معراج، محسن، تجربہ ۔۔۔ محمد یونس باہی

اے ابوبکر اگر کوئی کہے میں بستر پر سو رہا تھا اٹھا بیت المقدس گیا پھر آسمانوں پر گیا واپس آیا دروازے کی ہندی ہل رہی تھی ۔مان لو گے ۔؟جواب ۔نہیں ۔پھر کہا اگر کوئی شخص کہے میں سو رہا تھا فرشتہ آیا ۔میں اٹھا ۔ایک لاکھ چوبیس ہزار کم و بیش پیغمبروں، رسولوں، نبیوں کی امامت کرائی آسمانوں پر گیا رب سے ملا ۔واپس آیا تو تو وضو کا پانی چل رہا تھا ۔کیا ابوبکر تمہارا زہن یہ بات مانتا ہے ؟۔جواب۔ نہیں۔پھر تیسری مرتبہ کہا اگر کوئی کہے میں بستر پر آرام کر رہا تھا فرشتہ آیا مجھے اٹھایا امام النبین کا رتبہ حاصل کیا ساتوں آسمانوں کی سیر کی ۔رب نے 50نمازوں کا تحفہ دیا ۔امت محمدی کے لئے میرا تجربہ تھا رب سےبار بار جا کر 5نمازیں منوا لیں واپس آیا بستر کی حدت ابھی برقرار تھی ۔ابوبکر نے سوچا ۔اہنے تجربے کو مدنظر رکھا کہ پس پردہ کوئی خاص بات ہے جو یہ ناقابل یقین بات پوچھ رہا ہے ۔پوچھا کون کہتا ہے ؟کہا جسے تم محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کہتے ہو ۔ابوبکر نے فرمایا میرا تجربہ ،میرا ایمان ،میرا یقین ،میرا ذہن و دل گواہی دیتا ہے کہ یہ سچ ہے ۔۔۔ بات بستر کی ،محبوب خدا کے آرام فرمانے کی تو 
نبی کے بستر پر جو سوئے وہ علی ہوتا ہے 
نبی جسکی گود میں سوئے وہ صدیق ہوتا ہے 
        اور 
ڈوبا سورج جسے پلٹ کر دیکھے 
اسےعقیدے میں ہم علی کہتے ہیں 
علی کی گود سر ۔۔۔اور ۔۔والعصر ۔۔۔نماز عصر۔۔۔سورج۔۔
               قرآن میں رب نے صدیق کا لقب فرما دیا ۔واقعہ کو معراج النبی کہا جاتا ہے ۔قرآن نے اسے "اسری بعبدہ "کے ماحول میں رب نے اپنے حبیب کو،اپنے خاص بندے کو اپنے پاس بلوایا ۔کچھ راز و نیاز کی باتیں ہوئیں ۔کچھ لو دو ہوا ۔پھر امت کے لئے معراج "نماز " تحفہ میں دی ۔
آج اس بحث میں جو کہ ہے ہی نہیں ۔کہ خواب تھا ۔حقیقت تھی ۔روحانی تھی ۔ایمانی تھی۔جسمانی تھی ۔
۔بعد از بزرگ توئی قصہ مختصر ۔۔
    امام النبین کے رتبے کو حاصل کر کے ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء،پیغمبروں،رسولوں کا سردار بن کر امامت کرا کر تجربے کی بنیاد پر کیا اے رب العالمین میری امت 50 نمازیں نہیں پڑھے گی ۔رب نے یہ نہیں فرمایا کہ خالق مالک ہر چیز کو جاننے والا میں ہوں ۔اے حبیب آپ کس تجربہ کی بنیاد یہ کہتے ہیں ۔نہیں محبوب آپ نے کہہ دیا ہم نے آپ کے تجربے کو تسلیم کرتے ہوئے نمازیں کم کر کے 5تک لے آتے ہیں۔مسلمان کی معراج نماز ۔اور نماز کی شرائط 
۔شرائط اور شرائط کے تالے کی چابی رزق حلال ۔اور رزق حلال حقوق العباد اور حقوق العباد کا دارومدار انصاف پر ۔
   تھوڑا سا ماضی کا قرآن سے جھونکا ،پھر موجودہ وزیر داخلہ محسن نقوی کے تجربہ کا اعلان کے اگر پی ٹی آئی نے 8فروری کواپنےجمہوری ، سیاسی ،ائینی،قانونی ،انسانی ، اخلاقی ،پاکستانی حق کو استعمال کرتے ہوئے کوئی جلسہ ،جلوس ،احتجاج کرنے کی کوشش کی تو ہم 9مئی ،26اکتوبر ڈی چوک ،5اکتوبر اب مریدکے ۔۔۔اپکو دیکھا بجے ہیں آپ دیکھ چکے ہیں ہمیں بڑا تجربہ ہے ۔۔۔۔ لاقانونیت و جبد تشدد کا ۔۔۔۔
        رب نے قرآن میں فرمایا کہ دنیائے کائنات بنانے سے پہلے تمام نبیوں رسولوں پیغمبروں سے عہد لیا۔ اگر میرا محبوب محسن انسانیت آپکے دور میں تشریف لائے تو پھر آپ نے نبی
 ،پیغمبر،رسول نہیں رہنا ۔تم میرے محبوب کا کلمہ پڑھنا ہے یہی تمہاری معراج ہو گی ۔
       محسن انسانیت، محسن کائنات ۔۔میٹرک انگلش سبق ۔۔طہف کے بازار و گلیوں میں آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پتھر مارے گئے ۔تکلیف دی گئی ۔اپنی بات نہیں کرنی دی گئی اپنا دستور اپنا نقظہ نظر پیش نہیں کرنے دیا گیا آج کے حالات کی مماثلت کر کے دیکھ لیں ۔جبرائیل آمین آتے ہیں۔ کہتے ہیں۔رب فرما رہا ہے ۔اگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمائیں تو انہیں تہس ،نہس کر دیتے ہیں ۔محسن نقوی صاحب محسن حقیقی محسن انسانیت نے فرمایا نہیں ۔میرے رب انہیں شعور دے ۔یہ مجھے نہیں جانتے ۔میں ان کا خیر خواہ ہوں ۔
       آپ بھی شاید اہل تشیعہ ۔۔۔میں مسلک کی بات نہیں ۔مولائے علی جسے محسن انسانیت نے دنیا میں ا رے میں اپنا بھائی کہا ۔
من کنت مولا فھذا علی مولاہ 
مشرک کو واصل جہنم کرنے کی والے تھے کہ اس مشرک نے اپنے تجربے کا مظاہرہ کیا ۔اپنی جان اپنا اقتدار اپنی وزارت کو بچانے کے لئے اس چہرہ پر جسے تکنا ثواب ہے تھوک دیا۔علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نیچے اتر آئے 
       وزیر داخلہ صاحب اسے پڑھیں۔غور فرمائیں۔ مشرک نے کیا علی تمہیں تو غصہ کرنا چاہیے تھا ۔علی المرتضی شیر خدا نے فرمایا ۔میں نہیں چاہتا کوئی شخص کہے علی نے اپنی بے عزتی کا بدلہ لینے کی خاطر مشرک غیر مسلم کو قتل کر دیا ہے ۔فرمان مولائے علی "کفر یعنی ہندو ،کافر ،مرزائی ،
عیسائی ،یہودی کامیاب حکمران ہو سکتا ہے ریاست چل سکتی ہے لیکن ناانصافی پر حکومت نہیں چلا کرتی"۔ تاریخ میں بدنما بدبودار چہرہ رکھتی ہے 
     2026 وزیر اعلیٰ کے پی کے فوری پنجاب و سندھ ۔۔پھر کراچی کا جلسہ ۔۔۔ضد کا کوئی علاج نہیں ۔ابو جہل نے اپنی مُٹھی میں پتھروں کو کلمہ پڑھتے ہوئے سن کر بھی اسلام کے رد ے تجربے پر قائم رہا ۔آو شب معراج اپنے محبوب کی معراج کی بات کرتے ہوئے مسلمان کی معراج پر عمل کرتے ہوئے یعنی نماز پڑھنے کے بعد 2026میں اس لمحے تک اپنی زندگی میں عالم شعور میں آنے کے بعد محسن انسانیت کی امت کی خاطر کیا، کیا ،کیا گیا ہے۔بہتر کیا ۔مزید بہتر کریں۔اگر فاشزم ،بربریت ،،لاقانونیت ، دھونس دھاندلی ،رشوت ،کم تولنا ،حق مارنا ملاوٹ ،سود دو نمبر اشیاء کی فروخت،ڈبل منافع، اللہ کی مخلوق پر ظلم ڈھائے،آئین توڑا،غیر قانونی ،غیر اخلاقی حربے استعمال کیے ۔جبر تشدد کیا ۔ناجائز گرفتاریاں میں ۔ایف آئی آرز درج کیں۔ تو توبہ کریں اور پاکستان کے عوام کے لئے 2026 کو تکمیل پاکستان کے لئے وقف کر دیں ۔پاکستان کا مستقبل نہ امریکی سائفر پر عملدرآمد میں ہے ۔نہ اقتدار کی خاطر بر بریت اور اخلاق باختہ گندہ ذہنیت کے اقدامات میں ۔نہ فارم 47میں ۔نہ آئینوں دستور کی کھلم کھلا بغاوت میں ۔نہ عوام کو اپنی رعیت سمجھنے میں اور نہ ہی فرعونیت میں ۔پاکستان کی بقا محسن انسانیت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس فرمان میں جو آئین کی ،دستور کی ،قانون کی ،انسان کی ،عوام کی ،رعیت کی ،مسلم و غیر مسلم کے تحفظ و بقا کا کھلا اعلان "میری بیٹی میر دل کا ٹکڑا خاتون جنت فاطمتہ الزہرہ بھی چوری کرتیں تو اس ہر بھی حد جاری ہوتی ۔"اب ترمیم26.ججز ہماری مرصی کے ہمیں بچانے والے۔ ہمارے ذاتی ملازم ہی ججز ہوں گے ..27 ترمیم استثنیٰ ۔اب جو بھی ان کی حمایت کرکے اسلام کا نام لیتا ہے مزہبی سکالرز ،مشائخ و گدی نشین ،لام کا ٹھیکیدار بننے کا دعویٰ کرتا ہے۔تو آپ خود ہی فیصلہ دے سکتے ہیں ۔
      محسن نقوی صاحب تجربے کی بات اپنے تجربہ پر ۔۔محسن
 کائنات نے فرمایا "علی میرا اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی بھائی ہے ۔"کسی اور صحابی یا کسی شخصیت کو یہ اعزاز حاصل،رتبہ شان نہیں دی ۔علی کا فرمان ،رب کے اس فرمان کے تحت معراج والے آقا کی امت کی معراج نماز کے سجدہ میں ۔۔۔اور رب انصاف پسند فرماتا ہے نماز کا وہی سجدہ معراج کا حامل ہو گا جو حسینی کردار پر ہو ۔یزیدی کردار پر نہیں ۔۔۔کفر پر حکومت برقرار رہ سکتی ہے نا انصافی پر نہیں ۔۔۔
        کچھ لوگ قرآن مجید پڑھ کر بھی گمراہ رہتے ہیں ۔
عروج کی شب معراج کی فضیلت سجدے میں حاصل کرنے کے لئے 2026میں اپنے کردار مخلوق خدا ۔۔۔قران و حدیث کسی میں بھی ،کسی صحابی و امام المسلمین کے قول میں لفظ پاکستان نہیں ہے ۔ اللہ کی مخلوق کے لئے اپنا کردار متعین کریں ۔۔۔میں تو قیام پاکستان میں ریڑھ کی ہڈی،مشائخ و علماء اہلسنت کی جماعت جمعیت علمائے پاکستان نورانی ڈاکٹر صاحب زادہ ابو الخیر الوری کی قیادت میں معراج انسانیت ڈھونڈنے کی سعی کر رہا ہوں آج شب معراج، بیشک عبادات کا رستہ مخلوق خدا میں سے گزرتا ہے ۔
جب وہم نہ تھا تاریکی ء شب کا
میں نکلا ہوا ہوں گھر سے تب کا 
جس شہر میں بس رہےتھےہم تم
وہ شہر تو اجڑ چکا ہے کب کا
Tags

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !