"ابجد" دلاور علی آزرؔ کے پختہ شعری شعور اور فکر و فردا کا ایک ایسا نگار خانہ ہے جہاں انسان اپنے وجود کے ادراک، وقت کی بے رحمی، کائناتی اسرار اور محبت کی رائیگانی کے ساتھ تنہا کھڑا نظر آتا ہے۔ ان کی شاعری اردو غزل کے روایتی حسن کو برقرار رکھتے ہوئے اسے ایک جدید، فلسفیانہ اور وجودی افق فراہم کرتی ہے، جو دورِ حاضر کے حساس انسان کے باطنی کرب کا سچا آئینہ دار ہے۔
آزرؔ کے ہاں انسان ایک ایسے وجود کے طور پر سامنے آتا ہے جو اس بھیڑ بھاڑ والی دنیا میں خود کو گم پاتا ہے اور اسے اپنے وجود کا یقین دلانے کے لیے بھی تگ و دو کرنا پڑتی ہے۔ وہ کائنات کی وسیع اور سرد خلا میں انسان کے بکھراؤ اور اس کی ریزہ کاری کو بڑی باریک بینی سے محسوس کرتے ہیں۔ ان کی شاعری پڑھتے ہوئے قاری کو شدید انداز میں یہ احساس ہوتا ہے کہ انسان ظاہری طور پر کتنا ہی متحرک کیوں نہ نظر آئے، باطن میں وہ ایک ایسے خلا اور تنہائی کا شکار ہے جہاں اسے اپنی ہی آواز کا سہارا لینا پڑتا ہے۔
آزرؔ کے کلام میں وقت محض ایک گھڑی یا دن رات کے بدلنے کا نام نہیں، بلکہ ایک ایسا بے رحم اور حاکمِ مطلق بن کر ابھرتا ہے جو انسان کو اس کی مرضی کے بغیر گھسیٹتا چلا جاتا ہے۔ وہ وقت کے جبر کو نہایت گہرے فلسفیانہ انداز میں برتے ہیں۔
دلاور علی آزرؔ کی نظر میں وقت کا سفر دوہرا ہے ایک طرف مادی دنیا میں انسان آگے بڑھ رہا ہوتا ہے، جبکہ دوسری طرف اس کے باطن میں ایک ٹھہراؤ یا زوال جاری ہوتا ہے۔ وہ وقت کے تضادات کو یوں دیکھتے ہیں کہ انسان چٹان کی طرح قائم رہنا بھی چاہے تو زمانہ اسے ساتھ بہا لے جاتا ہے۔ رفتارسازی، بلندی سے یکدم گرنے کا احساس، اور زندگی کی دوڑ میں اچانک آ کر ٹھہرجانے والی تھکن—یہ سب ان کے کلام میں وقت کے بے رحم چکر کی علامتیں بن کر ابھرتی ہیں۔
"ابجد" کے فکری نظام میں تخلیق اور خالق کا تصور بھی ایک منفرد رنگ میں سامنے آتا ہے۔ آزرؔ نے کائنات کے نظام اور انسان کی تقدیر کو ایک پراسرار اور شگفتہ زاویے سے دیکھا ہے۔ان کے کلام میں کائنات کو ایک ایسا بیانیہ قرار دیا گیا ہے جس کا اصل مصنف یا کوزہ گر کوئی اور ہے، جبکہ انسان اس چاک پر گھومتی ہوئی مٹی کی مانند ہے۔ وہ اس تخلیقی عمل کے تضادات اور اس میں موجود خلا پر سوال اٹھاتے ہیں مگر ان کا انداز گستاخانہ نہیں بلکہ ایک سچے اور حیرت زدہ مفکر کا ہے جو کائنات کے اسرار کھودنے میں لگا ہوا ہے۔ اسی طرح موت کا تصور بھی ان کے ہاں کوئی بھیانک یا خوفناک شے نہیں، بلکہ زندگی کا ایک قدرتی، خاموش اور پرسکون اختتام ہے جو انسان کو زندگی کی تمام تر کشمکش اور تھکن سے نجات دلاتا ہے۔
روایتی غزل کی طرح آزرؔ کی غزل میں بھی عشق ایک مرکزی مضمون ہے، لیکن ان کا اندازِ فکر بالکل جدید ہے۔ ان کے ہاں عشق محض ایک جذباتی ہیجان نہیں بلکہ ایک مقدس اور وجودی حقیقت ہے۔ وہ محبت کو ایک مقدس صحیفے کی طرح سر پر اٹھا کر رکھنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔تاہم اس عشق کا انجام جب رائیگانی، طلب کی بے حاصلی اور بکھراؤ پر ہوتا ہے، تو وہ اسے کسی لچھے دار ڈرامائی نوحے کے بجائے حقیقت پسندی اور وقار کے ساتھ قبول کرتے ہیں۔ ان کے ہاں تعلقات کا بننا اور بگڑنا، دل کی بستی میں چور کا گھات لگانا، اور محبت کے سفر میں دونوں فریقین کا بکھر جانا انسان کے تجربات کا حصہ ہے۔ وہ رشتہ ناطہ قائم رکھنے کے لیے مسلسل کوشش اور دل کا زنگ اتارنے کی ریاضت پر بھی زور دیتے ہیں، مگر جہاں بات نہ بنے، وہاں خاموشی کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیتے ہیں۔
دلاور علی آزرؔ ایک ایسے شاعر ہیں جو شعر اور لفظ کے تقاضوں سے پوری طرح باخبر ہیں۔ ان کے نزدیک شاعری صرف لفظوں کی جوڑ توڑ یا زمانے کے شور کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک باطنی ریاضت اور خاموشی کا کھیل ہے۔
وہ لفظ کو ایک "چراغ" اور "دہلیز" مانتے ہیں جس کی لَو میں انسان کائنات اور زمانوں کے مختلف رنگ دیکھ سکتا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ سخن میں جب تک باطن کا سوز اور روح کی نمی شامل نہ ہو، شعر زندہ نہیں ہو سکتا۔ تخیل کی طاقت اور لفظ کی حرمت ان کی شاعری کو ایک خاص قسم کا وقار اور طہارت عطا کرتی ہے، جہاں لفاظی کے بجائے مفہوم کی گہرائی کو فوقیت حاصل ہے۔
دلاور علی آزرؔ کے ہاں کوزہ گری، چاک، خلا، روشنی اور رفتار کا گرنا، آئینے کا خستہ دیوار پر نہ لگنا، اور خاموشی میں آواز کا چٹک جانا جیسے استعارے اور علامتیں بالکل اچھوتے اور طراوت بخش ہیں۔ ان کی زبان سلیس اور عام فہم ہے، مگر جو مفہوم وہ ان سادہ الفاظ کے اندر بنتے ہیں، وہ قاری کو دیر تک سوچنے اور غور و فکر کرنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔
"ابجد" میں موجود ہر غزل سے ایک ایک شعر کا انتخاب اس مجموعۂ کلام پر کی گئی گفتگو کی صداقت ثابت کرنے کے لیے کافی ہے۔
ملاحظہ فرمائیں
وہ اگر دیکھ لے اک بار محبت سے تو پھر
ذرۂ خاک چمک اٹھے ستارہ کیا ہے
۔۔۔
وہ خالی ہاتھ خدا کو جواب کیا دیتے
گناہ کر کے فرشتوں کے ہاتھ بھر گئے ہم
۔۔۔
خدا سے چاہیے اک اور زندگی مجھ کو
یہ زندگی تو میں یاروں کی نذر کر دوں گا
۔۔۔
اسے کسی سے محبت نہ تھی مگر اُس نے
گلاب توڑ کے دنیا کو شک میں ڈال دیا
۔۔۔
انہیں کسی نے کہا ہے کہ شب رہے گی یہاں
سو منتظر ہی نہیں صبح کی اذان کے لوگ
۔۔۔
شکست و ریخت جو کرتا ہے رات دن مجھ میں
میں دل میں گھات لگا کر وہ چور پکڑوں گا
۔۔۔
میں روشنی سے بھی آگے نکلنے والا تھا
پھر ایک دن مری رفتار ایک دم سے گری
تمہارے جسم کی خوشبو سمیٹنے کے لیے
ہم ایک لمحے میں سو بار سانس لے رہے ہیں
کسی خوشبو نے مری روح کو مہکائے رکھا
کوئی موجود رہا مجھ میں سِوا چاروں طرف
خجل ہوا ہوں میں اس کائنات میں کیا کیا
بنانے والے دوبارہ نہیں بنانا مجھے
کھلے تھے بارہ دروازے دری کی دوسری جانب
کہاں سے مجھ کو آنا تھا کدھر سے میں نکل آیا
میں آسماں کو زمیں پر الٹنے والا تھا
زمیں الٹ گئی میری بساط الٹتی ہوئی
میں بہت محتاط تھا لیکن ہوائے شوق سے
دل کا دروازہ کھلا اور خواب اندر آ گئے
سخن میں شور ملاتے نہیں زمانے کا
میاں یہ کھیل بہت خامشی سے کھیلتے ہیں
