روز مرہ کے معمولات اور اطاعت ربی...انجینئر علی چنار عباس

کیا اطاعتِ ربی صرف اوصیاء، اولیاء، آئمہ اور انبیاء علیہم السلام کا و صف ہے؟کیا عام انسان اس وصف سے سرفراز نہیں ہو سکتا یا اسے اس وصف کے حصول کیلئے کوشاں نہیں ہونا چاہیے؟ اس فلسفہءِ حیات سے جب ہم پردہ اٹھاتے ہیں تو ہمیں معاشرے سے یہ آوازیں سننے کو ملتی ہیں کہ ہم تو گنہگار لوگ ہیں من و عن اطاعت ہم سے کہاں ممکن ہے۔ مطلب ہم نے جنگ سے پہلے جنگی ہتھیار پھینک دیے۔ اطاعت کو شایدسمجھا ہی نہیں گیا یا سمجھانے والوں نے اسے اتنا مشکل بنا دیا کہ عام انسان خود کو اس قابل ہی نہیں سمجھتا کہ وہ بھی مطیع اور فرمانبردار ہو سکتا ہے۔ہم اپنے معمولاتِ زندگی میں بھی کسی نہ کسی کے مطیع ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ رب تعالیٰ ، نبیءِ مکرم ﷺاور اولی الامر کے بھی مطیع ہیں، بس سوچ بدلنے کی ضرورت ہے، کام سر انجام دینے کی نیت بدلنے کی ضرورت ہے،عمل کے ڈھنگ کو اطاعت کا رنگ دینے کی ضرورت ہے۔کام بھی ہم کر رہے ہیں، لوگوں سے حسنِ سلوک، اخلاقیات، رواداری، رحم دلی، اخلاص،محبت، پیار، شفقت، عاجزی، صبر، رزق کمانا، زینت دینا، اچھا لباس زیب تن کرنا، اچھا کھانا، آرام کرنا ، برائی سے بچنا اور نیکی کرنا بس ان سب کاموں کو احکامات ربی سے منسلک کرنے کی ضرورت ہے۔ آئیے پہلے اطاعت کو سمجھتے ہیں کہ اطاعت ہے کیا؟ پھر اس کو کب اور کیسے اطاعت ربی میں تبدیل کیا جا سکتا ہے اور کیسے اپنے عام معاملات کو حکم ربی کے تابع کیا جا سکتا ہے۔
اطاعت عربی زبان کے لفظ «طَاعَة» سے ہے، جو مادہ «ط و ع» سے مشتق ہے۔ اس کے بنیادی معنی ہیں: فرماں برداری، حکم ماننا، تابع ہونا، فرمان کے مطابق عمل کرنا اور رضا و رغبت سے کسی کے حکم کو قبول کرنا۔
1۔ لغوی معنی
عربی لغات میں اطاعت کے مفاہیم میں درج ذیل معانی شامل ہیں: فرماں برداری حکم کی بجا آوری، فرمان ماننا تابع داری کسی کی بات کو قبول کرکے اس کے مطابق عمل کرنا رضا مندی اور آمادگی کے ساتھ حکم بجا لانا اس کی ضد معصیت (مَعْصِيَة) ہے، یعنی حکم کی نافرمانی۔
2۔ اصطلاحی مفہوم
دینی اصطلاح میں اطاعت سے مراد ہے: اللہ تعالیٰ اور اس کے مقرر کردہ احکام و ہدایات کو تسلیم کرتے ہوئے ان کے مطابق اپنے عقیدہ، قول اور عمل کو ڈھالنا۔ یعنی صرف زبانی طور پر حکم کو درست مان لینا اطاعت نہیں، بلکہ حکم کو قبول کرنا اور عملی طور پر اس کی تعمیل کرنا اطاعت کہلاتا ہے۔
3۔ مفہومی اعتبار سے اطاعت میں دو بنیادی عناصر نمایاں ہیں:
(الف) تسلیم و قبول: حکم کو حق ماننا۔ 
(ب) تعمیل: اس حکم کے مطابق عملی قدم اٹھانا۔ 
مثلاً اللہ تعالیٰ نماز کا حکم دیتا ہے۔ نماز کے فرض ہونے کو ماننا تسلیم ہے، جبکہ وقت پر نماز ادا کرنا اطاعت کا عملی مظہر ہے۔
4۔ قرآن کی روشنی میں اطاعت
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
 يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ
“اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو۔”(سورۃ النساء، 4:59)
اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ اسلامی تصورِ اطاعت میں اللہ تعالیٰ کی اطاعت بنیادی حیثیت رکھتی ہے اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت بھی لازم ہے۔
اسی طرح ارشاد فرمایا:
 مَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَالرَّسُولَ فَأُولَٰئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ
“اور جو اللہ اور رسول کی اطاعت کرے گا، وہ ان لوگوں کے ساتھ ہوگا جن پر اللہ نے انعام فرمایا۔”(سورۃ النساء، 4:69)
5۔ اطاعت کا وسیع مفہوم
اسلامی تعلیمات میں اطاعت محض چند عبادات تک محدود نہیں بلکہ انسان کی پوری زندگی سے متعلق ہے۔ اس میں:عقیدہ، عبادت، اخلاق ، معاملات ، معاشرت ،حقوق العباد سب شامل ہیں۔ لہٰذا حقیقی اطاعت یہ ہے کہ انسان اپنی خواہش، قول اور عمل کو اللہ تعالیٰ کی مرضی اور اس کے احکام کے تابع کر دے۔
مختصر تعریف:
 اطاعت وہ شعوری اور عملی فرمانبرداری ہے جس میں کسی جائز حکم کو تسلیم کرکے اس کے مطابق عمل کیا جائے؛ اور اسلامی اصطلاح میں اعلیٰ ترین اطاعت اللہ تعالیٰ، اس کے رسول ﷺ اور اولی الامر کی اطاعت ہے۔
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَطِیۡعُوا اللّٰہَ وَ اَطِیۡعُوا الرَّسُوۡلَ وَ اُولِی الۡاَمۡرِ مِنۡکُمۡ ۚ فَاِنۡ تَنَازَعۡتُمۡ فِیۡ شَیۡءٍ فَرُدُّوۡہُ اِلَی اللّٰہِ وَ الرَّسُوۡلِ اِنۡ کُنۡتُمۡ تُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰہِ وَ الۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ ؕ ذٰلِکَ خَیۡرٌ وَّ اَحۡسَنُ تَاۡوِیۡلًا﴿٪۵۹﴾
۵۹۔ اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اور تم میں سے جو صاحبان امر ہیں ان کی اطاعت کرو پھر اگر تمہارے درمیان کسی بات میں نزاع ہو جائے تو اس سلسلے میں اللہ اور رسول کی طرف رجوع کرو اگر تم اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہو۔ یہی بھلائی ہے اور اس کا انجام بھی بہتر ہو گا۔ 4سورۃ ‎النساء‎، آیت 59
59۔ اطاعت بالذات اللہ کی ہوتی ہے۔ رسول ﷺ کی اطاعت اللہ کی اطاعت کے لیے واحد ذریعہ اور سند ہے۔ اولی الامر کی اطاعت رسول ﷺ کی اطاعت کے ساتھ منسلک ہے، اس لیے اس اطاعت کو رسول ﷺ کی اطاعت پر عطف کیا ہے۔اولی الامر کون ہیں؟ رسول اللہ ﷺ نے متعدد احادیث میں اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ ان کے بعد کن کی طرف رجوع کرنا ہو گا: 1۔ حدیثِ ثقلین: جس میں رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: 
انی تارک فیکم الثقلین کتاب اللّٰہ و عترتی اھل بیتی ما ان تمسکتم بہما لن تضلوا بعدی ابدا 
اس حدیث کو بیس سے زائد اصحاب نے روایت کیا ہے۔ 2۔ حدیث اثنا عشری خلیفہ: اسے امام احمد بن حنبل نے 34 طرق سے روایت کیا ہے۔
 وَاَطِیۡعُوا اللّٰہَ وَالرَّسُوۡلَ لَعَلَّکُمۡ تُرۡحَمُوۡنَ﴿۱۳۲﴾ۚ
۱۳۲۔ اور اللہ اور رسول کی اطاعت کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔ 3 سورۃ ‎آل عمران‎، آیت 132
132۔ اس آیت کی روسے رحمت خدا کے شامل حال ہونے کے لیے اللہ کی اطاعت کے ساتھ رسول ﷺ کی اطاعت بھی ضروری ہے اگر صرف قرآن کے ذریعے اللہ کی اطاعت کافی ہوتی تو اطاعت رسول ﷺ کا علیحدہ ذکر کرنے کی ضرورت نہ تھی۔ اسی وجہ سے رسول کی ذمہ داری صرف قرآنی آیات پڑھ کر سنانا نہیں بلکہ قرآن رسول ﷺ کی تین ذمہ داریوں کا ذکر کرتا ہے۔ اول تلاوت آیات، دوم تزکیہ نفس، سوم تعلیم و تربیت۔ اسی لیے قرآن کے کلی احکام کی تفصیل رسول ﷺ کے ذمے ہے جسے ”سنت“ کہتے ہیں۔
 قُلۡ اَطِیۡعُوا اللّٰہَ وَ الرَّسُوۡلَ ۚ فَاِنۡ تَوَلَّوۡا فَاِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ الۡکٰفِرِیۡنَ﴿۳۲﴾
۳۲۔ کہدیجئے: اللہ اور رسول کی اطاعت کرو، پس اگر وہ لوگ روگردانی کریں تو اللہ کافروں سے محبت نہیں کرتا۔ 3 سورۃ ‎آل عمران‎، آیت 32
32۔ کچھ ایسے افراد نے رسول اللہ ﷺ کے سامنے اللہ سے محبت کا دعویٰ کیا جو اللہ کے احکام کی تعمیل میں کوتاہی کرتے تھے۔ ان کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔ محبت امر قلبی ہے اور قلب حقیقت پرست ہوتا ہے، جس پر حقیقت کے سوا کوئی اور چیز کارگر نہیں ہو سکتی۔ چنانچہ دین بھی عقیدے سے عبارت ہے اور عقیدہ امر قلبی ہے جس پر جبر و اکراہ کارگر نہیں ہو سکتا: لَاۤ اِکۡرَاہَ فِی الدِّیۡنِ (2 بقرۃ : 256) کی طرح کہا جا سکتا ہے کہ لَاۤ اِکۡرَاہَ فِی الْحُب ۔
پاک صاف ہونا 
معمولات زندگی پر ہی اگر غور کیا جائے اور ان کی بجا آوری کو اراداتاًاطاعت ربِ ذوالجلال کی نیت سے کی جائے تو کچھ دقت کے بغیر اور کچھ اضافی کیے بنا ہی بندہ بندہ ءِ خدا کا وصف حاصل کر سکتا ہے۔ مثلاً دن کے آغاز سے اگر انسان اپنے معمولاتِ زندگی کو دیکھے تو وہ صبح اٹھتا ہے۔ اپنی صفائی کا بندوبست کرتا ہے خود کو پاک کرتا ہے، پاکیزہ کرتا ہے ، اپنی رات بھر کی غلاظتوں کو دور کرتا ہے،برش کرتا ہے، نہاتا ہے، وضو کرتا ہے، ان سارے کاموں کو قربۃالااللہ کرکے وہمشیعت اذدی کا سزاوار ہو سکتا ہے۔اب ہم اس امر کو اللہ کے حکم میں دیکھتے ہیں کہ اللہ پاک کیا فرما رہے ہیں 
اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ التَّوَّابِیۡنَ وَ یُحِبُّ الۡمُتَطَہِّرِیۡنَ﴿۲۲۲﴾
بے شک خدا توبہ کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے اور پاک صاف رہنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔1 2 سورۃ ‎البقرہ، آیت 222
یٰبَنِیۡۤ اٰدَمَ قَدۡ اَنۡزَلۡنَا عَلَیۡکُمۡ لِبَاسًا یُّوَارِیۡ سَوۡاٰتِکُمۡ وَ رِیۡشًا ؕ وَ لِبَاسُ التَّقۡوٰی ۙ ذٰلِکَ خَیۡرٌ ؕ ذٰلِکَ مِنۡ اٰیٰتِ اللّٰہِ لَعَلَّہُمۡ یَذَّکَّرُوۡنَ﴿۲۶﴾
۲۶۔ اے فرزندان آدم! ہم نے تمہارے لیے لباس نازل کیا جو تمہارے شرم کے مقامات کو چھپائے اور تمہارے لیے آرائش (بھی) ہو اور سب سے بہترین لباس تو تقویٰ ہے، یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہے شاید یہ لوگ نصیحت حاصل کریں۔ 
 7 سورۃ ‎الأعراف‎، آیت 26
26۔ رِیشًا : یعنی لباس(آرائش) جہاں حفظِ حیا و عفت کا ذریعہ ہے وہاں یہ زیب و زینت بھی ہے۔ اس کو ہم اپنے اعضاء کو چھپانے، موسم کی تلخیوں سے بچنے، گرمی سردی سے تحفظ، گندگی سے بچائو اور معاشرے میں اپنے مقام کی وضاحت کے لیے پہنتے ہیں اور اگر یہی لباس ہم اللہ پاک کے اس فرمان کے مطابق پہن لیں تو کوئی الگ سے کام بھی نہیں کرنا پڑے گا اور اطاعت ربی بھی ہو جائے گی ۔
وثِیَابَکَ فَطَہِّرۡ ۪﴿ۙ۴﴾
۴۔ اور اپنے لباس کو پاک رکھیے 
23 74 سورۃ ‎المدثر، آیت 4
صبح صفائی ستھرائی کے بعد جب بندہ ارادہ کر لیتا ہے کہ وہ نماز پڑھے تو اس کے ساتھ ساتھ یہ اعادہ بھی کر لے کہ یہ امر خالصتاً بندگیءِ خدا کے لیے ہے اور خوشنودیءِ خدا کے لیے ہےاس میں کسی اور امر کا تصور ذہن میں نہ رکھے کہ نماز پڑھوں گا تو رزق کشادہ ہو گا یا برکت آئے گی ۔ یہ ساری چیزیں ثانوی ہیں انعامات ہیں، نعمتیں ہیں ، جب فرض کی ادائیگی ہو جائے گی اور مرضیءِ رب کا حصول بھی ہو جائے گا تو ثانوی ساری چیزیں خود بخود جھولی میں آ جائیں گی۔
اَقِمِ الصَّلٰوۃَ لِدُلُوۡکِ الشَّمۡسِ اِلٰی غَسَقِ الَّیۡلِ وَ قُرۡاٰنَ الۡفَجۡرِ ؕ اِنَّ قُرۡاٰنَ الۡفَجۡرِ کَانَ مَشۡہُوۡدًا﴿۷۸﴾
۷۸۔ زوال آفتاب سے لے کر رات کے اندھیرے تک (ظہر، عصر، مغرب و عشاء کی) نماز قائم کرو اور فجر کی نماز بھی کیونکہ فجر کی نماز (ملائکہ کے) حضور کا وقت ہے۔17سورۃ ‎بنی اسرائیل، آیت 78
78۔ یعنی زوال آفتاب سے لے کر رات کی تاریکی تک چار نمازوں کا وقت ہے۔ چنانچہ حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے روایت کی گئی ہے کہ آپ علیہ السلام نے فرمایا: لِدُلُوۡکِ الشَّمۡسِ یعنی زوال آفتاب غَسَقِ الَّیۡلِ یعنی نصف شب تک یہ چار نمازیں ہیں جن کے اوقات کا رسول اللہ ﷺ نے تعین فرمایا اور قُرۡاٰنَ الۡفَجۡرِ سے مراد صبح کی نماز ہے۔
یٰمَرۡیَمُ اقۡنُتِیۡ لِرَبِّکِ وَاسۡجُدِیۡ وَارۡکَعِیۡ مَعَ الرّٰکِعِیۡنَ﴿۴۳﴾
۴۳۔ اے مریم! اپنے رب کی اطاعت کرو اور سجدہ کرتی رہو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرتی رہو۔ 3 سورۃ ‎آل عمران‎، آیت 43
دن میں فرصت کے لمحوں میں ہم کبھی استغفارکا ورد کرتے ہیں تو کبھی درود پاک کا کبھی اپنی مشکلات کے حل کے لیے وظائف سر انجام دیتے ہیں تو کبھی اپنی ضروریات کے پورا ہونے کیلئے ذکر اذکار کرتے ہیں تو اسی ذکر و ورد کی زحمت کو حکم ازلی کی بجاآوری میں کریں تو اس کے فوائد و کمالات دوگنے ہو جائیں گے۔ وقت اچھا گزرےگا، سکونِ قلب نصیب ہوگا ، اطمینان کی نعمت عطا ہو گی اور اس کے ساتھ ساتھ باقی انعامات جن کا وعدہ کیا گیا ہے وہ بھی مقدر ہو جائیں گے۔
اَلَا بِذِکۡرِ اللّٰہِ تَطۡمَئِنُّ الۡقُلُوۡبُ
 یاد رکھو! یاد خدا سے دلوں کو اطمینان ملتا ہے۔ (13 :28)
وَمِنَ الَّیۡلِ فَسَبِّحۡہُ وَاِدۡبَارَالنُّجُوۡمِ﴿٪۴۹﴾
۴۹۔ اور رات کے بعض حصوں میں اور ستاروں کے غروب ہونے کے بعد بھی اپنے رب کی تسبیح کریں۔ 52 سورۃ ‎الطور، آیت 49
اب آتی ہے باری اپنے جسم کو توانا و مقوی رکھنے کی تو اس کیلئے ہمیں رزق کی ضرورت ہے کھانے پینے کی ضرورت ہے جس کو پورا کرنے کے لیے ہم غذا کھاتے ہیں اور پانی پیتے ہیں۔ کام تو ہم یہ کر ہی رہے ہیں اگر اسے اللہ پاک کے حکم کے مطابق کر لیں اور کھا بھی اس لیے لیں کہ ہمارے رب نے حکم دیا کہ کھائو پیو اور اسراف سے بچو۔ اسراف یہ بھی ہے کہ ضرورت سے زیادہ اپنے برتن میں ڈال لینا اور اسراف یہ بھی ہے کہ ایک وقت میں کئی ایک کھانے کھا لینا اور اسراف یہ بھی ہےکہ اپنی ضرورت سے زیادہ کھا لینا۔ جو تینوں صورتوں میں نقصان کا سبب ہے۔پھر اگر روزی کی بات کی جائے کہ وہ کیسی ہو تو یقیناًاس کا پاک و پاکیزہ ہونا اور حلال ہونا شرط ہے تو اگر ہم رزق حلال کو حلال طریقے سے کھائیں گے تو بندگی بھی ہو جائے گی اور ہم رزق بھی تناول کر لیں گے۔
 وَّ کُلُوۡا وَ اشۡرَبُوۡا وَ لَا تُسۡرِفُوۡا ۚ اِنَّہٗ لَا یُحِبُّ الۡمُسۡرِفِیۡنَ﴿٪۳۱﴾
۳۱۔ اور کھاؤ اور پیو مگر اسراف نہ کرو،اللہ اسراف کرنے والوں کو یقینا دوست نہیں رکھتا۔ 7 سورۃ ‎الأعراف‎، آیت 31
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا کُلُوۡا مِنۡ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقۡنٰکُمۡ وَ اشۡکُرُوۡا لِلّٰہِ اِنۡ کُنۡتُمۡ اِیَّاہُ تَعۡبُدُوۡنَ﴿۱۷۲﴾
۱۷۲۔ اے ایمان والو! اگر تم صرف اللہ کی بندگی کرنے والے ہو تو ہماری عطا کردہ پاک روزی کھاؤ اور اللہ کا شکر کرو۔
 7 2 سورۃ ‎البقرۃ، آیت 172
خرچ تو ہم کر ہی رہے ہوتے ہیں اپنے اہل و عیال کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے تو کبھی ان کی آسائشات کی تکمیل کیلئے ، کبھی ان کی تربیت کیلئے تو کبھی ان کی خوراک اور اچھے پوشاک کیلئے ، کبھی دوست احباب پر، کبھی عزیز و اقارب کیلئے، کبھی فقراء و غربا پر، کبھی اپنی ساکھ بحال رکھنے کیلئے تو کبھی اپنے آپ کو نمایاں کرنے کے لیے، کبھی مہمانوں پر تو کبھی پردیسیوں کی خدمت کی غرض سے۔کبھی دین کی سر بلندی کیلئے توان تمام اخراجات کو خرچ کرنے سے پہلے اگر ہم اپنی سوچ کا زاویہ بدلیں اور یہ سوچ لیںکہ یہ اخراجات تو وہی ہیں جو اللہ پاک نےخرچ کرنے کا حکم دیا ہے، اس فعل سے بندگیءِ خدا کا وصف بھی حاصل ہو جائے گا اور ضرورت کے حساب سے خرچ بھی ہو جائے گا ہاں اب یہاں ایک فائدہ اور ہو جائے گا کیونکہ خرچ اللہ پاک کے حکم کے مطابق ہو گا تو اس کا اجر علیحدہ سے ملے گا اور رزق کی فراوانی بھی مقدر ہو جائے گی۔
الَّذِیۡنَ یُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡغَیۡبِ وَ یُقِیۡمُوۡنَ الصَّلٰوۃَ وَ مِمَّا رَزَقۡنٰہُمۡ یُنۡفِقُوۡنَ ۙ﴿۳﴾
۳۔ جو غیب پر ایمان رکھتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں نیز جو کچھ ہم نے انہیں عطا کیا ہے، اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔ 2 سورۃ ‎البقرۃ، آیت 3
رزق روزی کی تلاش میں ہر شخص تگ و دو کر رہا ہے، رزق حلال کمانا عبادت ہے اور اللہ پاک نے ہاتھ سے روزی کمانے والے کو اپنا دوست بھی کہا ہے۔ ہم دن بھر اپنی روزی کی تلاش میں محنت و مشقت سے دو چار ہوتے ہیں اور رات میں تھکن کی وجہ سے بدن کو آرام دینے کیلئے سوتے ہیں حالانکہ اس میں سب کچھ ہمارے ذاتی مفاد کیلئے ہے لیکن اس کے باوجود اگر ہم ان امور کو حکم خدا سمجھ کر بجا لائیں تو یقیناً اس میں دنیا کی بھلائی تو ہے ہی ساتھ ہی میں آخرت کی کامیابی کا سبب بھی بن جائے گا۔ 
وَ ہُوَ الَّذِیۡ جَعَلَ لَکُمُ الَّیۡلَ لِبَاسًا وَّ النَّوۡمَ سُبَاتًا وَّ جَعَلَ النَّہَارَ نُشُوۡرًا﴿۴۷﴾
۴۷۔ اور وہ وہی ہے جس نے تمہارے لیے رات کو پردہ اور نیند کو سکون اور دن کو مشقت کے لیے بنایا۔ 19 25 سورۃ ‎الفرقان، آیت 47
نیکی اور بھلائی کےکام ہماری روز مرہ زندگی کا حصہ ہیں۔ کبھی ہم کسی کی مدد کرتے ہیں تو کبھی کسی کے کام میں اس کا ہاتھ بٹا دیتے ہیں،کسی راہ گیر کو رستہ بتا دیتے ہیں تو کسی مسافر کو کھانا کھلا دیتے ہیں، کسی مجبور کی مدد کر دیتے ہیں تو کسی لاچار کا چارہ بن جاتے ہیں۔ والدین کی خدمت کر لیتے ہیں تو کبھی بچوں سے شفقت کر لیتے ہیں۔پس اس طرح کے تمام عوامل جو ہم کسی کی بھلائی کی خاطر سرانجام دیتے ہیں ان کی انجام دہی صرف اس لیے ہو کہ اس امر کی تلقین رب تعالیٰ کی طرف سے کی گئی ہے تو وہ اطاعت کے زمرے میں آ جائے گا اور اس طرح ہمارے روز مرہ کے کام جو کہ ہم کر رہے ہیں بندگی میں شمار ہو جائیں گے۔
لَیۡسَ الۡبِرَّ اَنۡ تُوَلُّوۡا وُجُوۡہَکُمۡ قِبَلَ الۡمَشۡرِقِ وَ الۡمَغۡرِبِ وَ لٰکِنَّ الۡبِرَّ مَنۡ اٰمَنَ بِاللّٰہِ وَ الۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ وَ الۡمَلٰٓئِکَۃِ وَ الۡکِتٰبِ وَ النَّبِیّٖنَ ۚ وَ اٰتَی الۡمَالَ عَلٰی حُبِّہٖ ذَوِی الۡقُرۡبٰی وَ الۡیَتٰمٰی وَ الۡمَسٰکِیۡنَ وَ ابۡنَ السَّبِیۡلِ ۙ وَ السَّآئِلِیۡنَ وَ فِی الرِّقَابِ ۚ وَ اَقَامَ الصَّلٰوۃَ وَ اٰتَی الزَّکٰوۃَ ۚ وَ الۡمُوۡفُوۡنَ بِعَہۡدِہِمۡ اِذَا عٰہَدُوۡا ۚ وَ الصّٰبِرِیۡنَ فِی الۡبَاۡسَآءِ وَ الضَّرَّآءِ وَ حِیۡنَ الۡبَاۡسِ ؕ اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ صَدَقُوۡا ؕ وَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡمُتَّقُوۡنَ﴿۱۷۷﴾
۱۷۷۔ نیکی یہ نہیں ہے کہ تم اپنا رخ مشرق اور مغرب کی طرف پھیر لو، بلکہ نیکی تو یہ ہے کہ جو کوئی اللہ، روز قیامت، فرشتوں، کتاب اور نبیوں پر ایمان لائے اور اپنا پسندیدہ مال قریبی رشتہ داروں، یتیموں، مسکینوں، مسافروں اور سائلوں پر اور غلاموں کی رہائی پر خرچ کرے اور نماز قائم کرے اور زکوٰۃ ادا کرے نیز جب معاہدہ کریں تو اسے پورا کرنے والے ہوں اور تنگدستی اور مصیبت کے وقت اور میدان جنگ میں صبر کرنے والے ہوں، یہی لوگ سچے ہیں اور یہی لوگ متقی ہیں۔ 2 سورۃ ‎البقرۃ، آیت 177
177۔ رسولِ کریم ﷺ سے مروی ہے: من عمل بھذہ الایۃ فقد استکمل الایمان ۔ (بحار الانوار 66: 346) جو اس آیت پر عمل کرے اس کا ایمان کامل ہے۔
صبر اور استقامت کا دامن ہم تھامتے ہیں جب کہیں ہم بہت مجبور ہوتے ہیں جب ہمارا بس نہیں چل رہا ہوتا جب ہم سے کچھ بن نہیں پاتا تو ہم خود کو صبر اور استقامت کی تلقین کرتے ہیں۔ جبکہ ہمیں اس وقت بھی صبر سے ہی کام لینا چاہیے جب ہم طاقت رکھتے ہیں ، ہمارے ساتھ اگر کہیں ظلم زیادتی یا نا انصافی ہو گئی ہے تو اس پر صبر کریں اور یہ صبر اللہ پاک کی خاطر کریں تو یقیناً اللہ پاک راضی ہوں گےاور اجر یقینی ہے۔
وَ لِرَبِّکَ فَاصۡبِرۡ ؕ﴿۷﴾
۷۔ اور اپنے رب کی خاطر صبر کیجیے، 24 74 سورۃ ‎المدثر، آیت 7
اب ان امور کی طرف آتے ہیں جو ہم معاشرے کی خاطر، اپنی ذات کی خاطر، اپنے اردگرد کے ماحول کی خاطر، یا خوف کی وجہ سے سرانجام نہیں دیتے ہیں جبکہ انہی باتوں سے منع رہنے کا حکم بھی ہے تو کیوں نہ ان متنبعات سے اللہ کی خاطر دور رہا جائے اور خوشنودیءِ خدا کو اپنا مقدر بنا لیا جائے
قُلۡ تَعَالَوۡا اَتۡلُ مَا حَرَّمَ رَبُّکُمۡ عَلَیۡکُمۡ اَلَّا تُشۡرِکُوۡا بِہٖ شَیۡئًا وَّ بِالۡوَالِدَیۡنِ اِحۡسَانًا ۚ وَ لَا تَقۡتُلُوۡۤا اَوۡلَادَکُمۡ مِّنۡ اِمۡلَاقٍ ؕ نَحۡنُ نَرۡزُقُکُمۡ وَ اِیَّاہُمۡ ۚ وَ لَا تَقۡرَبُوا الۡفَوَاحِشَ مَا ظَہَرَ مِنۡہَا وَ مَا بَطَنَ ۚ وَ لَا تَقۡتُلُوا النَّفۡسَ الَّتِیۡ حَرَّمَ اللّٰہُ اِلَّا بِالۡحَقِّ ؕ ذٰلِکُمۡ وَصّٰکُمۡ بِہٖ لَعَلَّکُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ﴿۱۵۱﴾
۱۵۱۔کہدیجئے:آؤ میں تمہیں وہ چیزیں بتا دوں جو تمہارے رب نے تم پر حرام کر دی ہیں، (وہ یہ کہ) تم لوگ کسی کو اس کا شریک نہ بناؤ اور والدین پر احسان کرو اور مفلسی کے خوف سے اپنی اولاد کو قتل نہ کرو، ہم تمہیں بھی رزق دیتے ہیں اور انہیں بھی اور علانیہ اور پوشیدہ (کسی طور پر بھی) بے حیائی کے قریب نہ جاؤ اور جس جان کے قتل کو اللہ نے حرام کیا ہے اسے قتل نہ کرو ہاں مگر حق کے ساتھ، یہ وہ باتیں ہیں جن کی وہ تمہیں نصیحت فرماتا ہے تاکہ
 تم عقل سے کام لو۔ 25 6 سورۃ ‎الأنعام‎، آیت 151
 وَمَاۤ اَنۡفَقۡتُمۡ مِّنۡ نَّفَقَۃٍ اَوۡ نَذَرۡتُمۡ مِّنۡ نَّذۡرٍ فَاِنَّ اللّٰہَ یَعۡلَمُہٗ ؕ وَمَا لِلظّٰلِمِیۡنَ مِنۡ اَنۡصَارٍ﴿۲۷۰﴾
۲۷۰۔ اور تم جو کچھ خرچ کرتے ہو یا نذر مانتے ہو اللہ کو اس کا علم ہے اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں ہے۔ 2 سورۃ ‎البقرۃ، آیت 270
270۔ اللہ کی اطاعت میں کسی امر کو اپنے اوپر لازم قرار دینا نذر کہلاتا ہے۔ نذر کا یہ عمل صرف اسلام میں نہیں بلکہ اسلام سے پہلے سابقہ ادیان میں بھی رائج تھا۔ اس آیت میں انفاق اور نذر کے بارے میں تاکیدی لہجے میں ارشاد فرمایا: تمہارے انفاق اور نذر کے بارے میں اللہ خوب جانتا ہے کہ تم کس لیے اور کیوں انفاق نہیں کرتے اور کرتے بھی ہو تو کن پاک یا ناپاک عزائم کے تحت کرتے ہو اور جو اس سلسلے میں ظلم کرتے ہیں اور غریبوں کا حق مارتے ہیں اور انفاق نہیں کرتے ان کا کوئی مددگار نہیں۔ توبہ ان کے کام آ سکتی ہے اور نہ ہی شفاعت، کیونکہ یہ حقوق العباد سے ہے۔ لہٰذا اس کا واحد حل یہی ہے کہ جن کا حق مارا ہے، ان کا حق ادا کیا جائے۔
آخر میں ہم دیکھتے ہیں کہ ہماری زندگی کے عمومی معاملات صرف نیت اور ارادے کے بدلنے سے کتنے خوبصورت اور کتنے کامیاب ہو جاتے ہیں کہ ایک کام جو ہم اپنی ذات کیلئے کر رہے ہیں لیکن صرف اس کو بجا لانے سے پہلے یہ تصور کر لیتے ہیں کہ اس کام کو کرنے کا حکم میرے رب نے دیا ہے تو وہی کام نیکی بن جاتا ہے ، اطاعت بن جاتا ہے فرمانبرداری بن جاتا ہے حق اور حق کی راہ بن جاتا ہے صراطِ مستقیم پر چلنے کا موجب بن جاتا ہے ، مرضیءِ رب بن جاتا ہے، مشیعت ازدی کی تکمیل بن جاتا ہے، خوشنودیءِ خدا کا سبب بن جاتا ہے۔تو آئیے آج سے جینے کا زاویہ بدلیں، سوچ کی بندشوں کو توڑیںاپنے معمولاتِ زندگی میں اچھے کاموں کو رب کے حکم کی بجاآوری کا نام دیں اور برائی اور برے کاموں سے بچنے کو رب کی ناراضگی سے بچنا قرار دیں۔ اپنی زندگی کو ایک مطیع کی زندگی قرار دیں ۔ تقویٰ کی پابند زندگی قرار دیں۔
Tags

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !