سولر پینلز کی شاندار تنصیب ۔۔۔ ضیغم قدیر

یہ لدھیانہ (بھارت)  کی ایک نہر کے اوپر لگے سولر سسٹم کا منظر ہے ۔۔ایسا ہی منصوبہ پنجاب کی نہروں پر بھی لگ سکتا ہے اور اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ ان سولر سسٹمز سے بننے والی بجلی، قریبی دیہاتوں کو بغیر کسی لائن لاسز کے بالکل مفت دی جا سکتی ہے اور اس کا الٹا حکومت کو فائدہ ہوگا۔ 

کیونکہ ایسا کرنے سے ایک تو نیشنل گرڈ سے بوجھ اتر جائے گا، دوسرا نیشنل گرڈ سے جب بجلی آتی ہے تو پاکستان میں پرانے سسٹم کی وجہ سے دور دراز علاقوں میں لائن لاس چالیس فیصد تک جاتا ہے۔ یعنی کہ آدھی بجلی راستے میں ہی ضائع ہو جاتی ہے۔ 

ایسے میں مقامی سولر گرڈ سٹیشن مفت بجلی دے گا۔ اور نہر کے اوپر ہونے کی وجہ سے اس سولر گرڈ کی ایفی شینسی بھی زیادہ ہوگی۔ کیونکہ نہر کا پانی ان سولر پلیٹوں کو نیچے سے بخارات کی شکل میں ٹھنڈک فراہم کرے گا۔ اور اس کا دوسرا فائدہ پانی کا بخارات کی شکل میں اڑ کر ضائع نا ہونے کی صورت میں ہوگا۔ جو کہ ہمارے نہری نظام کے لئے بہت بڑا مسئلہ ہے۔ 

تیسرا ایسے سولر گرڈ لگانا لائن لاسز کے نقصان کے مقابلے میں بہت سستا ثابت ہوگا۔ 

اس وقت پاکستان کے نیشنل گرڈ کو موزیک گرڈ میں بدلنا ضروری ہے۔ گو بجلی کی ترسیل ساز کمپنیاں آزاد ہو چکی ہیں لیکن یہ سب پھر بھی نیشنل گرڈ پر انحصار کرتی ہیں۔ اور بجلی کی سب سے زیادہ کھپت پاکستان کے نہری علاقوں کے آس پاس ہی ہوتی ہے کیونکہ یہاں آبادی زیادہ ہے۔ ایسے میں نہروں پر خاص کر ہر گاؤں کے نزدیک مقامی سولر گرڈ لگا کر حکومت اپنے اربوں روپے نا صرف بچا سکتی ہے بلکہ عوام کو مفت بجلی دے کر خوشحال کرنے کے ساتھ ساتھ اپنا ووٹ بھی بڑھا سکتی ہے۔ 

باقی لدھیانہ میں تو یہ سولر پلیٹیں کافی نیچے ہیں لیکن اگر ان کو ذرا اونچا کرکے لگایا جائے تو مستقبل میں نہر کی صفائی کا مسئلہ بھی حل ہو سکتا ہے۔

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !