ہمارے بعد ؟؟؟؟؟؟؟ ۔۔۔ خطیب احمد

آپ کوئی ملازمت کرتے ہیں یا کوئی دکان وغیرہ یا کوئی اور بزنس سیٹ اپ ہے۔ فرض کر لیں آپ کی وہ ملازمت ختم ہوگئی، آپ بیمار ہوگئے، جیل چلے گئے، خدا نخواستہ وفات پا گئے۔ یعنی آپ جو آج کر رہے ہیں وہ اگلے چھ ماہ سے ایک سال تک وہ آپ کا ذریعہ آمدن نہیں ہے۔ کوئی سیونگ ہے جو آپ کے خاندان کی چند ماہ تک ریگولر روز مرہ کی ضروریات پوری کر سکے؟ کوئی پلان بی ہے؟ اگر جواب نہیں میں ہے تو جو اس صورت حال سے گزر رہے ہیں ان سے اس کا تجربہ پوچھ لیجیے۔ شاید کوئی بہتر راہ یا سوچ مل سکے۔ اللہ پر توکل بہت بڑی شے ہے مگر اللہ ہی نے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت دی ہے۔ اپنی نادانی اور کم علمی کی وجہ سے نہ صرف خود کو بلکہ پورے خاندان کو جانے انجانے میں فاقوں پر لے آنا کہاں سے سیانف ہے؟ 

کچھ مثالیں دیکھیے۔ 

ایک دوست کی کرونا کے دنوں میں ایک باہر کے ملک کی کمپنی میں جاب ہوئی۔ تنخواہ ڈالرز میں ملتی تھی۔ کرونا کے بعد بھی ملازمت ورک فرام ہوم چل پڑی۔ نومبر 2025 میں ایک ماہ کے نوٹس پر ملازمت ختم ہوگئی۔ اب پچھلے آٹھ ماہ سے اس جیسی تو دور اس سے آدھی تنخواہ پر بھی ملازمت نہیں مل رہی۔ جو سیونگ تھی وہ ان آٹھ ماہ میں بلکل ختم ہو چکی ہے۔ پاکستان میں جو تنخواہ ملتی ہے۔ اس سے بچوں کے سکول بھی بدلے جائیں گے، ذاتی گاڑی کی بجائے رکشے پر سکول جائیں گے، بیگم برانڈ کی بجائے عام دکان سے کپڑے خریدے گی، روز مرہ کھانے سے دودھ گوشت فروٹ وغیرہ سب ختم ہو جائے گا۔ اے سی بھی بند کرنا ہوگا۔ غلطی آپ دیکھیے کہاں ہوئی۔ 

ایک بھائی کا روڑ ایکسیڈنٹ ہوا۔ ٹانگ کٹ گئی۔ یا ایسا مانیے فالج ہوا اور سال دو سال ریکوری نہیں ہوئی۔ یہ دونوں واقعات میرے آس پاس حقیقت میں ہوئے ہیں۔ روڑ ایکسیڈنٹ والا بھائی گاؤں سے شہر دودھ لے کر جاتا تھا۔ گھر گھر جاکر دودھ بیچتا۔ بچے چھوٹے ہیں۔ اب یہ کام کون کرے؟ کسی دوسرے کو ٹرین کرنے کے لیے ساتھ جانا چاہیے وہ فوری ممکن نہیں ہے۔ اور گاہک تو دودھ کے بغیر ایک دن بھی انتظار نہیں کر سکتے۔ ان بھائی جان کو بائیک سے گرنے سے پہلے کیا کرنا چاہیے تھا؟ فالج والے بھائی پلمبر اور الیکٹریشن تھے۔ خود اپنے ہاتھ سے سارا کام کرتے تھے۔ اب جب کام نہیں کریں گے تو خرچ کہاں سے چلے گا؟ 

سڑکیں کشادہ ہوئیں تو دکان مکمل مسمار ہوگئی۔ اسی لوکیشن کے آس پاس دوبارہ دکان بنانا آسان نہیں تھا۔ سارا سامان گھر آگیا۔ اسلم بھائی صدمے سے ہی نہ نکل سکے۔ کہ ہماری ستر اسی لاکھ کی دکان ختم ہوگئی۔ اور ڈپریشن میں چلے گئے۔ بیوی اور بیٹی ایک سلائی فیکٹری میں جانے لگیں۔ ماہانہ دونوں کا پینتیس چالیس ہزار آنے لگا۔ کہ نہ ہونے سے کچھ ہونا تو بہتر ہے۔ جب سڑکیں کشادہ کرنے کی نشاندہی ہو رہی تھی تب ہی کسی آس پاس کرائے کی دکان میں شفٹ ہونا آخر کیوں ممکن نہ تھا؟ 

باپ کی وفات ہوئی۔ بچوں کو ماں سمیت دادا ، دادا تایا چاچوں نے اللہ واسطہ لینے سے روک دیا۔ کہ ہم آپ کا خرچ اٹھائیں گے۔ مگر جو وہ دیتے تھے نہ وہ جینے کے لیے کافی تھا نہ مرنے کے لیے۔ ذلت الگ۔ بھابھیوں کے طعنے الگ کہ ہم تم سب کو پال رہے ہیں ۔ بیوہ کو کام کرنے کی اجازت نہیں کہ جوان ہو زمانہ خراب ہے۔ باہر گئی تو گوارہ بھی نہیں اور کرو گی کیا کوئی ہنر نہیں، نہ کوئی مناسب تعلیم ہے۔ مرنے والے نے کہاں یہ سوچا تھا کہ میرے بعد میری بیوی بچوں کا یہ حال ہوجائے گا؟ اس نے ایک دن بچے لیے سامان اٹھایا اور میکے جا بسی۔ پھر کبھی واپس نہ آئی۔ بوڑھے باپ یعنی بچوں کے نانا جی نے مزدوری شروع کر دی۔ اور یتیم بچوں کو سکول سے نکال کر دکانوں پر ہیلپر بنا دیا گیا۔ 

آپ اور میں بھی اسی دنیا کے باسی ہیں۔ میں اور آپ آج کچھ ایسا کر رہے ہیں کچھ ایسا سوچتے ہیں؟ کہ ہمارا یہ موجودہ ذریعہ آمدن خدا نخواستہ کل سے نہ رہے تو ہمارا یا ہمارے زیر کفالت والدین، بیوی بچوں کا کیا بنے گا؟

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !