سفیدی تو ابھی کچی ہے. نہیں نہیں اسے پلٹیں متی ورنہ زردی پک جائے گی اور مجھے پکی ہوئی زردی بالکل پسند نہیں. آپ کو تو پتہ ہی نہیں کہ مجھے کیا اور کیسے پسند ہے؟
بڑی آپا کہاں ہیں؟
بڑی آپا، بڑی آپا کہاں ہو؟
اے ہٹ کیا بالکل ہی بوڑا گئے ہو؟
نسیمہ مایوں بیٹھی ہے، دو دن تو نیک بخت کو آرام کرنے دو. اماں کی آواز میں ہلکی سی جھڑکی تھی مگر ان کی آنکھیں نمناک. میں ناشتا واشتا بھول کر پھپھک پڑا.
بڑی آپا مجھ سے آٹھ سال بڑی تھیں مگر میں اماں سے زیادہ ان کی گود میں پلا تھا. میرے کھانے، پینے اور کپڑے لتے کی ساری ذمہ دار بڑی آپا پر تھی. وہ میرا چاند اور میں ان کا چکور تھا.
جمعہ کو بڑی آپا کی بارات تھی. شادی خاندان ہی میں طے ہوئی تھی، بڑے ابا کے گھر. سعادت بھائی ویسے تو اچھے تھے پر اپنی اماں کے انتہائی تابعدار. اللہ معافی ہماری بڑی اماں بڑے ہی کڑوے مزاج کی تھیں اور ان کے مزاج کی تلخی گھر کے ہر کونے میں بسی ہوئی تھی. ساری عمر ان کی اور اماں کی آپس میں ٹھنی رہی۔ جیٹھانی، دیورانی میں کانٹے کا مقابلہ رہتا تھا. اس رشتے کے خلاف اگر کوئی تھا تو صرف میں.
مگر میری حیثیت؟
میں کوئی امریکہ تو تھا نہیں کہ ویٹو پاور استعمال کرتا.
ابا، جی پی آر میں سینئر کلرک تھے اور اپنے بڑے سے کُنبے کے واحد کفیل. ہم سفید پوش تھے. تین بہنیں اور میں ان کا اکلوتا بھائی. میں ادھر ادھر ٹیوشن پڑھا کر اپنا خرچہ نکال لیتا تھا. بڑی اور چھوٹی آپا بھی سلائی کڑھائی کر کے کچھ بچت کر لیا کرتی تھیں. بڑی آپا کو گریجویشن کیے دو سال سے زائد ہو چلا تھا. بڑی آپا کے رشتے تو کئی آئے مگر ہر بار جہیز کا تول کم ہی رہا. ایسے میں بڑے ابا کے گھر سے سعادت بھائی کا رشتہ یقیناً نعمت غیر مترقبہ. بڑی آپا کی شادی خوش اسلوبی سے انجام پائی. پھر مجھے دو، تین ماہ تک اماں کے ہاتھوں، انڈے کی کچی سفیدی ہی کھانی پڑی یہاں تک کہ میں نے خود انڈا تلنا سیکھ لیا اور آنچ کی حدت کے رمز کو جان لیا. بڑی آپا اپنے میاں کے ساتھ تو راضی تھیں پر بڑی اماں نے انہیں سخت وقت دینے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کرنے کا عہد کر رکھا تھا. سعادت بھائی کمزور مرد تھے، سو انہوں نے تابعدار بیٹے بنے رہنے میں عافیت جانی اور کبھی بھی بیوی کی ڈھال نہ بنے. بڑی آپا پائی پائی کو ترستی اپنی چھوٹی چھوٹی خواہشات کا گلا گھونٹتی رہیں.
بڑی آپا کے بعد چھوٹی آپا بھی اپنے گھر کی ہوئی. میں نے طبیعیات میں گریجویشن تو کر لی مگر نوکری دور دور تک نہ تھی. مارکیٹ میں آسامی تو موجود تھی پر میری ڈگری کی بنسی میں رشوت کا چارا نہ تھا. میں نے ڈیڑھ دو سال جوتیاں چٹخانے کے بعد ڈگری کو طاق پر دھرا اور مختلف ٹیوشن سنٹرز میں طبیعیات اور میتھس پڑھانے لگا. مشاہرہ نہایت قلیل، زندگی کی گاڑی سیکنڈ گئیر پر ہی میں سہی مگر چل پڑی.
ابا کے گزرنے کے بعد حالات مزید سخت ہوئے. میں اکیلا کمانے والا اور آسمان سے باتیں کرتی مہنگائی. اماں نے موثر علاج نہ ہونے کے سبب کھاٹ پکڑ لی اور چھوٹی ان کی تیمارداری اور گھرداری میں گھن چکر ہوئی. اماں کے گزرنے کے بعد گھر جیسے خالی ہو گیا اور چھوٹی کی تنہائی مجھے بولائے دیتی. اسے دیر تک گھر میں تنہا چھوڑتے ہوئے میرا دل ڈرتا تھا، حالانکہ ہمارا محلہ وہی پرانا مگر اب زمانے کی ہوا بدل چکی تھی.
میں نے ایک دن چھوٹی سے کہا:
جو جمع پونجی ہے، تمہاری شادی کے لیے ہے… اگر اجازت دو تو آدھی سے بن کباب کا ٹھیلا لگا لوں؟
اس نے خاموشی سے سر ہلا دیا.
یوں ہم نے اپنا منّا سا کاروبار شروع کیا. چھوٹی کباب، چٹنی اور سلاد تیار کرتی اور میں دن میں کالج کے سامنے ٹھیلا لگاتا اور شام سے رات گئے تک حسب سابق کوچنگ سنٹرز میں پھرکی بنا رہتا. خدا کا کرنا ایسا کہ لوگوں کو بن کباب کا ذائقہ بھا گیا. میں نے کوچنگ کی نوکری چھوڑ کر، اپنے بزنس کو فل ٹائم کر لیا اور مین بازار میں ایک چھوٹی سی دکان کھول لی. اب بن کباب کے ساتھ ساتھ چاٹ، گول گپے اور دہی بڑے بھی فروخت کرنے لگا اور دکان پر چھوٹی بھی ساتھ ہی بیٹھنے لگی. حالات بہتر ہوئے تو میں نے بڑی آپا کو بھی بزنس میں شامل کر لیا. بڑی اماں، بہو کی لگام ڈھیلی کرنے کے حق میں بالکل بھی نہ تھی مگر کرارے نوٹ کی مہکار اور سکّے کی جھنکار میں بڑی کھنک و کشش سو بھائی سعادت کو ہتھیار ڈالتے ہی بنی. بڑی آپا کی خود کفالت نے ان کے نصیب کے زنگ کو صاف کر دیا اور وہ اپنے بچوں کے متعلق آزادانہ فیصلے لینے کی مجاز ہوئیں .
معاشی حالات بہتر سے بہترین ہوئے تو نصیب کی یاوری سے چھوٹی کو اچھا گھرانہ مل گیا. چھوٹی کو بیاہتے سمے میری ایک ہی شرط تھی کہ چھوٹی بدستور میرے ساتھ بزنس میں شریک رہے گی مگر اپنے حصے کے فقط پچاس فیصدی کا اختیار رکھے گی. اس کے سسرالیوں کے لیے یہ قدرے کڑوی گولی تھی. اس کی آمدنی کا پچاس فیصد میرے پاس جمع ہوتا رہے، اس کے ہونے والے دلہا کو یہ شرط ناروا لگی پر اب مذکراتی میز پر ڈیل پر میری گرفت مضبوط تھی. قدرے رد و کد کے بعد چھوٹی کے سسرال والوں نے یہ شرط مان لی. چھوٹی کو احسن طریقے سے رخصت کیا.
وقت گزرا، کاروبار پھیلتا گیا اور بزنس میں مزید توسیع ہوئی تو چھوٹی آپا کو بھی پاٹنر بنا لیا. ایک چھوٹے سے ٹھیلے سے شروع کیا گیا کاروبار تین عورتوں کو خود مختار بنا گیا.
آج برسوں بعد، میں نے ناشتے کے لیے انڈا تلا تو سفیدی ہلکی سی کچی تھی. میں نے اسے پلٹنے کے لیے کفگیر اٹھائی، پھر رک گیا.
ماضی یاد کرتے ہوئے میں ہلکا سا مسکرایا
کہ کچی چیزیں ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ
پکنے کے لیے آگ سے گزرنا کتنا ضروری ہے. کسی سیانے سچ کہا " جو سہہ گیا وہی ظفریاب."
