یوم پیدائش : ۸ جولائی۱۹۱۳ء
یوم وفات : ۲۲ ستمبر ۲۰۰۰ء
ہم ماتھے پہ بل ڈال کے بازار سے گزرے
ہم جیسے فقیروں کو کوئی دے بھی تو کیا دے
#تعارف۔۔۔
معروف شاعر اقبال عظیم ۸ جولائی ۱۹۱۳ء کو میرٹھ میں پیدا ہوئے ۔اُن کے والدسید مقبول عظیم کا تعلق سہارن پور سے تھا۔ خود لکھنؤ اور اودھ میں پروان چڑھے ۔لکھنؤ یونیورسٹی سے ۱۹۳۴ء میں بی اے کی سند حاصل کی۔ پھر آگرہ چلے گئے جہاں سے ۱۹۴۳ء میں آگرہ یونیورسٹی سے ایم اے کی سند حاصل کی۔اُنہیں ڈھاکا یونیورسٹی سے ریسرچ اسکالر شپ ملی اور ’’ٹیچرز ٹریننگ کالج ، لکھنؤ‘‘ سے تدریسی تربیت بھی حاصل کی۔اقبال عظیم نے باقاعدہ تدریس کا آغاز’’گورنمنٹ جوبل کالج ، لکھنؤ ‘‘ سے کیا۔ساڑھے گیارہ برس یوپی کے سرکاری مدارس میں پڑھاتے رہے ۔جولائی ۱۹۵۰ء میں مشرقی پاکستان آگئے اور تقریباً بیس برس تک یہیں پر سرکاری ڈگری کالجوں میں پروفیسر اور صدر شعبہ اردو کی حیثیت سے فرائض انجام دیتے رہے ۔ اپریل ۱۹۷۰ء میں بینائی زائل ہونے کے سبب اپنے عزیز و اقارب کے پاس کراچی تشریف لے آئے ۔۔۔
اقبال عظیم کراچی آنے کے بعد ۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۰ء سندھ کے صوبائی سیکریٹریٹ میں ایک تحقیقاتی افسر کی حیثیت سے فرائض انجام دیتے رہے ۔
اردو شاعری کا آغاززمانہ طالب علمی سے ہی کیا ۔نعت نگاری میں آپ نے خصوصی مقام پایا۔ ۔۱۹۷۰ء کے بعد مستقل کراچی ہی میں قیام پذیر رہے۔
#تصانیف ۔۔۔
مضراب (۱۹۷۵ء) غزلوں کے مجموعہ
لبَ کشا ۔ نعتیہ مجموعہ
قاب قوسین ،کراچی،ایوانِ اُردو، جون ۱۹۷۷ء، نعتیہ مجموعہ
بوئے گُل شاعری
نثر وحشت
زبور حرم کلیات نعت
محاصل ناشر،ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس.دہلی ، ۱۹۸۷ء (شعری کلیات)
مضراب و رباب شاعری
نادیدہ شاعری
چراغ ِآخری شب شاعری
سات ستارے سوانح
#وفات۔۔۔
پروفیسر اقبال عظیم صاحب ۲۲ ستمبر ۲۰۰۰ کو اس جہاں فانی سے رخصت فرما گئے۔۔۔
#منتخب_کلام_بطور_خراج_تحسین۔۔۔۔
#نعتیہ_کلام۔۔۔
فاصلوں کو تکلف ہے ہم سے اگر ہم بھی بے بس نہیں بے سہارا نہیں
خود انہی کو پکاریں گے ہم دور سے راستے میں اگر پاؤں تھک جائیں گے
ہم مدینے میں تنہا نکل جائیں گے اور گلیوں میں قصداً بھٹک جائیں گے
ہم وہاں جا کے واپس نہیں آئیں گے ڈھونڈتے ڈھونڈتے لوگ تھک جائیں گے
جیسے ہی سبز گنبد نظر آئے گا بندگی کا قرینہ بدل جائے گا
سر جھکانے کی فرصت ملے گی کسے خود ہی پلکوں سے سجدے ٹپک جائیں گے
نام آقا جہاں بھی لیا جائے گا ذکر ان کا جہاں بھی کیا جائے گا
نور ہی نور سینوں میں بھر جائے گا ساری محفل میں جلوے لپک جائیں گے
اے مدینے کے زائر خدا کے لیے داستان سفر مجھ کو یوں مت سنا
بات بڑھ جائے گی دل تڑپ جائے گا میرے محتاط آنسو چھلک جائیں گے
ان کی چشم کرم کو ہے اس کی خبر کس مسافر کو ہے کتنا شوق سفر
ہم کو اقبالؔ جب بھی اجازت ملی ہم بھی آقا کے دربار تک جائیں گے
پروفیسر اقبال عظیم
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آخری وقت میں کیا رونقِ دنیا دیکھوں
اب تو بس ایک ہی دُھن ہے کہ مدینہ دیکھوں
از اُفق تا بہ اُفق ایک ہی جلوہ دیکھوں
جس طرف آنکھ اٹھے روضئہ والا دیکھوں
عاقبت میری سنور جائے جو طیبہ دیکھوں
دستِ امروز میں آئینہ فردا دیکھوں
میں کہاں ہوں ، یہ سمجھ لوں تو اٹھاؤں نظریں
دل سنبھل جائے تو میں جانبِ خضرا دیکھوں
میں نے جن آنکھوں سے دیکھا ہے کبھی شہرِ نبی
اور ان آنکھوں سے اب کیا کوئی جلوہ دیکھوں
بعد رحلت بھی جو سرکار کو محبوب رہا
اب ان آنکھوں سے میں خوش بخت وہ حجرہ دیکھوں
فقر و فاقہ ہی رہا جس کے مکینوں کا نصیب
چشمِ عبرت سے میں وہ مسکنِ زہرا دیکھوں
جالیاں دیکھوں کے دیوار و در و بامِ حرم
اپنی معذور نگاہوں سے میں کیا کیا دیکھوں
میرے مولا مری آنکھیں مجھے واپس کر دے *
تاکہ اس بار میں جی بھر کے مدینہ دیکھوں
جن گلی کوچوں سے گزرے ہیں کبھی میرے حضور
ان میں تا حدِ نظر نقشِ کفِ پا دیکھوں
تاکہ آنکھوں کا بھی احسان اٹھانا نہ پڑے
قلب خود آئینہ بن جائے میں اتنا دیکھوں
کاش اقبالؔ یوں ہی عمر بسر ہو میری
صبح کعبے میں ہو اور شام کو طیبہ دیکھوں
پروفیسر اقبال عظیم
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
#غزل۔۔۔
مجھے اپنے ضبط پہ ناز تھا سر بزم رات یہ کیا ہوا
مری آنکھ کیسے چھلک گئی مجھے رنج ہے یہ برا ہوا
مری زندگی کے چراغ کا یہ مزاج کوئی نیا نہیں
ابھی روشنی ابھی تیرگی نہ جلا ہوا نہ بجھا ہوا
مجھے جو بھی دشمن جاں ملا وہی پختہ کار جفا ملا
نہ کسی کی ضرب غلط پڑی نہ کسی کا تیر خطا ہوا
مجھے آپ کیوں نہ سمجھ سکے یہ خود اپنے دل ہی سے پوچھیے
مری داستان حیات کا تو ورق ورق ہے کھلا ہوا
جو نظر بچا کے گزر گئے مرے سامنے سے ابھی ابھی
یہ مرے ہی شہر کے لوگ تھے مرے گھر سے گھر ہے ملا ہوا
ہمیں اس کا کوئی بھی حق نہیں کہ شریک بزم خلوص ہوں
نہ ہمارے پاس نقاب ہے نہ کچھ آستیں میں چھپا ہوا
مجھے اک گلی میں پڑا ہوا کسی بد نصیب کا خط ملا
کہیں خون دل سے لکھا ہوا کہیں آنسوؤں سے مٹا ہوا
مجھے ہم سفر بھی ملا کوئی تو شکستہ حال مری طرح
کئی منزلوں کا تھکا ہوا کہیں راستوں میں لٹا ہوا
ہمیں اپنے گھر سے چلے ہوئے سر راہ عمر گزر گئی
کوئی جستجو کا صلہ ملا نہ سفر کا حق ہی ادا ہوا
پروفیسر اقبال عظیم
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہم سے وفا کے بارے میں جو چاہے پوچھ لو
لیکن وفا کی کیا ہے سزا یہ نہ پوچھنا
راہ وفا میں ہم پہ جو گزری وہ پوچھ لو
منزل پہ کیا سلوک ہوا یہ نہ پوچھنا
رستہ میں کون کون ملا پوچھو شوق سے
کس کس کا ساتھ چھوٹ گیا یہ نہ پوچھنا
چاہت کی داستان ہے ذاتی معاملہ
توڑا ہے کس نے عہد وفا یہ نہ پوچھنا
جو زخم بھر چکے ہیں انہیں مت کریدنا
اپنا جو گھر تھا کیسے لٹا یہ نہ پوچھنا
خود اپنے ہی قبیلے کے لوگوں سے کیا گلہ
کس کس نے ہم پہ ظلم کیا یہ نہ پوچھنا
ہم نے تمام عمر دیا درس دوستی
کیا پایا اسکا صلہ ہم نے یہ نہ پوچھنا
سچ بولنا بھی تم کو سکھا دیں گے ہم مگر
سچ بولنے کی کیا ہے سزا یہ نہ پوچھنا
جن کی تجوریوں میں ہے سرمایہ قوم کا
ان شاطروں کا کیا ہے پتہ یہ نہ پوچھنا
