لبنیٰ کی کہانی۔۔۔ صدف زبیری

لبنیٰ پودے کی ٹوٹی ہوئ شاخ ہاتھ میں لئے کھڑی تھی ۔۔۔ 
میں منتظر تھی کہ بس کسی دم میں لڑائ شروع ہوئی کہ ہوئ ۔۔۔۔
لبنیٰ میری پڑوسن ہے ۔۔سوسائٹی میں میرے بعد شفٹ ہونے والی وہ دوسری فیملی تھی اسے پودوں سے بے حد محبت ہے اسی لئے اس کا چھوٹا سا گارڈن نہ صرف ہماری بلکہ آس پاس کی گلیوں میں سب سے خوبصورت گارڈن ہے ۔۔ اس نے چھوٹے اور قیمتی پودے لگا رکھے ہیں اور دن میں کئ بار انہیں دیکھ دیکھ کر خوش ہوتی رہتی ہے سب بہت اچھا تھا جب تک کہ کچھ عجیب و غریب فیملیز تواتر سے اس پاس شفٹ ہونا شروع نہیں ہوئ تھیں ۔۔ اس کے دائیں اور سامنے دو ایسی فیملیز آ بسیں جن کہ دس گیارہ سال کے بیٹے تھے یہ لڑکے گلی میں فث بال کھیلتے یا کرکٹ ۔۔۔ بال لبنیٰ کے گارڈن میں بھی چلی جاتی ۔۔ ایک تو اسکے پودے قیمتی دوسرے وہ مزاج کی زرا تیز ۔۔۔ ایک دو دفعہ لڑکوں کو سنا دیں ۔۔ وہ کم پڑھے لکھے دیہی علاقوں کے لڑکے ۔۔۔ انہوں نے لبنیٰ کے گارڈن کا پیچھا لے لیا ۔۔۔۔ لبنی نے جا کر ان کی ماؤں سے شکایت لگائی ۔۔ بجائے معذرت کرنے یا بچوں کو ڈانٹنے کے وہ الٹا لبنیٰ پر چڑھ دوڑیں ۔۔ کہ گلی تمہارے باپ کی نہیں اور بچے ہیں کہاں کھیلیں گے ۔۔۔ گھمسان کا رن پڑا ۔۔ بچوں کو گھر سے شہہ ملی تو وہ شیر ہو گئے آئے دن بال اٹھانے کے بہانے کسی نہ کسی پودے کو نوچ دیتے یا ہری بھری گھنی شاخ توڑ دیتے ۔۔ لبنیٰ جو تنگ آ کر کیمرہ لگا بیٹھی تھی دوڑتی آتی ادھر سے بچوں کی مائیں بھی آ جاتیں پھر محلے میں طوفان اٹھتا ۔۔۔ اسی بیچ لبنیٰ کوکسی نے سوسائٹی آفس میں شکایت کرنے کا مشورہ دیا ۔۔۔ سوسائٹی والوں نے شکایت پر کان بھی دھرا اور پڑوسیوں کو آ کر تنبیہ بھی کی یہ دو دن پرانی بات تھی اور دو دن سے امن بھی تھا ۔۔۔ 
اس سب کے بیچ مجھے کچھ یاد آ گیا ۔۔۔
عتیق ہمارے بچپن میں محلے کا سب سے شرارتی بچہ تھا بارہ تیرہ برس کا ہو گا ۔۔ سارے چھوٹے بچوں کا جینا حرام کئے رکھتا کسی پر پٹاخے والی گن چلا دی تو کسی بچے کے پیٹ میں لات مار دی ۔۔ مائیں گھر شکایت لے کر جاتیں تو گھر والے الٹا چڑھ دوڑتے سو سب کوستی پیٹتی واپس لوٹ جاتیں پندرہ کا سن پورا نہیں ہوا تھا کہ عتیق بارش میں ندی میں نہاتے ہوئے ڈوب کر مر گیا ۔۔۔
میں نے لبنیٰ کو دیکھا اور پھر ایک واقعہ یاد آ گیا ۔۔۔۔
عزیر گھر بھر میں سب سے چھوٹا تھا پانچ بڑے بھائی بہن ۔۔ آخری بہن سے دس سال چھوٹا ۔۔۔ بہن بھائی نہیں سارے جیسے ماں باپ تھے اس کے ۔۔۔ ہتھیلی کا چھالا بنا رکھا تھا ۔۔نچلا بیٹھنا تو اس نے سیکھا ہی نہیں تھا بھری دوپہروں میں کسی کی بیل بجا کر بھاگ گیا کسی بچے کے سر پر استرا پھیر دیا آدھا ادھورا ۔۔۔۔ گھر میں کوئی اس کی طرف ٹیڑھی آنکھ اٹھنے کی اجازت نہ دے ۔۔۔کونے کے آخری گھر میں بیوہ آنٹی زبیدہ رہتی تھیں بچے شادی شدہ بیرون ملک مقیم ۔۔۔ خدا جانے کن پریشانیوں سے گزر رہی تھیں ان کے گھر میں بیر کا درخت تھا عزیر نے صحیح معنوں میں ان کا جینا حرام کیا ایک پل ان کے گھر کا پیچھا نہ چھوڑتا کبھی بیل بجا دی تو کبھی پتھر جوتے درخت پر نشانہ لگاتے رہتے ۔۔۔ زبیدہ آنٹی منہ بھر بھر کر بد دعائیں دیتیں ۔۔۔ مگر مجال ہے جو عزیر کی یا اس کے گھر والوں کی جوتی کو بھی فرق پڑتا ہو ۔۔۔کچھ لوگوں نے سمجھانے کی کوشش بھی کی لیکن اس کے گھر والوں کا مقابلہ کرنے کی ہمت کون کرتا ۔۔۔ انٹر کے پیپر دے رہا تھا جب ایک دن حالات خراب ہوئے اور ہوائ فائرنگ کی زد میں آ کر مارا گیا ۔۔۔ ۔۔
میں نے کھڑکی سے باہر دیکھا ۔۔ یہ لبنیٰ کا فیورٹ پودا تھا جو اس نے اپنی مرحوم والدہ کے نام پر لگایا تھا بہت ہی دھماکے دار لڑائی ہونے والی تھی ۔۔۔۔لیکن پھر سارا منظر بدل گیا ۔۔ لبنیٰ نے بنا ایک لفظ کہے ٹوٹی ہوشاخ کو آسمان کی جانب دکھایا ۔۔ آنسوؤں سے بھری آنکھوں کے ساتھ زیر لب کچھ دہراتی رہی اور پھر خاموشی سے اندر چلی گئ ۔۔۔۔۔
اس کا بے آواز دروازہ بند ہو چکا تھا ۔۔۔ 
Tags

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !