حلال گوشت۔... ثمینہ رحمت منال




برطانیہ میں حلال گوشت اور کوشر گوشت ( یہودیوں کے لیے) کے بارے میں ایک بل پارلیمنٹ میں پیش کیا گیا ہے جس کا اولین مقصد یہ ہے کہ وہ جانور جو بے ہوش کیے بغیر ذبح کیے جاتے ہیں گلے پہ چھری چلنے کی وجہ سے بہت زیادہ تکلیف سے گزرتے ہیں اور جانور کا گوشت حاصل کرنے کے لیے یہ  طریقہ بہت زیادہ تکلیف دہ ہے تو جانوروں کو ذبح کرنے سے پہلے اسے بے ہوش کرنے کا قانون بنایا جائے تاکہ انسان اپنا پیٹ بھرنے کے لیے اس جانور کا گوشت حاصل کرنے کے لیے اسے تکلیف پہنچانے کا باعث نہ بنے۔ برطانیہ میں اس بل کے پاس ہونے کی صورت میں سب مسلمانوں اور یہودیوں کے حلقوں میں بے چینی پھیل چکی ہے اور اسے مذہب اور عقیدے کے نام پر انتشار پھیلانے کی وجہ بنایا جا سکتا ہے اب اگر بات مذہبی عقیدے کی جائے تو جس وقت قرآن پاک نازل ہوا اور حضرت ابراہیم نے حضرت اسماعیل کی گردن پر چھری رکھی اس وقت کسی جانور کے ذبح کرنے سے پہلے اسے بے ہوش کرنے کی ادویات یا تیکنیک موجود نہ تھی یہ تکنیک حضرت موسی حضرت عیسی کے زمانے میں بھی موجود نہ تھی یہ تکنیک بیسویں صدی کے آغاز میں شروع ہوئی جہاں شاید کسی رحم دل طبیب یا قصاب نے جانوروں کو دی جانے والی اذیت کے بارے میں سوچا اور ان کا کچھ کرنے کا فیصلہ کیا اب ہم انسانوں کے بارے میں بات کرتے ہیں خاص طور پر وہ لوگ جو میری طرح یا تو مسلمان ہیں یا یہودی ہیں اور برطانیہ میں حلال گوشت یا حلال ذبیحے کے بارے میں فکر مند ہیں تو آپ ہم ایک دوسرے سے سوال پوچھتے ہیں کہ آج کے دور میں جتنے چھوٹے بڑے اپریشن ہوتے ہیں ان سے پہلے مریض کو بے ہوش کیا جاتا ہے تاکہ اسے تکلیف کا احساس نہ ہو خواہ وہ اپریشن کے دوران درد محسوس کرتا ہو یا اپریشن کے بعد اپنی زندگی کی طرف لوٹ سکے۔

 میرا پتے کا اپریشن ہوا کیونکہ پتے میں پتھری کی وجہ سے میری طبیعت کافی خراب ہو چکی تھی اور تین یا چار دفعہ اس تکلیف کی وجہ سے ہسپتال میں رکنا پڑا جس دن اپریشن ہونا تھا ڈاکٹر نے مجھے بتایا کہ ہم دوپہر کو اپریشن کر کے پتا نکال دیں گے اور آپ شام کو گھر چلی جانا حسب روایت مجھے مقررہ مدت کے لیے بے ہوش کر دیا گیا جب ہوش آیا تو میں ہسپتال کے وارڈ میں تھی مگر تکلیف اس قدر تھی کہ بستر سے اٹھنا تو کیا بستر سے ہلنا بھی ناممکن ہو گیا تھا اور ہسپتال کی نرسوں نے ہی مجھے دوسرے بستر پہ منتقل کیا دو دن سے زیادہ مجھے ہسپتال میں اپریشن کے بعد رکنا پڑا اور تیسرے دن مجھے نہلایا بھی نرسوں نے۔ میں حد سے زیادہ نقاہت کا شکار ہو گئی اور ہسپتال سے گھر آنے کے بعد بھی تقریباً ایک ہفتہ مجھے روز مرہ کی زندگی گزارنے میں بڑا وقت لگا وہ ڈاکٹر جو پتے کا اپریشن کر رہے تھے ان کی زندگی کا معمول بن چکا تھا وہ بھی اس تکلیف سے ٹھیک سے واقف نہیں تھا جس جس تکلیف سے مریض اپریشن کے بعد گزرتا ہے اس لیے وہ مجھے صحیح نصیحت نہیں کر سکا اور میں اس کی باتوں میں آ کے کوئی چھوٹا سا کھیل سمجھ کے بیٹھی ہوئی تھی۔

یہی حال ان حاملہ خواتین کے ساتھ ہوتا ہے جنہیں بچہ پیدا کرنے کے لیے سی سیکشن یعنی بڑے اپریشن سے گزرنا پڑتا ہے ان سے امید کی جاتی ہے کہ وہ گھر آتے ہی بچے کے ساتھ باورچی خانے کو سنبھال لیں گھرسنبھالیں مہمانوں کو سنبھالیں اور گھر کے سارے کام سنبھال لیں مگر ایسا ناممکن ہے یہ نہیں ہو سکتا کہ کٹے ہوئے پیٹ کے ساتھ لگے ہوئے ٹانگوں کی تکلیف اس سے کہیں زیادہ ہوتی ہے جو پتے کی اپریشن کے بعد ہوتی ہے اور کم از کم ایک ہفتہ آرام چاہیے ہوتا ہے ایسی ماؤں کو میاں انہیں گھروں میں آرام کرنے کے لیے اور ان کی مدد کرنے کے لیے گھر میں کوئی موجود ہو۔ اس لیے شاید کہا جاتا ہے کہ سالی آدھی گھر والی کیونکہ ان موقع پہ کوئی سالی کام آتی ہے مگر ہمارے میڈیا نے بھی سالی بہنوئی کے پیار محبت بھرے رشتے پہ کیچڑ اچھال اچھال کے اسے بدبودار بنا دیا ہے۔ وہ ایک الگ گھر میں اپنی بہن کے لیے آتی ہے بہن کو ایک دھمکی بنایا ہوا ہے جو کسی بھی وقت اس کے لیے سوتن بن سکتی ہے۔ اس طرح وہ لوگ جن کی دل کی سرجری ہوتی ہے بائی پاس ہوتا ہے جو کینسر کا اپریشن کرواتے ہیں وہ سب لوگ تکلیف سے گزر رہے ہوتے ہیں اور انہیں ذہنی اور جسمانی طور پر کسی سے سہارے کی ضرورت ہوتی ہے لہذا ماؤں کے لیے خاص طور پر سی سیکشن کے ذریعے بچہ پیدا کرنے والی ماؤں کے لیے حکومت کی طرف سے ان کی ملازمت کا آفس کی طرف سے انہیں مالی امداد دی کی ضرورت ہوتی ہے کہ وہ کسی کو گھر بلا کر اپنی مدد کے لیے پیسے دے سکیں اسی طرح ان بچوں کے باپ کو بھی ضرورت ہوتی ہے کہ ان کی بیوی جس جسمانی اذیت سے گزر رہی ہے اگر وہ ملازمت پیشہ ہوں تو حکومت کی طرف سے ان کے دفتر کی طرف سے کم از کم ایک مہینے کی تنخواہ چھٹی سمیت دی جائے تاکہ وہ اپنے بیوی کی ذہنی جذباتی اور جسمانی تکلیف میں اس کے ساتھ ساتھ رہے اگر آفس کی طرف سے یہ مدد نہیں ملتی تو اسے قانون کا حصہ بننا تھا وہ امداد دی جانی چاہیے تاکہ اپنی بیوی اور بچے کے ساتھ وقت گزارتے ہوئے وہ مالی پریشانی کا شکار نہ ہو۔

 میں بات کر رہی تھی حلال گوشت کی تو سب اسی تناظر میں بیان کر رہی ہوں کیونکہ آپ ان سب لوگوں سے پوچھ سکیں چاہے وہ مرد ہوں یا عورت بچہ ہو یا بچی کسی بھی قسم کے اپریشن کے بعد ان کے جسمانی حالت کیسے ہوتی ہے اور کتنا وقت آرام کے لیے چاہیے ہوتا ہے اور ان سے یہ بھی پوچھا جانا چاہیے کہ کسی بھی نوعیت کے اپریشن کے بعد اگر وہ اپریشن بے ہوش کیے بغیر کیا جائے تو ان کی کیا حالت ہو گی ؟ ان سے پوچھا جائے کہ آپ اپنے اپریشن کی پوری ویڈیو دیکھیں اور دیکھ کے بتائیں کہ اس میں پورے اپریشن کے دوران اگر آپ جاگ رہے ہوتے تو آپ کی حالت کیا ہوتی تو ہم سب کو جواب مل جائے کہ جانور کس اذیت سے گزرتا ہے گلے کو  چھری سے کاٹنے کی تکلیف کتنی زیادہ تکلیف ہوتی ہے یہودی بھائی اور مسلمان بھائی اس تکلیف کو سمجھنے کی کوشش کریں اگر ابراہیم کا خدا بیٹے کی گردن پہ چھری چلانے کی اجازت دیتا تو آج مسلمان تو دنیا میں موجود نہ ہوتے صرف ان کی بیٹیاں زندہ بچتیں اور بیٹے سنت ابراہیمی پہ قربان کر دیے جاتے ہیں وہ بیٹیاں یہود و نصاری سے شادی کر کے ان کے بچے پیدا کر رہی ہوتی جانور کو گر بے ہوش کر کے ذبح کیا جائے تو اسلامی طریقے سے اس کا پورا خون بہنے کا انتظار کیا جائے اسی طرح ہوتا ہے اگر اس جانور کو ہوش کی حالت میں ذبح کر کے تکلیف دی جائے جس کو خون بہنے کا انتظار کیا جاتا اس زمانے میں یہ طریقہ موجود نہیں تھا جانور کے بے ہوش کرنے کا اس لیے ان کی کتاب کا آغاز اقراء سے ہوتا یعنی پڑھ اور پوری دنیا کے انسان خواہ کسی بھی مذہب سے عقیدے سے تعلق رکھتے ہو پڑھ پڑھ کے ہی انسانوں کے ساتھ جانوروں کی زندگی کو بھی محفوظ بنا رہے ہیں بیماریوں سے لڑ رہے ہیں دنیا کو جنت بنا رہے ہیں اور انسان کو بے ہوش کر کے اپریشن کرنے کا فن بھی اقراء سے ہی انسان کو ملا ہے کہ اس نے اس پڑھنا سیکھنا سکھایا دنیا جہان کی کتابیں پڑھ لکھ کر اسی طرح جانوروں کو بے ہوش کر کے ذبح کرنے کا طریقہ بھی اقراء سے ملا ہے کہ انسانوں کو خدا کہتا ہے پڑھ اور قران بائبل تورات زبور گیتا پڑ کے انسانوں کے ساتھ جانوروں کے بارے میں پتہ چلا اور اس نے اس کی تکلیف کو کم کرنے کا طریقہ ڈھونڈ لیا تو وہ علم جو انسان نے اقراء سے سیکھا وہ علم مذہب اور عقیدے سے کیسے ٹکرا سکتا ہے اگر مسلمانوں سے  صرف قرآن پڑھنا مقصود ہوتا باقی کتابوں کو ممنوع کرنا مقصود ہوتا تو خدا ہی حکم دیتا کہ پڑھیں صرف قران پڑھیں جو تجھ پہ نازل ہونا شروع ہوا لیکن خدا نے کہا کہ  دنیا جہان کی کتابوں کے دروازے انسانوں پہ کھول دیے۔ یہودی زبور پڑھے قرآن پہ پڑھے عیسائی انجیل پڑھیں تو ساتھ قرآن بھی پڑھیں مسلمان قرآن کے ساتھ دیگر کتابیں بھی پڑھیں اور ان الہامی کتابوں کی زندگی کے سفر کا آغاز کرتے ہوئے اللہ کے کلام کو پہچاننے کے لیے اپنے آپ کو پہچانیں ور دنیا کو جنت بنائیں۔

 اگر جانور کو ذبح کرنے سے پہلے بے ہوش کرنا غیر اسلامی ہے نبی کے زمانے میں جنگیں تیر اور تلوار سے لڑی جاتی تھی مگر آج کے انسان کے پاس ایٹم بم ہیں بندوقیں اور جنگی جہاز ہے ڈرون ہے تو اور بھی بہت کچھ ہے اسی طرح پرانے زمانے میں اللہ تعالی نے خانہ کعبہ کو بچانے کے لیے ابابلیں بھیجی کنکر دے کر جنہوں نے ابرہہ کو شکست دے دی مگر آج کے انسان کوئی چونچ میں چھپے کنکروں کا محتاج نہیں اور اس نے پہلے جہاز بنایا انسانوں کو آسمانوں میں اڑنا سکھایا پیراشوٹ بنائے۔ آج وہ انسان جنگی جہاز بنا چکا ہے جو ابابیلوں کا کام کر رہی ہے وہ جنگی جہاز جو کنکروں کے بجائے ایٹم بم ڈرون اور دیگر چیزیں دشمن یا دشمن کے ملک پر پھینکتے ہیں اور خدا کی کرامات کا شکر ادا کرتے ہوئے اپنے ملک کو اپنے سرحد کو اپنے فضا کو محفوظ بنا چکا ہے تو جو لوگ ذبح کرنے سے پہلے جانوروں کو بے ہوش کرنے کے غیر اسلامی یا غیر یہودی کہہ رہے ہیں وہ سب اپنی اپنی فوج سے جنگی جہاز واپس لے لیں ابابیلیں دیں جو کنکروں کے ساتھ دشمن ملک پر حملہ کرنے کی تربیت لے کے بیٹھی ہوں ان سب لوگوں کا جب اپریشن ہونا چاہیے تو وہ خود کو بے ہوش کیے بغیر  اپریشن سے گزاریں تاکہ انہیں تکلیف کا احساس ہو اور ساتھ ساتھ جانور کی تکلیف کا احساس ہو جسے وہ حلال طریقے سے ذبح کرنے کے لیے بے ہوش کرنے کے عمل کو غیر اسلامی اور غیر یہودی قرار دے رہے ہیں انسانوں کی دنیا میں رہنا سیکھیں اللہ کی وحی اقراء کے  معجزوں کی دنیا میں رہنا  سیکھیں آپ اس کی بدولت سائنس اور ٹیکنالوجی کی  دنیا میں رہ رہے ہیں اور مزے کر رہے ہیں موبائل آپ کے ہاتھ میں ہے ٹی وی فریج اے۔سی آپ کے گھر میں ہیں۔ عالی شان بنگلے آپ کی ملکیت ہیں جہاز اور بحری جہاز آپ کی ٹکٹ خریدنے کے محتاج ہیں کہ آؤ اور میدان اور سمندروں کا سفر کرو اگر انسان خدا کے اقراء کے سبق کی طرف سے انکار کرتا ہے اس کے وسیع تر معنی سے انکار کرتا تھا تو وہ  دکانوں میں جا کے گوشت کو لازمی دیکھےجو قصاب کی دکان پر پڑا ہوتا ہے خدا نے اپنے پیغمبر پر معجزے دکھا دیا تھا کہ پرندے کاٹ کے بوٹیاں کر کے پھینک دو اور خدا نے بوٹیوں کو اکٹھا کر کے دوبارہ پرندے بنا دیے جسے وہ کبھی مرے بھی نہ ہو مگر انسان سرکش ہے انسان اقراء سے سرکش ہے تو وہ قصاب کی دکان پر جا کر بکرے کا گوشت خرید کر سارے گوشت کو دوبارہ بکرا بنائے مرغ کا گوشت خریدے سے دوبارہ مرغا بنائے یقیناً وہ یہ سب نہیں کر سکتا اگر دنیا جتنی بھی ترقی کر لے وہ کبھی بھی ایسا نہیں کر پائے گا کیونکہ وہ خدا کی اتنی بڑی دنیا میں صرف ایک چھوٹی سی زمین کا چھوٹا سا انسان ہے خدا نہیں ہے نہ ہی خدا بن سکتا ہے کہ اصل طاقت وہی ہے اور بس وہی رہے گی لہذا بحث ختم اور اقراء کے معنی پہ غور کر کے اس تکلیف کو ختم کرو جو ہم جانوروں کو دے رہے ہیں

Tags

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !