بہادری یا بے وقوفی۔۔۔ منیر احمد خواجہ

دو تین ایسے واقعات ہوئے ہیں جنہیں دیکھ‘ سن اور پڑھ کر سمجھ نہیں آتا کہ بعض دفعہ انسان میں اتنا حوصلہ کہاں سے آ جاتا ہے کہ وہ بغیر سوچے سمجھے یا نتائج کا ادارک کیے انتہائی قدم اٹھا لیتا ہے۔ کچھ ہفتے پہلے ایک 19سالہ لڑکی نے ایک 30سالہ شخص سے انتقام لینے کیلئے سوات کے ایک پولیس کانسٹیبل کے ذریعے اسلام آباد کے F-6 سیکٹر سے رات گئے اسے غوا کرایا اور پھر موٹر وے پر قتل کرا دیا۔ ایک واقعہ لاہور میں غیر ملکی خواتین کے اغوا کا ہے اور تیسرا واقعہ اسلام آباد میں فضائیہ کے گروپ کیپٹن عاصم کے اندوہناک قتل کا ہے۔ اتفاق دیکھیں کہ تینوں کیسز میں جو نوجوان ملوث ہیں ان کی عمریں انیس‘ بیس سال کے قریب بتائی جا رہی ہیں۔ اکثر کہا جاتا ہے کہ بچے گھر میں اپنے بڑوں کو دیکھ کر ہی سیکھتے یا جرائم کی طرف چل نکلتے ہیں۔ انہیں اعتماد ہوتا ہے کہ ان کا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا اور وہ جو چاہتے ہیں کر گزرتے ہیں۔ اگرچہ دنیا بہادروں کی عزت کرتی ہے کیونکہ بہادر لوگ اکثر نتائج کا اندازہ کیے بغیر کوئی ایسا کام کر لیتے ہیں کہ تھوڑی سی سمجھ بوجھ والا بندہ پہلے دس دفعہ سوچے گا اورپھر اس سوچ بچار میں وہ کسی مرحلے پر ایک خطرناک نتیجے پر پہنچ کر اس کام کو ترک کر دے گا۔ اب دیکھیں تو ان تینوں کیسوں میں بیس‘ بیس سالہ رضا ڈار اور سعد عباسی اور مردان کی لڑکی نے کسی مرحلے پر نتائج کا نہیں سوچا‘ جو دل میں آیا کر گزرے۔ نتائج ایک طرف پورا ملک بھگت رہا ہے تو دوسری طرف گروپ کیپٹن اور اسلام آباد کے نوجوان کا خاندان ساری عمر دکھ اور تکلیف کی صورت میں بھگتے گا۔ میں اس مائنڈ سیٹ کو سمجھنے کی کوشش کر رہا ہوں جو انیس بیس سالہ نوجوان کو یہ حوصلہ دیتا ہے کہ وہ بیرونِ ملک سے دو خواتین کو باقاعدہ ویزے دلوا کر بلاتاہے اور پھر انہیں اغوا کر کے اپنے ڈوبے پیسے نکلوانے کی کوشش کرتا ہے۔ اس نوجوان کے پاس اتنا پیسہ بھی ہے کہ وہ بارہ‘ پندرہ کروڑ (پانچ لاکھ ڈالر) ان خواتین کو دے کر کرپٹو کرنسی میں سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ جب آپ بیس سال کی عمر میں بچے کو اتنا پیسہ اور کچھ بھی کر گزرنے کا حوصلہ دیں گے تو پھر وہ کچھ بھی کر گزرے گا۔ کسی نے بھی اس نوجوان کو نہ سمجھایا کہ دھیان سے رہنا اور کوئی ایسا ویسا کام نہ کر بیٹھنا کیونکہ ہمارا خاندان اس وقت ملک کا حکمران ہے‘ حکمرانی ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے اور کسی وقت بھی تخت الٹ سکتا ہے اور ہمارے سیاسی مخالف ان چیزوں کو ہمارے خلاف استعمال کر سکتے ہیں۔ پاکستان جیسے ملکوں میں حاکمیت اور اقتدار کو خدا یا عوام کی طرف سے ذمہ داری کے بجائے ایک موقع تصور کیا جاتا ہے جس میں کھل کر لوٹ مچانی ہوتی اور پیسے اکٹھے کرنے ہوتے ہیں۔ جب بچے اپنے بڑوں کو اندھا دھند دولت کے پیچھے بھاگتے دیکھتے ہیں تو وہ بھی اس ہوس کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ان کو لگتا ہے کہ یہی وہ نروان ہے‘ گوتم بدھ کی طرح جس کی انہیں برسوں سے تلاش تھی۔

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !