ڈیجیٹل دنیا، اخلاقی زوال اور ویوز کا دھندا..تنویر انجم

آج کے تیز رفتار اور جدید ترین ٹیکنالوجی کے دور میں سوشل میڈیا یا پوڈ کاسٹ کلچر نے جہاں معلومات کی رسائی اور تعارف کو آسان بنایا ہے، وہیں ایک نہایت خوفناک رجحان کو بھی جنم دیا ہے۔

اسے ہم سادہ لفظوں میں دھندا ہی کہیں تو بھی غلط نہیں۔

آج ڈیجیٹل میڈیا کے نام پر جو کچھ ہو رہا ہے، وہ زیادہ تر صحافت یا مکالمہ بالکل نہیں، بلکہ کانٹینٹ کے نام پر ویوز کا دھندا ہے۔
 
ایک دور تھا جب انٹرویو کا مقصد مہمان کی شخصیت، اس کے نظریات اور اس کے تجربات کو سامنے لانا ہوتا تھا۔

آج کا المیہ یہ ہے کہ میزبان، مہمان کی بات سننے کے لیے نہیں، بلکہ اس کے حلق سے اپنی مرضی کا کوئی ایسا جملہ اگلوانے کے لیے بیٹھتا ہے، جس سے کوئی بھڑکتا ہوا تھمب نیل چمکایا جا سکے۔

آج سوالات کا مقصد علم کا پھیلاؤ نہیں، بلکہ مہمان کو ذہنی طور پر ایک ایسی بند گلی میں دھکیلنا ہے، جہاں سے نکلنے کا واحد راستہ یا تو کوئی نیا تنازع ہو، یا پھر سوشل میڈیا پر ٹرینڈ بننے والی کوئی گالی!

ویوز کی ہوس اور حساس موضوعات کے دھندے میں مذہب، فرقہ واریت، سیاسی منافرت اور کسی کی ذاتی زندگی پر حملے۔ یہی وہ بنیادی مواد ہے، جنہیں آج کے نام نہاد کانٹینٹ کریٹرز اپنے پلیٹ فارم کا ایندھن بناتے ہیں۔

افسوس ناک بات یہ ہے کہ ان اسٹوڈیوز میں بیٹھ کر معاشرے کی جڑوں میں نفرت کا یہ زہر صرف اس لیے گھولا جا رہا ہے تاکہ ڈھیر سارے ڈالرز اور شہرت سمیٹی جا سکے۔

یہاں گفتگو کو دانستہ اس نہج پر لایا جاتا ہے، جہاں جذبات بھڑکیں، کیونکہ آج کی ڈیجیٹل دنیا کا کڑوا سچ یہی ہے کہ نفرت اور تنازعات کی آگ لگاؤ، جو بغیر ایندھن کے تادیر جلتی رہتی ہے۔

 ہاں، مگر جب کیمرے کا اینگل اور اسکرین کا رخ بدلتا ہے، 
تب اس ڈیجیٹل تماشے کا سب سے بھیانک نتیجہ سامنے آتا ہے۔

تب سستی شہرت کے لیے کیا گیا یہ جادو الٹا پڑ جاتا ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ جو شخص دوسروں کی پگڑیاں اچھال کر لائم لائٹ میں آتا ہے، وقت کا پہیہ گھومنے پر وہ خود اسی دلدل میں دھنستا ہے۔

کئی واقعات سامنے ہیں کہ جب خود پر مشکل وقت آتا ہے، جب تنقید کے تیر اپنی ہی طرف مڑ جاتے ہیں، تب جا کر ان ڈیجیٹل اسٹوڈیوز کے فرعونوں کو اندازہ ہوتا ہے کہ سستی سنسنی خیزی سے چند لمحوں کی تالیاں تو سمیٹی جا سکتی ہیں، ڈالرز بھی کمائے جا سکتے ہیں مگر عزت، وقار اور اعتبار دور کہیں پیچھے رہ جاتے ہیں۔ آپ معتبر نہیں رہتے۔

کیا یہ بات بالکل واضح نہیں کہ انٹرنیٹ یا سوشل میڈیا پر ملنے والی شہرت، وائرل ٹرینڈز اور ویوز کی دوڑ اتنی ہی عارضی ہے جتنا کہ پانی کا بلبلا۔

جیسے ہی کوئی نیا تماشا دکھانے والا آتا ہے، پچھلوں کو بھولنے میں لوگوں کو ایک لمحہ نہیں لگتا۔

یاد رکھیں!
ڈیجیٹل میڈیا کے اس ہجوم میں آپ اگر اخلاقیات کا جنازہ نکال کر آگے بڑھ رہے ہیں، تنازعات کا کھیل کھیل رہے ہیں تو آپ کامیابی کی نہیں بلکہ زوال کی سیڑھی چڑھ رہے ہیں۔

آپ کانٹینٹ ضرور بنائیے، لیکن اسکرین پر بیٹھ کر خود کو عقل کل نہ سمجھیے۔

کچھ دیر کے بعد دنیا آپ کو اس بات سے بالکل بھی یاد نہیں رکھے گی کہ آپ نے کتنے ویوز لیے، بلکہ اس بات سے یاد رکھے گی کہ جب آپ کے پاس بولنے یا کچھ دکھانے کی طاقت تھی، تو آپ نے معاشرے کو جوڑنے کا کام کیا تھا یا اسے مزید تقسیم کرنے کا؟ تنازعات کا میدان سجایا تھا یا علم پھیلانے کا۔
اب بھی وقت ہے! سوچ لیجیے۔

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !