شاندار عمارت اور کشادہ کیمپس پہ لے لو
پی ایچ ڈی اساتذہ پہ لے لو۔
یہ صدائیں آپ آج کل فیس بک پر روز سنتے ہوں گے۔
یہ صدا نہیں مرثیہ ہے، نوحہ ہے، المیہ ہے۔
صدا لگانے والے دکاندار نہیں،ریڑھی والے نہیں، کباڑیے نہیں
استاد ہیں، استاد، استاد، استاد۔
جنھیں سروں کا تاج کہا جاتا ہے، جن کے نام پر دن منایا جاتا ہے، جنھیں پیغمبرانہ منصب کا وارث کہا جاتا ہے اور جن کی تکریم کے لیے نصاب میں اشفاق احمد کا روم والا قصہ پڑھایا جاتا ہے۔
یہ ان کا شوق نہیں مجبوری نہیں ۔
یہ قوم کی تعمیر کا جذبہ نہیں، روزی روٹی اور بقا کا مسئلہ ہے۔
اس پیشے میں ایسا کچھ نہیں کہ کوئی اسے شوق سے اختیار کرے، یہ پیشوں کی ترجیحات میں سب سے آخر پر آتا ہے۔یا ناکامی کی صورت میں آخری آپشن کے طور پر اپنایا جاتا ہے۔
استاد جاگیردار نہیں ہوتے، سرمایہ دار نہیں ہوتے۔اگر ہوتے تو شاید ہی کوئی اس شعبے کا انتخاب کرتا۔ان میں سے چند ایک مستثنیات کو چھوڑ کر سب مڈل اور لوئر مڈل کلاس سے تعلق رکھتے ہیں، ان کےگھر کا چولھا تنخواہ سے چلتا ہے۔اس لیے وہ یہ صدا لگانے پر مجبور ہیں۔لیکن کیوں؟ ذرا پیچھے کو چلیے!
مشرفانہ آمریت میں اعلا تعلیم کا ایک نگران ادارہ وجود میں آیا۔اس ادارے نے اب تک دو کام کیے:
اعلا تعلیم کا ستیاناس کرنا
اور ڈگری تصدیق کے نام پر ریوینیو اکٹھا کرنا۔
(اگر کوئی تیسرا نمایاں کام کیا ھو تو کمنٹس میں مطلع کیجیے)
اس ادارے نے ایک سنہری جال پھینکا۔یونیورسٹیوں کو زیادہ سے زیادہ خود مختار کیا، اچھے خاصے، قدیم، بہترین رزلٹ کے حامل سرکاری کالجوں کو یونیورسٹی کادرجہ دے دیا، یونیورسٹیاں کھمبیوں کی طرح اگنے لگیں۔جامعات کی سالانہ گرانٹ میں یکمشت بہت زیادہ اضافہ کر دیا، شوکت عزیز کے بھولے بسرے پرائمری استاد کی فرمائش پر" برا کریسی" نے پرائمری اساتذہ کے بجائے یونیورسٹی اساتذہ کا گریڈ بڑھا دیا۔ایم۔فل اور پی ایچ ڈی کےتندور لگ گئے۔اساتذہ کو کلاسز پڑھانے کے فی لیکچر ایک سے دو ھزار ،ایم فل کے تیس ھزار اور پی ایچ ڈی تھیسز کے ایک لاکھ تک دیےجانے لگے(پھر تنخواہ کس کام کی؟)،وارے نیارے ہو گئے۔جال میں سب پوری طرح پھنس گئے تو سرکار نےگرانٹ کم کرنا شروع کر دی، گزشتہ بجٹ میں اعلا تعلیم کے لیے مختص رقم پیسٹھ ارب تھی جو اس بار ساڑھے انتالیس ارب رہ گئی ۔اخراجات شاھانہ ہیں اور آمدن کم، آمدن کا واحد ذریعہ صرف فیسیں ھیں۔
ڈیڑھ دو دہائی پہلے بیرونی مالیاتی اداروں کے دباؤ پر اساتذہ تنظیموں کے شدید اعتراض اور احتجاج کے باوجود کالجز سے بی اے ختم کر کے بی ایس چار سالہ نافذ کر دیا۔جامعات میں جس ڈگری کی فیس چالیس سے ستر ھزار فی سمسٹر ہے تو کالجز میں اسی سلیبس کے ساتھ اسی ڈگری کی فی سمسٹر فیس آٹھ نو ھزار۔دوسرے شہروں کے طلبا اپنے شہروں کے کالجز کو ترجیح دینے لگے تو یونیورسٹیز میں تعداد کم ھو گئی۔
ادھر گزشتہ دو تین برسوں میں مہنگائی نے کمر توڑ کے رکھ دی۔والدین کو روٹی کے لالے پڑ گئے۔بھاری فیسیں خاک بھریں گے۔دوسری طرف آن لائن، فری لانسنگ، ٹک ٹاک، یو ٹیوب کا دھندا عروج پہ پہنچا۔مجا ملنگ، اختر لاوا، علیزے سحر، چاھت فتح علی خان اور دو تین شاعر گریڈ بیس اور اکیس کے پروفیسرز سے بیس گنا زیادہ کمانے لگے تو وہی آئیڈیل ٹھہرے۔ہینگ اور پھٹکڑی کے بغیر لاکھوں کمانے کی لگن نے طلبا کو تعلیم چھوڑ کر کسی اور طرف لگا دیا تو تعلیمی اداروں میں تعداد کم سے کم ھوتی گئی۔اگر کچھ ہے تو ایک بھیڑ چال ہے، سب آئی ٹی کی طرف دوڑے چلے جاتے ہیں۔
جامعات فیس کم کرتی ہیں تو اخراجات پورے نہیں ہوتے، فیس بڑھاتے ہیں تو مختص سیٹیں پوری نہیں ہوتیں۔
ایک کشمکش کا آغاز ھوتا ہے۔یونیورسٹی والوں کی کوشش ھے کہ کسی طرح کالجز سے بی ایس، ختم ھو جائے اورگلشن کاکاروبار چلتا رہے۔کالج والے روتے ہیں کہ ھمارے پاس پبلک سروس کمیشن سے میرٹ پر منتخب سٹاف ہے، ہم وہی سلیبس چند ھزار میں پڑھاتے ہیں تو اعتراض کیوں؟ اگر بی ایس ختم کر دیا تو ھمارا سٹیٹس ھائر سکینڈری سکول کے برابر رہ جائے گا۔ہم سرپلس ہو جائیں گے اور گھر بدر ہو جائیں گے۔
اگر اس بربادی کا کوئی لطف لے رہا ہے تو وہ صرف سرکار یے۔جس کی ترجیح میں کبھی تعلیم رہی ہی نہیں ۔ہر ترقی یافتہ، مہذب اور قوم کے لیے فکر مند ریاست تعلیم کے ضمن میں توازن اور منصوبہ بندی کرتی ہے۔سائنس و ٹیکنالوجی اولین ترجیح ھوتی ہے لیکن کوئی بھی اپنی تاریخ، زبان، ادب اور سماجی علوم کو یکسر ردی کی ٹوکری میں نہیں پھینکتا۔ایک پلاننگ ہوتی ہے کہ کس شعبے میں کتنے گریجویٹ پیدا کرنے ہیں اور ان کے لیے مارکیٹ میں کتنی ملازمتوں کے مواقع پیداکرنے ہیں ۔مگر یہاں گنگا الٹا بہہ رہی ہیں۔تعلیم اور صحت بوجھ ھیں کہ جتنی جلدی اتر جائے اچھا ھے۔"فلاحی ریاست"یہ ذمہ داری لینے کو تیار نہیں کہ اس کی اپنی اشرافیہ کے اخراجات بہت زیادہ ہیں ۔لہذا مہنگے پرائیویٹ اداروں میں بچے پڑھا سکتے ہو تو پڑھا لو ورنہ بھاڑ میں جاؤ۔
روم جل رہا ،نیرو بانسری بجا رہا ہے
اور منصب پیغمبری کے وارث صدائیں لگا رہے ہیں:
داخلہ لے لو، داخلہ لے لو.
