سماج میں تعلیم کی اہمیت اور ہم۔ ثمینہ رحمت منال

دنیا میں اس وقت 78 کروڑ سے زیادہ بالغ افراد لکھنے پڑھنے کی صلاحیت سے محروم ہیں، اور اگر ان میں بچوں کی تعداد بھی شامل کر لی جائے تو یہ اعداد و شمار لگ بھگ ایک ارب افراد تک پہنچ جاتے ہیں۔ جہاں ناروے، سویڈن، ڈنمارک، البانیا، فن لینڈ، امریکہ اور برطانیہ جیسے ممالک میں شرحِ خواندگی سب سے زیادہ ہے، وہیں فلسطین میں 2018 کے مطابق 15 سال یا اس سے زیادہ عمر کے افراد کی ناخواندگی 83,000 افراد سے زائد پر مشتمل ہے۔
انڈیا میں 80 فیصد افراد پڑھ لکھ سکتے ہیں، اور پاکستان میں 63 فیصد افراد لکھنا پڑھنا جانتے ہیں۔ پاکستان میں خواجہ سراؤں میں شرح خواندگی 40 فیصد ہے، اور پاکستان میں پنجاب میں خواندگی کی شرح سب سے زیادہ ہے جو کہ 66 فیصد پر مشتمل ہے۔
سندھ میں 58 فیصد، خیبر پختونخوا میں 58 فیصد اور بلوچستان میں سب سے کم جو کہ 46 فیصد پر مشتمل ہے۔ آزاد کشمیر میں شرح خواندگی تقریباً 92 فیصد ہے اور مقبوضہ کشمیر میں یہ شرح 67 فیصد ہے۔ اس وقت دنیا کی کل آبادی 8 ارب ہے اور 7 ارب افراد کو پڑھا لکھا مانا جاتا ہے۔ لیکن وہ جو 7 ارب ہیں ان کا کیا قصور کہ وہ
سکول نہ جا سکے یا سکول جا نہیں سکتے، ایک لمحے کے لیے سوچیں کہ میں ایک شاعرہ ہوں، ایک لکھاری ہوں، ابھی تک میری 9 شاعری کی کتابیں شائع ہو چکی ہیں اور سینکڑوں مضامین لکھ چکی ہوں۔ اگر میرے والدین مجھے سکول نہ بھیجتے، مجھے اعلی تعلیم نہ دلواتے، تعلیم کی اہمیت سے انکار کر کے مجھے صرف کپڑے دھونا، استری کرنا، کھانا پکانا اور گھر سنبھالنا سکھا دیتے، نہ مجھے پڑھنا آتا نہ لکھنا تو میرے اندر کا شاعر کہاں جاتا؟ میرے خیالات کہاں جاتے؟

جو سوالات میرے دل میں اٹھتے، ان کے جواب میں کہاں سے لاتی؟ موبائل فون استعمال کرنا کیسے سیکھتی؟ کتابیں کیسے پڑھتی؟ جبکہ حرف سے واقفیت ہی نہ ہوتی؟ مطالعہ کیسے کرتی؟ اپنے آپ کو شاعر و لکھاری تو دور کی بات، ایک عام سی عورت بھی ثابت کرنے کے لیے مجھے کسی کی ضرورت پڑتی۔ ڈاکٹر عبد القدیر کو لے لیں، ڈاکٹر عبدالسلام کو لے لیں، ملالہ کو لے لیں، اگر یہ پڑھنے لکھنے سے انکار کر دیتے، یا ان کے ماں باپ ان کو نہ پڑھاتے تو کیا ہوتا؟ پاکستان کو ایٹمی بم اور دو نوبل پرائز کون لا کر دیتا؟ اگر عمران خان پڑھا لکھا نہ ہوتا اور کرکٹ کھیلتا تو کیا وہ ملک کے لیے ورلڈ کپ لانے کے لیے قومی ٹیم کے لیے منتخب ہوتا؟ اسے تو ان پڑھ جاہل بچے کے طور پر بہتر سے بہتر کرکٹ کھیلنے کے باوجود محلے کی ٹیم کا کپتان نہ بنایا جاتا۔ نواز شریف، شہباز شریف اگر ڈگری یافتہ نہ ہوتے تو پاکستان کے قانون میں تبدیلی کے بعد وہ سیاست سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے نکل جاتے۔ انور مقصود اگر اسکول نہ جاتے تو پاکستان ٹیلی وژن سے سوچ و فکر اور مزاح کے شگوفے نہ پھوٹتے۔
بے نظیر اگر پڑھی لکھی نہ ہوتی تو مسلمان دنیا کی پہلی خاتون وزیرِاعظم ہونے کا اعزاز پاکستان کے حصے میں کیسے آتا؟ یہ تو صرف چند لوگ ہیں، جبکہ پاکستان کی کل آبادی اب لگ بھگ 26 کروڑ ہو چکی ہے۔ اب اس 37 فیصد آبادی کا سوچیں، صرف پاکستان میں، کہ ان میں سے کتنے ہیرے ڈاکٹر قدیر، بے نظیر، عمران خان یا نواز شریف بن سکتے ہیں۔ لیکن ہم انہیں اسکول ہی نہیں بھیج سکتے، ان کے پاس کوئی ذریعہ تعلیم ہی نہیں ہے۔
جو انسان سوتا ہے وہ خواب بھی دیکھتا ہے، اور جب خواب دیکھتا ہے تو صبح اٹھ کر اس خواب کی تکمیل کے لیے اسکول جاتا ہے، کالج جاتا ہے، یونیورسٹی کا رخ کرتا ہے، بزنس سنبھالتا ہے، گھر خریدتا ہے۔
شادی کرتا ہے، خوشحالی آتی ہے، تو دنیا بھر کا سفر کرتا ہے۔ لیکن اب ان پانچ کروڑ افراد کا سوچیں جنہیں ہماری طرح نیند بھی آتی ہے اور وہ خواب بھی دیکھتے ہیں، مگر جب صبح اٹھتے ہیں تو ان کے خواب صرف اور صرف ان کی خیالات بن کر آنکھ سے اتر جاتے ہیں۔ وہ کنگھے، قلم، پنکھے لے کر سڑکوں پر بیچنے نکل جاتے ہیں۔ جن گاڑیوں میں بیٹھنا ان کا خواب تو ہے لیکن وہ خواب حقیقت میں نہیں بدل سکتا۔ اس ریڑھی بان کا سوچیں جسے خواب میں آلو کے کھیت نظر آتے ہیں۔
جس کا وہ مالک ہے، لیکن ہر صبح اسے منڈی میں آلو کم سے کم قیمت پر خریدنے کی کوشش کرنی پڑتی ہے کہ اس کا منافع ذرا زیادہ ہو جائے اور گھر میں دال روٹی کا سلسلہ چلتا رہے۔ شاید اس کی بیٹی نے اس سے دال کے ساتھ اچار کی فرمائش کی ہو یا بیٹے نے پیپسی کی بوتل پینے کی خواہش کی ہو۔ شاید اس کا باپ اس کا یہ خواب پورا کر دے۔
یہ بات صرف پاکستان کی نہیں ہے۔ اب افریقہ پر نظر دوڑائیں، جہاں کل آبادی 2023 کے مطابق ایک سو چالیس کروڑ نفوس پر مشتمل ہے، یعنی دنیا کے 54 ممالک پر مشتمل، جہاں حالات پاکستان سے بھی بدتر ہیں اور تعلیم تو دور، ہر صبح اٹھ کر پیٹ بھرنا ہر اس شخص کا خواب ہے جو غریب ہے، ناتواں ہے، بے کس ہے، ان پڑھ ہے، نہ روزگار ہے، نہ نوکری کے قابل، کیونکہ اسے لفظوں اور ہندسوں کی پہچان ہی نہیں ہے۔
اور اس ایک سو چالیس کروڑ کی آبادی میں کتنے لوگ ڈاکٹر بن سکتے ہوں گے؟ کتنے انجینئر، کتنے سائنس دان، ریاضی دان، فلاسفر، لکھاری، شاعر، استاد ہیں۔ لیکن ان کے خیالات، ان کی قابلیت، ان کی ذہانت کسی کام کی نہیں، کیونکہ ریاست نے، معاشرے نے، دنیا نے انہیں اسکول کا بستہ نہیں دیا، بلکہ جِیون سستا دیا۔

غربت، افلاس، بیماری اور بھوک کا راستہ دیا۔ بھوک اور تنگدستی کی وجہ سے لاکھوں ماؤں کو مردہ بچوں کا تحفہ دیا۔ ڈپریشن اور صدمے دیے، تنہائی دی، شکایت دی، اور وہ شکایت بھی ایسی کہ وہ صرف موت کے بعد خدا سے کرنے کے لیے اپنے مرنے کا انتظار کر رہے ہیں، کیونکہ اس دنیا میں انہیں شکایت کا بھی حق نہیں ہے۔ ہو سکتا ہے کہ افریقہ میں ہی بہت سے ایلن مسک، بہت سے بیل گیٹس، بہت سے جیف بیزوس گلیوں میں مارے مارے پھر رہے ہوں کہ اللہ نے انہیں افریقہ کے 54 ممالک کے حالات میں بہتری کے لیے پیدا کیا، مگر ان کی ریاستوں کے پاس ان کی تعلیم اور تربیت کے لیے کوئی انتظام نہیں تھا۔ ان کے گھر میں چولہا جلانے کےلئے بھی کوئی ادارہ نہیں تھا، نہ کوئی ان کا پرسان حال۔ اللہ تعالیٰ اپنے محبوب پر اتری ہوئی کتاب قرآن کی وحی کا آغاز اقْرَأْ سے کرتا ہے، اور ایک ارب انسانوں کو بے سہارا چھوڑنے کا سوچ بھی کیسے سکتا ہے کہ وہ نہ پڑھ سکیں، نہ لکھ سکیں، نہ سکول جا سکیں، نہ حرف کی روشنی میں نہا سکیں، نہ لفظ کی حرمت کو اوڑھ سکیں اور نہ ہی کسی سطر کی چاشنی کو محسوس کر سکیں۔ دنیا میں دہشت گردی ہے، عالمی جنگیں لڑی جا رہی ہیں، اور پوری دنیا میں معشیت اور بجٹ کا ایک بڑا حصہ فوج پر خرچ کر دیا جاتا ہے۔
دہشت گردی کے خلاف جنگ میں لاکھوں، کروڑوں زندگیاں لقمہ اجل بن چکی ہیں۔ بڑی بڑی شخصیات ان پڑھ افراد کو استعمال کر کے دنیا سے رخصت کروا دی گئی ہیں، مگر ابھی بھی ہم سب تعلیم کی اہمیت اور افادیت سے انکاری ہیں۔ ابھی بھی ہم جنگ لڑ رہے ہیں، جہاں ہمیں اس کی ضرورت نہیں ہے۔ لیکن وہ جنگ جو ان سب جنگوں کی اصل وجہ ہے، اس کے بارے میں کوئی سوچ ہی نہیں رہا، اور وہ جنگ ہے غربت کی جنگ، بے بسی کی جنگ، بے روزگاری کی جنگ، بھوک کی جنگ، اشکوں، آنسوں اور آہوں کی جنگ، زندگی اور موت کے بیچ میں لٹکی ہوئی سولی کی جنگ، درد کی جنگ، زندگی کی جنگ، نااُمیدی و یاسی کی جنگ، بدترین حالات کی جنگ، مہنگائی کی جنگ، بچوں کے بھوکے پیٹ اور پیاسے ہونٹوں کی جنگ، اور ان ساری جنگوں کی وجہ تعلیم کی کمی، اعلی تعلیم کی کمی، تعلیم کے ساتھ تربیت نہ دینے کی کمی ہے۔ کہ جب پیٹ بھوکا ہو تو خنجر روٹی نظر آتا ہے، جو کسی کے بھی پیٹ میں گھونپ کر روٹی کے لیے بٹوا چھیننے کو جائز سمجھ لیتا ہے۔
خواہشات کی جنگ، ماں کی بیماری کی جنگ، بچے کے چھوٹے سے کھلونے کی خواہش کی جنگ، جو کسی کو بھی کسی بچے کو اغوا کر کے اس کے ماں باپ سے تاوان مانگنے کو جائز سمجھ لیتا ہے۔ چوری، ڈاکے، قتل و غارت، اغوا، تخریب کاری سب جائز سمجھ لیتا ہے۔
خنجر اور پستول آسانی سے اپنے ہاتھ میں وہی پکڑتا ہے جو قلم اٹھانے سے محروم کر دیا جاتا ہے۔ بستہ اٹھانے سے محروم بچہ بم کا بستہ اٹھا کر شہادت کا عندیہ سنا کر ایک بڑے مظاہرے یا جلوس میں سینکڑوں انسانوں کو لقمۂ اجل بنانے کے لیے استعمال کر لیا جاتا ہے۔ وہ سینکڑوں انسان تو شاید جنت کے حقدار بن جاتے ہیں، لیکن وہ معصوم جان، وہ معصوم بچہ اپنے ساتھ ساتھ کس کس کو جہنم میں لے جانے کی طاقت رکھتا ہے۔ اس میں میں بھی ہوں، آپ بھی ہیں، بلکہ ہم سب شامل ہیں کہ ہمارے پاس قلم تھی اور ہم نے اس کا صحیح استعمال نہیں کیا، ہمارے پاس دولت تھی مگر ہم نے اس میں سے حقداروں کو ان کا حصہ نہیں دیا۔
ہم پر زیادہ ٹیکس واجب‌ الادا تھا، مگر ہم نے ٹیکس چوری کرنے میں عافیت جانی۔ ہم پر زکوٰۃ واجب تھی، مگر ہم نے عمرے کرنا مناسب سمجھا۔ ہمارے بچے اسکول جاتے تھے، پرائیویٹ اسکول جاتے تھے، مگر ہم نے ہمسائے کے بچے کو سرکاری اسکول بھیجنا گوارا نہیں کیا۔ اور جب وہ خودکش حملہ آور، وہ دس، بارہ، پندرہ سال کا بچہ یا نوجوان، جنہیں تعلیم نہیں دی گئی، شعور نہیں دیا گیا، وہ اپنے سب مجرموں کے نام خدا کو بتائے گا تو خدا ان مجرموں کے لیے جہنم کے دروازے کھول دے گا کہ اپنی اپنی باری پر تم ان سب کو جہنم میں جاتا دیکھو گے، مگر وہ بچہ شاید جنت میں، باغوں میں بیٹھا، پھول کی طرح مہک رہا ہوگا، بلبل کی طرح چہک رہا ہوگا۔

اگر مسلمانوں کی طرف دیکھا جائے تو وہ علمائے کرام، وہ مبلغ، وہ اسکالر، وہ جہاد اور تخریب کاری کے فرق کو مٹا بیٹھے ہیں اور لوگوں کو گمراہ کر کے کسی دوسرے مذہب یا عقیدے کے لوگوں کو کافر قرار دے کر انہیں مارنا ثواب سمجھتے ہیں کہ معصوم اور نہتے انسانوں کو مار کر شہادت کا رتبہ حاصل کیا جا سکتا ہے، تو وہ لوگ سب سے پہلے خدا کے غضب و عذاب کا شکار ہوں گے کہ ان کا کام خدا کے پیغام کو پھیلانا تھا، نہ کہ اسے توڑ مروڑ کر پیش کرنا۔ ان کا کام فلاح تھا
اصلاح تھا، مگر انہوں نے اپنے منبر کو معاشرے کو برباد کرنے کے لیے معصوم اور کچے ذہنوں کو استعمال کیا کہ وہ لوگ شاید قرآن کو پڑھنا سیکھ چکے ہوں مگر قرآن کے معنی، ترجمہ اور تفسیر سے نا آشنا رہے ہوں۔ وہ خدا جو حالتِ جنگ میں بھی نہتے شہریوں اور بوڑھوں اور عورتوں اور بچوں پر ہتھیار اٹھانے کی اجازت نہیں دیتا، وہ خدا جو ایک انسان کے قتل کو پوری دنیا کے انسانوں کا قتل قرار دیتا ہے، اس خدا پر، اس کے قرآن پر، اس کے آخری پیغمبر پر، اس کے آخری دین پر کیا یہ قدغن لگانا مناسب ہے کہ وہ نبی
جس نے آخری خطبہ میں صاف فرما دیا کہ کسی عربی کو عجمی پر اور کسی عجمی کو عربی پر کوئی فوقیت حاصل نہیں۔ وہ پیغمبر کسی مسلمان کو، اپنی امت کے ادنیٰ سے ادنیٰ انسان کو، کسی کے مذہب، عقیدہ، ملک یا رنگ و نسل کی بنیاد پر قتل کر کے اسے شہید کا رتبہ کیسے دے سکتا ہے؟
ہمیں اس کائنات کے ہر شخص کو پڑھانا ہے، ہر بچے کو تعلیم کا تحفہ دینا ہے۔ اس کے ماں باپ، اساتذہ اور معاشرے نے مل کر اس کی بہترین تربیت کرنی ہے تاکہ اس دنیا سے دہشت گردی کا خاتمہ ہو سکے، تاکہ سرحدیں باقی رہیں مگر سرحدوں پر لگی جالیاں اور انسانوں کو وہاں سے ہٹایا جا سکے۔ دوسرے ممالک کے وسائل چرانے کی بجائے اپنے بچوں کو مستقبل کے ارب پتی، کھرب پتی بنانے کی تربیت دی جائے، انہیں وہ ڈگری حاصل کرنے پر آمادہ کیا جائے جو ان کے طبعی فطری رجحان سے مطابقت رکھتی ہو۔
تاکہ ہر کوئی خوش ہو اور اپنی نوکری، اپنی ملازمت کو اپنے خدا کا تحفہ جان کر، اپنی خوشی سمجھ کر اپنا فرض نبھائے۔ کیونکہ جہاں نوکری محبت سے ہو تو سرکار بھی محبوب لگتی ہے اور مالک بھی۔ جس دن اس دنیا کا ہر بچہ کم از کم ڈگری یافتہ ہو جائے گا، اس دن دہشت گردی کی جنگ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گی۔ کہ دنیا کی کوئی بھی الہامی کتاب پڑھ کر دیکھ لیں، کسی بھی مسلک، عقیدے یا گروہ کی کتابیں اٹھا کر دیکھ لیں، ان سب میں ایک ہی سبق مشترک ہے، اور وہ یہ ہے کہ اچھے انسان بنو، اور اچھے انسان خوشبو پھیلاتے ہیں۔ پھول کی طرح کھلتے ہیں اور باغ کو گل و گلزار کر جاتے ہیں، مٹی کا غرور ہوتے ہیں اور
ٹہنی کا مان، جن کے ہوتے ہوئے ٹہنی کانٹوں کو بھی خوشی خوشی برداشت کر لیتی ہے، کہ وہ اس کے پھول کی حفاظت پر لگے ہوئے ہیں، تو آئیے اپنے اپنے حصے کے پھول چنتے ہیں اور اپنی اپنی بساط کے مطابق ان سب کو تعلیم کا تحفہ دیتے ہیں کہ یہی انسانیت کی مکمل دین کی طرف پہلی وحی تھی اور یہی انسانی زندگی کی بقا اور آدم کی کھوئی ہوئی جنت کی کنجی۔

Tags

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !