دنیا میں اس وقت تقریباً تین کھرب درخت ہیں اور تیرہ کروڑ کتابیں ۔لاکھوں کتابیں ہرسال شائع ہوتی ہیں اور ہرکتاب کی کئی کئی سو کاپیاں ۔اللہ نے انسان کو دنیا میں بھیجا تو اس کے لیے پہاڑ ،زمین ،گھاس پھونس ،پودے ،درخت ،پھل پھول ،سبزیاں ،ندیاں ،دریا ،سمندر ،آسمان ،بارش ،ہوا گرچہ ہر چیز کا اہتمام کردیا اور آدم کی تنہائی بانٹنے کے لیے حوا کو بھی دنیا میں بھیج دیا ۔شروع میں تو انسان کا ذریعہ معاش کاشتکاری اور بکریاں وغیرہ پالنا ہی رہا ،درختوں کو صرف اور صرف خوراک کا ذریعہ سمجھا گیا لیکن آہستہ آہستہ انسان درخت سے کاغذ بنانا سیکھ گیا۔
کاغذ پہ لکھنے کے لیے سیاہی بنائی ،قلم بنایا اور دنیا میں کتاب لکھنے کا ،یاد داشت لکھنے کا رواج پیدا ہوا ۔چونکہ خدا نے دنیا میں نہ صرف اپنے پیغمبر بھیجنے تھے انسانیت کی اصلاح کے لیے بلکہ دنیا کو آسمانی صحیفے بھی عطاء کرنے تھے جو رہتی دنیا تک انسانوں کی رہنمائی کے لیے کام آئیں۔ لہذا ہر چیز اپنے اپنے وقت سے اپنے اپنے حساب سے پیدا کی ۔تورات سے شروع ہونے والا آسمانی صحیفہ قرآن پہ ختم ہوا اور ہم مسلمانوں کے عقیدے کے مطابق خدا نے اپنا دین مکمل کردیا ۔تورات میں خدا نے آسمان اور زمین کی پیدائش سے اس صحیفے کا آغاز کیا اور قرآن کی پہلی وحی اقرا تھی ۔ایک نبی محمد مصطفیٰ جو لکھنا پڑھنا نہیں جانتے تھے انھیں کہا گیا کہ پڑھ۔ اور وہی وہ وحی تھی جس نے تمام دنیا کو سبق دے دیا کہ اس نے پڑھنا ہے کیونکہ
کوئی بچہ خواہ وہ کسی عقیدےسے وابستہ والدین کے گھر پیدا ہوا ہو وہ لکھنا پڑھنا نہیں جانتا
لہذا حضرت محمد مصطفےٰ نے کہا میں پڑھنا نہیں جانتا ۔مگر اقرا سے ہونے والی وحی کا آغاز آج پوری دنیا کو بدل چکا ہے ۔درخت سے انسان کو کتاب ملی ،قلم ملا اور کتاب سے صحیفے ملے ،صحیفوں سے انسانیت کے لیے خدا کے قوانین اور ضابطہ اخلاق بنائے اور دنیا ہر آئے دن کے ساتھ تبدیل ہوتی چلی گئی ۔اور آج عالم یہ ہے کہ جو لوگ جام جمشید کو مذاق سمجھتے تھے کہ کوئی اپنے پیالے میں پوری دنیا کیسے دیکھ سکتا ہے ،آج وہی لوگ ہاتھوں میں آئی فون لے کے پھرتے ہیں اور ایک ایک پل ہزاروں میل دور اپنے خاندان والوں سے رابطے میں ہیں ،دنیا بھر کی معلومات ان کی انگلی کی ایک جنبش میں ہیں۔
اور رنگ برنگے پکوان وہ اسی جام جمشید میں شراب کے سکے ڈال کے خرید سکتے ہیں اور گھر بیٹھ کے کھا پی سکتے ہیں ۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ درخت جو انسانیت کی بقا کا ضامن ہے ،وہ درخت جس نے ہمیں کتاب دی ،کتاب نے ہمیں پڑھنا سکھایا ،قرآن و انجیل و تورات و زبور نے ہمیں خدا کے احکامات سے روشناس کرایا جو آج ہر عدالت ہر قانون ہر ضابطہ حیات کی بنیاد بنا ۔درخت جس کے بغیر نہ زندگی کا وجود ممکن ہے نہ انسان نہ جانور کا ،نہ سائنس کا نہ مذہب کا اور نہ اس دنیا کا ہم نے اس درخت کے ساتھ کیا سلوک کیا ۔
ایک چھوٹا بچہ جب سکول میں داخل ہوتا ہے ،کھلونے سے کھیلتا ہوا الف ب پ یا اے بی سی سیکھتا ہوا کتاب سے آشنا ہونا شروع ہوتا ہے تو کیا وہ کتاب اسے بتاتی ہے کہ یہ کتاب کہاں سے آئی ،درخت اور کتاب کا کیا رشتہ ہے اور کیا اس سکول میں کوئی ایک پودا یا ایک درخت ایسا ہوتا ہے جو بچوں کو بتا سکے کہ یہ درخت اس کتاب کی بلکہ دنیا کی ہر کتاب ہر اخبار ہر رسالے اور ہر مذہب کی ہر صحیفے کی ہر سائینسی تخلیق ہر عمارت کی تعمیر کی بنیاد بنا ۔
کیا بچوں کو کتاب سے آگاہی دینے سے پہلے انھیں بتایا جاتا ہے کہ درخت کیسے وجود میں آتا ہے ،مٹی کا اور بیج کا رشتہ کیا ہے اورر بیج مٹی میں گم ہوکے کس طرح ایک دن ننھا پودا بن کے اگتا ہے اور شب و روز کی محنت سے قدرت کے نظام سےایک تناور درخت بن جاتا ہے ۔ ۔ہر شخص کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ زندگی میں کچھ ایسا کرے کہ امر ہوجائے ،اسی طرح درخت کی بھی خواہش ہوتی ہے کہ وہ لکڑی کا ایندھن بننے کی بجائے کتاب بنے ،اخبار بنے ،تحقیق کے لیے استعمال ہو ،انسانیت کی تعمیر کے لیے استعمال ہو ۔درخت کاٹنے والے اس لیے زیادہ ہیں کہ درخت کی افادیت بتانے والے بہت کم ہیں بلکہ نہ ہونے کے برابر ہیں ۔سکول وہ عمارت ہے چاہے وہ کچی ہو یا شیشے کی وہاں ایک بچے کے بچپن کا آغاز ہوتا ہے اس کی تہذیب و ثقافت اور ضابطہ اخلاق کا آغاز ہوتا ہے اور کچی عمروں کے خواب وہ خواب ہوتے ہیں جنھیں حاصل کرنے کے لیے انسان پکی عمروں کی نیند بھی ختم کر دیتا ہے کہ خوابوں کی تعبیر کا شوق اسے سونے نہیں دیتا ۔آج ماحولیاتی آلودگی پہ بڑے بڑے لیکچر دیے جاتے ہیں ،بہت سا کام کیا جارہا ہے کہ فضا آلودہ نہ ہو یہ دنیا رہنے کے قابل رہے
: لیکن اس نئی نسل کو اس انسان کی نئی کونپل کو سیکھنے کے لیے کیا دیا جارہا ہے صرف کتاب کا تحفہ علم کا تحفہ جب تک کتاب کا ذریعہ معلوم نہیں ہوگا تو جوان ہونے پہ درخت لگانے کی ترغیب اس کو عارضی طور پر تو متاثر کر سکتی ہے مگر ہمیشہ کے لیے نہیں ۔ہمارے تعلیمی نصاب مرتب کرنے والے ماہر تعلیم کو یہ سب جان کر نصاب مرتب کرنے کی ضرورت ہے پہلے سے بھی زیادہ ۔ جب بچہ کتاب کا منبع درخت کو سمجھے گا ،درخت کی وجہ بیج کو سمجھے گا تو وہ بیج کو درخت اور درخت کو کتاب بنانے والے کے بارے میں بھی سوال کرے گا اور خدا کے نام سے آشنا ہوگا یا یہ سوال اس کے اوپر چھوڑ دیا جائے گا کہ وہ اس کا جواب خود تلاش کرے ۔اور ایک چھوٹے سے سوال کے جواب کی کھوج ہی اسے تحقیق کرنے پہ اکسائے گی ۔اور یہ تحقیق یہ کھوج یہ بے چین روح کبھی اسے ستاروں پہ کمند ڈالنے کے بارے میں سوچنے پہ مجبور کرے گی تو کبھی سائنسی ایجادات کا باعث بنے گی ۔
اور کبھی ادبی پہاڑوں کو سر کرنے پہ رضا مند کرے گی کیونکہ جو بیج پانی نہیں لیتا ،مالی کی محنت اور توجہ حاصل نہیں کرتا قدرت کے نظام سے آشنا نہیں ہوتا جو اس کی دیکھ بھال کرتا ہے تو وہ بیج اگر ایک پودا بن بھی جائے تو ایک درخت نہیں بن پاتا ۔اور درخت جب ختم ہوجائیں گے تو دنیا ختم ہوجائے گی اور یہی اصل ماحولیاتی آلودگی ہے کیونکہ یہ بچے بڑے ہوکے درخت بنیں گے جنھیں کوئی کاٹ نہیں سکتا۔۔
(گھر بیٹھے مناسب قیمت میں معیاری کتاب شائع کروانے کے لیے سرکار پبلشرز ملتان کی خدمات حاصل کریں۔ کمپوزنگ سے لے کر جلد بندی تک ہر کام کچھ تسلی بخش طریقے سے کیا جاتا ہے ۔ برائے رابطہ
wa.me/+923004228864)
