عام طور پر جب بھی کسی جنسی جرم کا واقعہ رونما ہوتا ہے تو ہمار ے ردِعمل کا تمام تر فوکس سخت قوانین، فوری سزا اور پولیس و عدالتی نظام کی اصلاح پر ہوتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ سخت قوانین اور ان کا بلاامتیاز نفاذ جرم کو روکنے کے لیے ناگزیر ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ قانون جرم ہونے کے بعد حرکت میں آتا ہے جبکہ تعلیم و تربیت جرم کو جنم لینے سے پہلے ہی روکتی ہے۔
اگر ہم اس ناسور کی جڑوں کو ہمیشہ کے لیے کاٹنا چاہتے ہیں تو ہمیں سزاؤں کے ساتھ ساتھ ذہن سازی، تعلیم اور تربیت کے بنیادی نظام کی طرف لوٹنا ہوگا۔ کسی بھی بیماری کے علاج کے لیے اس کی صحیح تشخیص ضروری ہوتی ہے۔ جنسی جرائم جسمانی فعل نہیں بلکہ بیمار ذہنیت، جنسی جاہلیت، طاقت کے ناہمواری پر مبنی استعمال اور اخلاقی تنزلی کا نتیجہ ہوتے ہیں۔
جنسی صحت اور تحفظ سے متعلق بات نہیں کی جاتی جس سے آگاہی کے بجائے غلط معلومات جنم لیتی ہیں۔ نوجوان نسل غلط ذرائع کی طرف راغب ہو جاتی ہے جس کا نتیجہ تباہی کی صورت میں نکلتا ہے۔
بچوں اور نوجوانوں کو اپنے حقوق اور حدود کی پہچان نہیں ہے اور اگر کچھ نوجوان کوشش کرتے ہیں تو ان کو جھڑک دیا جاتا ہے ۔
قانون ظاہری رکاوٹ ہے جبکہ اخلاقی تربیت اندرونی چوکیدار کا نظام فراہم کرتی ہے۔ جب تک انسان کی اندرونی تربیت مضبوط نہ ہو، وہ قانون سے بچنے کے راستے تلاش کرتا رہتا ہے۔
تعلیم کا مقصد نصابی کتابیں پڑھانا یا نوکری حاصل کرنا نہیں ہے، بلکہ انسان کو اپنے اور دوسروں کے وجود، عزت اور حقوق کا احترام سکھانا ہے۔ جنسی جرائم کے خاتمے میں تعلیم تین سطحوں پر اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
بچوں کے خلاف جنسی مظالم کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ کمسن بچوں کو معلوم ہی نہیں ہوتا کہ کون سا رویہ نارمل اور کون سا مشکوک ہے۔
تعلیمی اداروں اور گھروں میں بچوں کو مناسب اور نامناسب چھوئے جانے کا فرق سکھانا انتہائی ضروری ہے۔
بچوں کو یہ سکھایا جائے کہ ان کا جسم ان کی ملکیت ہے اور کسی کو بھی ان کی مرضی کے بغیر ان کے قریب آنے کا حق نہیں ہے۔ بچے میں یہ اعتماد پیدا کیا جائے کہ اگر کوئی بھی اسے نامناسب محسوس کرائے تو وہ فوراً ناں کہے اور اپنے کسی اعتماد والے بڑے کو آگاہ کرے۔
دنیا بھر کی تحقیق بتاتی ہے کہ جو بچے ابتدائی عمر میں تحفظ کی تعلیم حاصل کرتے ہیں، ان کے استحصال کے امکانات 70 فیصد تک کم ہو جاتے ہیں۔
سکولوں اور کالجوں کے نصاب میں ایسی داستانیں اور اخلاقی درس شامل کیے جائیں جو صنفِ نازک کو روایتی یا کمزور وجود کے طور پر نہیں بلکہ مکمل اور بااختیار انسان کے طور پر پیش کریں۔ جب بچے بچپن سے ہی لڑکوں اور لڑکیوں میں برابری اور احترام کا تعلق دیکھیں گے تو بڑے ہو کر ان میں جنسی تعصب اور استحصالی سوچ جنم نہیں لے گی۔
آج کا سب سے بڑا چیلنج انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا ہے۔ بیہودہ مواد تک آسان رسائی نے نوجوان ذہنوں میں جنسی روابط سے متعلق انتہائی غیر ہضم شدہ، پرتشدد اور تحریف شدہ خیالات بھر دیے ہیں۔ سکولوں میں طلباء کو ڈیجیٹل لٹریسی دی جائے۔
انہیں انٹرنیٹ کے منفی اثرات، سائبر ہراسمنٹ اور پورنوگرافی کے زہریلے نفسیاتی اثرات سے آگاہ کیا جائے۔
گھر کی پہلی اور سب سے مؤثر درسگاہ
اگر تعلیم علم فراہم کرتی ہے تو تربیت اس علم کو عمل اور کردار میں ڈھالتی ہے۔ اور تربیت کی سب سے پہلی اور مضبوط بنیاد بچے کا اپنا گھر ہوتا ہے۔
ہمارے مشرقی معاشرے میں تمام تر ترغیبات اور پابندیاں لڑکیوں پر عائد کی جاتی ہیں۔ کیسے بیٹھنا ہے، کیا پہننا ہے، کب باہر جانا ہے جبکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ لڑکوں کی تربیت پر اتنی ہی توجہ دی جائے۔ لڑکوں کو سکھایا جائے کہ خاتون کو گھورنا، نامناسب جملے کسنا یا اس کی جگہ پر تجاوز کرنا اخلاقی جرم ہے۔ نوجوانوں کو یہ سمجھانا ضروری ہے کہ ناں کا مطلب ہمیشہ ناں ہی ہوتا ہے اور کسی بھی تعلق میں باہمی احترام سب سے پہلی شرط ہے۔
ہمارے ہاں جنسی موضوعات کو اس قدر خوف اور شرم کا غلاف پہنا دیا گیا ہے کہ متاثرہ بچے اپنے والدین سے بات کرتے ہوئے ڈرتے ہیں۔ والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کے ساتھ دوستانہ ماحول قائم کریں۔ اگر بچہ خوفزدہ یا پریشان نظر آئے تو اس کی بات کو سنجیدگی سے سنیں اور اس کی بات کا یقین کریں۔ جرم کے متاثرین کو قصوروار ٹھہرانے کے بجائے ان کا سہارا بنیں۔
تعلیم و تربیت کا عمل سکول اور گھر تک محدود نہیں رہتا، بلکہ اس میں میڈیا، علمائے کرام اور ریاست کا کردار بھی برابر کا شریک ہے۔
میڈیا کو سنسنی خیزی سے ہٹ کر آگاہی پر مبنی مواد پیش کرنا چاہیے۔ جنسی جرم کی خبر دیتے وقت متاثرہ فرد کی شناخت کی حفاظت اور جرم کی وجوہات پر سنجیدہ بحث میڈیا کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ ڈراموں اور فلموں میں ایسے کردار پیش کیے جائیں جو عورت کی عزت اور باہمی احترام کو فروغ دیں۔
ہمارے معاشرے میں مذہبی راہنماؤں کی بات بہت اثر رکھتی ہے۔ علماء کرام کو چاہیے کہ وہ جمعہ کے خطبات اور دینی مجالس میں محض عبادات تک محدود رہنے کے بجائے معاشرتی اخلاقیات، حقوق العباد، خواتین کے حقوق اور بدکاری کے خلاف شعور بیدار کریں۔ اسلام میں غضِ بصر یعنی نگاہیں نیچی رکھنا اور انسانی تکریم پر جو زور دیا گیا ہے، اسے واضح انداز میں بیان کیا جائے۔
جنسی جرائم ایسا مسئلہ نہیں جو راتوں رات نیا قانون پاس کر دینے سے ختم ہو جائے گا۔ یہ ہمارے طرزِ فکر اور معاشرتی ساخت کا قرض ہے۔ سخت سزائیں ضروری ہیں تاکہ مجرموں میں خوف پیدا ہو لیکن سزائیں علامتوں کا علاج ہیں، بیماری کی جڑ کا نہیں۔
اگر ہم ایسا معاشرہ بنانا چاہتے ہیں جہاں ہماری بیٹیاں، بہنیں اور بچے خوف کے بغیر سانس لے سکیں تو ہمیں اپنی تعلیمی ترجیحات اور تربیتی انداز کو تبدیل کرنا ہوگا۔ ہمیں خاموشی کے زہر کو توڑ کر آگاہی کی روشنی پھیلانی ہوگی۔ ہمیں اپنے بچوں کو خوفزدہ کرنے کے بجائے بااختیار بنانا ہوگا اور اپنے بیٹوں کو حاکم کے بجائے انسان دوست وجود کے طور پر پروان چڑھانا ہوگا۔
تعلیم انسان کو عقل دیتی ہے اور تربیت اس عقل کو صحیح سمت میں استعمال کرنے کا شعور دیتی ہے۔ جب تک گھر، تعلیمی ادارے اور ریاست مل کر تعلیم و تربیت کا یہ مشترکہ محاذ قائم نہیں کریں گے، تب تک جنسی جرائم کی تاریکی کا خاتمہ ممکن نہیں ہو سکے گا۔ تبدیلی کا آغاز کسی اور نے نہیں، بلکہ ہم نے اپنے گھر، بچے اور اپنے رویے سے کرنا ہے۔
