افسانہ ۔۔۔ گھر کا آدمی

میرا شوہر میری بہن کو “چھوٹی بہن” کہتا تھا ۔ 
مگر تفتیش ہوئی تو معلوم ہوا، وہی اس کی راتوں کا عذاب تھا میرا نام ماہ نور ہے عمر پینتیس سال کچھ مہینے پہلے میری طلاق ہوئی ہے 
لوگ جب یہ لفظ سنتے ہیں تو فوراً چہرے پر افسوس اوڑھ لیتے ہیں جیسے عورت کا گھر ٹوٹا نہیں وہ خود ٹوٹ گئی ہو مگر سچ پوچھیں تو میری طلاق سانحہ نہیں تھی وہ میری رہائی تھی 
وہ دروازہ تھا جو میں نے کانپتے ہاتھوں سے کھولا مگر کھلتے ہی مجھے پہلی بار سانس آئی ۔

یہ قصہ دو سال پہلے شروع ہوا میری چھوٹی بہن نشوا میرے پاس آئی تھی چوبیس سال کی ہنسنے والی ۔۔۔ ہر بات پر آنکھیں پھیلا لینے والی چھوٹی چھوٹی چیزوں سے خوش ہو جانے والی لڑکی لیکن اس دن اس کا چہرہ بجھا ہوا تھا وہ میرے کمرے میں آئی دروازہ بند کیا اور موبائل میرے ہاتھ میں دے دیا ۔
“آپی… یہ دیکھیں۔”
میں نے سکرین دیکھی تو دل جیسے کسی نے مٹھی میں لے لیا کسی اجنبی نمبر سے گھٹیا پیغامات آ رہے تھے 
فحش لنکس 
غلیظ گروپس کے دعوت نامے 
دھمکیاں 
اور ایسے جملے جنہیں پڑھ کر زبان خود شرمندہ ہو جائے میں نے نشوا کی طرف دیکھا 
وہ بولی:
“آپی، میں نے نمبر بدل لیا تھا… پھر بھی آ گیا۔”
یہ بات سیدھی دل پر لگی
نمبر بدلنے کے بعد بھی وہی شخص؟
مطلب وہ صرف کوئی آوارہ اجنبی نہیں تھا۔
وہ کہیں قریب تھا 
اتنا قریب کہ ہماری سانسوں کی خبر رکھتا تھا 
میں نے اسے دلاسہ دیا
کہا
“ڈرو مت، میں ہوں نا۔”
لیکن سچ یہ ہے کہ اس رات میں خود بھی نہیں سوئی گھر وہی تھا دیواریں وہی تھیں دروازے بھی وہی تھے مگر مجھے پہلی بار لگا جیسے چھت کے کسی کونے میں کوئی آنکھ لگی ہوئی ہے 
پاکستانی گھروں میں لڑکی کے ڈر کو اکثر وہم کہہ کر ٹال دیا جاتا ہے ۔ 
“ایسے میسجز سب کو آتے ہیں۔”
“بلاک کر دو۔”
“کسی کو بتانا مت بدنامی ہو جائے گی۔”
“لڑکی ذات ہو چپ رہنا سیکھو۔”
مگر چپ رہنے سے گندگی ختم نہیں ہوتی 
بس گندگی کرنے والے کا حوصلہ بڑھتا ہے
نشوا نے نمبر بدل لیا ای میل بدل لی سوشل میڈیا بند کر دیا گھر سے اکیلے نکلنا چھوڑ دیا مگر پیغامات پھر بھی آتے رہے کبھی رات کو دو بجے کبھی فجر سے ذرا پہلے کببی ایسے وقت جب گھر کے سب لوگ سو رہے ہوتے اور ہر پیغام کے بعد میری بہن تھوڑی اور خاموش ہو جاتی ۔ 
وہ لڑکی جو آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر دوپٹہ بدل بدل کر دیکھتی تھی اب روشنی سے بھی گھبرانے لگی تھی ۔۔ فون بجتا تو اس کے ہاتھ ٹھنڈے پڑ جاتے دروازے پر دستک ہوتی تو اس کی آنکھوں میں وحشت اتر آتی 
ایک رات وہ میرے پاس آ کر بیٹھ گئی بارش ہو رہی تھی کھڑکی کے شیشوں پر پانی ایسے بج رہا تھا جیسے کوئی مسلسل دستک دے رہا ہو 
نشوا نے بہت دیر بعد کہا 
“آپی… مجھے لگتا ہے کوئی ہمیں دیکھ رہا ہے۔”
اس جملے نے میرے اندر کچھ توڑ دیا میں نے اسی وقت فیصلہ کر لیا 
اب چپ کا روزہ توڑنا پڑے گا 
اگلے دن ہم سائبر کرائم آفس گئے
تمام سکرین شاٹس ای میلز، نمبرز تاریخیں سب کچھ لے کر ۔۔۔ 
افسر نے پہلے معمول کی طرح سوال کیے 
کسی پر شک ہے؟
کسی سے جھگڑا؟
کسی کو نمبر دیا تھا؟
گھر میں وائی فائی کون استعمال کرتا ہے؟
میں ہر سوال کا جواب دیتی رہی 
نشوا میرے ساتھ بیٹھی تھی سر جھکائے، انگلیاں آپس میں پھنسی ہوئی
وہاں بیٹھ کر مجھے اندازہ ہوا کہ عزت بچانے کے نام پر عورتیں کتنی بار انصاف سے دور کر دی جاتی ہیں لیکن اس دن میں نے نشوا کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑا ہوا تھا 
میں نے دل میں کہا 
“جو بھی ہوگا، اب پیچھے نہیں ہٹنا۔”
ایک ہفتے بعد مجھے کال آئی
“میڈم، آپ آفس آ سکتی ہیں؟”
میں اکیلی گئی 
افسر کے کمرے میں داخل ہوئی تو اس نے مجھے بیٹھنے کا اشارہ کیا اس کے چہرے پر وہی عجیب سی سنجیدگی تھی جو بری خبر سے پہلے آتی ہے
اس نے فائل بند کی کچھ لمحے خاموش رہا پھر بولا 
“میڈم… جو ای میلز اور میسجز بھیجے گئے ان کا آئی پی ایڈریس آپ کے گھر سے ٹریس ہوا ہے۔”
میرے منہ سے فوراً نکلا شائیدوائی فائی ہیک ہو گیا ہو؟”
اس نے میری طرف دیکھا اسکی آنکھوں میں ترس نہیں تھا مگر ایک احتیاط ضرور تھی 
“نہیں میڈم۔ لاگ اِن آپ کے گھر کے اندر سے ہوا ہے اور جس ڈیوائس سے ہوا… وہ آپ کے شوہر کے نام پر رجسٹرڈ ہے۔”
مجھے لگا کمرے کی دیواریں پیچھے ہٹ گئی ہیں
میں نے اس کا نام سننے سے پہلے ہی سن لیا تھا
رایان۔
میرا شوہر۔
وہ آدمی جس کے ساتھ میں ایک ہی چھت کے نیچے رہتی تھی
وہ آدمی جو نشوا کے سر پر ہاتھ رکھ کر کہتا تھا:
“تم میری چھوٹی بہن جیسی ہو۔”
وہی آدمی راتوں کو اسے گندے پیغامات بھیجتا رہا
ایک لمحے کے لیے مجھے لگا شاید میں نے غلط سنا ہے
شاید دنیا اتنی بدصورت نہیں ہو سکتی
مگر کبھی کبھی بدصورتی دروازہ نہیں کھٹکھٹاتی
وہ گھر کے اندر ہی پل رہی ہوتی ہے
میں گھر واپس آئی تو رایان ٹی وی دیکھ رہا تھا
چائے کا کپ سامنے پڑا تھا چہرے پر وہی بے فکری جیسے دنیا میں کوئی طوفان نہیں آیا میں نے اس کے سامنے فائل رکھ دی 
“یہ تم تھے؟”
اس نے پہلے مجھے دیکھا
پھر کاغذ دیکھے
پھر ہلکا سا مسکرایا
وہ مسکراہٹ آج بھی میرے اندر کانٹے کی طرح چبھتی ہے
بولا۔۔۔ 
“اوہ پلیز، اتنا ڈرامہ مت کرو بس مذاق تھا۔”
مذاق؟
میری بہن کی نیندیں چھین لینا مذاق تھا؟
اسے اپنے ہی گھر میں غیر محفوظ کر دینا مذاق تھا؟
ایک لڑکی کو شرم، خوف اور گھٹن میں دھکیل دینا مذاق تھا؟
میں نے اسے دیکھا۔
اس دن پہلی بار میں نے اپنے شوہر کو نہیں دیکھا۔
میں نے اس کے اندر چھپے ہوئے وہ شخص دیکھا جو عورت کے خوف سے لطف لیتا تھا
بعض حقیقتیں چاقو نہیں ہوتیں پھر بھی آدمی کو چیر دیتی ہیں میں نے کہا
“تمہیں شرم نہیں آئی؟”
وہ ہنسا
“یار، تم لوگ تو بس اوور ری ایکٹ کرتی ہو ج کل تو سب چلتا ہے۔”
بس وہیں بات ختم ہو گئی میرا نکاح شاید کاغذ پر کچھ عرصہ اور زندہ رہا مگر میرے دل میں اسی لمحے مر گیا اس رات میں نے نشوا کو اپنے کمرے میں بلایا 
وہ میرے چہرے کو دیکھتے ہی سمجھ گئی کہ بات معمولی نہیں۔
میں نے اسے سب بتایا۔
وہ پہلے پتھر ہو گئی۔
پھر اس نے دونوں ہاتھ اپنے منہ پر رکھ لیے۔
اور پھر ایسا روئی جیسے کسی نے اس کے اندر سے اعتماد کا آخری چراغ بھی بجھا دیا ہو۔
وہ بار بار ایک ہی بات کہتی رہی:
“آپی… وہ تو گھر کا آدمی تھا۔”
ہاں وہ گھر کا آدمی تھا اور یہی سب سے بڑا زخم تھا 
اجنبی سے ڈر لگتا ہے مگر اپنے سے دھوکا روح کو کھا جاتا ہے اگلے دن گھر میں طوفان آ گیا۔
ساس نے کہا 
“مردوں سے غلطیاں ہو جاتی ہیں، گھر نہیں توڑے جاتے۔”
سسر نے کہا:
“تم نے بات باہر لے جا کر خاندان کی ناک کٹوا دی۔”
ایک خالہ نے فون پر سمجھایا:
“طلاق کے بعد عورت کی زندگی آسان نہیں ہوتی ذرا برداشت کر لو۔” میں نے سب کی باتیں سنیں
پھر پہلی بار مجھے اپنے اندر اپنی ماں کی آواز سنائی دی 
“بیٹی، عزت وہ نہیں جو لوگ دیتے ہیں، عزت وہ ہے جو انسان خود اپنے لیے بچا لے۔”
میں نے رایان کو آخری بار دیکھا 
وہ اب بھی اپنی غلطی کو غلطی نہیں سمجھ رہا تھا اسے افسوس صرف پکڑے جانے کا تھا۔
اور جس آدمی کو اپنے گناہ پر نہیں صرف رسوائی پر شرمندگی ہو اس کے ساتھ زندگی گزارنا اپنی روح کو قید کر دینے کے برابر ہے 
میں نے خلع کا فیصلہ کر لیا
لوگوں نے بہت کہا
“سوچ لو۔”
میں نے اچھی طرح سوچ لیا تھا 
میں نے یہ بھی سوچ لیا تھا کہ عورت اگر اپنی بہن کی حفاظت کے لیے کھڑی نہ ہو تو پھر دنیا سے کیا شکوہ؟
نشوا کئی دن تک مجھ سے آنکھ نہیں ملا پاتی تھی جیسے قصور اس کا ہو میں ہر بار اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لے کر کہتی:
“شرم اسے آنی چاہیے جس نے کیا ہے جس کے ساتھ ہوا ہے اسے نہیں۔”
یہ جملہ میں اسے بھی کہتی رہی خود کو بھی 
طلاق کے کاغذ آئے تو عجیب سکون تھا۔
نہ ماتم
نہ چیخ
نہ وہ فلمی سا ٹوٹنا
بس ایک گہری سانس
جیسے کسی بند کمرے کی کھڑکی کھل گئی ہو۔
آج لوگ کہتے ہیں
“بہت ہمت کی تم نے۔”
میں مسکرا دیتی ہوں ہمت کوئی آسمان سے اترنے والی چیز نہیں ہوتی ہمتکبھی کبھی اپنی چھوٹی بہن کی کانپتی ہوئی انگلیوں سے ملتی ہے ۔۔۔ 
کبھی ایک فائل میں محفوظ سکرین شاٹس سے 
کبھی ایک ایسے جملے سے جو دل میں کیل کی طرح ٹھک جائے ۔ 
“آپی، مجھے لگتا ہے کوئی ہمیں دیکھ رہا ہے۔”
آج نشوا پہلے جیسی نہیں رہی اور شائد میں بھی نہیں ۔۔ مگر اب وہ فون بجنے پر کانپتی نہیں ۔ 
اب وہ اپنے کمرے کی کھڑکی کھول دیتی ہے ۔
اب وہ ہنستی ہے تو ہنسی میں ذرا درد ضرور ہوتا ہے مگر خوف نہیں ہوتا ۔۔۔ 
اور میں؟
میں طلاق یافتہ ہوں مگرشرمندہ نہیں
کیونکہ میں نے ایک گھر نہیں توڑا
میں نے ایک درندے کی درندگی چاک کی ہے۔
میں نے ایک مرد کو نہیں چھوڑا۔
میں نے خوف چھوڑا ہے۔
میں نے شادی نہیں ہاری 
میں نے اپنی بہن بچائی ہے 
اور اگر کبھی کوئی مجھ سے پوچھے کہ میری طلاق کا دکھ کتنا بڑا تھا تو میں صرف اتنا کہوں گی کچھ رشتے ٹوٹتے نہیں کاٹے جاتے ہیں 
بالکل ایسے جیسے جسم سے زہر نکالا جاتا ہے 
درد ہوتا ہے خون بھی نکلتا ہے
خون بھی نکلتا ہے 
مگر جان بچ جاتی ہے ۔۔

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !