آج لنچ کے بعد مجھے اپنی پرائیویٹ سیکرٹری کی آسامی کے لیے تین شارٹ لسٹڈ مہیلاؤں کا انٹرویو کرنا تھا. جیسے ہی دوسرے نمبر والی شریمتی نے کانفرنس ہال میں قدم رکھا ، میرا دل گویا میرے ہاتھوں سے نکلتا چلا گیا. میرے سامنے کھلی فائل پر جلی حروف میں لکھا تھا " مسز سلمیٰ انور سین"
