یہ کہانی 1979 میں شروع ہوئی جب میں ویمن گارڈ سے پاس آؤٹ ہورہی تھی۔۔میری امی پہلی رو میں مہمان خواتین کے ساتھ بیٹھی ہوئی مجھے متلاشی نگاہوں سے دیکھ رہی تھیں۔مجھے بہت بعد میں سمجھ آئی کہ میں انہیں کیوں جلدی نظر نہیں آ سکی تھی
بعد میں جب پریڈ کرتے ہوئے میں ان کے بالکل قریب سے گزری اور انہوں نے مجھے پہچان لیا تو اس وقت ان کے چہرے سے جو خوشی اور فخر ٹپک رہا تھا اسے دیکھ کر میری دو سال کی محنت کا پھل مل گیا۔۔اسی دن میں نے سوچ لیا تھا کہ اگر میری شادی کے بعد اللہ نے مجھے اولاد دی تو میں اسے ضرور پاک فوج کا حصہ بنانے کی کوشش کروں گی
اور جب میری شادی کے بعد میری پہلی اولاد میرا بیٹا ہوا تو میں جب اس کی مالش کرتی تو میرے زہن میں یہی خیال ہوتا کہ اس نے بڑا ہو کر فوجی جوان بننا ہے۔۔
اسے میں کہانیاں سناتی تو پاک فوج کے افسران کی، باتیں بتاتی تو ان بچوں کی جو آرمی میں کمیشن لینے میں کامیاب ہو گئے تھے، اسلامی واقعات سناتی تو خالد بن ولید ، طارق بن زیاد اور صلاح الدین ایوبی کی فتوحات کے قصے سناتی۔
اس کے بچپن سے ہی میں اسے فوج کے لئے تیار کررہی تھی۔۔۔
اور پھر وہ دن آگیا جب اس نے ائر بیس کالج سرگودھا سے ایف ایس سی پری انجینئرنگ میں نمایاں کامیابی حاصل کی۔۔
اب وہ فوج جوائن کرنا چاہتا تھا۔۔جب کہ اس کے والد صاحب اسے انجنئیر بنانا چاہتے تھے۔
یوں اس نے جنٹلمین کیڈٹ کے طور پر انجینئرنگ کے لئے اپلائی کردیا۔
ایک تحریری ٹسٹ پاس کرنے کے بعد اسے جی ایچ کیو سے آئی ایس ایس بی کے لئے بلاوا آگیا۔
اس سے پہلے میرے بچوں کا کوئی کزن یا ماموں ، چاچا آرمی میں نہیں تھا۔۔بس کوشش تھی اور دعا تھی کہ اللہ اسے کامیاب کرے۔
جب آئی ایس ایس بی دینے کے بعد وہ گھر پہنچا تو اس کی آنکھوں میں جگنو چمک رہے تھے۔۔یوں جیسے اس علم ہو گیا ہو کہ وہ پاس ہو کر آرہا ہے۔
مجھے بیٹے نے اتنی تفصیل سے گوجرانولہ میں اپنے ان چند دنوں کے بارے میں بتایا کہ مجھے لگتا تھا سکریننگ سے لے کر آخر تک میں بھی ہر قدم پر اس کے ساتھ تھی۔۔جیسا کہ تھوڑے سے وقت میں لفظوں سے جملے بنانے ، یا تصویر سے کہانی لکھنی یا رکاوٹوں کو عبور کرتے ہوئے ساتھیوں کی مدد کرنی وغیرہ وغیرہ
جلد ہی اس کی فائنل کال آ گئی
مجھے آج تک یاد ہے وہ رمضان کا مہینہ تھا اس دن ہلکی ہلکی بارش ہو رہی تھی میں اور سرتاج اسے چھوڑنے جارہے تھے۔جب ہم نے اسے ای ایم ای کالج کے گیٹ پر چھوڑا تو وہ بغیر مڑ کے دیکھے ، بھاگتا ہوا اندر چلا گیا۔
یہ پہلی مرتبہ تھا کہ وہ گھر سے دور جارہا تھا۔۔تب تک مجھے علم نہیں تھا کہ انجینئرز کو بھی لڑاکا فوج جیسی ہی سخت تربیت دی جاتی ہے۔
جب پہلی مرتبہ بیٹا گھر واپس آیا تو اس کے کٹے ہوئے بال، سوجے ہوئے پاؤں اور آنکھیں رت جگوں سے تھکی ہوئی تھیں۔۔جب اس نے کولڈ باتھ کے قصے، کاک ٹیل ( جو گلاس میں پانی ، شوربہ ، سلاد، گوشت ڈال کر بنائی جاتی ہے) کی کہانیاں، تھوڑے وقت میں بغیر آواز کھانے میں ناکامی پر بھوکا اٹھ جانے کے واقعات سنے تو میں نے سوچتی تھی کہ اگر کبھی زندگی میں موقعہ ملا تو فوج میں افسر بھرتی ہونے والے بچوں کی ماؤں کے لیے بھی ایک کورس رکھوانے کی کوشش کروں گی۔۔تا کہ وہ بڑے مضبوط دل کے ساتھ بچوں کو رخصت کر سکیں۔
پڑھائی کے چار سالوں میں پہلا سال بہت مشکل اور یادگار رہا۔آج تک میرے بچے کی ان ان لڑکوں سے دوستی قائم ہے، جو ان مشکل دنوں میں اس کے ساتھی تھے خاص طور جب تک سلوٹنگ ٹسٹ پاس نہیں ہوگیا۔
بہت جلد وہ دن آگیا جب میرا بچہ چار سال کی پڑھائی جس کے ساتھ فوجی ٹریننگ بھی چل رہی تھی سے پاس آؤٹ ہورہا تھا۔
اور ہم مہمانوں میں کیڈٹس کو آتے ہوئے دیکھ رہے تھے تو سارے کیڈٹس ایک ہی جیسی وردی میں ایک ہی جیسے لگ رہے تھے۔۔میری نظریں میرے بچے کو ڈھونڈ رہی تھیں اس دن مجھے یاد آیا کہ میری امی کو میں کیوں نظر نہیں آرہی تھی۔۔ایک ہی جیسی وردی میں ہر بچہ ایک ہی جیسا نظر آتا ہے۔ہر آنے والا کیڈٹ مجھے لگتا کہ یہی میرا بیٹا ہے۔۔اور میں اسے ہاتھ ہلانا شروع کردیتی۔لیکن وہ اپنی پریڈ میں مصروف چلتا جاتا تھا ۔آخر سرتاج نے کہا "ارے، وہ ادھر دیکھو، جو سامنے سب سے لمبا لڑکا آرہا ہے وہی اپنا بیٹا یے ،،
وہ کیسا یادگار وقت اور دن تھا جب ہم اپنے بچے کے انجینئرنگ کور سے پاسنگ آؤٹ کی تقریب میں تین دن کے لیے اس کے ادارے کے مہمان تھے۔۔
ایک متوسط سے گھر کے بچے کے والدین کے لیے وہ کیسا پر مسرت وقت ہوتا ہے جب وہ اس کے ادارے میں جا کر چند دن قیام کرتے ہیں۔۔
ہرروز صبح تین مختلف قسم کے ناشتے ہمارے کمرے میں پہنچ جاتے۔۔انڈہ پراٹھا یا دلیہ دودھ یا بریڈ جام اور مکھن کے ساتھ۔۔دوپہر کو ڈائننگ ہال میں لنچ کے لئے ہم سب اکھٹے ہوتے۔ وہاں کئی اعلیٰ افسران بھی ہوتے اور کئی ہم جیسے متوسط طبقے کے لوگ بھی لیکن سب کو ایک ہی جیسا پروٹوکول ایک ہی جیسی عزت اور ایک ہی جیسی اہمیت دی جاتی۔
جب ہم شام کو لان جا کر بیٹھتے تو وہاں پودوں سے روشنی کے ساتھ ساتھ مچھروں کو ختم کرنے کے لئے دھواں سا نکل رہا ہوتا ، صبح اٹھتے تو بیسن میں جراثیم کش گولیاں رکھی ہوتیں۔ کپڑے ہرروز استری ہو کر دروازے کے ہینڈل پر لٹک رہے ہوتے تھے۔۔
اس کے بعد تو پھر زندگی چل سو، چل ہوجاتی ہے ۔۔سب کچھ زندگی کی ترتیب میں ضم ہوجاتا ہے۔۔بچوں کو اور بھی بہت سی کامیابیاں ملتی ہیں لیکن یہ پہلے بچے کی پہلی پہلی کامیابی والدین کے لیے بہت قیمتی ، بہت یادگار ہوتی ہے۔
اللہ پاک ہر والدین کے خواب جو انہوں نے اپنے بچوں کے حوالے سے دیکھے ہوتے ہیں، پورا فرمائے ۔۔ امین
( اپریل 2026 کے ہلال میگزین میں شائع شدہ)
