ریپ کے بڑھتے ہوئے واقعات، وجوہات، تدارک۔۔ بسمہ مجید

 ریپ کے بڑھتے ہوئے واقعات، وجوہات، تدارک اور جنسی جرائم کی روک تھام میں تعلیم و تربیت کا کردار
إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ۔

"بے شک اللہ انصاف اور احسان کا حکم دیتا ہے۔"
(سورۃ النحل: 90)

کچھ خبریں صرف اخبار کے صفحات کی زینت نہیں بنتیں، بلکہ انسان کے باطن میں اتر کر دیر تک بے چینی کی صورت زندہ رہتی ہیں۔ ہم خبر پڑھتے ہیں، افسوس کا اظہار کرتے ہیں، چند لمحے غمگین رہتے ہیں، مگر پھر زندگی معمول کے مطابق چلنے لگتی ہے۔ مگر کچھ سانحات ایسے ہوتے ہیں جو وقت گزرنے کے باوجود دل و دماغ پر دستک دیتے رہتے ہیں۔ جنسی زیادتی کے واقعات بھی انہی تلخ حقیقتوں میں سے ایک ہیں۔ ہر نیا واقعہ صرف ایک فرد یا ایک خاندان کا المیہ نہیں ہوتا، بلکہ پورے معاشرے کے اخلاقی شعور پر ایک سوالیہ نشان بن جاتا ہے۔ آج ہم ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں ترقی کے دعوے تو بہت ہیں، مگر انسان کی عزت، تحفظ اور وقار پہلے سے کہیں زیادہ آزمائش میں دکھائی دیتے ہیں۔ جب کسی معصوم بچے، کسی بچی، کسی عورت یا کسی بے بس انسان کے ساتھ جنسی زیادتی کی خبر سامنے آتی ہے تو دل صرف رنجیدہ نہیں ہوتا بلکہ یہ احساس بھی شدت اختیار کر جاتا ہے کہ کہیں نہ کہیں ہم نے اپنی اجتماعی ذمہ داریوں سے چشم پوشی کی ہے۔
ہر ایسے واقعے کے بعد ایک ہی منظر دہرایا جاتا ہے۔ سوشل میڈیا پر شدید ردِعمل، ٹیلی ویژن پر بحث و مباحثہ، سخت سزاؤں کے مطالبات اور چند روز بعد چھا جانے والی خاموشی۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ہم مسئلے کی جڑ تک پہنچنے کے بجائے صرف وقتی غصے کے اظہار پر اکتفا کر لیتے ہیں۔ حالانکہ کوئی بھی سماجی المیہ اچانک جنم نہیں لیتا۔ اس کے پیچھے برسوں کی غفلت، کمزور تربیت، غلط ترجیحات اور اخلاقی زوال کارفرما ہوتا ہے۔
ریپ محض ایک قانونی جرم نہیں، بلکہ انسانیت، اعتماد اور اخلاقی اقدار پر حملہ ہے۔ اسلام نے انسان کی جان، عزت اور آبرو کو انتہائی محترم قرار دیا ہے۔ اسی لیے کسی انسان کی عزت پر دست درازی صرف ایک فرد کے خلاف جرم نہیں بلکہ پورے معاشرے کی اخلاقی بنیادوں کو متزلزل کر دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس مسئلے کو صرف سزا کے زاویے سے نہیں بلکہ اس کے اسباب، سماجی رویوں اور تربیتی پہلوؤں کے تناظر میں بھی دیکھنے کی ضرورت ہے۔
اصل سوال یہ نہیں کہ مجرم کو کتنی سخت سزا دی جائے، بلکہ یہ ہے کہ ایسے جرائم جنم کیوں لیتے ہیں؟ وہ کون سی کمزوریاں ہیں جو ایک انسان کو اس حد تک بے حس بنا دیتی ہیں کہ وہ دوسرے انسان کی عزت، آزادی اور وقار کو پامال کرنے سے بھی نہیں ہچکچاتا؟ ان سوالات کے جواب صرف عدالتوں میں نہیں، بلکہ ہمارے گھروں، تعلیمی اداروں، معاشرتی رویوں اور اجتماعی طرزِ فکر میں پوشیدہ ہیں۔
قانون یقیناً ضروری ہے، لیکن قانون جرم کے بعد حرکت میں آتا ہے، جبکہ تعلیم اور تربیت جرم کو جنم لینے سے پہلے روکنے کی طاقت رکھتی ہیں۔ اسی حقیقت کو سمجھنا اور اپنی ترجیحات کا حصہ بنانا آج کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔
کسی بھی جرم کی ایک کہانی ہوتی ہے اور اس کہانی کا آغاز عموماً اس دن نہیں ہوتا جب جرم سرزد ہوتا ہے۔ اس کی جڑیں بہت پہلے کہیں پیوست ہو چکی ہوتی ہیں۔ کبھی کمزور گھریلو تربیت میں، کبھی ایسے ماحول میں جہاں اخلاقی اقدار کو اہمیت نہیں دی جاتی، اور کبھی ایسی خاموشیوں میں جو غلط رویوں کو پنپنے کا موقع دیتی ہیں۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں تعلیم کو اکثر صرف ڈگری اور روزگار تک محدود کر دیا گیا ہے، جبکہ تعلیم کا اصل مقصد ایک باکردار انسان کی تشکیل ہے۔ جب احترامِ انسانیت، ضبطِ نفس، احساسِ ذمہ داری اور دوسروں کے حقوق کا شعور کمزور پڑ جائے تو معاشرہ مختلف اخلاقی بحرانوں کا شکار ہونے لگتا ہے۔
آج کی ڈیجیٹل دنیا نے جہاں بے شمار سہولتیں فراہم کی ہیں، وہیں کئی نئے چیلنج بھی پیدا کیے ہیں۔ غیر ذمہ دارانہ مواد، تشدد اور انسان کو محض ایک شے کے طور پر پیش کرنے والے رجحانات نوجوان ذہنوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ تاہم تمام ذمہ داری میڈیا یا ٹیکنالوجی پر ڈال دینا بھی درست نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ ہم نے اپنی نئی نسل کو درست اور غلط میں فرق کرنے، اپنے جذبات پر قابو رکھنے اور دوسروں کی عزت و حرمت کا احترام کرنے کی تربیت کتنی دی ہے؟
جنسی جرائم کی روک تھام میں سب سے اہم کردار خاندان کا ہے۔ بچے کی پہلی درسگاہ اس کا گھر ہوتا ہے۔ والدین کا رویہ، ان کی گفتگو اور ان کے عملی نمونے بچوں کی شخصیت پر گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں۔ اگر گھر میں عزت، احترام اور اخلاقی اقدار کو اہمیت دی جائے تو یہی اوصاف بچوں کے کردار کا حصہ بن جاتے ہیں۔ اسی طرح بیٹوں کی تربیت پر خصوصی توجہ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ایک محفوظ معاشرہ اس وقت وجود میں آتا ہے جب بیٹیوں کو تحفظ میسر ہو اور بیٹوں کی تربیت احترام، ضبطِ نفس اور ذمہ داری کے احساس کے ساتھ کی جائے۔
تعلیمی اداروں کی ذمہ داری بھی کسی طور کم نہیں۔ اگر نصاب کے ساتھ کردار سازی، اخلاقی تربیت اور سماجی شعور کو فروغ دیا جائے تو نوجوان نسل زیادہ ذمہ دار شہری بن سکتی ہے۔ 
رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا:
 "تم میں سب سے بہتر وہ ہے جس کے اخلاق سب سے بہتر ہوں۔" (صحیح بخاری)۔
 درحقیقت اچھے اخلاق ہی ایک مہذب معاشرے کی بنیاد ہوتے ہیں۔ ریاست، میڈیا، مذہبی اداروں اور سماجی تنظیموں کو بھی اپنی اپنی ذمہ داریاں دیانت داری سے ادا کرنا ہوں گی۔ قانون پر مؤثر عمل درآمد، بروقت انصاف، شعور بیدار کرنے والی مہمات اور اخلاقی اقدار کے فروغ کے لیے مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں۔ یہ مسئلہ کسی ایک فرد یا ادارے کا نہیں، بلکہ پورے معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ علامہ اقبال نے کہا تھا:

افرؔاد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ

حقیقت یہی ہے کہ ایک بہتر معاشرہ بہتر انسانوں سے تشکیل پاتا ہے۔ اگر ہم آنے والی نسلوں کو صرف کامیابی نہیں بلکہ انسانیت، احترام اور ذمہ داری کا شعور بھی دیں تو بہت سے سماجی مسائل کی شدت خود بخود کم ہو سکتی ہے۔ جنسی جرائم کا خاتمہ صرف سخت سزاؤں سے ممکن نہیں، بلکہ ایسی تعلیم اور تربیت سے ممکن ہے جو انسان کو دوسروں کی عزت، آزادی اور وقار کا احترام کرنا سکھائے۔ یہی ایک محفوظ، مہذب اور باوقار معاشرے کی بنیاد ہے۔

بشکریہ ۔۔۔ حب الادب پاکستان/بابر الیاس ❤️

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !