تارِ عنکبوت(ترجمہ)۔۔۔۔ توقیر بھُملہ

ایک دن، بدھا جنت میں کنول کے ایک تالاب کے کنارے اکیلے ہی بے فکری سے ٹہل رہے تھے۔ تالاب میں کھلے ہوئے کنول کے پھول سب کے سب خالص موتیوں جیسے سفید تھے، اور ان کے مرکز میں موجود زر ریشوں سے ایک ایسی ناقابلِ بیان حد تک دلپذیر خوشبو اٹھ رہی تھی جو وہاں کی ہوا کو مسلسل معطر کیے ہوئے تھی۔ یہ جنت میں صبح کا وقت تھا۔
کچھ دیر بعد، بدھا تالاب کے کنارے رک گئے اور پانی کی سطح کو ڈھانپنے والے کنول کے پتوں کے درمیان سے اتفاقاً نیچے کی طرف پڑی تو سوچنے لگے کہ دیکھو تو سہی کہ نیچے کا احوال کیسا ہے۔ 
جنت کے اس کنول کے تالاب کے ٹھیک نیچے جہنم کی اتھاہ گہرائیاں واقع تھیں، جہاں پر تین جہتوں کو جاتی سانزو ندی کے سنگم پر پل، تلواروں، برچھیوں اور نیزے کی انیوں جیسا نوکیلا پہاڑ، جنت کے صاف شفاف پانی سے یوں بالکل واضح دکھائی دے رہے تھے جیسے شفاف شیشے کی میز کے نیچے کسی تصویر کا منظر ہو۔
وہاں بدھا کی نگاہ ایک ایسے آدمی پر ٹھہر گئی جو جہنم کے دوسرے تمام گناہ گاروں کے ساتھ تڑپ رہا تھا۔ اس آدمی کا نام کانداتا تھا، اور وہ بدنامِ زمانہ ایک ڈاکو تھا جس نے لوٹ مار کے بعد لوگوں کو قتل کیا تھا، گھروں کو آگ لگائی تھی اور ہر قسم کے دوسرے بدترین گناہ کیے تھے۔ لیکن اس کے نامۂ اعمال میں صرف ایک نیکی درج تھی۔ ایک مرتبہ کا ذکر ہے، وہ ایک گھنے جنگل کے بیچوں بیچ چل رہا تھا کہ اس کی نظر سڑک کے کنارے رینگتی ہوئی ایک چھوٹی سی مکڑی پر پڑی۔ کانداتا نے جلدی سے اپنا پاؤں اٹھایا کہ اسے کچل دے، لیکن پھر اچانک اس نے اپنا ارادہ بدل لیا۔ "نہیں، نہیں،" اس نے سوچا۔ "یہ بھلے ہی چھوٹی ہے، لیکن یہ مکڑی یقیناً ایک جاندار تو ہے۔ اتنی بے پروائی سے اس کی جان لینا ایک انتہائی افسوسناک بات ہوگی۔" اور آخر کار اس نے مکڑی کو مارا نہیں، بلکہ اس کی جان بچا لی۔
جب بدھا نے جہنم کے نیچے دیکھا، تو انہیں یاد آیا کہ اس کانداتا نے ایک بار ایک مکڑی کی جان بچائی تھی۔ بدھا نے سوچا کہ وہ اس آدمی کو، اگر ہو سکے تو، اس کی اس ایک نیکی کے انعام کے طور پر جہنم سے بچا لیں۔ خوش قسمتی سے، بدھا نے اپنے پاس ہی جنت کی ایک مکڑی کو دیکھا جو زبرجد کے ایک کنول کے پتے کے اوپر چاندی کی تاروں کا ایک خوبصورت جالا بن رہی تھی۔ بدھ نے نرمی سے وہ مکڑی کا تارا لیا اور اسے جواہرات جیسے سفید کنول کے پھولوں کے درمیان سے سیدھا نیچے، بہت دور جہنم کی اتھاہ گہرائیوں کی طرف لٹکا دیا۔
یہاں نیچے جہنم کی گہرائیوں میں "خون کی جھیل" تھی، جس میں کانداتا اور دوسرے گناہ گار کبھی ابھرتے تو کبھی ڈوب جاتے۔ آپ جس طرف بھی دیکھتے، مکمل اندھیرا تھا، اور جب کبھی اس اندھیرے سے کوئی ہلکی سی روشنی نمودار ہوتی، تو وہ صرف اس ہولناک برچھیوں جیسے پہاڑ کی انیوں کی چمک ہوتی تھی۔ اس سے زیادہ عبرتناک کچھ نہیں ہو سکتا تھا۔ جھیل کی سطح پر موت جیسی خاموشی کا راج تھا، اور کبھی کبھار سنائی دینے والی واحد آواز گناہ گاروں کی دبی دبی سسکیاں تھیں۔ جو لوگ اتنی گہرائی میں گر چکے تھے، وہ اب جہنم کے ان مختلف عذابوں سے اس حد تک تھک چکے تھے کہ ان میں چیخنے چلانے کی طاقت بھی باقی نہیں رہی تھی۔ چنانچہ وہ بدنامِ زمانہ ڈاکو کانداتا بھی، خون کی جھیل میں دم گھٹنے کے باعث، محض ایک مرتے ہوئے مینڈک کی طرح تڑپ رہا تھا۔
ٹھیک اسی وقت، کانداتا نے اتفاقاً اپنا سر اٹھایا اور جھیل سے اوپر کی طرف دیکھا۔ اور اس نے کیا دیکھا کہ بہت، بہت اوپر آسمان سے، گھپ اندھیرے کو چیرتا ہوا مکڑی کا ایک چاندی کا تار، گویا دیکھے جانے کے خوف سے، آہستہ آہستہ نیچے اتر رہا تھا؛ ایک باریک چمکدار لکیر جو ٹھیک اس کے سر کے اوپر آ کر رکی۔ یہ دیکھ کر کانداتا خوشی کے مارے اپنے ہاتھوں سے تالیاں پیٹنے سے خود کو نہ روک سکا۔ اگر وہ اس تار کو پکڑ لے اور اوپر چڑھتا جائے، تو وہ یقینی طور پر جہنم سے نکل بھاگنے میں کامیاب ہو جائے گا، بلکہ اگر قسمت نے ساتھ دیا، تو شاید وہ جنت میں بھی جا پہنچے۔ اور پھر اسے کبھی دو بارہ ،برچھیوں،نیزوں اور تلواروں کے پہاڑ پر نہیں دھکیلا جائے گا اور نہ ہی خون کی جھیل میں ڈبویا جائے گا۔
ڈوبتے کو تنکے کا سہارا، اس خیال کے آتے ہی، اس نے فوراً مکڑی کے تارے کو دونوں ہاتھوں کے گرد لپیٹ کر مضبوطی سے پکڑ لیا اور اپنی پوری طاقت سے خود کو اوپر اور اوپر کھینچتے ہوئے چڑھنے لگا۔ چونکہ وہ ایک ماہر چور رہ چکا تھا، اس لیے یہ ایک ایسا کام تھا جس کا وہ بہت عادی تھا۔
لیکن جنت اور جہنم کے درمیان کئی فرسخ کا فاصلہ تھا، اور وہ جتنی بھی جلدی چڑھنے کی کوشش کرتا، چوٹی تک پہنچنا کوئی معمولی بات نہ تھی۔ کچھ دیر تک چڑھنے کے بعد، آخر کار کانداتا تھک گیا، اور وہ خود کو اس تار پر مزید اوپر کھینچنے کے قابل نہ رہا۔ اب رک کر قوت مجتمع کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔ تار عنکبوت کے بیچوں بیچ لٹکے ہوئے، اس نے وہیں لٹک کر نیچے دور گہرائی میں جھانکا۔
جب اس نے ایسا کیا، تو اس نے پایا کہ اس کی انتھک کوشش رنگ لائی تھی۔ کچھ ہی دیر پہلے جس خون کی جھیل میں وہ رہ رہا تھا، وہ اب اس کے نیچے بہت دور گھپ اندھیرے میں چھپ چکی تھی، اور وہ اب اس خوفناک، مدہم چمکتے ہوئے نوکیلے پہاڑ سے بھی اوپر آ چکا تھا۔ اگر وہ اسی طرح بڑھتا رہا، تو جہنم سے نکلنا ممکن ہو سکتا تھا۔ کانداتا نے تارے کو اپنے دونوں ہاتھوں کے گرد لپیٹا اور ایک ایسی آواز میں ہنسا جو اس نے یہاں آنے کے بعد کے تمام برسوں میں کبھی استعمال نہیں کی تھی: "میں نے کر دکھایا! میں نے کر دکھایا!"
لیکن تبھی اس نے غور کیا کہ مکڑی کے اس تارے کے نچلے حصے پر بے شمار گناہ گار تھے جنہوں نے اس کے پیچھے پیچھے، ایک ہی دھن میں اوپر چڑھنا شروع کر دیا تھا، اور چیونٹیوں کی ایک قطار کی طرح اس کے پیچھے اوپر اور اوپر چلے آ رہے تھے۔ جب کانداتا نے یہ دیکھا، تو وہ صدمے اور خوف کے ملے جلے جذبات سے آنکھیں پھاڑے، منہ کھولے، ایک لمحے کے لیے کسی بیوقوف کی طرح وہیں لٹکا رہ گیا۔ یہ باریک سا مکڑی کا تار تو صرف اس اکیلے کے چڑھنے سے بھی ٹوٹنے کے قریب معلوم ہوتا تھا، یہ بھلا اتنے سارے لوگوں کا بوجھ کیسے برداشت کر سکتا تھا؟ سب سے اہم بات یہ تھی کہ اگر یہ اس وقت ٹوٹ جاتا جب وہ خود ابھی چڑھ رہا تھا، تو کانداتا اتنی دور اوپر آنے کے بعد دوبارہ سیدھا نیچے اسی جہنم میں جا گرتا۔ یہ تو ناقابلِ تصور تھا۔ لیکن گناہ گار اب بھی سینکڑوں اور ہزاروں کی تعداد میں، اس پچ پچ اندھیری خون کی جھیل کی گہرائیوں سے ہجوم کی شکل میں نکل رہے تھے، اور اس باریک، چمکتے ہوئے مکڑی کے تارے پر ایک سیدھی لکیر میں بے رحمی سے چڑھے چلے آ رہے تھے۔ اگر اس نے جلدی کچھ نہ کیا، تو تار یقیناً ٹوٹ جائے گا اور اسے واپس نیچے گرا دے گا۔
"اوئے! تم سب جاہل گناہ گارو! یہ مکڑی کا تار میرا ہے! تم سے کس نے کہا تھا کہ اس پر چڑھو؟ نیچے اترو! نیچے اترو!" کانداتا چلایا۔
ٹھیک اسی پل یہ حادثہ ہو گیا۔ وہ مکڑی کا تار، جو اب تک مضبوطی سے تنا ہوا تھا، اچانک ایک تیز "چٹاخ" کی آواز کے ساتھ بالکل اسی جگہ سے ٹوٹ گیا جہاں سے کانداتا لٹکا ہوا تھا۔ اسے سنبھلنے کا ایک موقع بھی نہ ملا۔ اس سے پہلے کہ وہ کچھ سمجھ پاتا، وہ ہوا کے دباؤ کے خلاف، لٹو کی طرح گول گول گھومتے ہوئے نیچے گر رہا تھا، اور ایک ہی پل میں وہ سر کے بل نیچے اس اندھیرے میں جا غرق ہوا۔
اور پھر وہاں صرف جنت کا وہ مکڑی کا تار تھا، جو عین اس مقام سے ٹوٹ چکا تھا جہاں کچھ دیر قبل کانداتا لٹکا ہوا تھا، اور اس آسمان میں باریک اور چمکتا ہوا جھول رہا تھا جس میں نہ کوئی چاند تھا اور نہ کوئی ستارہ۔
جنت میں کنول کے تالاب کے کنارے کھڑے بدھا نے شروع سے آخر تک اس پورے واقعے کو غور سے دیکھا تھا۔ جب کانداتا بالآخر ایک پتھر کی طرح خون کی جھیل کی تہہ میں جا ڈوبا، تو بدھا اپنے چہرے پر ایک رنجیدہ تاثر لیے ایک بار پھر ٹہلنے لگے۔ کانداتا کے دل میں کوئی رحم نہیں تھا، اور اس نے صرف اپنی ذات کو بچانے کا سوچا تھا؛ اسے اس کی اسی دلی نیت کی سزا ملی تھی اور وہ واپس نیچے جہنم میں جا گرا تھا، جسے بدھا نے انتہائی قابلِ رحم اور افسوسناک سمجھا۔
لیکن جنت میں، تالاب کے کنول کے پھولوں کو ایسی چیزوں کی ذرا بھی پروا نہیں تھی۔ بدھا کے قدموں میں موجود وہ موتیوں جیسے سفید پھول بے فکری سے اپنے بیجوں والے حصوں کو جھولا جھلا رہے تھے، اور ان کے مرکز میں موجود زر ریشوں سے وہی ناقابلِ بیان حد تک دلپذیر خوشبو اٹھ رہی تھی جو وہاں کی ہوا کو مسلسل معطر کیے ہوئے تھی۔ جنت میں اب تقریباً دوپہر کا وقت ہو چکا تھا۔
16 اپریل، 1918ء
جاپانی مصنّف : ریونوسوکے اکوتاگاوا
جاپانی سے انگریزی مترجم: مائیکل سٹین مٹز
اردو قالب: توقیر بُھملہ

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !