مجھے اس وقت مولوی صاحب کی بات بری لگی تھی۔ مجھے لگ رہا تھا کہ میرے اپنے گھر میں میری بات کی کوئی اہمیت نہیں رہی۔ لیکن اس سے بھی زیادہ تکلیف مجھے اس بات کی تھی کہ میری بیٹی نے سب کے سامنے مجھ سے ایک ایسا سوال پوچھ لیا تھا جس کا جواب میرے پاس نہیں تھا۔
میرا نام جاوید اقبال ہے۔ میں نے اپنی زندگی کے تیس سال ایک سرکاری اسکول میں پڑھاتے ہوئے گزارے۔ میری تنخواہ زیادہ نہیں تھی، لیکن میں نے ہمیشہ کوشش کی کہ میرے بچوں کو وہ سہولتیں ملیں جو مجھے اپنے بچپن میں نہیں مل سکیں۔
میری دو بیٹیاں اور ایک بیٹا ہے۔ بڑی بیٹی مریم نے ایم اے کیا اور پھر ایک نجی ادارے میں ملازمت کرنے لگی۔ چھوٹی بیٹی عائشہ نے بھی گریجویشن مکمل کی۔ میرا بیٹا حماد ابھی کاروبار شروع کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔
میں اکثر لوگوں سے کہتا تھا کہ میری بیٹیوں کی تعلیم میرے لیے سب سے بڑی دولت ہے۔ محلے میں جب کسی کی بیٹی کے اچھے نمبر آتے تو لوگ مجھے مبارک باد دیتے۔ میں انہیں بتاتا کہ لڑکیوں کو تعلیم دینا ضروری ہے، کیونکہ تعلیم انسان کو اچھے برے کی پہچان دیتی ہے۔
مجھے اپنی اس سوچ پر فخر تھا۔
مگر شاید میں نے تعلیم کی اہمیت تو سمجھ لی تھی، اس کے نتائج قبول کرنے کی ہمت پیدا نہیں کی تھی۔
مریم کی ملازمت کے دوران اس کی ملاقات ایک نوجوان سے ہوئی جس کا نام سلمان تھا۔ وہ اسی ادارے کے دوسرے شعبے میں کام کرتا تھا۔ کچھ عرصے بعد مریم نے مجھے بتایا کہ وہ سلمان کو پسند کرتی ہے اور اس سے شادی کرنا چاہتی ہے۔
میں نے سب سے پہلے اس کے خاندان کے بارے میں پوچھا۔ سلمان کا تعلق ایک متوسط گھرانے سے تھا۔ اس کے والد ایک چھوٹی سی دکان چلاتے تھے اور وہ خود ملازمت کرتا تھا۔ گھر اپنا نہیں تھا، آمدنی بھی ہماری توقع کے مطابق نہیں تھی۔
میں نے مریم سے کہا کہ شادی صرف پسند کا نام نہیں، اس میں مستقبل بھی دیکھنا پڑتا ہے۔
اس نے جواب دیا، ’’ابو، میں مستقبل دیکھ کر ہی بات کر رہی ہوں۔ سلمان محنت کرتا ہے، اپنی ذمہ داری سمجھتا ہے اور میری ملازمت جاری رکھنے پر بھی راضی ہے۔‘‘
میں نے کہا، ’’راضی ہونے سے کیا ہوتا ہے؟ زندگی صرف دو لوگوں کی مرضی سے نہیں چلتی۔ خاندان بھی دیکھنا پڑتا ہے، مالی حیثیت بھی اور لوگوں میں عزت بھی۔‘‘
مریم نے خاموشی اختیار کر لی۔
میں نے سمجھا کہ بات ختم ہو گئی ہے۔
چند ہفتے بعد میری بہن کا فون آیا۔ اس نے بتایا کہ اس کے جاننے والوں میں ایک اچھا رشتہ ہے۔ لڑکا بیرون ملک کام کرتا تھا، خاندان مالی طور پر مضبوط تھا اور ان کا اپنا گھر بھی تھا۔ میں نے فوراً دلچسپی ظاہر کی۔
مریم کو لڑکے کی تصویر دکھائی تو اس نے کہا کہ وہ اس رشتے کے لیے تیار نہیں۔
میں نے پوچھا، ’’کیوں؟ لڑکے میں کیا خرابی ہے؟‘‘
اس نے جواب دیا، ’’میں اسے جانتی نہیں ہوں۔ صرف تصویر دیکھ کر شادی کا فیصلہ کیسے کر سکتی ہوں؟‘‘
میں نے کہا، ’’شادی کے لیے خاندان دیکھا جاتا ہے، لڑکے کی آمدنی دیکھی جاتی ہے۔ ہر بات پہلے سے جاننا ممکن نہیں ہوتا۔‘‘
مریم نے دھیرے سے کہا، ’’تو پھر میری پسند اور ناپسند کی کوئی اہمیت نہیں؟‘‘
میں نے اسے سمجھایا کہ والدین بچوں کے لیے برا نہیں سوچتے۔ میں نے اپنی زندگی میں بہت کچھ دیکھا ہے، اس لیے مجھے بہتر معلوم ہے کہ اس کے لیے کون سا رشتہ مناسب ہے۔
اس نے بحث نہیں کی، لیکن اس دن کے بعد وہ مجھ سے اپنی ملازمت اور مستقبل کے بارے میں کم بات کرنے لگی۔
رشتے کی بات آگے بڑھی تو لڑکے کے گھر والے ہمارے گھر آئے۔ ان کے لباس، گفتگو اور تحائف سے ان کی مالی حیثیت ظاہر ہوتی تھی۔ میری بیوی ان کے ساتھ بیٹھ کر خوش تھی۔ میرے بیٹے نے بھی کہا کہ ایسا رشتہ بار بار نہیں ملتا۔
میں نے مریم کو بلایا۔ وہ آئی، سلام کیا اور چند رسمی سوالوں کے جواب دیے۔ جانے سے پہلے لڑکے کی والدہ نے مجھ سے کہا، ’’آپ کی بیٹی پڑھی لکھی ہے، یہ ہمارے لیے خوشی کی بات ہے۔ شادی کے بعد اگر ملازمت نہ بھی کرے تو کوئی مسئلہ نہیں۔ ہمارے گھر میں عورتوں کو کام کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔‘‘
میں نے اسے اچھا اشارہ سمجھا۔
لیکن مریم نے ان کے جانے کے بعد مجھ سے کہا، ’’ابو، میں اپنی ملازمت چھوڑنا نہیں چاہتی۔‘‘
میں نے جواب دیا، ’’ابھی شادی تو ہونے دو۔ بعد کی بات بعد میں دیکھیں گے۔‘‘
اس نے میری طرف دیکھا۔
’’آپ کو معلوم ہے نا کہ میں اس رشتے کے لیے راضی نہیں ہوں؟‘‘
میں نے پہلی بار سخت لہجے میں کہا، ’’مریم، میں نے تمہاری تعلیم پر خرچ کیا ہے، تمہیں اپنے پاؤں پر کھڑا کیا ہے۔ اب اگر میں تمہارے لیے اچھا رشتہ دیکھ رہا ہوں تو تمہیں میری بات کا احترام کرنا چاہیے۔‘‘
اس نے بہت آہستہ سے کہا، ’’ابو، آپ نے مجھے تعلیم اس لیے دی تھی کہ میں اپنی زندگی بہتر بنا سکوں یا اس لیے کہ میں آخر میں وہی فیصلہ کروں جو آپ کریں؟‘‘
میں غصے میں آ گیا۔
’’یہ تمہاری تعلیم نے تمہیں سکھایا ہے کہ باپ سے اس طرح بات کرو؟‘‘
مریم کی آنکھوں میں آنسو آ گئے، مگر اس نے مزید کچھ نہیں کہا۔
اس کے بعد گھر میں عجیب خاموشی رہی۔ میری بیوی نے مجھے سمجھایا کہ مریم سے نرمی سے بات کرنی چاہیے، مگر میں اسے اپنی کمزوری سمجھتا رہا۔ مجھے لگتا تھا کہ اگر میں ایک بار پیچھے ہٹ گیا تو باقی معاملات میں بھی بچے میری بات نہیں مانیں گے۔
میں نے رشتے کی تاریخ طے کر دی۔
مریم نے ایک بار پھر انکار کیا تو میں نے اسے خاندان کی عزت کا واسطہ دیا۔ میں نے کہا کہ لوگوں میں بات پھیل گئی تو ہماری بدنامی ہو گی، رشتہ دار کیا کہیں گے اور ہم ان کے سامنے کیا جواب دیں گے۔
اس نے جواب دیا، ’’ابو، اگر میں ایک ایسے شخص سے شادی کر لوں جس کے ساتھ زندگی گزارنے کے لیے میرا دل تیار نہیں، تو کیا وہ صرف اس لیے درست ہو جائے گا کہ لوگوں کو کچھ پتا نہیں چلے گا؟‘‘
میں نے اس کی بات سننے کے بجائے اسے خاموش کرا دیا۔
شادی سے پہلے نکاح کی تیاریوں کے لیے ایک دن مولوی صاحب ہمارے گھر آئے۔ کاغذات مکمل کیے جا رہے تھے۔ لڑکے کے والد بھی موجود تھے، میرے چند رشتہ دار بیٹھے تھے اور گھر میں تقریباً سب کو یقین تھا کہ اب کوئی رکاوٹ باقی نہیں۔
مریم کو کمرے میں بلایا گیا۔
مولوی صاحب نے اس سے ضروری سوالات کیے۔ پھر جب نکاح نامے پر دستخط کرنے کا وقت آیا تو اس نے قلم پکڑا، کاغذ کو دیکھا اور قلم میز پر رکھ دیا۔
اس نے کہا، ’’میں اس نکاح کے لیے راضی نہیں ہوں۔‘‘
کمرے میں خاموشی چھا گئی۔
لڑکے کے والد نے ناراضی سے میری طرف دیکھا۔ میرے ایک رشتہ دار نے فوراً کہا کہ لڑکی گھبرا گئی ہے، اسے سمجھا دیں۔ میری بیوی رونے لگی۔ میں اپنی جگہ سے اٹھا اور مریم کو دوسرے کمرے میں لے جانے لگا، مگر اس نے میرا ہاتھ ہٹا دیا۔
یہ وہ لمحہ تھا جب مولوی صاحب نے مجھ سے وہ بات کہی جس کا ذکر میں نے ابتدا میں کیا تھا۔
میں نے مریم سے پوچھا، ’’تم نے ہمارے ساتھ ایسا کیوں کیا؟ تمہیں اندازہ ہے کہ ہماری کتنی بے عزتی ہوئی ہے؟‘‘
مریم نے روتے ہوئے کہا، ’’ابو، میں نے آپ کو پہلے بھی بتایا تھا۔ میں نے کئی مرتبہ کہا کہ میں اس شادی کے لیے تیار نہیں ہوں۔ آپ نے میری بات نہیں سنی۔ آج اگر میں دستخط کر دیتی تو شاید سب لوگ خوش ہو جاتے، مگر میں ساری زندگی اس فیصلے کے ساتھ رہتی جس میں میری رضامندی شامل نہیں تھی۔‘‘
میں نے کہا، ’’تمہیں اپنی پسند کی اتنی فکر ہے تو اپنے خاندان کی عزت کا بھی خیال کرو۔‘‘
اس نے پہلی بار میری آنکھوں میں دیکھ کر جواب دیا۔
’’ابو، میں نے آپ کی عزت بچانے کے لیے بہت کوشش کی۔ میں نے رشتہ داروں کے سامنے بحث نہیں کی، آپ کی بات کاٹنے سے گریز کیا اور بار بار آپ کو سمجھایا۔ مگر آپ نے میری خاموشی کو رضامندی سمجھ لیا۔ اب اگر میں اپنی زندگی کے سب سے بڑے فیصلے پر بھی خاموش رہوں تو پھر میری تعلیم کا کیا فائدہ؟‘‘
میں اس کا جواب نہ دے سکا۔
رشتہ ختم ہو گیا۔ لڑکے کے گھر والے ناراض ہو کر چلے گئے۔ میرے رشتہ داروں میں باتیں ہونے لگیں۔ کسی نے کہا کہ آج کل کی لڑکیاں والدین کے قابو میں نہیں رہتیں، کسی نے کہا کہ مریم نے اپنے باپ کو سب کے سامنے شرمندہ کر دیا۔
میں کئی دن تک اس سے بات نہیں کر سکا۔
مجھے غصہ تھا کہ اس نے میری بات نہیں مانی۔ مجھے یہ بھی دکھ تھا کہ اس کی وجہ سے لوگوں کے سامنے میری ساکھ متاثر ہوئی۔ لیکن اس سب کے درمیان ایک سوال بار بار میرے ذہن میں آتا رہا: اگر میں واقعی اس کی بہتری چاہتا تھا تو اس کی اپنی رائے سننے سے مجھے اتنی تکلیف کیوں ہوئی؟
کچھ ہفتوں بعد ایک دن میں اسکول سے واپس آیا تو مریم میرے کمرے میں بیٹھی تھی۔ اس کے ہاتھ میں میری پرانی ڈائری تھی۔ میں نے پوچھا کہ یہ کہاں سے ملی۔
اس نے بتایا کہ الماری میں کتابیں ڈھونڈتے ہوئے اسے ملی۔ اس میں میرے تدریسی نوٹس اور چند پرانی تحریریں تھیں۔ ایک صفحے پر میں نے کئی سال پہلے اپنے طلبہ کے لیے ایک جملہ لکھا تھا:
’’تعلیم کا مقصد صرف صحیح جواب یاد کرنا نہیں، بلکہ انسان کو سوال کرنے کی آزادی دینا بھی ہے۔‘‘
مریم نے ڈائری میرے سامنے رکھ دی۔
’’ابو، یہ آپ نے لکھا تھا؟‘‘
میں نے صفحے کو دیکھا۔ میری اپنی لکھائی تھی۔
اس نے کہا، ’’میں نے آپ سے ہمیشہ یہی سیکھا کہ سوچنا چاہیے، دلیل دینی چاہیے اور اپنی بات احترام سے کہنی چاہیے۔ جب میں نے اپنی زندگی کے بارے میں سوچا اور آپ سے بات کی تو آپ نے میری دلیل سننے کے بجائے مجھے نافرمان سمجھ لیا۔ میں آپ سے لڑنا نہیں چاہتی تھی۔ میں صرف چاہتی تھی کہ آپ مجھے بھی ایک سمجھ دار انسان سمجھیں۔‘‘
میں نے ڈائری بند کر دی۔
اس دن مجھے پہلی بار محسوس ہوا کہ میں اپنی بیٹی سے اس لیے ناراض نہیں تھا کہ اس نے کوئی غلط فیصلہ کیا تھا۔ میں اس لیے ناراض تھا کہ اس نے ایک ایسا فیصلہ کرنے کا حق مانگا تھا جسے میں صرف اپنا اختیار سمجھتا تھا۔
میں نے اپنی پوری زندگی طلبہ کو پڑھایا تھا۔ میں نے انہیں بتایا تھا کہ سوال کرنا علم کی بنیاد ہے، مگر اپنے گھر میں میں نے سوال کو نافرمانی بنا دیا تھا۔
میں نے مریم سے پوچھا، ’’تم سلمان سے شادی کرنا چاہتی ہو؟‘‘
اس نے کچھ دیر بعد جواب دیا، ’’جی، لیکن اگر آپ کو اس کے خاندان کے بارے میں کوئی حقیقی اعتراض ہے تو میں آپ کی بات سننے کے لیے تیار ہوں۔ میں یہ نہیں کہہ رہی کہ آپ کی رائے کی کوئی اہمیت نہیں۔ میں صرف یہ چاہتی ہوں کہ میرا فیصلہ بھی سنا جائے۔‘‘
میں نے اس سے کہا کہ سلمان اور اس کے والدین کو گھر بلائے۔
اس بار میں نے ان سے مالی حیثیت کے بجائے ان کی ذمہ داریوں، مستقبل کے منصوبوں اور مریم کی ملازمت کے بارے میں بات کی۔ سلمان نے واضح کہا کہ وہ مریم کے کام کرنے کے حق کا احترام کرتا ہے۔ اس کے والد نے بھی بتایا کہ ان کے لیے بہو کی آمدنی سے زیادہ اہم اس کی خوشی اور گھر میں باہمی احترام ہے۔
میں نے فوری طور پر ہاں نہیں کی۔ میں نے کچھ وقت لیا، مریم سے الگ بات کی اور سلمان کے بارے میں ضروری معلومات حاصل کیں۔ پھر میں نے اس رشتے کے لیے رضامندی دے دی۔
مریم کی شادی سادگی سے ہوئی۔ میں نے اس کے نکاح نامے پر دستخط کرتے وقت اس کے چہرے کو دیکھا۔ اس بار اس کی آنکھوں میں خوف نہیں تھا۔
رخصتی سے پہلے وہ میرے پاس آئی اور بولی، ’’ابو، آپ مجھ سے ناراض تو نہیں؟‘‘
میں نے کہا، ’’نہیں بیٹا۔ مجھے صرف یہ سیکھنے میں وقت لگا کہ تمہاری زندگی کے فیصلوں میں تمہاری آواز بھی اتنی ہی ضروری ہے جتنی میری۔‘‘
وہ مجھ سے لپٹ کر رونے لگی۔
آج اس واقعے کو تین سال گزر چکے ہیں۔ مریم اور سلمان اپنی زندگی میں خوش ہیں۔ دونوں کام کرتے ہیں، گھر کے اخراجات مل کر چلاتے ہیں اور اپنے مستقبل کے فیصلے باہمی مشورے سے کرتے ہیں۔ کبھی ان کے درمیان اختلاف ہوتا ہے تو وہ مجھ سے بھی مشورہ لیتے ہیں، مگر میں اب انہیں یہ نہیں کہتا کہ میری بات آخری ہے۔
میں نے یہ بھی سیکھا ہے کہ والدین کی ذمہ داری صرف بچوں کے لیے راستہ منتخب کرنا نہیں، انہیں راستے پہچاننے کے قابل بنانا بھی ہے۔
میں آج بھی اپنی بیٹیوں کی تعلیم پر فخر کرتا ہوں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اب میں تعلیم کے نتائج سے خوف زدہ نہیں ہوتا۔ اگر میری بیٹی مجھ سے اختلاف کرے تو میں فوراً یہ نہیں سوچتا کہ اس نے میری عزت کم کر دی ہے۔ میں پہلے یہ دیکھنے کی کوشش کرتا ہوں کہ شاید اس کی بات میں کوئی ایسی حقیقت ہو جسے میں اپنی عمر، تجربے یا انا کی وجہ سے نظرانداز کر رہا ہوں۔
کبھی کبھی میں اپنی پرانی ڈائری کھولتا ہوں۔ وہی صفحہ اب بھی موجود ہے جس پر میں نے سوال کرنے کی آزادی کے بارے میں لکھا تھا۔
میں نے اس کے نیچے ایک نیا جملہ لکھ دیا ہے:
’’اولاد کو سوچنے کی آزادی دینا آسان ہے، اس کی سوچ کو اپنے فیصلے سے مختلف دیکھ کر قبول کرنا اصل تربیت ہے۔‘‘
اب مجھے معلوم ہے کہ والدین کی عزت اس بات میں نہیں کہ ان کے بچے ہر فیصلے میں ان کی ہاں میں ہاں ملائیں۔ اصل عزت شاید اس دن شروع ہوتی ہے جب بچے اپنے دل کی بات کہنے سے خوف زدہ نہ ہوں، اور والدین اپنی بات غلط ثابت ہونے کے امکان سے شرمندہ نہ ہوں۔
کیونکہ اگر تعلیم یافتہ اولاد بھی اپنے والدین کے سامنے اپنی زندگی کے سب سے اہم فیصلے پر سچ نہیں بول سکتی تو پھر اس تعلیم کی کامیابی ابھی ادھوری ہے۔
