سرکاری کاغذ میں اس بستی کا نام کہیں درج نہیں تھا۔ نقشے پر صرف ایک نمبر تھا — موضع ۴۷، پٹہ نمبر ۴۲ تا ۵۸۔یہ بستی، مظفرگڑھ شہر سے 12 کلو میٹر دور شمال مشرق میں چناب کے کنارے پر آباد تھی جو لوگ وہاں پیدا ہوئے، مرے، اور دفن ہوئے، وہ اسے مظفرگڑھ کہتے تھے، ایسے جیسے یہ نام انہوں نے خود ایجاد کیا ہو اور اس پر ان کا وہی حق تھا جو ایک ماں کا اپنے بچے کے نام پر ہوتا ہے۔
محمد بخش کی عمر کے بارے میں خود اسے بھی یقین نہ تھا۔ کوئی کہتا باسٹھ، کوئی پینسٹھ۔ اس کے پاس چار کنال زمین تھی، ایک کچا کمرہ جس کی چھت ہر برسات میں دو جگہ سے ٹپکتی تھی، اور ایک املی کا درخت جو اس کے باپ نے، خود اس کی پیدائش سے تین برس پہلے، اپنے ہاتھ سے لگایا تھا۔ باپ نے مرتے وقت کوئی وصیت نہیں کی تھی، کوئی جائیداد کا تنازع نہ چھوڑا تھا — صرف ایک جملہ کہا تھا، جو محمد بخش نے کبھی کسی کو نہیں سنایا: "بخشا، وہ درخت میں نے نہیں، تیری ماں نے لگایا تھا۔ میں نے تو صرف گڑھا کھودا تھا۔"
قادر، اس کا بیٹا، شہر جا چکا تھا — ایک ٹیکسٹائل ملز میں، دن کے بارہ گھنٹے، مہینے کے آٹھ سو روپے۔ سال میں دو بار آتا، عید پر اور فصل کی کٹائی پر، اور ہر بار اس کی جینز نئی ہوتی، اس کا لہجہ تھوڑا اور اجنبی۔
"ابا، یہاں کیا رکھا ہے؟" اس نے آخری بار کہا تھا۔ "مٹی، مچھر، اور بجلی کا کوئی پتا نہیں۔"
محمد بخش نے جواب نہیں دیا تھا۔ وہ صرف چائے کی پیالی کو دیکھتا رہا تھا جیسے اس میں کوئی جواب تیرتا ہو۔
*****
انجینئر کا نام غلام سرور تھا۔ وہ محکمہ آبپاشی میں اسسٹنٹ انجینئر تھا، ۔ اس کے بیگ میں ایک نقشہ تھا، ایک فیتہ، اور ایک لسٹ جس میں چوّن گھرانوں کے نام درج تھے۔ لسٹ میں محمد بخش کا نام سترہویں نمبر پر تھا۔
بستی جمع ہو گئی جب سرخ رنگ کا فیتہ زمین پر بچھایا گیا۔ کسی بچے نے سمجھا شاید کوئی میلہ لگنے والا ہے۔
"یہ کیا ہو رہا ہے صاحب؟" محمد بخش نے پوچھا۔
غلام سرور نے فائل سے ایک صفحہ نکالا، اسے پڑھا نہیں، صرف اس کی طرف دکھایا۔ "چناب بیراج سکیم، فیز ٹو۔ یہ زمین سب مرج کے علاقے میں آتی ہے۔ آپ کو معاوضہ ملے گا، فی کنال چار ہزار، پرانی ریٹ پر۔"
"چار ہزار؟" اللہ دتا نے کہا، جو محمد بخش کے ساتھ کھڑا تھا۔ "صاحب، یہ زمین ہماری تین نسلوں کی ہے۔"
"میں کچھ نہیں کر سکتا،" غلام سرور نے کہا، اپنی گھڑی دیکھتے ہوئے۔ "میرا کام صرف سروے کرنا ہے۔ باقی فیصلہ اوپر ہوتا ہے۔" اور وہ اپنی جیپ کی طرف چل دیا، جس کے پیچھے دھول کا ایک بادل اٹھا جو دیر تک بستی کے اوپر معلق رہا۔
اُس رات محمد بخش اپنے کمرے میں چراغ کے پاس بیٹھا رہا، بغیر کچھ کھائے۔ اس کی بیوی، جو برسوں پہلے مر چکی تھی، اس کے ذہن میں صرف ایک آواز کی صورت باقی رہ گئی تھی — اسی درخت کے نیچے اس کی قبر تھی، بغیر کسی کتبے کے، صرف ایک گول پتھر جسے محمد بخش نے خود رکھا تھا۔
اگلے دن قادر آیا، خبر سن کر۔
"ابا، اچھا ہوا،" اس نے کہا، تقریباً خوش دکھائی دیتے ہوئے۔ "شہر میں مکان دیکھا ہے میں نے، دو کمرے، پکی چھت۔ آپ کو معاوضے کے پیسے مل جائیں تو —"
"تیری ماں کہاں دفن ہے؟" محمد بخش نے پوچھا، بغیر نظر اٹھائے۔
قادر رک گیا۔ "درخت کے نیچے۔ آپ کو معلوم ہے۔"
"سرکار کے کاغذ میں یہ کہاں لکھا ہے؟"
قادر کچھ نہ بولا۔
بستی خالی ہونے لگی۔ ٹرک آتے، چارپائیاں، برتن، بکریاں لادی جاتیں۔ اللہ دتا نے اپنے خاندان کو رخصت کیا، پھر واپس محمد بخش کے پاس آیا۔
"چل بخشا، آخری ٹرک جا رہا ہے۔"
"تم جاؤ۔"
"پگلا نہ بن۔ پانی چڑھ رہا ہے، محکمے والے کہتے ہیں تین دن میں یہ سارا علاقہ —"
"میں نے کہا تم جاؤ، اللہ دتا۔ اپنے بچے دیکھو۔"
اللہ دتا نے اسے دیکھا، دیر تک، جیسے کوئی ایسی بات کہنا چاہتا ہو جس کے لیے الفاظ نہ ملتے ہوں۔ پھر اس نے صرف اتنا کہا: "میں کل صبح پھر آؤں گا۔" اور ٹرک کی طرف چل دیا۔ وہ کل صبح نہ آ سکا، کیونکہ کل صبح تک پانی ان راستوں تک پہنچ چکا تھا جہاں سے آنا ممکن نہ تھا۔
بارش تیسرے دن رکی، اور جس دن رکی، اسی دن پانی نے آخری حد پار کی۔ محمد بخش کے کمرے میں پانی گھٹنوں تک آ چکا تھا۔ اس نے وہ گول پتھر اٹھایا جو اس کی بیوی کی قبر پر رکھا تھا، اسے اپنی چادر میں لپیٹا، اور درخت کی طرف چل دیا۔
درخت پر چڑھتے ہوئے اس کی انگلیوں سے خون رسنے لگا۔ وہ اوپر پہنچ کر ایک موٹی شاخ سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا، پتھر اپنی گود میں رکھے۔
نیچے پانی اپنی رفتار سے بڑھتا رہا — گھٹنے، کمر، سینہ۔ رات گہری ہوتی گئی۔ کہیں دور، سرکاری کیمپ کی روشنیاں جل رہی تھیں، جہاں ایک لاؤڈ اسپیکر پر کوئی صاحب اعلان کر رہے تھے کہ سب لوگ رجسٹریشن کے لیے قطار میں کھڑے ہوں، معاوضے کی رقم اگلے ہفتے تقسیم ہوگی۔
محمد بخش نے وہ آواز سنی، بہت دور سے، جیسے کسی اور دنیا کی آواز ہو۔
صبح جب پانی اترا، ریڈ کراس کی ایک ٹیم نے بستی کا معائنہ کیا۔ درخت کی ایک شاخ ٹوٹی پڑی تھی، پانی میں۔ محمد بخش کی لاش کچھ فاصلے پر ملی، اس کی مٹھی میں ایک گول پتھر مضبوطی سے بھنچا ہوا تھا، اتنی مضبوطی سے کہ رپورٹ لکھنے والے کلرک نے اسے کھولنے کی کوشش نہ کی۔
اُسی ہفتے شائع ہونے والے سرکاری گزٹ میں، صفحہ نمبر گیارہ پر، ایک چھوٹا سا خانہ تھا:
"چناب بیراج سکیم، فیز ٹو — سب مرج کا عمل کامیابی سے مکمل۔ کل ۵۴ خاندان بحفاظت منتقل۔ ایک شخص، عمر تخمیناً ساٹھ سے پینسٹھ برس، جو انخلاء کے احکامات کی تعمیل نہ کر سکا، سیلابی پانی میں بہہ گیا۔ لاش کی حوالگی متعلقہ رشتہ داروں کو کر دی گئی۔"
نام کہیں درج نہ تھا۔ نہ محمد بخش کا، نہ مظفرگڑھ کا۔ کیونکہ جس دن پانی نے وہ زمین ڈبوئی، اسی دن سرکاری نقشے سے بھی موضع ۴۷ کا خانہ خالی کر دیا گیا، اور اس کی جگہ ایک نیلے رنگ کا بڑا سا نشان بنا دیا گیا — "چناب بیراج، ذخیرہ آب، رقبہ: ۸۰۰ ایکڑ۔"
قادر نے وہ گزٹ کبھی نہیں پڑھا۔ وہ شہر میں تھا، ملز کی رات کی شفٹ میں، جب اسے تار ملا۔ اس نے اپنے باپ کی لاش وصول کی، اسے شہر کے نئے قبرستان میں دفن کیا — ایک ایسی جگہ جہاں قبروں پر نمبر لکھے جاتے تھے، نام نہیں، کیونکہ یہ سرکاری زمین تھی اور سرکاری زمین پر نام کی ضرورت نہیں ہوتی۔
اُس گول پتھر کا کیا ہوا، یہ کسی کو معلوم نہیں۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کلرک نے اسے لاش کے ساتھ ہی دفن کر دیا تھا، بغیر رپورٹ میں درج کیے۔
