دم ساز.... آسیہ عمران


            وہ مجھے ہاتھ سے پکڑ کر اپنے گھر لے گئیں۔میں پہلے ہی ان کی خاموشی سے سہمی ہوئی تھی اور اب یہ اصرار۔ ساتھ چلتی چلی گئی۔ گھر کے لاؤنج میں کتب پھیلی ہوئی تھیں۔ایک طرف کینوس کلر، تو دوسری طرف گتے،اسٹیشنری  اور نہ جانے کیا کچھ اور ساتھ ہی بچوں کا شور، کشن ادھر ادھر پڑے  ایک الگ ہی ماحول بنا رہے تھے۔ بچے امی امی کہہ کر ان سے لپٹ گئے?۔انھوں نے پرس سے کچھ نکال کر نو سالہ بیٹی کو پکڑایا اور ساتھ ہی اشارتاً کچھ سمجھایا۔ وہ جہاں سے مجھے اندر لے گئیں وہاں سے پورے گھر کو جانچنے کے لئے ایک نظر ہی کافی تھی۔ باقی جگہیں مرتب تھیں۔ پھر بھی یہ منظر میرے تصورات سے الگ ہی تھا۔میرے ذہن میں وہ ایک آئیڈیل شخصیت تھیں۔ ان کے گھر اور بچے عام گھروں سے یقیناً مختلف ہو نے چاہییں تھے۔مجھے لئے وہ سیدھا کچن میں چلی آئیں۔انھوں نے کھانے والی میز کی کرسی گھسیٹ کر جیسے بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ خود عبایا اتار کر چولہے کی طرف بڑھ گئیں۔ مجھے تو جیسے سانپ سونگھ گیا ہو۔ کچن بھی بکھرا پڑا تھا۔ٹرے میں چاہے کے دو کپ اور کچھ اسنیکس لئے جب وہ  سامنے آ بیٹھیں تو جیسے مجھے بھی ہوش آیا۔ چائےے بننے کے دوران پورا کچن بھی سمٹ چکا تھا۔ وہ مجھے خاموشی سے جانچ رہی تھیں۔ میری دھڑکنیں گویا رک رہی ہوں۔جو دھچکا  ان چند لمحوں میں مجھے لگا تھا۔اس سے سنبھلنا حقیقت میں بہت مشکل تھا۔ میں نے کسی عام لڑکی سے کبھی دوستی بھی نہیں کی تھی۔ اساتذہ چند ہی تھے جن سے میں متاثر تھی۔ یہ معلمہ میری پسندیدہ ترین معلمہ تھیں۔جو پروقار اور دلکش شخصیت کی مالک ہی نہیں ان کی باتوں میں بے اندازہ اثر تھا۔جو سیدھی دل میں اترتی تھیں۔ان سے کوئی بھی بات کرنے میں جھجک نہیں ہوتی تھی۔پورا کالج ان کا احترام کرتا وہ جیسے مجمع خلائق تھیں۔میں اکثر اپنی الجھنیں انھیں بتایا کرتی۔وہ مسئلہ کی تہہ تک پہنچ جاتیں۔ اور غیر محسوس انداز میں اسے رفع کرتیں۔ ہم سب سہیلیاں ان سے عقیدت کی دعویدار تھیں۔ ایک بات جسے وہ سلجھا نہ پائی تھیں۔میں پرفیکشنسٹ تھی۔ آج کالج سے واپسی پر وین میں ان کے ساتھ تھی۔یہ وقت غنیمت تھا۔میں نے سب الجھنیں کہہ ڈالیں۔چاہے بھی میں بے خیالی میںپی رہی تھی اندر ایک جنگ جو جاری تھی۔

            اب کہ انھوں نے مسکراتے ہوئے میرا ہاتھ پکڑ ا۔ اب ایک بار پھر اسی راستے سے گزرے جہاں سے اندر داخل ہوئی تھی۔وہاں نہ تو بچے تھے اور نہ ہی کسی بے ترتیبی کے آثار سب چیزیں ترتیب میں آچکی تھی اور ایک خاتون پوچا لگانے میں مصروف تھیں۔میں ایک بار پھر بولنے کے قابل نہیں رہی تھی متضاد کیفیات تھیں۔

اب وہ مجھے اپنے بیڈ روم میں لے گئیں۔ سادہ سے فرنیچر سے آراستہ پرسکون سا بیڈ روم عجیب سکینت سی محسوس ہوئی۔پچھلی طرف کے صحن سے بچوں کے شوراور جھگڑنے کی آوازیں آ رہی تھیں۔ انھوں نے جیسے کان  بند کئے ہوئے تھے۔ بیڈ پر ساتھ بٹھا کر مسکراتے ہوئے بولیں۔پریشان نہ ہو ان کے ساتھ ان کی دادی جان اور پھپھو ہیں۔اب میں تمھیں سب بتاتی ہوں۔ مجھے معلوم ہے کہ گھر میں داخلے کے وقت تمھارے اندر موجود آئیڈیل کا پیمانہ بری طرح متاثر ہوا۔ پھر جھٹکا تمھیں تب لگا۔جب بکھرے گھر کو تھوڑی ہی دیر بعد تم نے سمٹا ہوا پایا۔تم حیران ہو کہ چاہے پینے کے دوران جادو کی چھڑی کیسے پھر گئی۔ تو بیٹا بات یہ ہے کہ یہ گھر کو دن میں کئی بار  الٹا ہونا ہی ہوتا ہے۔ یہ شو روم نہیں آرام کی جگہ ہے سکون کا مقام، اس کے بھی اصول و ضوابط ہیں لیکن دفتر سے قطعاً مختلف کہ اس کی پیدا وار بہت خاص ہے۔

            یہ بچے  ہی گھر کے پھول اور اس باغ کی رونق ہیں اور اس کی اصل ہیں،ظاہری ٹیپ ٹاپ سے کہیں زیادہ قیمتی ہیں۔چھلانگنا،پھلانگنا، بکھیرنا اس عمر کی فطری ضرورت اور قیمتی ترین عمل ہے۔ اتنا قیمتی کہ اس سے بڑھ کر کچھ بھی نہیں۔ یہ لاکھوں کا فرنیچر عذاب ہے۔اگر یہ ان کے فطری تقاضوں کی تکمیل میں رکاوٹ بن جا?ئے۔ تکیوں کا اس سے ذیادہ قیمتی استعمال کیا ہو سکتا ہے کہ بچے انھیں ادھر ادھر پھینکیں،  ہنسیں،  کھیلیں، قہقہے  لگائیں۔ ان لمحوں سے زندگی کشید کریں۔  عمر کے اس حصے میں یہی فطری  تعلیمی عمل ہے۔دس سال کی عمر خوب کھیل کود کی عمر ہے۔  لڑنے جھگڑنے، کھلونے شئیر کرنے  اور پھر دوستی کرنے کے عمل میں جو لرننگ ہے۔اس کو آج کے دور میں سوشل اسکل کہا جاتا ہے۔ جو کسی بھی میدان میں کامیابی کی نمایاں ترین اور اہم ترین مہارت ہے۔کووڈ میں میں نے تو شکر کیا ہے۔ انکی معاشرتی مہارتوں کو نکھارنے کا،  فطری ضروریات کی تکمیل کا وقت ملا  ہے ورنہ یہ سب تو گزرے وقتوں کے قصے بن گئے تھے۔ میں نے خود اس دوران بچوں سے بہت کچھ سیکھا ہے۔  ہفتے میں ایک دن سب کزنز کو اکٹھا کر کے ایک سرگرمی ترتیب دی ہے۔ ایک گھنٹہ کھیلنے اور پھر جو کچھ اس ہفتے کے دوران سیکھا وہ شئیرنگ کرتے ہیں۔ یہ سب میرے کہنے پر نہیں انکے اندر کا تحرک ہے۔  میں تمھیں ان کی سرگرمیوں کے نمونے دکھاتی ہوں۔وہ ایک الماری کی طرف بڑھیں۔اب وہ پینٹنگ، خطاطی، ڈرائینگ، نقشے  اور نہ جانے کیا کچھ دکھا رہی تھیں۔پھر انھوں نے کچھ ڈائیریز دکھائیں۔ جن میں سب نے اپنی روزانہ کے معمولات لکھے تھے اور یہ بھی لکھا تھا کہ اگلے دن وہ کیا کریں گے۔بہت معصومانہ اور چھوٹے چھوٹے جملے تھے۔ یہ انکی ادبی زندگی کا آغاز ہے۔

            وہ مسکراتے ہوئے بولیں:رات کو سب ایک ایک کر کے کہانی بھی سناتے ہیں۔یہ انکی بات چیت کی مہارت کو بڑھا رہا ہے۔جسے دنیا کنگ اسکل کہتی ہے اس سے پہلے وہ یہاں سے تیاری کرتے ہیں وہ لاؤنج میں ایک الماری کی طرف اشارہ کر رہی تھیں جہاں ہر بچے کے لئے الگ حصہ مختص تھا۔اسکا  اندازہ ان کے نام کی لگی تختیوں سے ہو رہا تھا۔ ہر ایک کا مختلف انداز ان کے مختص حصے کی ترتیب سے ظاہر تھا۔  بچوں کے رسائل و کتابوں کی الماریوں کے   ساتھ دو بڑی الماریوں میں شاید انکی اپنی کتابیں رکھی تھیں۔ نیچے کی قطار میں کتب کے عنوانات اوپر نیچے،اور کچھ الٹی سیدھی رکھی تھیں۔مسکراتے ہو? وضاحت کرنے لگیں۔چھوٹی فاطمہ ابھی پڑھ نہیں سکتی تو اپنے حساب سے ترتیب دیتی رہتی ہے۔اور یہ اس وقت سے کرتی ہے۔جب اس سے کتابیں اٹھاء بھی نہیں جاتی تھیں۔ اب میں ایک الگ ہی کیفیت میں تھی۔جہاں ذہنی تغیرات نے مجھے تھکایا تھا وہاں عجیب تازگی بھی ملی تھی۔

            موبائل پر امی کی کال سے میں جیسے ہوش میں آئی۔  وقت گزرنے کا پتہ ہی نہ چلا تھا۔امی دیر ہو جانے پر پریشان ہو گئی تھیں۔ انھوں نے میرے لیے رکشے والے کو فون کیا۔ گفتگو کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے بولیں۔ایک بجے تک کا وقت سرگرمیوں کا ہے۔میں انھیں بالکل نہیں روکتی۔اس جگہ کی سیٹنگ بھی سب نے اپنے حساب سے کی ہے۔اس کو ''گوشہ سرگرمی'' کا نام بھی بچوں نے دیا ہے۔ظہر سے پہلے سب اپنی سب چیزیں سمیٹ لیتے ہیں۔میں کچن اور ماسی گھر میں جھاڑو پوچا کرتی ہے۔بچے نماز دادی جان کے کمرے میں پڑھتے ہیں۔اس کے بعد پچھلے حصے میں چھوٹا سا باغیچہ ہے۔سب نے اپنی اپنی کیاریاں بنائی ہیں۔ہم سب دن کا ایک حصہ ان پودوں کے ساتھ بھی گزارتے ہیں۔عصر کی نماز سے مغرب تک چہل قدمی کا وقت ہے۔میں اللہ کا شکر کرتی ہوں اور مجھے ان لوگوں کا خیال آتا ہے جو ایک دو کمروں کے گھروں میں رہتے ہیں۔کتنی مشکل ہوتی ہو گی سب کچھ منظم کرنے میں کہ یہ مشکل ترین کام  ہے۔پریشان نہ ہو ایک وقت تھا میری سوچ بھی تم سے قطعاً مختلف نہ تھی۔مجھے بھی ہر چیز مکمل چاہیے تھی۔میرے بھی خاص پیمانے تھے۔ تب اللہ نے ایک مربی عطا کیں۔ جنھوں نے گھر کے بارے میں بتایا کہ اصل میں گھر کیسا ہوتا ہے۔اسکا مقصد بتایا کہ اس ادارے میں سب سے اہم کیا ہے۔ترجیع اول کس کوبنایا جائے۔ اور یہ بھی سکھایا کہ ایک نظر یا چند ملاقاتوں میں کبھی کسی کے بارے میں رائے قائم نہ کی جائے۔کہ لمحے لمحے میں فرق ہوتا ہے۔اسی سے اندازہ لگاؤ کہ اس وقت کی ترتیب سے کوئی سوچ بھی نہیں سکتا کہ آدھا گھنٹہ پہلے یہاں کیسا طوفان بپا  تھا۔

            اس لئے اللہ ربی نے تعلیم دی کہ بہت گمان کرنے سے پرہیز کرو کہ بعض گمان گناہ ہوتے ہیں۔دوسروں کو نقصان نہ بھی ہو یہ گمان ہماری نیکیاں کھا جا تے ہیں اور دل کے اندر بغض اور کینہ جیسی بیماریوں کو راہ دیتے ہیں۔ ہم انسان کمی کے ساتھ ہیں۔مکمل اور نقص سے پاک تو صرف اللہ کی ذات ہے۔ہم انسانوں کو پرفیکشن جچتی ہی نہیں۔آٹو کی آواز پر میں انھیں خدا حافظ کہتے باہر نکل آئی اس ایک گھنٹے نے سوچوں کی دنیا بدل ڈالی تھی۔انکی حکمت پر  انگشت بداں تھی ۔آج وین میں بیٹھتے ہی میں نے انھیں اپنی بھابھی  کے متعلق بتایا تھا۔میں جیسے اندر سے بھری ہوئی تھی۔وہ خاموشی سے سنتی رہی تھیں۔اپنے  بھائی کی قسمت پر بھی افسردگی دکھائی تھی۔  نہ جانے بے بدنظمی میں کیسے گزارا کرتے ہیں۔ اور دوسری طرف بچوں کی اچھل کود کو بدتمیزی  میں شمار کیا تھا۔انھیں شاید اسی لمحے کا انتظار تھا۔  جب میں ان کے سامنے ایسی الجھنوں کا خود تذکرہ کروں۔ وہ مسئلے کی جڑ کو پکڑیں اور خود ساختہ دنیا سے باہر نکالیں۔ عمل سے بتایا کہ یہ آئیڈیل وغیرہ اکثر کچھ نہیں ہوتا ، نظروں کا دھوکا ہوتا ہے۔ سب گھر اصل میں ایک ہی جیسے  ہوتے ہیں۔ کہیں بھرم رہ جاتا ہے۔تو کبھی سب کیے پر پانی پھر جاتا ہے۔  یہ انسانوں کی دنیا ہے۔تکمیل کا سوچنا بے وقوفی ہی نہیں ایک بیماری بھی ہے۔جہاں صفائی اور ترتیب  کا خبط ہو وہاں بہت کچھ غلط ہو جاتا ہے۔اور اندازہ تب ہوتا ہے۔جب بہت کچھ بگڑ چکا ہوتا ہے۔ صفائی کے خبط،چوبیس گھنٹے کی ٹیپ ٹاپ کا چکر بچوں کو ذہنی مریض بنا دیتا ہے۔انکی صلاحیتیں مہارتیں دب جاتی ہیں۔ ان سے تعلق میں آنے والے لوگ زندگی بھر ان رویوں کو بھگتتے ہیں۔ دوسری طرف ایک اور انتہا بھی ہے۔کاہلی، سستی،بدنظمی اور بے ترتیبی ہر ہر پہلو پر نظر آتی ہے۔اسی لئے احادیث مبارکہ میں ان سے پناہ مانگی گئی ہے۔ اسلام صفائی کو نصف ایمان قرار دیتا ہے۔ طہارت ونظافت کو فرائض کی شرط قرار دیتا ہے۔ل ہذا بیلنس ضروری ہے۔ گھر کے اندر نہ تو صفائی کا خبط ہو کہ انسانی جذبات و احساسات پر غالب ہو جائےاور نہ ہی  پہلو تہی ہو کہ دین کے تقاضے متاثر ہونے لگیں۔

            سب سے اہم بات یہ سکھائی کہ دوسروں پر تبصرے سے ذیادہ اس بات کی ضرورت ہے کہ انسان اپنے لئے اصول بنا لے۔ دوسروں کو آسانی دے ہر وقت تجزیاتی موڈ میں نہ رہے۔ دوسروں کی جگہ خود کو رکھ کر سوچے تو شاید یہ سب اتنا اجنبی محسوس نہ ہو۔کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دوسرے مسلمان  کی عزت نفس کی توقیر لازم قرار دی ہے۔ زبان اور ہاتھ سے تکلیف پہنچانے کو حرام قرار دیا ہے۔

حدیث مبارکہ میں ہے۔

المُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ المُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِہِ وَیَدِہِ

 یہ بھی لازم کیا۔ خود پر اپنی ہمت سے زائد بوجھ نہ ڈالے، دامن تنگ نہ کرے۔

ایک اور بات کا احساس ہوا کہ گھر کی فیکٹری حساس ترین فیکٹری ہے۔ جہاں سلیقہ، صفائی، جذباتی، روحانی، جسمانی ہر پہلو سے حساسیت کی ضرورت ہے۔ اس کے منتظمین سے اس میں اعلیٰ درجے کا توازن اور مہارت درکار ہے۔  ذہنی اتھل پتھل میں پھٹ پھٹ کی آواز اور اوپر نیچے کی اچھل کود کا پتہ ہی نہ چلااور گھر آ گیا۔

Tags

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !