یہ صرف ایک تعلیمی مثال ہے، اور یہ سائنسی تصور کو آسان بنانے کے لیے استعمال کی جا رہی ہے۔ جب ہم اپنے ہاتھ پر بندھی گھڑی کی ٹک ٹک سنتے ہیں یا کیلنڈر پر تاریخ بدلتے ہیں، تو کبھی ہمارے ذہن میں یہ سوال آتا ہے کہ وقت کی یہ تقسیم—یعنی سیکنڈ، منٹ، گھنٹہ، دن، ہفتہ، مہینہ، سال، صدی اور ہزار سال—آخر کس نے اور کیوں بنائی؟ ہم وقت کو 60 سیکنڈ، 60 منٹ اور 24 گھنٹوں میں ہی کیوں ناپتے ہیں؟ اس کے پیچھے فلکیات (Astronomy)، ریاضی (Mathematics) اور قدیم انسانی تاریخ کا ایک انتہائی دلچسپ اور گہرا ملاپ ہے۔
وقت کے اس پورے نظام کو ہم دو بنیادی حصوں میں تقسیم کر کے سمجھ سکتے ہیں: ایک وہ جو مکمل طور پر کائناتی اور فطری نظام پر مبنی ہے (جیسے دن، مہینہ، سال) اور دوسری وہ جو انسانوں نے اپنی سہولت کے لیے ریاضی کے اصولوں پر تقسیم کی ہے (جیسے گھنٹہ، منٹ، سیکنڈ)۔
1۔ دن، مہینہ اور سال: فطری اور فلکیاتی بنیادیں
یہ تینوں اکائیاں مکمل طور پر زمین، چاند اور سورج کی کائناتی گردش سے جڑی ہوئی ہیں، ان میں انسان کا اپنا کوئی عمل دخل نہیں ہے:
دن (Day): یہ وقت کی وہ بنیادی اکائی ہے جو زمین کے اپنے محور (Axis) پر ایک چکر مکمل کرنے سے وجود میں آتی ہے۔ جب زمین اپنا ایک چکر پورا کرتی ہے، تو ہمارے ہاں ایک دن اور ایک رات کا دائرہ مکمل ہوتا ہے۔
مہینہ (Month): یہ چاند کی گردش سے طے ہوا ہے۔ چاند کو زمین کے گرد ایک چکر مکمل کرنے میں تقریباً 29.5 دن لگتے ہیں۔ قدیم انسان نے آسمان پر چاند کے گھٹنے اور بڑھنے کے اس دورانیے کو دیکھ کر "مہینے" کا تصور قائم کیا۔
سال (Year) اور لیپ ایئر (Leap Year): یہ زمین کا سورج کے گرد چکر لگانے کا دورانیہ ہے۔ زمین کو سورج کے گرد اپنا ایک مدار مکمل کرنے میں تقریباً 365.24 دن لگتے ہیں، جسے ہم ایک سال کہتے ہیں۔ چونکہ زمین سورج کے گرد بالکل 365 دن میں نہیں بلکہ اس سے کچھ زیادہ وقت (365.24 دن) میں چکر مکمل کرتی ہے، اس لیے اس اوپر والے اضافی فرق کو برابر کرنے کے لیے ہر 4 سال بعد کیلنڈر میں ایک اضافی دن (29 فروری) شامل کیا جاتا ہے، جسے سائنسی زبان میں "لیپ ایئر" کہتے ہیں۔
2۔ گریگورین (عیسوی) اور ہجری (عرب) کیلنڈر کا فرق
جب انسان نے سال اور مہینے کو دستاویزی شکل دینا چاہی، تو تاریخ میں دو بڑے کیلنڈر فریم ورک بنے، جن کا نظام ایک دوسرے سے مختلف ہے:
گریگورین کیلنڈر (Gregorian Calendar): یہ وہ عیسوی کیلنڈر ہے جو آج دنیا بھر میں رائج ہے۔ اس کی بنیاد شمسی نظام (Solar System) پر ہے۔ یہ نظام شروع میں رومی بادشاہ جولیس سیزر نے بنایا تھا، لیکن اس میں سائنسی خرابیوں کی وجہ سے 1582 میں پوپ گریگوری (Pope Gregory XIII) نے اس کی اصلاح کی، اسی لیے اسے 'گریگورین' کہا جاتا ہے۔ اس میں سال کے 365 دن ہوتے ہیں اور مہینے فلکیاتی چاند کے پابند نہیں ہوتے بلکہ فرضی طور پر 30 یا 31 دن کے رکھے گئے ہیں۔
اسلامی یا ہجری کیلنڈر (Lunar Hijri Calendar): عربوں اور مسلمانوں کا یہ کیلنڈر خالصتاً قمری نظام (Lunar System) پر مبنی ہے۔ اس میں مہینے کا آغاز آسمان پر نئے چاند (Hilal) کے نظر آنے سے ہوتا ہے۔ قمری سال شمسی سال سے تقریباً 11 دن چھوٹا ہوتا ہے اور اس میں پورے سال کے کل 354 یا 355 دن ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ رمضان اور عیدین کے اسلامی مہینے ہر سال شمسی کیلنڈر کے حساب سے 11 دن پیچھے منتقل ہوتے رہتے ہیں۔ اسلام نے عبادات کے لیے اسی فطری اور بصری قمری نظام کو برقرار رکھا تاکہ دور دراز صحراؤں یا جزیروں میں رہنے والا انسان بھی بغیر کسی پیچیدہ سائنسی آلات کے، صرف آسمان پر چاند دیکھ کر اپنے مہینوں کا حساب رکھ سکے۔
3۔ گھنٹہ، منٹ اور سیکنڈ: قدیم انسان کی ریاضی سے ایٹمی گھڑی تک
دن، مہینے اور سال کے برعکس، دن کو 24 گھنٹوں میں اور گھنٹے کو 60 منٹوں میں تقسیم کرنا انسان کا اپنا فیصلہ تھا، جس کے پیچھے قدیم عراقی تہذیب "بابل" (Babylonians) اور قدیم مصریوں کی ریاضی کام کر رہی تھی۔
24 گھنٹے (Hours): قدیم مصریوں (Egyptians) نے سب سے پہلے دن اور رات کو 12، 12 کے حصوں میں تقسیم کیا۔ انہوں نے دن کے وقت کو ناپنے کے لیے دھوپ گھڑی (Sundial) کا استعمال کیا جو سایہ دیکھ کر 12 حصے بتاتی تھی، اور رات کے وقت کو آسمان پر موجود 12 مخصوص ستاروں (جنہیں سائنسی طور پر ڈیکانز/Decans کہا جاتا ہے) کے طلوع ہونے سے ناپا۔ یوں دن اور رات مل کر 24 گھنٹے بن گئے۔
60 منٹ اور 60 سیکنڈ (Minutes & Seconds): ہم انسان عام طور پر 10 کی بنیاد پر گنتی کرتے ہیں کیونکہ ہماری 10 انگلیاں ہیں، لیکن قدیم بابل کی تہذیب کے لوگ 60 کی بنیاد پر ریاضی (Sexagesimal System) چلاتے تھے۔ ان کے نزدیک 60 کا ہندسہ بہت اہم تھا کیونکہ یہ 1، 2، 3، 4، 5 splinter 6، 10، 12، 15، 20 اور 30 جیسے بہت سے ہندسوں سے پورا پورا تقسیم ہو جاتا ہے۔ انہوں نے دائرے کو 360 ڈگری میں بانٹا اور اسی فلکیاتی ریاضی کو بنیاد بنا کر بعد کے ادوار میں ماہرینِ فلکیات نے ایک گھنٹے کو 60 منٹوں اور ایک منٹ کو 60 سیکنڈوں میں تقسیم کیا۔
سیکنڈ کی جدید سائنسی تعریف: آج جدید سائنس میں سیکنڈ کو سورج یا زمین کی گردش جیسے ظاہری اور بدلتے عوامل سے نہیں ناپا جاتا۔ 1967ء سے ایک سیکنڈ کی تعریف سیزیم 13حد (Cesium-133) ایٹم کی مخصوص ارتعاشات کی بنیاد پر کی جاتی ہے۔ سادہ الفاظ میں، جب سیزیم ایٹم 9,192,631,770 مرتبہ مخصوص کمپن (Vibration) کرتا ہے تو اسے سائنسی طور پر ایک سیکنڈ کہا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے جدید ایٹمی گھڑیاں (Atomic Clocks) اتنی درست ہوتی ہیں کہ لاکھوں سال میں بھی صرف چند سیکنڈ کی غلطی کرتی ہیں۔
4۔ ہفتہ، صدی اور ہزار سال (Millennium)
ہفتہ (Week): سات دن کا ہفتہ کسی فلکیاتی گردش کا پابند نہیں ہے۔ اس کا آغاز قدیم بابل اور سامی تاریخ سے ملتا ہے۔ انہوں نے چاند کے 28 دن کے مہینے کو چار برابر حصوں میں تقسیم کیا، تو ایک حصہ 7 دن کا بنا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ سات دن کا ہفتہ صرف بابل تک محدود نہیں رہا بلکہ یہودی، عیسائی اور اسلامی روایات میں بھی سات دنوں کی تقسیم مستقل طور پر موجود رہی، جس کی وجہ سے یہ دنیا کی سب سے کامیاب اور دیرپا وقتی تقسیم بن گئی۔ بعد میں رومیوں نے ان سات دنوں کو اپنے دور میں معلوم 7 بڑے سیاروں (سورج، چاند، مریخ، عطارد، مشتری، زہرہ، زحل) کے ناموں سے منسوب کر دیا، جو آج بھی انگریزی دنوں کے ناموں (مثلاً Sunday, Monday, Saturday) میں جھلکتا ہے۔
صدی اور ہزار سال (Millennium): 100 سال کے عرصے (صدی) اور اس سے آگے 1000 سال کے طویل عرصے (Millennium) کا تعلق خالصتاً انسان کے بنائے ہوئے اعشاری نظام (Decimal System) سے ہے، تاکہ طویل تاریخی ادوار اور انسانی تاریخ کے ارتقاء کو منظم طریقے سے سمجھنا آسان ہو سکے۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے سورج اور چاند کی اس فلکیاتی گردش کو وقت اور حساب معلوم کرنے کا ذریعہ بتایا ہے۔ سورۃ یونس (آیت 5) میں ارشاد ہے:
هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِيَاءً وَالْقَمَرَ نُورًا وَقَدَّرَهُ مَنَازِلَ لِتَعْلَمُوا عَدَدَ السِّنِينَ وَالْحِسَابَ
"وہی ہے جس نے سورج کو سراپا روشنی بنایا اور چاند کو چمکتا ہوا بنایا اور اس کی منزلیں مقرر کیں تاکہ تم سالوں کی گنتی اور حساب معلوم کر سکو۔"
یہ سائنسی اور تاریخی مشاہدہ ہمیں اس آیت پر مزید غور کرنے کی دعوت دیتا ہے کہ کائنات کا یہ بے عیب نظام کتنے بہترین توازن کے ساتھ بنایا گیا ہے کہ زمین اور چاند کی ہر حرکت انسان کے لیے وقت کا ایک بالکل درست کیلنڈر بن جاتی ہے۔ یہ آیت بنیادی طور پر ہدایت اور غور و فکر کے لیے ہے۔
حاصلِ کلام
یہاں ایک خوبصورت علمی حقیقت یہ سامنے آتی ہے کہ دن، مہینہ اور سال انسان نے خود "ایجاد" نہیں کیے بلکہ "دریافت" کیے ہیں، کیونکہ یہ زمین، چاند اور سورج کی کائناتی حرکات کی صورت میں پہلے سے موجود تھے۔ انسان نے صرف ان فطری اور الہامی نظاموں کو سمجھ کر انہیں گھنٹوں، منٹوں اور سیکنڈوں کی شکل میں اپنے فہم کے مطابق "تقسیم" اور منظم کیا۔
ایک مومن کے لیے وقت کا یہ باقاعدہ نظام اور کائناتی گھڑی اللہ تعالیٰ کی حکمت اور کامل قدرت کی ایک عظیم نشانی ہے۔ کائنات کا یہ توازن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ یہاں کوئی بھی چیز بے مقصد نہیں ہے، اور وقت کی ہر گزرتی اکائی انسان کو اس کے اصل مقصد اور عاقبت کی طرف لے جا رہی ہے۔
