خوگرِ حمد سے تھوڑا سا گلہ۔۔۔ عثمان حیدر

 پورے زور و شور سے یہ بیان کیا جا رہا ہے کہ مدرسے کے نصاب میں سیاستِ شرعیہ پر کتاب ہونی چاہیے۔ جی بالکل ہونی چاہیے۔میرے نزدیک اس کی ضرورت ہمیشہ سے تھی۔ میرا گھر تین نسلوں سے عملی سیاست کا حصہ ہے۔ الیکشن جیتے ہیں، ہارے ہیں، سیاسی سمجھ بوجھ کس قدر اہم ہے، میں اس سے پوری طرح واقف ہوں۔ سوال لیکن یہ ہے کہ مدرسے کے طالب علم کو صحیح عربی اور انگلش بولنی آنی چاہیے یا نہیں ؟؟؟ اسے جنرل سائنس آنی چاہیے یا نہیں ؟ اسے دنیا میں آگے بڑھنے اور معاشیات میں جدید حالات کے پیش نظر ریاضی آنی چاہیے یا نہیں ؟؟؟؟ آنی چاہیے۔ یہی اکابر کی تعلیمات تھیں۔ یہی وقت کی ضرورت ہے۔ اس پر ہر بلند ہوتی آواز کو دبایا جاتا ہے، کان پر جُوں تک نہیں رینگتی۔ اپنے بچوں کو باقاعدہ باہر سے ٹیوٹر رکھ کر یا اسے کسی ادارے میں بھیج کر تعلیم دلوائی جاتی ہے۔ عوام جو چندہ دیتی ہے جس کے سر پر مدرسہ چلتا ہے اس کے بچے کے لیے یہ چیزیں "مہارت کی سطح" پر حرام ہو گئیں۔پھر جب ہم کہتے ہیں کہ یہ کمپنی تبدیل ہونی چاہیے کیوں کہ یہ کھڑا پانی ہے جو اب گدلا ہو چکا ہے تو یارانِ ملت گالیاں نکالتے ہیں۔ نئی آنے والوں سے کوئی گلہ نہیں کیوں کہ انھیں معلوم نہیں ہے کہ ان کے ساتھ کیا زیادتی ہو رہی ہے، کل جب وہ فراغت پائیں گے تو معاشرے کی تلخ حقیقتیں ان کو کسی سانپ کی طرح پھنکار ماریں گی۔ ان بڑوں کو تو علم ہے جو انگلش بولتے ہیں اور ریاضی جانتے ہیں۔ جو اپنی اولادوں کو اس سے بہرہ ور کرتے ہیں پھر کیا ماجرا ہے کہ عوام کے بچوں کے لیے "مہارت کی سطح" پر دروازہ بند ہے۔ کیا کوئی خطرہ ہے کہ یہ پرندے کل اُڑ جائیں گے؟ اس بات کا ڈر ہے کہ کل جب یہ برسر روزگار ہوں گے تو سوال اٹھائیں گے ؟ ان کی اجارہ داری ختم ہو جائے گی ؟ 
سیاست شرعیہ ضرور پڑھائیے تاکہ ان میں سیاسی بصیرت پیدا ہو لیکن انھیں جدید زبان بھی پڑھائیے اور انھیں جنرل سائنس بھی پڑھائیے تاکہ کم سے کم کل جب وہ الحاد کی بحثیں پڑھیں۔ سامنے سائنس والے ہوں، تو انھیں اتنی سائنس آتی ہو کہ وہ سائنسی بیانیے کو بھی پوری طرح سمجھ سکیں۔سائنسی ٹرم ز بولی جائیں انھیں معلوم ہو یہ کیا بلا ہے۔ انھیں ریاضی پڑھائیں تاکہ کل ان سے جدید معاشی مسائل پر کوئی سوال پوچھا جائے تو انھیں کچھ تو ریاضی آتی ہو۔ مسائل تو لوگ بتا ہی دیتے ہیں کسی درجے میں معلوم تو ہو کہ معاشی اشاریے کیسے بنتے ہیں۔ 
یہ دردمندانہ اپیل ہے۔ خدارا نئی نسل کے حال پر رحم کھائیں۔ انھیں ایسی تعلیم دیں کہ جب وہ مدرسے سے باہر نکلیں تو انھیں یہ نہ لگے کہ وہ اصحاب کہف ہیں اور ان کے پاس جو سِکّے ہیں وہ بالکل کارآمد نہیں ہیں۔ بلکہ وہ اتنے پرانے ہو چکے ہیں کہ ان کا خریدار ہی کوئی نہیں ہے۔ 

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !