فلسطین اور فلسطینی دونوں آج کل ظلم و بر بریت، ظلمت وجبریت ، وحشت و ہیبت، کرب و کربت ، ضرب و ضربت، حرب و حریت ، حرص و حراست، قتل و غارت اور لا قانونیت کے تحت زندہ رہنےپر مجبورہیں۔ ہر لحظہ خوف و حراس ، بے جا پابندیاں، مار دھاڑ، کُٹ کٹائی، لڑائی مار کٹائی، ستم رسائی، حال دوہائی کا ماحول گرم ہے۔ ہر سُو بوڑ ھے، جوان اور چھوٹے چھوٹے معصوم بچوں کے لاشے بکھرے پڑےہیں، چار سُو ہُو کا عالم ہے۔ کہیں بال بچے ماں باب کی میت پرکھڑے رو رہے ہیں تو کہیں ماں باپ اپنے بچوں کے لاشوں پر گریہ کناں ہیں۔ کہیں بہنیں رو پیٹ رہی ہیں اپنے ویر کو تو کہیں لاشِ ہمشیر پر وِیر دلگیر بہا رہے ہیں نیر ۔
اندھی موت ، ان کرلاہٹوں اوردُہائیوں میں بازارِ ظلم گرم کئے ہوئے ہے۔ شِیر پیتے بچوں سےکبھی شیر چھینتی ہے تو کبھی زندگی۔ ماوّں سے کبھی بچے چھینتی ہے تو کبھی
بچوں سے ماں۔ باپ کے ہاتھوں سے کبھی بیٹے چھین لیتی ہے تو کبھی بیٹوں کے سامنے باپ کی سانسیں چھین لیتی ہے۔ وِیرکو وِیر سے جدا کردیتی ہے تو کبھی ہمشیر سے وِیر کو، ہمشیر کے نوحوں میں وِیر کی میت پر ہمشیر کی جان نکال لیتی ہے توکبھی ہمشیر کی لاش پر نیر و نیر وِیرکی سانسوں کی ڈارتوڑ دیتی ہے۔یہ موت پُتر کی لاش پر روتی کرلاتی ہاڑے ڈالتی ماں کی زندگی کی لگام کھینچ لیتی ہے تو کبھی باپ کے دل کی دھڑکن کو روک لیتی ہے۔
یہ ظالم موت ظالموں کے ساتھ مل جاتی ہےاور مظلوموں پر اور ظلم ڈھاتی ہے۔ یہ ظالم کی باندی بن کے مظلوم کو مار مکاتی ہے۔ یہ نرا پِرا موت کا بھی قصور نہ ہے۔ اس بے لگام موت کو کسی نے نتھ ہی نہیں ڈالی۔ کسی نے مظلوموں کی بانہہ ہی نہیں پکڑی۔ کسی نے کٹتے بچوں پر اپنی غیرت ہی نہیں واری، کسی نے اُجڑتی جھولیوں کے لئے اپنا تن من ہی نہیں وارا، کسی نے سر کے تاج پر اپنا راج ہی نہیں وارا۔ کسی نے ماں جیسی چھاؤں کے لئے اپنا مان ہی نہیں وارا، کسی نے مَس اُترتے بچے کی موت پر بانگ ہی نہیں دی، کسی نے دھی رانی کے چلے جانے پر دہائی ہی نہیں دی، کسی نے ویر کی لاش پر نیر ہی نہیں بہائے، کسی نے اس درد کا، دکھ کا، مصیبت کا مداوا ہی نہیں کیا۔
اسرائیلیوں کے حوصلے اور بڑھ گئے۔ ان کے جہاز ظلم کے بادل بن گرجنے لگے، بجلی بن گرنے لگے، ڈرون اولے بن برسنے لگے ، میزائیلوں کی بارش ہو نے لگی۔ زندگی موت میں بدلنے لگی۔ ہستی بستی دھرتی پلٹ گئی۔ گھروں والے بے گھر ہو گئے۔ اولادوں والے بے اولاد ہو گئے، زمینوں والے بے زمین ہو گئے۔ ملبے کے ڈھیر لگ گئے۔ ان ڈھیروں میں مسلم امۃ کی غیرت کہیں دب سی گئ ، مسلمان حکمرانوں کی جراّت دفن ہو گئی، مسلم ممالک کی ہمت اور حمیت کھو گئی۔ مسلم معاشرہ فوت ہوگیا، غیرت، ہمت اور جراّت کی بانگیں الاپنے والوں کی آوازیں دب گئیں۔
جنگجوؤں کی تلواریں زنگ آلود ہو گئیں، توپ خانے چپ ہو گئے، بم ٹھس ہو گئے، میزائیل ختم ہوگئے، ایٹم بم ٹھنڈے پڑ گئے، ایف سولہ اڑنا بھول گئے، ایف سترہ زمیں بوس ہو گئے۔ الغرض مسلم امۃ، مسلم معاشرہ، مسلم ممالک کے سارے شیر اسرائیلی طاقت کے آگے ڈھیر ہو گئے۔یہ بے حسی کی تصویر بنے، بے ضمیر ، بے حس اور کوئی نہیں ہیں یہ 56 اسلامی ملک ہیں۔ یہ مسلم معاشرہ ہے، یہ میرا ملک ہے، یہ میرے ملک کے حکمران ہیں اور یہ ان کے سارے محکوم ہیں، یہ ہم عوام ہیں۔ یہ اس جہان کے سارے مسلمان ہیں۔ یہ دنیا جہاں کے انسان ہیں۔ یہ سارے جگ کی بے حسی کی تصویر اور عبرت کا نشان ہے، یہ ہم بے حسوں کی بے حسی کا کھلا اعلان ہے۔
