کچھ عرصہ قبل شایع ہونے والی اس کتاب نے بیگم رعناکی سیاست اور شخصیت کے بارے میں موجود اس کمی کوبہت حد تک پورا کردیاہے۔بیگم رعنا لیاقت علی خان کی شخصیت کے بارے میں اس کتاب میں جو حقایق بیان کیے گئے ہیں اور جوواقعات ڈاکومنٹ کئے گئے وہ بہت سے پاکستانیوں کے لئے یقینا دلچسپی اوربعض صورتوں میں حیرانی کا باعث ہوں گے۔
A Portrait of Raana Liaquat Ali Khan Begum: کے عنوان سے اس کتاب کو نمیتا گھوکھلے اورتہمینہ عزیز ایوب نے مشترکہ طور پر لکھا اورآکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے شایع کیا ہے۔
13۔فروری 1905کو ایک برہمن خاندان کے ہاں اتر پردیش کے دارالحکومت لکھنو میں پیدا ہونے والی بیگم رعنا لیاقت علی خان کا پیدائش کے وقت نام آیرین روتھ مارگریٹ رکھا گیا تھا۔ ان کی پیدائش سے بہت پہلے ان کے خاندان کے سربراہ اوران کے دادا تارا دت پنت ہندو ازم ترک کرکے مسیحیت قبول کرچکے تھے۔مذہب کی تبدیلی کا یہ فیصلہ بیگم رعنا لیاقت علی خان کے لئے زندگی بھر ایک چیلنج بنا رہا تھا۔ہندو مت میں برہمن جیسی اعلیٰ جاتی سے تعلق رکھنے والے کسی شخص کا مذہب تبدیل کرنا ان دنوں انتہائی ناپسندیدہ فعل خیال کیا جاتا اوراسے گوناگوں سماجی مشکلا ت و مسائل کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ آیرین روتھ مارگریٹ کو بچپن ہی سے ان مسائل و مشکلات کا احساس تھا اور وہ ان سے نبٹنے کا حوصلہ رکھتی تھیں۔انھوں نے اپنی ذہانت، قابلیت اورصلاحیتوں کے بل بوتے پر اپنی راہ میں آنے والی ہررکاوٹ کو نہ صرف عبورکیابلکہ تعلیمی،سیاسی اورسماجی میدانوں میں اپنی شاندارخدمات کی بدولت اپنی انفرادیت کا لوہا بھی منوایا۔
برہمن پس منظرسے لا تعلق آیرین روتھ مارگریٹ فکری اورعملی طور پرایک آزاد و خود مختارشخصیت کی حامل تھیں۔ وہ زندگی کی جدو جہد میں پیش آنے والے چیلنجوں سے نبٹنے کے جذبوں سے سرشار تھیں۔ان کی ذہنی نشو ونما اورتعلیم و تربیت روشن خیال اور روادار اوربرداشت کے ماحول میں ہوئی تھی۔مذہبی اورسماجی تفریق کی ان کے نزدیک کوئی اہمیت وحیثیت نہیں تھی۔
حسین و جمیل رعنا نے ابتدائی تعلیم لکھنو کے لال باغ سکو ل میں حاصل کی تھی۔سکول میں اول پوزیشن حاصل کرنے کے بعد رعنا لکھنو کے جس کالج میں داخل ہوئیں وہ فکری اورعلمی آزادی کے حوالے سے بہت مشہور تھا۔ کالج میں رعنا کو عصمت چغتائی، قراۃ العین حیدر،ڈاکٹر رشید جہاں اورعطیہ حسین جیسی خواتین کی صحبت میسرآئی جنھوں نے ہندوستان میں فکری آزادی اورروشن خیالی کے حوالے سے بہت نام کمایا۔ فرسٹ ڈویژن میں بی۔اے پاس کرنے کے بعد رعنا نےایم۔اے اکنامکس کے لئے میں لکھنو یونیورسٹی میں داخلہ لے لیا۔ایم۔اے اکنامکس میں انھوں نے اتر پردیش میں ’کھیت مزدور عورتوں کے حالات کار‘ پر اپنا مقالہ لکھا جسے پوری یونیورسٹی میں بہترین مقالہ قراردیا گیا تھا۔انھوں نے ایم۔اے’آنرز‘ گریڈ میں پاس کیا اورگریجوایٹ ٹیچرز ٹریننگ کورس کے لئے کلکتہ ڈایسس کالج میں داخل ہو گئیں۔یہاں بھی وہ کلکتہ یونیورسٹی کے امتحان میں فرسٹ پوزیشن حاصل کرنے میں کامیاب ہوئیں۔
تعلیم مکمل کرنے کے بعد 1930 میں وہ دہلی کے اندرپرشتا کالج میں 200 روپے ماہانہ پر جوان دنوں بہت بڑی تنخواہ تھی پراکنامکس کی لیکچرر مقرر ہو گئی تھیں۔انہی دنوں وہ کرنال سے تعلق رکھنے والے سیاست دان لیاقت علی خان کے قریب ہوئیں۔ لیاقت علی خان ان دنوں یو۔پی قانون ساز اسمبلی کے نائب صدرتھے۔لیاقت علی خان بھی رعنا کی خوبصورتی،تعلیم اورحس مزاح سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔ 1930 میں لیاقت علی خان سے رشتہ ازدواج میں منسلک ہونے سے قبل انھوں نے اسلام قبول کیا اوروہ آیرین سے رعنا ہوگئیں۔
1947میں قیام پاکستان کے وقت لیاقت علی خان اور رعنا نے ہارڈنگ روڈ دہلی پر واقع اپنا عالی شان گھر گلفشاں فروخت کرنے کی بجائے (یاد رہے کہ جناح دہلی میں اپنا گھر فروخت کرکے پاکستان تشریف لائے تھے)حکومت پاکستان کو عطیہ کردیا تھا۔ بھارت میں پاکستانی سفارت خانہ آج تک اسی گھر میں واقع ہے اورآج کل یہ پاکستان ہاوس کہلاتا ہے۔
قیام پاکستان کے فوری بعد جناح نے جو موقف اختیا رکیا وہ لیاقت علی خان کے لئے قابل قبول نہیں تھا۔ جناح نے اپنی گیارہ اگست کی تقریر میں جس ریاستی ویژن کا عندیہ تھا وہ لیاقت علی خان کے تصور پاکستان سے متصادم تھا۔ یو۔پی کی اشرافیہ سے تعلق رکھنے والے لیا قت علی خان کا تصور پاکستان اور اسلام اشرافیائی تھا اورجناح کے سیکولر تصور ریاست سے وہ خود کوہم آہنگ کرنے میں دشواری محسوس کرتے تھے۔ انھیں جنا ح کی شخصیت کا تجربہ بطور سیاست دان اورصدر آل انڈیا مسلم لیگ کے طورپر تھا لیکن بطور گورنرجنرل وہ جناح سے خوش نہیں تھے۔ خود جناح بھی انھیں ان کے مقام اور مرتبے کے مطابق اہمیت دینے سے انکاری تھے۔ گورنر جنرل اور وزیر اعظم کے باہمی تعلقات میں موجود آویزش کے اثرات بیگم رعنا لیاقت علی خان کے کئیریر پر بھی مرتب ہوئے اور فاطمہ جناح نے انھیں کارنر کرنے اور ان کی بطور خاتون اول حیثیت تسلیم کرنے سے انکار کردیا تھا۔
اکتوبر1951 میں لیاقت علی خان کے قتل کے بعد رعنا لیاقت خان نے خود کو سماجی کاموں کے وقف کردیا تھا۔انھوں نے آل پاکستان ویمن ایسوی ایشن (اپواٰ کے عنوان سے عورتوں کی تنظیم قائم کی جو آج بھی ایک متحرک سماجی تنظیم ہے جس کے زیر اہتمام عورتوں کے لئے تعلیمی ادارے چل رہے ہیں اور عورتوں کی ایمپاورٹمنٹ کے حوالے سے اپوا کی خدمات قابل ستائش ہیں۔
بیگم رعنا لیاقت علی خان کو 1954 میں ہا لینڈ میں پاکستان کا پہلا سفیر مقرر کیا گیا جہاں انھوں نے یہ سفارتی ذمہ داری چھ سال تک نبھائی۔ بعد ازاں انھیں اٹلی میں سفیر کے طور پر تعینات کیا گیا۔ سفارتی ذمہ داریوں کو کامیابی سے نبھانے کے بعد جب وہ1973 میں پاکستان واپس لوٹیں تو بھٹو نے انھیں سندھ کا گورنر مقرر کیا تھا۔ انھیں اقوام متحدہ نے انسانی حقوق کا بین الاقوامی ایوارڈ بھی دیا تھا۔
1980 میں بیرون سفر کے دوران وہ گر پڑیں اور ان کے کولہے کی ہڈی فریکچر ہوگئی جس کے بعد ان کی صحت پھر کبھی بحال نہ ہوسکی۔ ان کی بیماری کے دوران جنرل ضیا نے ان کا2000 روپے ماہانہ سرکاری وظیفہ بند کردیا تھا۔
1990 میں اپنی وفات سے قبل انھوں نے پاکستان بارے جو کہا تھا وہ آج بھی بھی یاد رکھنے کے قابل ہے۔ انھوں نے کہا ’پہلے پہل نظریہ پاکستان کو جو طرح بیان کیا گیا تھا وہ اُس سے بہت مختلف تھا جوآج ہم دیکھ، سن اور پڑھ رہے ہیں۔ مذہب اور سیاست کے باہمی اختلاط کا کوئی سوال نہیں تھا۔ ہر شخص کو اپنے مذہبی عقیدے کے مطابق عبادت کرنے اور زندگی گزارنے کی آزادی تھا اور کسی کو اس میں مداخلت اور دخل اندازی کی اجازت نہیں تھی۔یہ آپ کا اور آپ کے خدا کا معاملہ تھا۔ہم کبھی مذہب (سیاست کی حد تک) کی بات نہیں کرتے تھے۔ہم میں شیعہ بھی شامل تھے اور سنی بھی ہم رکاب تھے۔ ہم یہ نہیں جانتے تھے کون کیا ہے(مذہبی حوالے سے)۔ہم سب متحد ہوکر کام کررہے تھے۔ قائد اعظم نے بھی کہا تھا کہ پاکستان کی بنیاد اگرچہ مذہب تھی لیکن وہ پاکستان کو ایک جمہوری اور سیکولر ملک بنانے کے خواہاں تھے‘۔
1950 میں جب وہ وزیر اعظم لیاقت علی خان کے ہمراہ امریکہ کے دورے پر گئیں تو انھوں نے نیو یارک کے ٹاون ہال میں بالوضاحت یہ کہا تھا کہ ’ہم پاکستان میں پیشوائیت، (مذہبی) انتہا پسندی یا عدم برداشت کو غلبہ حاصل نہیں کرنے دیں گے۔ہم برابری، بھائی چارے، سماجی اور معاشی انصاف کے اسلامی اصولوں پر عمل پیرا ہونے کی خواہش و عزم رکھتے ہیں‘۔
لیکن یہ حقیت بہت افسوس ناک ہے کہ بیگم رعنا لیاقت علی خان غلط ثابت ہوگئی ہیں۔ پاکستان مذہبی انتہاپسندی،فرقہ پرستی، عدم برداشت اور مذہبی اقلتیوں سے امتیازی سلوک کی اس راہ پر چل پڑا ہے جس سے وہ اسے بچانے کا عزم و جذبہ رکھتی تھیں۔
( چند معمولی ترامیم کے ساتھ خالد احمد کے انگریزی مضمون کا اردو ترجمہ ہے)
