میں دس بہن بھائیوں میں درمیان کی اولاد تھی ۔ جانے قسمت نے میرے ساتھ کون سی دشمنی نکالی تھی کہ سب میں کم عقل اور کم صورت میں تھی بڑی دو خوبصورت , سلیقہ مند بہنوں کی شادیاں آسانی سے ہوگئیں میرے لئے کوئی رشتہ ہی نہیں آتا تھا ماں پریشان رہتی چند سال انتظار کے انگاروں پہ گزر گئے چھوٹی دونوں کے قد کاٹھ بھی میرے سر سے اونچے نکل گئے اب آنے والوں کو وہی نظر آتیں میں بس پیچ و تاب کھاتی رہتی ماں کو مجھے دیکھ دیکھ کر ہول اٹھتے گھر میں اور کوئی موضوع ہی اہم نہیں تھا صاف لگتا کسی کرب کے جہنم میں ہے اور یوں گھبرا کے ایک کمپرومائزنگ سا رشتہ قبول کر کے ڈرتے ڈرتے مجھے رخصت کر دیا گیا میں اپنی قسمت پہ شاکر تھی آپ نے دیکھا ہوگا کم عقل کم نصیب عورت انتہا درجے کی صابر شاکر ہوتی ہے کبھی قسمت سے شکوہ نہیں کرتی ۔
انگلی پہ گن کے چار ہی دن دلہناپے کے دیکھے تھے پانچویں دن وہ کمبخت نشے والا پان کھا کے بلاوجہ پیٹنے لگا اور پھر پیٹنے کی یہ گردان مسلسل ہونے لگی میں اندر ہی اندر گھٹتی رہی ۔ بہت دل چاہا کہ سب کو بتاؤں شور ڈالوں لیکن دونوں چھوٹی بہنوں کا مستقبل سامنے آجاتا ۔۔۔ ماں نے یا باپ نے رخصتی کے وقت یہ تو نہیں کہا تھا کہ اب تمہارا جنازہ ہی وہاں سے آئے شائد کوئی بھی والدین نہیں کہتے یہ برصغیری معاشرت کا رخصتی کے وقت کی ایک ان کہی روایت ہے ۔
روز مار کھاتے میں شرمندہ بھی ہوتی اور چپ بھی رہتی میری چپ پہ وہ اور شیر ہوتا ایک روز میں نے بے شرم ہو کے ساس نندوں کو پوچھا تو وہ سب صاف مکر گئیں کہ شادی سے پہلے تو ٹھیک ٹھاک تھا چار دنوں میں تم نے ہی بیڑا غرق کر دیا مبشر کا ہمارا بھائی بیٹا خراب کر دیا تمہیں لا کے ہماری قسمت ہی پھوٹ گئی میں ہکا بکا رہ گئی ۔۔
لحاظ کا پردہ ہٹا تو اب روز روز جھگڑا رہنے لگا پہلا سال انگاروں پہ لوٹ کے ایک بچی گود میں ڈال کے رخصت ہوا ۔ بچی کے دودھ کے پیسے باپ کے نشے میں نکل جاتے ۔ میں بھوکی رہتی تو بچی کے لئے دودھ کہاں سے اترتا بچی بھی بھوکی ہی رہ جاتی تمام دن چیاؤں پیاؤں کرتی رہتی ۔ نشے میں دھت ہوکے اور بچی کے رونے پہ گرم ہوکے اپنی ساری توانائی مجھے دُھن کے خرچ کرتا اور کمرے سے نکال دیتا میں برآمدے میں پیڑھی پہ بیٹھ کے تمام رات گزار دیتی رفتہ رفتہ گھر سے بھی نکال دیتا اور نشئی بیٹے کو راضی رکھنے کے لئے گھر والے کنڈا لگا دیتے ۔۔ میں پوری پوری رات گود میں بچی کو رکھ کے کتیا کی طرح اسی دہلیز کی تھڑیوں پہ بیٹھی شرمندگی اور خفت سے روتی رہتی ۔۔۔ صبح اس کا نشہ اترتا سسر نماز کے لئے دروازہ کھولتے تو میں چپ چاپ خود ہی اندر آ جاتی اور گھر کے کام کرنے لگتی تاکہ ناشتہ کرنے کا بہانہ مل سکے بچی کو دودھ پلا سکوں ۔
بچی دس ماہ کی تھی میری کوکھ دوبارہ بھر گئی مجھے بچہ پیدا نہیں کرنا تھا لیکن کوکھ سے نکال بھی نہیں سکتی تھی اب کےمار کٹائی کے بعد میں گھر لوٹ آئی اور ماں سے کہا مجھے یہیں رکھ لو گھر کی کام والی نکال دو میں گھر کے سب کام کر لیا کروں گی مجھے روٹی اور اپنی اترن دے دیا کرنا ماں کا کلیجہ کٹ گیا روتے ہوئے سینے سے لگا لیا میں سکون سے رہنے لگی بچی کو دودھ بھی ملتا اور مجھے بغیر مار کے کھانا بھی مل جاتا لیکن بھابھی کو کانٹے کی طرح چبھنے لگی خار کی طرح کھلنے لگی ۔ میری بیٹی کے ہنسنے, بولنے, رونے جاگنے اور کھیلنے سے اس کا بیٹا ڈسٹرب ہونے لگا گھر میں روز ہی رنگ برنگی چخ چخ رہنے لگی میرے ہی باپ کے گھر میں میرے کھڑے ہونے کی جگہ نہیں تھی سونے کی جگہ نہیں تھی بھابھی عیش کر کے بھی ناخوش تھی ۔۔ تیوریاں ہی نہ اترتی تھیں کچھ روز میں اسکی ماں آگئی بیٹی کو لینے کہ جب نوشین چلی جائے گی تو آکے ہماری بیٹی کو لے جانا میری بیٹی اس جہنم میں نہیں رہ سکتی ۔ اب بھائی کی گھوریاں ہوتیں اور ماتھے پہ آنکھیں اور مزاج توے پہ رہنے لگا ۔ مبشر کی طرف سے خاندان کے کچھ بڑے صلح کے لئے بھیجے گئے ماں اپنی کم عقل بیٹی کے لئے روتی رہی لیکن میں نے سامان باندھ لیا اور اسی جہنم میں دوبارہ جلنے کو تیار ہوگئی بھائی کی تیوری کے بل ایک ایک کر کے کھل گئے جاتے وقت اس نے دوہزار چپکے سے مٹھی میں دبا دئیے شائد اپنی خوشیوں کا صدقہ نکالا ساتھ ہی کہا کہ اب وہاں دل لگانے کی کوشش کرنا پیچھے مڑ مڑ کے دیکھو گی تو کبھی بس نہیں سکو گی تھوڑی اونچ نیچ ہو جائے تو برداشت کرنا اس نے معزز و معتبر بن کے سر پہ پیار دیا میں سلگ کے رہ گئی کہ اپنی بیوی تو بنا اونچ نیچ کے ہی چلی گئی ہے ۔۔
خیر انہی آنیوں جانیوں, مار کٹائیوں میں چار بچے ہوگئے اس دوران میں بار بار نکالی جاتی رہی ایک بار پھر نکال دی گئی دو دن دو پڑوسیوں نے گھر میں رکھا لیکن کوئی بنا لالچ کے کیوں رکھے ویسے بھی پڑوسیوں کے روگ اپنے گھر میں کون پالتا ہے ایک بار پھر ماں کے گھر آگئی بھائی کے بھی چار بچے ہوچکے تھے یہ آٹھوں مل کے وہ تباہی مچاتے کہ گھر کی بنیادیں ہل جاتیں کان پڑی آواز سنائی نہ دیتی ۔ بچوں کے جھگڑے ہوتے ۔ ہمارے کمرے سے نکلو ہمارے صوفے سے اٹھو , میرے بیگ کو ہاتھ کیوں لگایا میری سائیکل کو کیوں دیکھا میرے جھولے سے اترو ۔۔ تمہارے کپڑے گندے ہیں ۔ ماما کہتی ہیں تمہارے ابو گندے اور جاہل ہیں تمہاری ماما کم عقل ہیں نکلو ہمارے گھر سے ۔۔ سن سن کے دماغ پک گیا ۔ باپ کے مر جانے کے بعد ماں کمرے کے ایک کونے سے لگا دی گئی تھی چھوٹی کی شادی ہوگئی تھی اور اس سے چھوٹی کو لگتا تھا اس جنجال پورے میں اسے بیاہنے کون آئے گا چنانچہ اسکی تیوری بھی بل کھائی رہتی ۔۔ اس دن بھابھی نے دودھ کا پتیلا ہاتھ میں پکڑ کر گھر والوں کو شکایت لگائی نوشین دودھ نکال کے اپنے بچوں کو پلا دیتی ہے اور دودھ میں پانی ملا کے برابر کر دیتی ہے ۔ میرے نماز پڑھتے کانوں نے یہ سنا اور بے بسی سے ہچکی بندھ گئی ۔۔ ماں ٹکر ٹکر دیکھ رہی تھی اسے اتنے زور سے کھانسی کا ٹھسکا لگا کہ بے حال ہوکے ہاتھوں میں آگئی ۔۔ اب کے جن بزرگ کو صلح کے لئے بھیجا گیا اس نے شفقت کے بہانے سر کے ساتھ جسم پہ بھی خوب خوب ہاتھ پھیرا اور بے شرمی سے بولے کچھ نہ کچھ تو محبت ہوگی جو چار بچے پیدا کر لئے ہیں انہیں بچوں کے لئے چلی جاؤ ۔۔ میری بات رکھ لو میری داڑھی کی لاج رکھ لو ۔
میں نے سوچا در در کی اور روز روز کی ذلت اٹھانے سے بہتر ہے وہیں مر جاؤں یہاں نہ آؤں ہر ماں کو بچوں کا خیال ہی زندہ رہنے کی امنگ میں رکھتا ہے پھر بھی جو مائیں مر جاتی ہیں وہ بچے بھی پل ہی جاتے ہیں اور یوں میں چپ چاپ مر گئی ۔۔۔
یہ تو میرا لاشہ ہے چار کندھوں کے انتظار میں ہے جس دن میسر آ گئے اٹھ جائے گا ۔
آپ تو کم عقل نہیں ہیں ۔
میں نے اس کی بول چال سے اندازہ لگایا ۔۔
اس نے ایک لمبی سسکاری لی اور بولی میں تو راستے کا پتھر ہوں جو بلندیوں سے لڑھک لڑھک کے گول ہو چکا ہے ۔ کہیں رکاوٹ نہیں بنتا ایک ٹھوکر سے لڑھکتا ہوا دور تلک
جاتا ہے ۔۔ شائد عورت صرف راہ کا پتھر ہے ۔
