وارثان غزل کے قبیلے کا سالار ،،باقی احمد پوری۔۔۔فرحت عباس شاہ

پاکستان میں اگر اردو شاعری کے عہد حاضر کی بات کی جاۓ تو اس وقت ، سلیم کوثر ، صابر ظفر اور باقی احمد پوری کے بعد کوٸی ایسا حقیقی شاعر نظر نہیں آتا جو باقاعدہ ، پورے اخلاص اور پوری تخلیقی قوت سے اپنت تخلیقی سفر جاری رکھےہوے ہو ۔ اگرچہ نماٸیشی شاعروں میں پیرزادہ قاسم ، افتخار عارف اور خورشید رضوی کا نام۔لی جس سکتا ہے لیکن سنجیدہ اور غیرجانبدار ادبی حلقوں کی نظر میں یہ قیامت تک اعتبار حاصل نہیں کر پاسکتے ۔ 
 باقی احمد پوری کا شعری سفر کم و بیش ساٹھ سالوں پہ محیط ہے ، ان کے درجنوں اشعار ہر دور میں زبان زدعام رہے ہیں ۔

 ساری بستی میں فقط میرا ہی گھر ہے بےچراغ 
تیرگی سے آپ کو میرا پتہ مل جاۓ گا 
۔۔۔۔۔۔
دوست ناراض ہوگٸے کتنے 
اک ذرا آٸینہ دکھانے میں 
۔۔۔۔۔۔۔۔
مجھ سے بچھڑ کے وہ بھی پریشان تھا بہت
جس کی نظر میں کام یہ آسان تھا بہت
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سامنے سب کے نہ بولیں گے ہمارا کیا ہے
چھپ کے تنہائی میں رو لیں گے ہمارا کیا ہے

تم نے محلوں کے علاوہ نہیں دیکھا کچھ بھی
ہم تو فٹ پاتھ پہ سو لیں گے ہمارا کیا ہے

اپنی منزل تو سرابوں کا سفر ہے باقیؔ
ہم کسی راہ پہ ہو لیں گے ہمارا کیا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یوں ستم گر نہیں ہوتے جاناں
پھول پتھر نہیں ہوتے جاناں

کیوں مرے دل سے کہیں جاتے ہو
گھر سے بے گھر نہیں ہوتے جاناں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قارٸین کے دلوں پہ تحریر ایسے کتنے ہی اشعار 
باقی احمد پوری کے تخلیقی کریڈٹ پہ ہیں ۔
حال ہی میں ان کا بارہواں شعری مجموعہ ،
 " ہر شعر زندگی ہے " شاٸع ہوا ہے جو ان کے تخلیقی سفر کےپوری آب و تاب سے جاری ہونےکا اعلان کرتا ہے ۔ 
باقی احمد پوری کی غزل سے وابستگی محض جذباتی ہی نہیں بلکہ نظریاتی بھی ہے ۔ وہ فی زمانہ غزل کی سوشل میڈیاٸی شعراء اور سرقہ نویسوں کی طرف سے کی جانے والی غزل کی بےحرمتی کو ببانگ دہل رد کرنے والوں میں سے ہیں ۔ اس لحاظ سے میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ باقی احمد پوری وارثان غزل کے اخری قبیلے کے سالار ہیں ۔ ان کا نظریہ شعر پمیشہ سے پوری وضاحت اور صراحت سے ان کے اشعار میں جلوہ نما ہوتا ہے ۔ 

ایں نہیں ، آں نہیں غزل گوئی
- مری جاں نہیں غزل گوئی

فاعلاتن مفاعلن فعلن
اتنی آساں نہیں غزل گوئی

غیر ممکن کی جستجو بھی ہے
دشتِ امکاں نہیں غزل گوئی

وصل کی داستاں بھی شامل کر
صرف ہجراں نہیں غزل گوئی

شعر کا ربط ہے شعور کے ساتھ
قولِ ناداں نہیں غزل گوئی

خار زاروں سے بھی گزرتی ہے
گل یہ داماں نہیں غزل گوئی

رونق شہر عشق بھی لکھنا
یعنی ویراں نہیں غزل گوئی

خود کو شاعر نہ وہ کہے باقی
جس کا ایماں نہیں غزل گوئی
۔۔۔۔۔۔۔
باقی احمد پوری کی یہ غزل بےمہار قافیہ چھاپوں کی واردات اور ایک دوسرے کے پامال خیالات کی قلم زنی کے جرم پر تخلقی قوانین کی حد جاری کرتی ہے۔

کون کہتا ہے رب نہیں کچھ بھی 
رب نہیں ہے تو سب نہیں کچھ بھی 

شاعری نام ہی غزل کا ہے 
اور صنف ِ ادب نہیں کچھ بھی 
۔۔۔۔۔۔۔۔
اس مجموعہ کلام میں باقی احمد پوری نے جہاں ایک طرف اپنے بےساختہ پن ، برجستگی اور معاملہ بندی جیسی شعری صفات کے حامل اسلوب پر مہر اثبات لگا دی ہے وہاں اپنے عہد کی آٸینہ داری کے فرض سے پورے شاعرانہ وقار کے ساتھ عہدہ برآ ہونے کا ثبوت بھی پیش کیا ہے۔
پہلے سارے دیے بجھائے گئے
پھر اندھیروں کے گیت گائے گئے

ساحلوں تک پہنچ نہیں پائے
موج در موج ہم بہائے گئے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 باقی کی شاعری میں مزاحمت ہمیشہ جس تخلیقی قرینے اور احتجاج کی تہذیب سے آۓ ہیں اس کی مثال کم کم ہی ملتی ہے ۔ میں یہ ضروری سمجھتاہوں کہ روایتی تنقیدی محاکمے کی بجاۓ کم از کم ایک غزل کا ادراکی تنقیدی جاٸزہ ضرور پیش کروںٍ ۔
غزل ملاحظہ فرمایے 
بے حسی ہے خوش گمانی بدگمانی کچھ نہیں
نقش مٹتے جا رہے ہیں نوحہ خوانی کچھ نہیں

جل رہے ہیں جو دیے سارے بجھائے جائیں گے
حکم ہے فرعون کا اور مہربانی کچھ نہیں

زندگی کے رنگ اُڑتے جا رہے ہیں خوف سے
اورے اودے نیلے پیلے ارغوانی کچھ نہیں

تخت پر بیٹھے ہوئے بھی اتنے کب آزاد ہیں
تخت پر بیٹھے ہوؤں کی حکمرانی کچھ نہیں

آسماں والوں کو ناحق کس لیے الزام دیں
سارے فتنے ہیں زمینی آسمانی کچھ نہیں

خواب غفلت کے مسافر تیری قسمت ہے یہی
لٹ رہا ہے کارواں اور پاسبانی کچھ نہیں

مفلسی ہی مفلسی ہے گھر میں باقی آج کل
اس پر بھی وہ کہہ رہے ہیں رایگانی کچھ نہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ادراکی تنقیدی تھیوری (Perceptionism)، یا ادراکیت کی روشنی میں باقی احمدپوری کی اس غزل کا مطالعہ یہ واضح کرتا ہے کہ یہ محض احتجاج یا سماجی شکایت کی غزل نہیں بلکہ انسانی ادراک کے بتدریج مسخ ہوتے ہوئے نظام کی شعری تشکیل ہے۔ اس غزل میں شاعر خارجی واقعات کو بیان نہیں کرتا بلکہ ان واقعات کے نتیجے میں پیدا ہونے والی اجتماعی شعوری کیفیت کو دریافت کرتا ہے۔ ہر شعر ایک ایسے معاشرے کی داخلی نفسیات کو سامنے لاتا ہے جہاں احساس کی جگہ بے حسی، اعتماد کی جگہ بدگمانی، رنگوں کی جگہ خوف، اقتدار کی جگہ بے بسی، آسمانی تعبیرات کی جگہ زمینی ذمہ داریاں، بیداری کی جگہ غفلت اور معاشی حقیقت کی جگہ خود فریبی نے لے لی ہے۔ یہی وہ ادراکی سفر ہے جو اس غزل کو محض سیاسی یا سماجی بیان سے بلند کرکے انسانی شعور کی تہہ در تہہ قرأت بنا دیتا ہے۔ شاعر خارجی حقیقت کو اس انداز سے دیکھتا ہے کہ ہر منظر دراصل ایک باطنی کیفیت کی علامت بن جاتا ہے، چنانچہ پوری غزل ایک ایسے اجتماعی ذہن کا نقشہ پیش کرتی ہے جو مسلسل حقیقت سے دور اور اپنے ہی پیدا کیے ہوئے فریب کے قریب ہوتا جا رہا ہے۔
پہلا شعر،
 "بے حسی ہے خوش گمانی بدگمانی کچھ نہیں، نقش مٹتے جا رہے ہیں نوحہ خوانی کچھ نہیں"،

 یہ انسانی شعور کی اس انتہائی خطرناک منزل کی تصویر ہے جہاں حساسیت مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے۔ ادراکی اعتبار سے یہاں شاعر یہ دریافت کرتا ہے کہ جب احساس ہی باقی نہ رہے تو نہ خوش گمانی معنی رکھتی ہے اور نہ بدگمانی۔ اسی طرح جب تاریخ، شناخت اور تہذیبی نقوش مٹ رہے ہوں تو محض نوحہ خوانی کسی تبدیلی کا ذریعہ نہیں بنتی۔ اس شعر میں ادراک عمل کی دعوت دیتا ہے، محض ردعمل کی نہیں۔
دوسرے شعر ۔۔۔۔۔
"جل رہے ہیں جو دیے سارے بجھائے جائیں گے، حکم ہے فرعون کا اور مہربانی کچھ نہیں" 

میں "فرعون" کسی ایک تاریخی شخصیت کا نام نہیں بلکہ جبر، آمریت اور طاقت کے اس دائمی تصور کی علامت ہے جو روشنی کو برداشت نہیں کرتا۔ "دیے" شعور، علم، سچائی اور انسانی آزادی کے استعارے ہیں۔ ادراکی تنقید کے مطابق یہ شعر ظلم اور روشنی کے درمیان خارجی تصادم سے زیادہ انسانی شعور اور طاقت کے باہمی تعلق کو آشکار کرتا ہے۔ شاعر بتاتا ہے کہ استبداد کبھی احسان نہیں کرتا، اس کی اصل فطرت روشنی کو بجھانا ہے۔

"زندگی کے رنگ اُڑتے جا رہے ہیں خوف سے، اورے اودے نیلے پیلے ارغوانی کچھ نہیں" 

اس شعر میں رنگ صرف بصری کیفیت نہیں بلکہ زندگی کی متنوع نفسیاتی اور جمالیاتی جہتوں کی علامت ہیں۔ خوف انسان کے ادراک کو اس حد تک محدود کر دیتا ہے کہ زندگی کی تمام رنگینیاں بے معنی ہو جاتی ہیں۔ شاعر نہایت سادگی سے یہ فلسفیانہ حقیقت بیان کرتا ہے کہ خوف صرف جسموں کو قید نہیں کرتا بلکہ احساس، تخیل اور جمالیاتی شعور کو بھی مفلوج کر دیتا ہے۔
اب یہ شعر دیکھیے ۔۔۔۔
"تخت پر بیٹھے ہوئے بھی اتنے کب آزاد ہیں، تخت پر بیٹھے ہوؤں کی حکمرانی کچھ نہیں"

 اقتدار کے باطن کو منکشف کرنے والا شعر ہے۔ عام ادراک میں اقتدار آزادی کی علامت سمجھا جاتا ہے لیکن شاعر اس تصور کو الٹ دیتا ہے۔ Perceptionism کے مطابق یہاں شاعر اقتدار کی ظاہری قوت کے پیچھے چھپی ہوئی داخلی غلامی کو دریافت کرتا ہے۔ حکمران بھی مختلف طاقتوں، مفادات، خوف اور جبر کے نظام کے اسیر ہوتے ہیں، اس لیے ان کی حکمرانی مطلق نہیں بلکہ محدود اور مشروط ہے۔ باقی احمد پوری نے اس شعرمیں پوری بین الاقوامی شطرنج کو بےنقاب کیا ہے کہ کیسے انٹرنیشنل اسٹیبلشمینٹ ، مالیاتی ادارے ، جنگوں کے بیوپاری اور معاشی غارت گر پوری دنیا کو اپنے شکنجے میں لیے ہوۓ ہیں ۔ یہ وہ شعرہے جو باقی احمدپوی کو مزاحمتی شاعری کے لوکل ازم سے نکال کر بین الاقوامی سیاسی ، سماجی اور معاشی شعور کے شاعر والے منصب پر فاٸز کرتا ہے ۔ اب کاٸناتی شعور کا حامل ایک اور شعر دیکھیے ۔۔۔۔

"آسماں والوں کو ناحق کس لیے الزام دیں، سارے فتنے ہیں زمینی آسمانی کچھ نہیں"

 غزل کا ایک نہایت اہم ادراکی موڑ ہے۔ شاعر انسانی ذمہ داری کو ماورائی تقدیر کے پردے میں چھپانے سے انکار کرتا ہے۔ یہ شعر انسان کو اپنے اعمال کی جواب دہی کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ تمام فساد، ظلم، جنگ، استحصال اور نفرت انسان کے اپنے فیصلوں کا نتیجہ ہیں۔ اس طرح شاعر تقدیر پرستی کے بجائے انسانی شعور اور اخلاقی ذمہ داری کو مرکزیت عطا کرتا ہے۔ اسی طرح ۔۔۔۔

"خواب غفلت کے مسافر تیری قسمت ہے یہی، لٹ رہا ہے کارواں اور پاسبانی کچھ نہیں" 

اس شعر میں شاعر اجتماعی غفلت کے نفسیاتی نتائج بیان کرتا ہے۔ "کارواں" پوری قوم، تہذیب یا انسانی معاشرے کی علامت ہے جبکہ "پاسبانی" بیدار شعور، اجتماعی ذمہ داری اور فکری قیادت کی نمائندہ ہے۔ ادراکی لحاظ سے شاعر یہ واضح کرتا ہے کہ غفلت خود اپنی سزا پیدا کرتی ہے۔ جب شعور سو جائے تو حفاظت کے تمام نظام بے اثر ہو جاتے ہیں۔

 غزل کا آخری شعر، 

"مفلسی ہی مفلسی ہے گھر میں باقی آج کل، اس پہ بھی وہ کہہ رہے ہیں رایگانی کچھ نہیں"

 یہ شعر سرمایہ دارانہ نظام کے اندر حقیقت اور سیاسی یا سماجی بیانیے کے درمیان موجود فاصلے کو نمایاں کرتا ہے۔ شاعر صرف معاشی غربت کا ذکر نہیں کرتا بلکہ ادراک کی غربت کو بھی بے نقاب کرتا ہے۔ جب واضح حقیقت کو بھی جھٹلایا جائے تو یہ صرف معاشی بحران نہیں رہتا بلکہ انسانی بحران میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ اس شعر میں طنز، حقیقت اور سرمایہ دارانہ ذہنیت نہایت مؤثر انداز میں یکجا ہو گئے ہیں۔
مجموعی طور پر باقی احمدپوری کی یہ غزل اس امر کا ثبوت ہے کہ وہ محض روایتی غزل کے رومانوی یا سماجی موضوعات کے شاعر نہیں بلکہ انسانی ادراک کی پیچیدہ ساخت کو سمجھنے والے تخلیق کار ہیں۔ ان کے یہاں احتجاج محض نعرہ نہیں بنتا بلکہ شعور کی تشکیل کا ذریعہ بنتا ہے۔ ان کے استعارے اپنی تہہ میں فکری، اخلاقی اور تہذیبی معنی رکھتے ہیں اور قاری کو اپنے عہد کی حقیقت نئے زاویۂ نظر سے دیکھنے پر آمادہ کرتے ہیں۔ یہی وصف ایک بڑے غزل گو کی پہچان ہے۔ باقی احمدپوری کی یہ غزل اس حقیقت کا مضبوط اعتراف ہے کہ وہ ایک ایسی خالص غزل کے شاعر ہیں جو ہر طرح کے مضامین اپنے دامن میں سمو لینے کی وسعت اور قدرت رکھتی ہے۔ انہوں نےہمیشہ روایت کے وقار کو برقرار رکھتے ہوئے اپنے عہد کے شعور، انسانی ذمہ داری، سماجی بصیرت اور فنی دیانت کو غزل کی لطافت میں سمو دینے کی غیر معمولی صلاحیت ثابت کی ہے ۔ ان کی شاعری اس بات کا اعلان بھی ہے کہ معیاری غزل صرف حسنِ بیان سے نہیں بلکہ گہرے ادراک، اخلاقی احساس، فکری صداقت اور تخلیقی ذمہ داری سے جنم لیتی ہے، اور انہی اوصاف کی بنا پر باقی احمدپوری معاصر اردو غزل کے ایک ذمہ دار، معتبر اور معیاری شاعر کے طور پر پورے اعتماد کے ساتھ تسلیم کیے جانے کے مستحق ہیں۔

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !