مکالمہ
سوال: آپ مذہبی کیوں نہیں ہیں؟
جواب: اس لیے کہ مجھے مذہب کے کسی عقیدے کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔ میں نے خدا کے وجود کے حق میں دیے جانے والے تمام روایتی دلائل کا جائزہ لیا ہے اور ان میں سے کوئی بھی مجھے منطقی طور پر درست معلوم نہیں ہوتا۔
سوال: کیا آپ کو لگتا ہے کہ بہت سے لوگوں کیلئے مذہبی عقیدہ رکھنے کی کوئی عملی وجہ ہوتی ہے؟
جواب: دیکھیں جو چیز سچ نہیں ہے، اسے ماننے کی کوئی عملی وجہ نہیں ہو سکتی۔ میں تو اس بات کو بالکل خارج از امکان سمجھتا ہوں۔ کوئی بات یا تو سچ ہوتی ہے یا جھوٹ۔ اگر وہ سچ ہے تو آپکو اس پر یقین کرنا چاہیے اور اگر جھوٹ ہے تو نہیں کرنا چاہیے۔ اگر آپ یہ معلوم نہیں کر سکتے کہ وہ سچ ہے یا جھوٹ تو پھر آپکو اپنا فیصلہ روک دینا چاہیے۔ کسی عقیدے کو محض اس لیے مان لینا کہ وہ فائدہ مند ہے، نہ کہ اس لیے کہ وہ سچ ہے، میرے نزدیک ذہنی بددیانتی اور علمی دیانت داری سے غداری ہے۔
سوال: میں ان لوگوں کے بارے میں سوچ رہا تھی جنہیں مذہبی ضابطہ زندگی گزارنے میں مدد دیتا ہے۔ یہ انہیں صحیح اور غلط کے سخت اصول فراہم کرتا ہے۔
جواب: جی ہاں، لیکن وہ اصول عام طور پر بالکل غلط ہوتے ہیں۔ ان میں سے بہت سے اصول فائدے کے بجائے نقصان زیادہ پہنچاتے ہیں۔ اگر لوگ اس غیر عقلی اور روایتی ممنوعات پر مبنی اخلاقیات کو چھوڑ دیں جو قدیم دور سے چلی آ رہی ہے تو وہ بڑی آسانی سے عقل پر مبنی ایسے اخلاقی اصول ڈھونڈ سکتے ہیں جن کے ساتھ جیا جا سکے۔
سوال: لیکن کیا ہم— شاید ایک عام انسان اتنا مضبوط نہیں ہوتا کہ وہ اپنا ذاتی اخلاق خود تلاش کر سکے۔ ان پر باہر سے کوئی چیز مسلط کرنا ضروری ہوتا ہے۔
جواب: اوہ، میں نہیں سمجھتا کہ یہ سچ ہے اور جو چیز آپ پر باہر سے مسلط کی جائے اسکی کوئی قیمت نہیں ہوتی۔ اسکی کوئی اہمیت نہیں ہے۔
سوال: آپکی پرورش ظاہر ہے ایک مذہبی کے طور پر ہوئی تھی۔ آپ نے پہلی بار کب یہ فیصلہ کیا کہ آپ مذہبی اخلاقیات پر یقین برقرار نہیں رکھنا چاہتے؟
جواب: میں نے کبھی یہ فیصلہ نہیں کیا تھا کہ میں یقین برقرار نہیں رکھنا چاہتا۔ میں نے 15 سے 18 سال کی عمر کے درمیان، جب میں اپنا تقریبا سارا فارغ وقت مذہبی عقائد پر غور کرنے اور یہ معلوم کرنے میں گزارتا تھا کہ کیا ان پر یقین کرنے کی کوئی وجہ موجود ہے، یہ نتیجہ اخذ کیا۔ اور جب میں 18 سال کا ہوا تو میں نے ان میں سے آخری عقیدے کو بھی چھوڑ دیا۔
سوال: کیا آپکو لگتا ہے کہ اس چیز نے آپکو زندگی میں کوئی اضافی طاقت دی؟
جواب: اوہ، میں ایسا نہیں سمجھتا۔ نہ کوئی اضافی طاقت ملی اور نہ ہی اسکے برعکس کچھ ہوا۔ میرا مطلب ہے میں تو بس علم کی تلاش میں مصروف تھا۔
سوال: کیا آپکو اس بات کا کوئی خوف ہے جو ان ایتھسٹس اور لاادریت پسندوں میں عام سمجھا جاتا ہے جو پوری زندگی ایتھسٹ رہے لیکن مرنے سے ٹھیک پہلے کسی مذہب کی طرف راغب ہو گئے؟
جواب: دیکھیے، ایسا اتنی کثرت سے نہیں ہوتا جتنا مذہبی لوگ سمجھتے ہیں۔ اصل میں زیادہ تر مذہبی لوگ یہ مانتے ہیں کہ مرتے ہوئے لادینوں بارے جھوٹی کہانیاں بنانا ایک ثواب کا کام ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسا بہت ہی کم ہوتا ہے۔
سوال: جیسے جیسے آپ زندگی کے اختتام کے قریب پہنچ رہے ہیں، کیا آپکو کسی اگلی زندگی کا کوئی خوف ہے، یا آپکو لگتا ہے کہ یہ بس۔۔۔؟
جواب: نہیں، میں سمجھتا ہوں کہ یہ بالکل لغو بات ہے۔
سوال: کوئی اگلی زندگی نہیں ہے؟
جواب: بالکل بھی نہیں۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
دنیا کو ویسا ہی سمجھنا جیسی وہ حقیقت میں ہے نہ کہ جیسا ہم اسے دیکھنا چاہتے ہیں، یہی عقلمندی کی شروعات ہے۔
— برٹرینڈ رسل
