میانوالی کے تناظر میں اگر ادبی افق پر نظر دوڑائی جائے تو سب سے پہلے قلمکار الحاج محمد یونس باہی صاحب کا نام سر فہرست نظر آتا ہے۔انشاپردازی کی کوئی صنف ہو حاجی محمد یونس باہی اس میں خاصی مہارت رکھتے ہیں۔ میانوالی کی سر زمین شعراء ،ادباء اور مضمون نگاروں سے کافی زرخیز ہے ۔
محمد یونس باھی جب کوئی تحریر لکھتے ہیں تو ان کے ہر جملے میں ادبی لطافت پائی جاتی ہے اپنی تحریر کے جملوں کواس خوش اسلوبی سے نئے نئے الفاظ کا رنگ دیتے ہیں کہ قاری مکمل تحریر پڑھے بغیر نہیں رہ سکتا ۔راہ چلتے مسافر کو منزل کا راستہ اس انداز سے بتاتے ہیں کہ راہ چلنے والے رہگزر کو راستے میں پڑے ہوئے خاروں کا احساس تک نہیں ہوتا اور وہ منزل کے شوق میں آگے بڑہتا چلا جاتا ہے ۔"سلگتے مسائل فرمودات علی"۔ باہی صاحب کی تحریر کے ہر جملے میں احساس کا تاثر خاصا نمایاں پایا جاتا ہے ۔"غزہ کے معصومین،مظلومین اور آئینہ"انسان کتنا ہی حالات کا ستایا ہوا کیوں نہ ہو اسے آپکی تحریر سے ایسی جلا ملتی ہے کہ دل کی تمام افسردگی مٹ جاتی ہے ۔نرم لہجوں کا تاثر دلوں کو تازگی بخشتا ہے کالم نگار ہو ،ادیب ہو ،یا فقہا ،آپ کی تحریر سے استفادہ حاصل کرتا ہے ۔جب کوئی نامساعد حالات سے تنگ ہو کر رنجیدہ ہو جاتا ہے تو ایسی صورت میں تشفی کے لئے اپ کی تحریر تریاق کا کام دیتی ہے اور اس کی اس قدر ڈھارس بندھاتی ہےکہ افسردہ رہنے والے افراد ایک بار پھر سے حالات کا مقابلہ کرنے کے لئے کمر بستہ ہو جاتے ہیں محمد یونس باہی کی تحریر میں وہ لطافت پائی جاتی ہے جو کسی اور کی تحریر میں نہیں ملتی ۔محمد یونس باہی خوبصورت لفظوں کو جوڑنے کا فن خوب جانتے ہیں "فال اور 9مئی".میں نے جب بھی کبھی ان کو کچھ لکھنے کے لئے کہا تو آپ نے اسی وقت لکھنے کی حامی بھری میں نے چند روز قبل اپنی آخری تصنیف "گنجلک گیسوے"انہیں دی اسی دن مکمل کتاب پڑھ کر تبصرہ اخبار میں بھیج دیا ۔حالانکہ مضمون نگاری کرنا اور قلیل وقت میں سہل نہیں ہوتا ۔اپ ایک عرصہ سے ادبی پلیٹ فارم سے منسلک ہیں اور بیشمار مضمون لکھ چکے ہیں ۔حال ہی میں آپ کی کالمز کی ایک کتاب منظر عام پر آ چکی ہےجس میں بھی راقم کی تقریظ بھی شامل ہے یہ کتاب قارئین سے داد صد تحسین وصول کر چکی ہے اس کتاب جس کانام "گہری سوچ" ہے کہ تقریب رونمائی پنجاب کالج میانوالی میں زیر صدارت ڈاکٹر صاحبزادہ علم الدین شاہ الازہری پرنسپل جامعتہ البخش خواجہ آباد شریف
،مہمان خصوصی سابق MNA بھکر ڈاکٹر محمد افضل ڈھانڈلہ، میزبان تقریب پرنسپل پنجاب کالج رانا محمد سلیم میں منعقد ہوئی میانوالی کی بیشتر شعرا، ادباء، وکلاء ،صحافی و سوشل میڈیا کے احباب کے علاوہ تلہ گنگ، بھکر ،پپلاں ،
عیسی خیل سے بھی ادب شناس احباب نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔تقریب میں دلچسپی تلاوت تادعا ڈاکٹر قاری محمد ظفر میانوالی یونیورسٹی برقرار رہی۔ تقریب میں متعدد Phd، و مصنف حضرات، مزہبی سیاسی سماجی تاجران رہنماوں نے شرکت کی ۔حاضریں نے تقریب کو خوب سراہا۔ تقریب میں مزہبی
،سیاسی، معاشی،سماجی شخصیات نے بھرپور انداز میں شرکت کی اور تقریب کو سراہا گیا نظامت ڈاکٹر سخی خان اور خصوصی نعت و منقبت محمد ساجد علی سیالوی پپلاں کی نعت و منقبت کو خوب داد دی گئی
" گہری سوچ " کتاب قارئین کے لئے ایک دلچسپ تحفہ ہے اس کو پڑھنے والا اس تجسس میں رہتا ہے کہ آگے کیا ہو گا لفظوں کو نہایت خوش اسلوبی سے جملوں میں پرویا گیا ہے " منشا خان " میں دیکھیں۔ نئے نئے الفاظ کی ترکیب نہایت شاندار ہے ۔ادب سے تعلق رکھنے والے ہر شخص نے ادبی سفر جاری رکھا ہوا ہے اور ہر ادیب چاہتا ہے کہ اس کی تحریر پر قاری کی نظر سے ضرور گزرے ۔مضمون نگار کوئی ہو اسے فن اور خوبصورت تحریر سے پہچانا جاتا ہے اور یہ وصف الحاج محمد یونس باہی میں بدرجہ اتم موجود ہے جسے قاری پڑھ کر کبھی نہیں اکتاتا ۔باہی صاحب کی تحریر میں کائنات کی رنگینیاں صاف نظر آتی ہیں موروں کی جھنکار ہو یا پرندوں کی چہچہاہٹ الحاج محمد یونس باہی کی تحریر میں ان کی بازگشت خاصی دلچسپ سنائی دیتی ہے میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو مزید لکھنے کی طاقت عطا فرمائے اور قارئین آپ کی تحریر سے مستفید۔ ہوتے رہیں آمین
تو فکر کے گلشن میں ہےایک پھول کی مانند
ہر لفظ کو بخشا ہے تو نے ایک رنگ نرالا
سوچوں کو نئے رنگ میں تو نے ہے پرویا
جس سمت بھی دیکھوں،ہے ترے دم سے اجالا
ایسا کیوں نہ ہو کہ
باہی تیری باتوں میں حسین لطف و کرم ہے
آباد تیرے دم سے ہے اک فکر کی دنیا
لہجوں میں لطافت کی رنگینی بھری ہے
جو فرد ملے تم سے وہ بن جائے ہے، تیرارسیا
