یوم وفات رئیس فروغ ۔۔۔ اسلم ملک

عشق وہ کارِ مسلسل ہے کہ ہم اپنے لیے
ایک لمحہ بھی پس انداز نہیں کر سکتے
آج اس شعر کے خالق رئیس فروغ کا یومِ وفات ہے۔ 
ان کا اصل نام سید محمد یونس حسن تھا۔ وہ 15 فروری 1926 کو مراد آباد میں پیدا ہوئے۔ قیامِ پاکستان کے بعد پہلے ٹھٹھہ اور پھر کراچی میں سکونت اختیار کی۔ کراچی پورٹ ٹرسٹ میں ملازم رہے۔
ان کی بچوں کیلئے نظموں کا مجموعہ’’ہم سورج چاند ستارے‘‘ کے نام سے اور غزلیات اور نظموں کا مجموعہ ’رات بہت ہوا چلی‘ کے نام سے شائع ہوا۔
 رئیس فروغ نے5 اگست 1982 کو کراچی میں وفات پائی۔

رئیس فروغ کے کچھ اشعار

حسن کو حسن بنانے میں میرا ہاتھ بھی ہے
آپ مجھ کو نظر انداز نہیں کر سکتے

روز سائے کہیں کو جاتے ہیں
ایک روز ہم بھی ساتھ ہولیں گے

آئے گا میرے بعد فروغ ان کا زمانہ
جس دور کا میں ہوں مرے اشعار نہیں ہیں

اپنے حالات سے میں صلح تو کر لوں لیکن
مجھ میں روپوش جو اک شخص ہے مر جائے گا

فصل تمہاری اچھی ہوگی جاؤ ہمارے کہنے سے
اپنے گاؤں کی ہر گوری کو نئی چنریا لا دینا

لوگ اچھے ہیں بہت دل میں اتر جاتے ہیں
اک برائی ہے تو بس یہ ہے کہ مر جاتے ہیں

 میں نے کتنے رستے بدلے لیکن ہر رستے میں فروغ
ایک اندھیرا ساتھ رہا ہے روشنیوں کے ہجوم لیے

میرا بھی ایک باپ تھا اچھا سا ایک باپ
وہ جس جگہ پہنچ کے مرا تھا وہیں ہوں میں

وہ لمحہ جیسے خدا کے بغیر بیت گیا 
اسے گزار کے میں نے خدا سے کچھ نہ کہا
 
میں تو جلتا رہا، پر مری آگ میں
ایک شعلہ ترے نام کا بھی رہا

زندگی یاد رکھنا، کہ دو چار دن
میں ترے واسطے مسئلہ بھی رہا

فضا اداس ہے سورج بھی کچھ نڈھال سا ہے
یہ شام ہے کہ کوئی فرش پائمال سا ہے

کچھہ اتنے پاس سے ہو کر وہ روشنی گزری
کہ آج تک در و دیوار کو ملال سا ہے 

سفر سے لوٹ کے آئے تو دیکھتے ہیں فروغ
جہاں مکاں تھا وہاں راستوں کا جال سا ہے

میرے آنگن کی اداسی نہ گئی
روز مہمان بلائے میں نے

میں جو خود میں سمٹ کے بیٹھ رہوں
راستوں پر نہ جانے کیا گزرے

سفر میں جب تلک رہنا سفر کی آرزو کرنا
گھروں میں بیٹھ کر بیتے سفر کی گفتگو کرنا

تمہیں دیکھیں نہ دیکھیں ایک عادت ہے ، کہ ہر شب کو
تمہارے خواب کی سونے سے پہلے آرزو کرنا

تلاش ِ گُم شدگاں میں نکل چلوں، لیکن
یہ سوچتا ہوں کہ کھویا ہُوا تو میں بھی ہوں

زمیں پہ شور جو اتنا ہے، صرف شور نہیں
کہ درمیاں میں کہیں بولتا تو میں بھی ہوں

گھر میں تو اب کیا رکھا ہے، ویسے آؤ تلاش کریں
شاید کوئی خواب پڑا ہو، اِدھر اُدھر کسی کونے میں

ویسے تو میں گلوب کو پڑھتا ہوں رات دن
سچ یہ ہے اک فلیٹ ہے، جس کا مکیں ہوں میں

جانے وہ کوئی جبر ہے یا اختیار ہے
دفتر میں تھوڑی دیر جو کرسی نشیں ہوں میں

کئی دن سے کوئی آوارہ خیال
راستہ بھول رہا ہے مجھ میں

رات مہکی تو پھر آنکھیں مل کے
کوئی سوتے سے اٹھا ہے مجھ میں

گلیوں میں آزار بہت ہیں گھر میں جی گھبراتا ہے
ہنگامے سے سناٹے تک اپنا حال تماشا ہے

ہم ساحل کی سرد ہوا میں خوابوں سے الجھے ہیں فروغ
اور ہمارے نام کا دریا صحرا صحرا بہتا ہے

رات بہت ہوا چلی اور شجر بہت ڈرے
میں بھی ذرا ذرا ڈرا ، پھر مجھےنیند آگئی

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !