رودالی کی شاعرہ، حمیرہ گل تشنہ۔۔۔۔ صفدر چیمہ

بعض کتابیں محض پڑھی نہیں جاتیں، بلکہ محسوس کی جاتی ہیں۔ ان کے لفظ قاری کے ذہن سے گزر کر دل میں اترتے ہیں اور پھر دیر تک اپنے ہونے کا احساس دلاتے رہتے ہیں۔ محترمہ حمیرہ گل تشنہ صاحبہ کا شعری مجموعہ ’’رودالی‘‘ بھی ایک ایسی ہی کتاب ہے، جس کی شاعری میں احساس کی گہرائی، فکر کی تازگی اور زندگی کو ایک مختلف زاویے سے دیکھنے کا ہنر نمایاں دکھائی دیتا ہے۔
حمیرہ گل تشنہ صاحبہ امریکہ میں مقیم ہیں، لیکن ان کی شاعری کا کینوس محض جغرافیائی سرحدوں تک محدود نہیں۔ ان کے اشعار میں انسانی احساسات، فرد کی آزادی، معاشرتی رویّوں، ذاتی وجود اور زندگی کی پیچیدگیوں کا عکس نظر آتا ہے۔ ان کی شاعری کی ایک خوبی یہ ہے کہ وہ بڑی بات کو مشکل الفاظ کے بوجھ تلے دبانے کے بجائے سادہ مگر اثر انگیز پیرائے میں بیان کرتی ہیں۔ ان کے ہاں لفظ محض اظہار کا وسیلہ نہیں، بلکہ ایک ایسا سوال بن جاتے ہیں جو قاری کو اپنے رویّوں اور اپنے اردگرد کی دنیا پر غور کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔
ان کی فکری حساسیت کا ایک خوب صورت نمونہ یہ شعر ہے:
میری کھڑکی کے آگے لوگ اٹھا دیتے ہیں دیواریں،
میرے کمرے کے حصے کی ہوائیں چھین لیتے ہیں۔
یہ شعر بظاہر ایک کھڑکی، ایک کمرے، چند دیواروں اور ہوا کا ذکر کرتا ہے، لیکن اس کے باطن میں انسانی آزادی اور شخصی حقوق کا ایک وسیع تصور پوشیدہ ہے۔ کھڑکی یہاں محض روشنی اور ہوا کے گزرنے کا راستہ نہیں، بلکہ فرد کی نگاہ، اس کی امید، اس کے خواب اور اس کی دنیا سے رابطے کی علامت بن جاتی ہے۔ دیواریں اٹھانے والے صرف اینٹیں چننے والے لوگ نہیں، بلکہ وہ تمام قوتیں بھی ہیں جو دوسروں کے امکانات محدود کرتی ہیں، ان کی سوچ پر پہرے بٹھاتی ہیں اور ان کے حصے کی آزادی چھین لیتی ہیں۔
خصوصاً ’’میرے کمرے کے حصے کی ہوائیں چھین لیتے ہیں‘‘ میں جو کرب اور احتجاج پوشیدہ ہے، وہ شعر کو ایک عام شکایت سے بلند کرکے انسانی وجود کے بنیادی حق کا سوال بنا دیتا ہے۔ یہ شعر ہمیں سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ کیا ہم دوسروں کے لیے جگہ چھوڑتے ہیں؟ کیا ہم ان کے خوابوں، ان کی سوچ اور ان کی آزادی کا احترام کرتے ہیں؟ یا اپنی سہولت اور اپنی پسند کے لیے ان کی کھڑکیوں کے سامنے دیواریں کھڑی کرتے رہتے ہیں؟ یہی وہ مقام ہے جہاں شاعرہ کا احساس ذاتی تجربے سے نکل کر اجتماعی شعور میں تبدیل ہو جاتا ہے۔
’’رودالی‘‘ کی فکری جہت کا ایک دوسرا اہم پہلو اپنی ذات کو قبول کرنے اور دوسروں کی خوشنودی کے لیے اپنی شخصیت کو بار بار تبدیل نہ کرنے کا پیغام ہے۔ اس حوالے سے شاعرہ کا یہ شعر نہایت معنی خیز ہے:
سب کو خوش کرنے کی خاطر آخر کیوں؟
آپ بدلتے تُو رہتے ہو، پاگل ہو؟
یہاں شاعرہ کا لہجہ سوالیہ بھی ہے، طنزیہ بھی اور کسی حد تک بیدار کرنے والا بھی۔ وہ ایک ایسے معاشرتی رویّے پر سوال اٹھاتی ہیں جس میں انسان اپنی اصل شخصیت کو دوسروں کی پسند کے مطابق ڈھالتے ڈھالتے خود سے ہی دور ہو جاتا ہے۔ کبھی کسی کی خوشی کے لیے اپنی رائے بدلتا ہے، کبھی کسی کی ناراضی کے خوف سے اپنی خواہشات دبا دیتا ہے اور کبھی قبولیت کی تلاش میں اپنی شناخت تک کو پسِ پشت ڈال دیتا ہے۔
شعر کا دوسرا مصرع اپنی بے ساختگی اور روزمرہ کے انداز کی وجہ سے خاص طور پر اثر پیدا کرتا ہے۔ ’’پاگل ہو؟‘‘ بظاہر ایک عام سا سوال ہے، لیکن اس کے اندر ایک پوری نفسیاتی کیفیت پر طنز موجود ہے۔ گویا شاعرہ انسان کو جھنجھوڑ کر پوچھتی ہیں کہ آخر کب تک تم دوسروں کی توقعات کے مطابق اپنی ذات کا تعین کرتے رہو گے؟ اپنی شخصیت، اپنے اصولوں اور اپنی انفرادیت کی قیمت پر سب کو خوش رکھنے کی یہ کوشش آخر کس کام کی؟
یہ شعر ہمیں خود پسندی نہیں، بلکہ خود شناسی کا درس دیتا ہے۔ دوسروں کے جذبات کا احترام اپنی جگہ اہم ہے، لیکن اس احترام کی بنیاد پر اپنی ذات کو مسلسل مٹاتے رہنا دانش مندی نہیں۔ انسان کی اصل خوب صورتی اس کی انفرادیت میں ہے، اور زندگی کی ایک بڑی کامیابی یہ ہے کہ آدمی دوسروں کے ساتھ اچھا رہتے ہوئے خود سے بھی بے وفائی نہ کرے۔
حمیرہ گل تشنہ صاحبہ کے ان اشعار میں ایک اور قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ وہ اپنے خیالات کو محض بیان نہیں کرتیں، بلکہ قاری کے سامنے ایک منظر یا سوال رکھ دیتی ہیں۔ پہلے شعر میں دیواریں اور ہوا ایک پورا منظر تخلیق کرتے ہیں، جب کہ دوسرے شعر میں ایک مختصر سا سوال انسانی رویّوں کا محاسبہ بن جاتا ہے۔ یہی فنی اختصار اور معنوی وسعت شاعری کو دیرپا اثر عطا کرتے ہیں۔
کتاب ’’رودالی‘‘ کے عنوان میں بھی ایک خاص جذباتی کیفیت محسوس ہوتی ہے۔ رونے، دکھ، محرومی اور انسانی کرب سے وابستہ یہ لفظ قاری کو اس امکان کی طرف متوجہ کرتا ہے کہ شاعری میں آنسو محض کمزوری کی علامت نہیں ہوتے؛ بعض اوقات وہ احتجاج کی زبان، احساس کی گواہی اور خاموشی کے خلاف ایک مؤثر آواز بھی بن جاتے ہیں۔ تاہم اس عنوان کی مکمل معنوی جہت کو سمجھنے کے لیے کتاب کے مجموعی متن کا مطالعہ ضروری ہے۔
مجموعی طور پر، محترمہ حمیرہ گل تشنہ صاحبہ کا شعری مجموعہ ’’رودالی‘‘ ان قارئین کے لیے خصوصی دلچسپی رکھتا ہے جو شاعری میں محض لفظی خوب صورتی نہیں، بلکہ فکر، احساس اور زندگی سے جڑے سوالات کی تلاش میں رہتے ہیں۔ ان کے یہاں فرد کی آزادی، اپنی ذات کی پہچان اور معاشرتی رویّوں پر سوال اٹھانے کا جو انداز سامنے آتا ہے، وہ قاری کو سوچنے پر آمادہ کرتا ہے۔
اچھی شاعری کی پہچان یہی ہے کہ شعر ختم ہو جائے، مگر اس کا سوال باقی رہے۔ حمیرہ گل تشنہ صاحبہ کے مذکورہ اشعار بھی اسی کیفیت کو جنم دیتے ہیں۔ ایک شعر ہمیں دوسروں کے لیے کھڑکیاں کھلی رکھنے اور ان کے حصے کی ہواؤں کا احترام کرنے کی تلقین کرتا ہے، جب کہ دوسرا اپنی ذات کی پہچان برقرار رکھنے کا حوصلہ دیتا ہے۔
’’رودالی‘‘ کے حوالے سے یہی کہا جا سکتا ہے کہ شاعری جب احساس کو فکر اور فکر کو سوال میں بدل دے تو وہ محض تفریح نہیں رہتی، بلکہ انسانی شعور سے مکالمہ کرنے لگتی ہے۔ اور یہی مکالمہ کسی بھی سنجیدہ ادبی کاوش کی اصل معنویت ہے۔

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !