنے لگے تو اسے اپنے ساتھ کام پہ لے جایا کر ہم نے اباجی سے بات کی تو اباجی مان گئے اب چندا کو گھر سے لانا ہماری ذمہ داری بن گئی ہم صبح منہ اندھیرے چندا کو نیند سے جگانے اس کے گھر جاتے جہاں آوازیں لگانے سے محلے والے جاگ جاتے مگر چندا نہیں جاگتا یہ بھی یاد کروا دیں کہ چندا کے والدین نابینا تھے پھر حافظ جی دوازہ کھول دیتے اور ہم لڑ جھگڑ کے چندا کو اُٹھا ہی لیتے ۔ اباجی پہلے ہی چلے جاتے پھر ہم دونوں نکلتے اُس زمانے میں لاہور خالی ہوتا تھا صبح کا سہانہ سماں ہوتا اور ہم ایک سائکل پہ دونوں یار نکل پڑتے آدھے راستے وہ سائکل چلاتا اور آدھے راستے ہم یاد رہے اسے سائکل بھی ہم نے ہی سکھلائی تھی ہم جنازگاہ چوک پہ پھولوں والوں کی دکانوں کے پاس ایک دکان سے لاہور ملک پلانٹ کے دودھ کے پیکٹ خریدتے اور چل پڑتے جہاں فاضلیہ کالونی کےبس اسٹاپ پہ ایک دوشیزہ کو دیکھنے کے لیے تیز تیز سائکل چلاتے یہ اپنی بس کے انتظار میںکھڑی ہوتی تھی یہ لڑکی کسی کاونونٹ میں پڑھتی تھی اُس زمانے میں حسن اتنا عام نہیں تھا ۔
 ہم دونوں راستے میں گانے گاتے جاتے تھے چندا نعت خوان تھا ہم تو بس ہمنوا تھے ۔ چندا کو ہم باہر کے آڈر پہ بھیج دیا کرتے یا ہم بلتی لڑکے کےساتھ اندر کچن میں کام کرتے تھے اس لڑکے کواُردو بولنی بھی کم ہی آتی تھی اور وہ جلد سیکھنے لگا ہم نے اس میں کچھ مختلف تیور دیکھے یہ پر نکالنے لگا تھا اب یہ اپنے بالوں میں کنگھی کرنے لگا تھا اس سے پہلے اس کے بالوں کی وہی مثال تھی سَر جھاڑ اور منہ پہاڑ والی مگر اب یہ منہ بھی دھوتاتھا اور بالوں کو کنگھی کرکے مانگ بھی نکالا کرتا جب ہمیں اور چندا کو وہ صبح کونونٹ والی نہ نظر آتی تو ہم چند کو گالیا ں دیتے کہ اسی کی وجہ سے لیٹ ہوئے ہیں ہمارے سارے گھر والوں کو اسی کینٹین کی وجہ سے بہت کچھ کام کرناپڑتاامی اور دونوں بہنیں کینٹین کے لیے سامان تیار کرتیں کچھ کھانے ہم پکا کے لاتے کچھ وہیں پکا لیتےوہی لمبا کالیا جس کانام بھول گیا کمال ہرفن مولا تھا ہمیں گائڈ کرتا رہتا کہ اس کام کو ایسے کرو ویسےکرو ہو جائے گا اورہم کر لیتے ہمیں خود بھی بہت کچھ کرنے کی لگن تھی سو بہت کچھ سیکھ بھی لیاحالانکہ یہ سب چندا کے بس کی بات نہیں تھی اُسے کوئی کام سونپاجاتاوہی خراب کرکے دانت نکالتا رہتا اُسے جہاں بھیجا جاتا وہیں بیٹھا جاتا نعتیں سُناتا رہتا قصے کہانیاں سُنتا سناتا اباجی کھولتے رہے جُز بُز ہوتے رہے شام میں ہم اور مُنا (وجاہت نسم )پُرانی انارکلی سے ڈبل روٹیاں اور دوسرا سامان خرید لاتے سائکل پر رستہ گانے گاتے ہوئے کٹتا تھا ۔
           اٹامک انرجی کے اسٹاف کے اصرار پہ ہم نے سیگریٹ بھی رکھے یہ ہم نے اپنے اُن پیسوں سے خریدے تھے جو اباجی ہمیں جیب خرچ کے لیے دیتے تھے سیگریٹ پینے والے بل اباجی کو پیسے دے دیتے اور ہم خالی ہی رہ جاتے بلکہ جو ا باجی پیسے ہمیں دیتے وہ بھی کہیں نہ کہیں لگ ہی جاتے ہمیں تو بس فلمیں دیکھنی ہوتی تھی وہ دیکھ لی جاتی تھیں ایک دن جب بہت بارش ہو رہی تھی چندا باوجود کوشش کے گھر سے ہی نہ نکلا پھر نہ اسکردو والا لڑکا آیا نہ لمبو آخر ہم دونوں باپ بیٹے پہنچے بارش میں بھیگتے ہوئے شاید ہم اپنے کپڑے لے کے گئے تھے جو ہم نے وہاں جا کے تبدیل کیے اب ہم نے جب کچن کھولا تو وہاں ہر طرف لال بیگ ( کاکروچ) ہی لال بیگ تھے اورہم دنیا میں سب سے زیادہ جس سے ڈرتے تھے وہ یہ مکروہ کیڑا ہے ہم ایک کاکروچ کو نہیں دیکھ سکتے تھے یہ تو ہزاروں تھے اباجی کہنے لگے پانی گرم کرتے ہیں اور ان پہ ڈالتے ہیں سو بہت سا پانی گرم کیا گیا اوراور دیواروں تک پہ ڈالا گیا مرتے تڑپتے کاکروچوں کو ہم نے جہنم واصل کیا مگر اتنا زیادہ پانی ڈالنے سے بجلی سے چلنے والے چولہوں میں کرنٹ آگیا ہم کرنٹ کھاتے رہے یہ نئی مصیبت تھے مگر اس سے بھی نکل ہی آئےاس کینٹین میں اباجی نے اشیا کے ریٹ اتنے کم دیے تھے کہ منافع کی شرع بہت کم تھی پھر بھی باہر جو چھپر ہوٹل تھے وہ اس سے بھی سستا کھانا دے رہے تھے اور یہاں کے جو لوگ اُدھار کھاتے پھر پیسے واپس نہیں کرتے ہم لوگوں سے کہاں تک مانگتے ڈھٹائی ، جھوٹ ، فراڈ ہماری قوم کا ہمیشہ سے وطیرہ رہا ہے باتیں مذہب کے زریں اصولوں کی کرنیں اور موقع ملتے ہی ڈنک مارنا یعنی سر سجدے میں اور دل دغابازی میں ۔اور ہم باپ بیٹے اپنی جمع پونجی لٹا کے واپس گھر آگئے دوجائداوں سے ملنے والا چونتیس ہزار ایک شادی اور ایک کاروبار میں لگ گیا اور ہم پھر سے بے کار ہو گئے

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !