زندگی کے دامن میں بے پناہ اور بیشمار نعمتیں ہیں ۔اس میں خواہشیں ہیں ۔حسرتیں ہیں امیدیں ہیں مایوسیاں ہیں ۔صداقتیں ہیں ۔دھوکے ہیں میلے ہیں ۔ اور تنہائیاں ہیں ۔
زندگی سمندر ہے ۔زندگی سے زندگی نکل رہی ہے ۔ زندگی میں زندگی شامل ہو رہی ہے ۔زندگی سے زندگی جدا ہو رہی ہے زندگی زندگی سے واصل ہو رہی ہے ۔زندگی اپنے ہی پردے میں چھپی ہوتی ہے ۔۔۔زندگی اپنے روبرو ہونے کا نام ہے ۔۔۔ اپنے قریب ہونے کا نام ہے ۔۔۔۔ اپنے سے قریب ہونے کا نام ہے ۔۔۔۔ سب کی زندگی ہی اپنی زندگی ہے ۔۔۔۔۔ یقین نہیں آتا تو کسی اللہ والے کے مزار پر چلے جاؤ ۔اپکو زندگی کی سمجھ ا جائے گی ۔۔۔زندگی ہو گی تو انسان ۔۔۔۔انسانیت ہو گی۔
ایک انسان اگر راستہ بھول جائے۔بھٹک جائے ۔پگڈنڈیوں میں کھو جائے ۔راہوں کے پیچ و خم میں الجھ جائے اور اگر اسے اچانک منزل کا سراغ مل جائے تو وہ منزل تک پہنچ جائے ۔آسودہ ء منزل ہو جائے۔ اس کامیاب انسان کا تمام سفر،سفر کی کلفتیں کامیابی کا حصہ ہیں ۔کامیاب آدمی کا سارا سفر ہی کامیاب ہے ۔ جس کو اللہ معاف کر دے اس کے گناہوں کا کیا ذکر؟ جسے اسلام کی دولت مل جائے اس کے پرانے کفر کا کیا تذکرہ.؟ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ ۔۔۔میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر ہوتا ۔حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ جلیل القدر صحابی
۔۔۔جلیل القدر صحابی حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے گھر پرورش تربیت پا کر یزید قاتل نواسہ رسول حضرت امام حسین علیہ السلام بنا ۔یزید کی آغوش میں اس کے ہاں تربیت پانے والا 28...19...20 سا کہ بیٹا ۔۔۔نواسہ رسول کے خون کی خوشبو ۔۔۔۔ محسوس ہوتی ہے خون حسین کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے اقتدار چھوڑ دیتا ہے ۔اور آج ممبر رسول پر مختلف تاویلیں پیش کر کے صحابہ کے نام پر ،اہل بیت کی عقیدت و محبت اور مقام پر ۔۔۔۔بھولنا آدم کی فطرت ہے ۔
آدم کو زندگی دی گئی ۔کامیاب زندگی کے لئے چند احکامات دئیے گئے ۔گندم نہیں کھانی ۔بھول گیا ۔کہیں یہ نہیں آیا طلال چوہدری صاحب کہ آدم علیہ السلام نے کہا ہو میں نے جان بوجھ کر کھایا ۔۔۔ضد میں آ کر ۔۔۔اقتدار کے نشے میں ا کر دانہ کھایا
۔۔نہیں نہیں۔ بھول گیا کئی سو سال تک معافی
۔۔۔۔ جب رحمت کائنات کا
وسیلہ دیا ۔جس نے۔۔۔ ریاست پاکستان کے تاریخ کے اوراق میں ایک قابل نفرت بدبودار نام رکھنے والوں ۔۔۔ جس نے طائف کے بازار و گلیوں میں پتھر کھا کر لہو لہان ہو کر جبرائیل کے یہ کہنے پر۔ اگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کہیں تو انہیں تباہ و برباد کر دوں ۔کچومر نکال دوں ۔جس کا کلم باقی مسلمانوں کی طرح پاکستان کے موجود حکمران بھی پڑھ کر مسلمان کہلاتے ہیں نے فرمایا ۔نہیں۔ نہیں ۔۔یک مجھے جانتے نہیں ۔یا اللہ انہیں شعور دے ۔۔۔۔ تاجدار ختم نبوت کا وسیلہ دیا بھول کی معافی ملی ۔۔شداد کی جب روح قبض کرنے کے لئے عزرائیل علیہ السلام کو رب نے حکم دیا کہ جا شداد نے ایک میرے مقابلے میں اپنی مرضی کی حکومت رعب داب دیکھانے کے لئے میرے مقابلے میں ترمیم۔۔انصاف کا قتل کر کے استثنیٰ ۔۔لینا چاہتا ہے ۔۔۔جنت بنائی ہے ۔اس کا ایک پاؤں اس کی جنت سے باہر زمین پر ہو ۔دوسرا پاؤں اس کی جنت کے اندر لیکن زمین سے اوپر فضا میں ہو تو اس کی روح قبض کر لینا ۔فرشتے نے کہا ۔اے رب تعالیٰ اس نے اپنی جنت بنانے کے لیے اتنی محنت کی ہے ۔اتنا سرمایہ لگایا ۔اتنا عرصہ لگایا ۔اسے جنت تو دیکھنے دی ہوتی ۔۔۔ رب نے پوچھا کیا اس جنت بنانے والے کی ماضی کو جانتے ہو فرشتے نے کہا کہ نہیں ۔یعنی بھول گیا ہوں ۔رب نے فرمایا ۔یہ وہی بچہ ہے جس کی ماں کی سمندر میں دودھ پیتے روح قبض کرتے وقت تم نے پوچھا تھا یہ بچہ ماں کے بغیر سمندر کی لہروں میں کیسے زندگی پائے گا ۔زندہ رہے گا ۔فرشتے نے کہا ۔تو مالک ہے ۔میں بھول گیا تھا ۔
طلال چوہدری حکومتی نمائندہ وزیر پتہ نہیں کیا کیا ہے ۔نے فرمایا ہے کہ اگر ایک سیاسی جماعت پی ٹی آئی کے کارکنان بطور انسان،بطور زندہ غلام کچھ کہنے کے لئے باہر نکلے تو وہ ڈی چوک پر چلتی گولیوں کی آواز و بوچھاڑ کو بھول جائیں گے ۔وہ حشر کریں گے ۔کربلا تو ہمارے سامنے ہے ہی کچھ نہیں ۔۔۔۔ کیا لا الہ الا اللہ کے نعرے پر قائم آدھے ملک کو توڑ کر آدھے پر تسلط برقرار رکھنے کی خواہش میں یہ بھول چکے ہیں ۔۔۔دور قرآن مجید کے واقعات پر نہیں جاتے کہ ۔۔۔زلزلہ
۔۔۔۔اے زمین کیا تم پر عمر اللہ کے انسان کی زندگی کو تحفظ، آسانی،سہولت فراہم کرنے کے لئے انصاف نہیں کر رہا ۔۔۔خلیفہ اؤل ابوبکر صدیق اکبر ۔۔اگر میں اللہ اور اس کے رسول کے احکامات پر پابند رہوں تو میری حکومت ماننا نہ رہوں تو نہ ماننا ۔اسی نعرے پر پاکستان بنایا گیا ہے یا طلال چوہدری صاحب اسرائیل کے تحفظ کے لیے سمجھوتے کے لئے ۔۔
سنا ہے میں نے غلامی سے امتوں کی نجات
خودی کی پرورش و لذت نمود میں ہے
ذاتی مفادات و اقتدار کے نشے میں دھت صاحب اقتدار ہر شعبہ زندگی میں ذاتی مفاداتی و امریکی غلامی کی وجہ سے ریاست کی تباہی و بربادی کا ایک ظالمانہ مکروہ کھیل قائد اعظم محمد علی جناح کی گاڑی کا پٹرول ختم سے لیاقت علی خان کے قتل سے آج تک ۔۔۔۔ تم لاشوں کی تعداد اور ظلم و بربریت کی داستانوں کو بھول جاؤ گے۔ جو ہم اپنے اقتدار کی خاطر انسانی حقوق شہری حقوق کی بات کرنے والوں یعنی آپ سے کریں گے ۔۔۔کیا انسانی لبادے میں خونی درندوں والی فدعونی بھڑک نہیں ہے؟
اس خونی کھیل میں ہماری صدیوں پرانی عظمت رفتہ، انسانی قدریں گمشدہ ہیں ۔اقتدار کی چمک دمک اور غیر ملکی غلامی کے سامنے ہمارے تمام اسلامی، انسانی، ملکی، ریاستی، بین الاقوامی، اخلاقی، قوائد و ضوابط
، سماجی بندھن، قرآنی تعلیمات، اسوہ رسول کے تقاضے، مہذب ریت و روایات دم توڑ چکے ہیں۔لمحہ موجود کا حکمران ایسی سوچ پر گامزن ہو چکا ہے۔ جہاں جنگل، پیسے اور لاقانونیت غیر انسانی قانون ہمرکاب ہے۔ خون کے چھینٹے کبھی نہیں دھلتے ۔یہ تاریخ کے اوراق بتلاتے ہیں ۔ بلی کو دیکھ کر کبوتر آنکھیں بند کر کے تو موت ٹل نہیں جاتی ۔رب کا اٹل فیصلہ ۔ظلم کا انجام بھیانک عبرتناک ہوتا ہے ۔عمران خان بھی انہیں بیساکھیوں کے سہارے اقتدار پر آیا تھا ۔اس کے فوادچودھری وزیر۔وغیرہ جو پھر روڈ پر بھاگتے دیکھے گئے ۔۔۔ بھی کہتے تھے ہندوستان دھشت گردی کررہا ہے ۔واصف علی واصف کے چند سوالیہ جملے ۔۔
@کیا اس زمین پر باغیوں کی حکومت ہے؟
@فرعون باغی ہے لیکن بادشاہ ۔۔۔ موسی دوست لیکن بے دست و پا ۔۔۔کیوں۔؟
@کیا حکومت وقت بدلنے کا کوئی موسم ہوتا ہے ۔؟
@کیاسرکش کو سرکشی
فطرتآ نہیں ملی اگر فطری امر ہے تو گناہ کیسا۔؟
@کیا قوم میں وحدت افکار اور وحدت کردار پیدا کرنے کے لئے عذاب کے علاؤہ کوئی اور راستہ نہیں ہو سکتا؟
@کیا خالق نے مخلوق کو مخلوق (پاکستانی قوم کو پاکستانی حکمرانوں کے) کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے ۔؟
@کیا خالق پاکستانی عوام مخلوق سے ناراض ہے۔؟
فیض احمد فیض کو طلال چوہدری و حکمران و سیاست دان سنیں نہ سنیں ۔مانیں نہ مانیں ۔کہ لکھنے والے کی ہڈیاں بھی سر گئی ہوں گی۔ لیکن میرا وجدان کہتا ہے کہ انسان کی خاطر لکھ کر وہ امر ہو کرسکوں میں ہو گا ۔
؛جس دیس میں ماؤں بہنوں کو اغیار (پولیس )اٹھا کر لے جائیں
جس دیس میں قاتل غنڈوں کو اشراف (حکومت) چھڑا کر لے جائیں
؛جس دیس میں چپے چپے پر پولیس (27
ستمبرکے لئے) کے ناکے ہوتے ہوں
؛جس دیس میں جاں کے رکھوالے خود جانیں لیں معصوموں ( لاہور تھانہ دو بیٹیوں کی لاشیں) کی
جس دیس میں حاکم ظالم ہوں سسکی نہ سنیں مجبوروں کی
جس دیس میں بجلی پانی کا فقدان حلق تک جا پہنچے
:اس دیس کے ہر ایک لیڈر پر سوال اٹھانا واجب ہے
اس دیس کے ہر ایک حاکم کو سولی پہ چڑھانا واجب ہے
پی ٹی آئی، کوئی بھی اپوزیشن جماعت دھرنا جلوس کرتی ہے۔ کرنے دیں۔1ہزار30ہزار 2لاکھ 50لاکھ کروڑ دو کروڑ عوام اکٹھے ہو جاتے ۔کیا کفر ٹوٹ جاتا؟
کیا ہو جاتا۔؟کیا حکومت
گر جاتی۔؟ امریکہ سائبر پر لایا ۔اسی نے حکومت پر بٹھانا ہے۔۔۔ہم اسلام آباد بند نہیں کرنے دیں گے ۔ڈی چوک 26نومبر بھول جائیں گے ۔27کو جلسہ ۔۔اور حکومت نے خود 15ستمبر سے اسلام آباد مکمل بندکررکھا ہے ۔کیا بد بخت با شعور نوجوان نسل ہے۔ جو ایسے ملک میں رہتے ہیں ۔جہاں صاحب اقتدار کے علاؤہ اختلاف رائے رکھنے والے کی نہ عزت ہے نہ جان کا تحفظ۔ ۔۔۔۔کوئی اپنی اوقات بھول جائے تو اس کی مرضی ۔بربریت، ظلم، ناانصافی،لا قانونیت، جبر، فاشزم نہ تاریخ بھولتی ہے نہ نسلیں بھولتی ہیں ۔یہ کسی کی بھول ہو سکتی ہے کہ تم سابقہ ظلم بربریت نا انصافی کو بھول جاؤ گے۔تاریخ کے اوراق نہیں بھولتے کہ ریاست کیسے خوشحال پر امن پر سکون بنی۔ کیسے بنائی گئی ۔ کیسے بنگلہ دیش بنا۔ اور کس نے بنایا ۔کیسے 9مئی , 24فروری الیکشن کیسے ہوئے۔ ڈی چوک ،گلگت آزاد کشمیر الیکشن،
مریدکے واقعہ کہاں ہوا۔ کس نے کیا۔کس لئے کیا گیاہے ۔آزاد عدلیہ کمیشن بنا دیا جاتا۔ کچھ پردہ نشینوں کو منظر عام پر لایا جاتا اور مخصوص خاص کرداروں پر محمود الرحمن کمیشن کی طرح پردہ ۔۔۔۔۔ اللہ تعالیٰ ہماری حفاظت فرمائے۔ آمین۔ اور بھول جانے کی نعمت سے محروم رکھے ۔ رب نے قرآن میں فرمایا تم میری کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے یعنی بھول نہ جانا ۔راقم کی غزل کے چار مصرعے۔
؛میں درد کی وادی میں بھٹکتا ہی رہا
اک غم سے سر شار تھا اب یاد نہیں ہے
؛باہی تیری دنیا کو بہت بھول چکا ہوں
میں کس کا طلبگار تھا اب یاد نہیں ہے
