ناکامی سے سبق ۔ عمران زاہد

ایک طالبہ کا واقعہ یاد آیا۔
کافی عرصے کی بات ہے کہ ایک نیم سرکاری یونیورسٹی کی فیکلٹی کا حصہ تھا۔ پراجیکٹ مینیجمنٹ کے مضمون میں مجھے بہت دلچسپی تھی اور اسی حوالے سے مقبول بھی تھا۔ نہ جانے کیا وجہ تھی کہ باقی اساتذہ اس مضمون سے الرجک تھے۔ میں اس حوالے سے ان کے لئے ایک بہت بڑا ریلیف تھا۔ میں پراجیکٹ مینیجمنٹ کی بائبل PMBOK کو استعمال کیا کرتا تھا۔ اس یونیورسٹی میں طلباء کو ہینڈل کرنا سب سے ٹف کام سمجھا جاتا تھا اور اکثر اساتذہ اس حوالے سے شاکی ہی رہتے تھے۔ الحمدللہ مجھے اس حوالے سے کبھی کوئی مسئلہ لاحق نہیں ہوا۔ 

ایک دفعہ امتحان ہوئے۔ نتائج کا اعلان ہوا تو کلاس کے طلباء ایک وفد کی صورت میں میرے پاس آ گئے۔ سب اُس طالبہ کی سفارش کرنے آئے تھے جس کا اوپر ذکر آیا ہے۔ اس کا نام ہانیہ تھا۔

طلباء کا کہنا تھا کہ سر آپ بیشک ہمیں فیل کر دیں لیکن ہماری کلاس فیلو ہانیہ کو پاس کر دیں۔ اس کا امتحان دوبارہ لے لیں۔ میں بڑا متعجب ہوا۔ تحقیق کی تو پتہ چلا کہ ہانیہ کلاس کی وہ بچی ہے جو ہمیشہ ہر مضمون میں ٹاپ کرتی آئی ہے اور اس سمسٹر میں بھی وہ ہر مضمون میں اول رہی ہے سوائے پراجیکٹ مینیجمنٹ کے۔ احتیاطاً اس کا پرچہ ایک دفعہ پھر چیک کیا تو مارکنگ اور ٹوٹل میں کوئی غلظی نظر نہ آئی۔ کچھ رعایتی نمبر بھی دے دیتا تو وہ تب بھی پاس نہیں ہو سکتی تھی۔ وہ بالکل میرٹ پہ فیل ہو رہی تھی۔

میں نے طلباء سے کہا کہ آپ یہ درخواست لیکر کیوں آئے ہو؟ اگر ہانیہ کو شکایت ہے تو اسے کہیں وہ مجھ سے ملے۔ ویسے طلباء کی اس عجیب و غریب درخواست پر حیرت تھی کہ یہ خود فیل ہونے کو تیار ہیں لیکن اپنی کلاس فیلو کو پاس دیکھنا چاہتے ہیں۔

ہانیہ ملنے آئی۔ بیچاری پریشان حال تھی۔ لگ رہا تھا دنیا جہاں کے غم اس پر گر پڑے ہیں۔ الم و حزن کی تصویر بنی ہوئی۔ آپ خود اندازہ کیجیے کہ ایک ایسی طالبہ جس نے ہمیشہ ٹاپ کیا ہو اور وہ ایک مضمون میں فیل ہو چکی ہو، اس کے جذبات کا کیا عالم ہو گا۔ بیچاری نے رو رو کر اپنی آنکھیں سجا لی تھیں۔ 

میں نے اسے بٹھایا۔ پانی پیش کیا۔ اسے تسلی دی کہ چیکنگ میں کوئی غلطی ہوئی تو اس کی تصحیح کرکے جو نمبر بھی بنیں گے اسے دوں گا۔ اسے اس کا پیپر دکھایا۔ اس نے بغور پیپر دیکھا اور اپنے مارکس کا جائزہ لیا۔ پیپر اور مارکنگ کے حوالے سے اسے کوئی شکایت نہیں تھی۔ بے بسی سے پیپر واپس کر دیا۔ بیچاری کی آنکھیں مسلسل برس رہی تھیں۔

میں نے شفقت سے اسے سمجھایا ہانیہ کبھی کبھی یہاں فیل ہونا ہمیں زندگی کی سختیوں میں بکھرنے سے بچا لیتا ہے۔ اکثر دیکھا ہے کہ جو بچے ہمیشہ اول آتے ہیں، جنہوں نے کبھی ناکامی کا مزہ نہیں چکھا ہوتا، وہ زندگی میں پہلی ناکامی پہ ہی بکھر جاتے ہیں۔ جو کسی مضمون میں فیل ہو چکے ہوں، وہ عموماً زندگی کی سختیوں میں زیادہ مضبوط ثابت ہوتے ہیں۔ ایسی ناکامی جو آپ کو ایک بہتر انسان بنا دے وہ ناکامی نہیں، کامیابی ہے۔ اس ناکامی کو دل سے مت لگاؤ۔ اگلی دفعہ دل لگا کر پڑھائی کرو اور اس مضمون کو کلئیر کر لو۔

ایسی ہی باتیں کر کے اس کا حوصلہ بڑھایا۔ آہستہ آہستہ اسے سکون سا آتا گیا یا شاید وہ رو رو کر تھک گئی یا شاید میری کوئی بات اثر کر گئی۔ بہرحال جو بھی ہوا وہ مطمئن ہو کر چلی گئی۔ اگلے سال اس نے دوبارہ یہ مضمون لیا اور شاندار گریڈ میں یہ مضمون پاس بھی کر لیا۔ بعد میں علم ہوا کہ ڈگری کی تکمیل پہ گولڈ میڈل بھی اسی نے جیتا۔ 

میں اس اثناء میں یونیورسٹی چھوڑ کر کارپوریٹ کی دنیا میں آ چکا تھا۔ اس مضمون میں ٹاپ کرنے اور ڈگری میں سونے کا تمغہ لینے کے واقعات میرے جانے کے بعد کے ہیں۔  
میں نوکری میں مصروف تھا۔ یہاں کی مصروفیات تعلیمی دنیا کی مصروفیات سے بالکل الگ نوعیت کی تھیں۔۔ ایک روز انباکس میں ہانیہ کی ای میل کا نوٹیفکیشن موصول ہوا۔ نہ جانے اس نے کیسے میرا ای میل کھوجا ہو گا۔ ممکن ہے سوشل میڈیا یا لنکڈان سے ای میل لیا ہو۔ انتہائی اشتیاق سے اس کی ای میل پڑھی۔ ای میل کیا تھی زندگی کی کتھا تھی۔ لکھا تھا کہ آپ نے جب میری اور میرے کلاس فیلوز کی دوبارہ امتحان کی درخواست رد کی تھی تو میرے دل میں آپ کے لئے گلہ رہ گیا تھا۔ آپ نے اپنی باتوں سے میرے زخمی دل پر جو مرہم رکھنے کی کوشش کی تھی میں اس پر بھی مطمئن ہرگز نہیں تھی۔میرے دل میں آپ کے لئے شکوہ و شکایت بھرا ہوا تھا۔ آپ چاہتے تو دوبارہ امتحان لے سکتے تھے۔ لیکن آپ نے مجھے فیل رکھنا مناسب جانا۔ لیکن آج جب میری شادی ہو چکی ہے اور میں بیاہ کر ایک بھرے پرے گھر میں آئی ہوں جہاں میرے ساس سسر ان کے بیٹے بیٹیاں اور بہوئیں قیام پزیر ہیں اور جب میں بیاہ کر آئی تھی تب مجھے نہ کھانا پکانا آتا تھا نہ گھر سنبھالنا۔۔ رشتوں کی کیسے ریکھ سیکھ رکھتے ہیں یہ تو بالکل ہی نہیں پتہ تھا۔ آج مجھے آپ کا دیا ہوا سبق یاد آتا ہے۔ اور میں اس پر اللہ کا شکر ادا کرتی ہوں۔ اگر میں آپ کے مضمون میں ناکامی کے تجربے سے نہ گزری ہوتی تو آج میں ٹوٹ چکی ہوتی۔ میری ہمت ختم ہو چکی ہوتی۔ لیکن میں نے حوصلہ نہیں ہارا۔ اپنی غلطیوں کا تجزیہ کر کے انہیں امپروو کیا ہے۔ اب آہستہ آہستہ اس پوزیشن پر پہنچ چکی ہوں کہ آج میرا سسرال میرے گن گاتا ہے۔ زندگی کا اتنا اہم سبق مجھے آپ نے سکھایا۔ میں آپ کا شکریہ ادا کرتی ہوئی۔ 

آخر ٹاپر تھی۔ اچھا لکھنا اسے آتا تھا۔ اس نے انتہائی خوبصورت الفاظ میں شکریہ ادا کیا تھا۔ مجھے بھی خوشی ہوئی کہ چلو میرا دیا سبق کسی کی زندگی کو سنوار گیا۔ مجھے یوں لگا کہ اُس نے مجھ سے نہیں سیکھا، میں نے ہی اس سے کچھ سیکھ لیا۔ میرے علم اور تجربے میں اضافہ ہو گیا۔ مجھے یہ سبق ملا کہ اچھی بات آج نہیں تو کبھی نہ کبھی اثر ضرور دکھاتی ہے، اس لئِے ہمیں اچھی نصیحت اور مشورہ بے لوث ہو کر دینا چاہیئے۔

ہم میں سے بہت سے افراد ناکامی کو زندگی کا خاتمہ سمجھتے ہیں۔ میرے نزدیک ناکامی ایک مفید سبق ہے۔ یہ زندگی کے متعلق ہمارے رویوں کو تہذیب بخشی ہے، ہمارے جذبات کی تطہیر کرتی ہے۔ ہمیں مشکلات میں سر اٹھا کر جینا سکھاتی ہے۔ جو بچے بہت کامیاب ہوں میں اکثر ان کے متعلق فکرمند ہو جاتا ہوں کہ یہ زندگی کی تمازتوں کا سامنا کیسے کر پائیں گے؟ کہیں یہ اس میں مرجھا کر نہ رہ جائیں۔ ایسے مایوس، دل شکستہ، ہارے ہوئے، ٹوٹے ہوئے لوگ اکثر ملتے ہیں۔ میری یہی کوشش ہوتی ہے کہ دو مثبت بول بول کر ان کی حوصلہ افزائی کر دوں۔ شاید میرے دو بول ہی اسے حالات سے مقابلہ کرنے کا حوصلہ بخش دیں۔ کئی دفعہ کسی بیمار کو یہی کہہ دینا کافی ہوتا ہے کہ آپ پہلے سے ٹھیک لگ رہے ہیں، ان شاءاللہ آپ بالکل فٹ ہو جائیں گے۔ ایسے الفاظ دوا سے زیادہ تاثیر رکھتے ہیں۔

 کسی قرض میں ڈوبے شخص کو یہ کہہ دینا کافی ہو جاتا ہے کہ یہ وقت مشکل ہے مگر عارضی ہے۔ آپ اکیلے نہیں ہیں۔ یہ چند الفاظ اس کا حوصلہ قائم کر دیتے ہیں۔

میری بیٹی بھی پڑھائی کے حوالے سے تھیٹا ٹائپ بچی ہے۔ ہر کلاس میں اول۔ ہر امتحان میں آگے۔ اپنی کلاس فیلوز میں ممتاز، خاندان کے بچوں میں نمایاں۔ میں نے اسے کہا بیٹا جس دن تم فیل ہو گی میں مٹھائی تقسیم کروں گا۔ اس پر وہ اکثر ہنستی تھی۔ پھر ایسا ہوا کہ وہ ایک مضمون میں فیل ہو گئی۔ میں اس دن گھر میں مٹھائی لیکر آیا تھا۔ مجھے خوشی تھی کہ میری بیٹی نے وہ سبق سیکھ لیا ہے جو وہ لاکھوں روپے خرچ کر کے یا ہزاروں کتب پڑھ کر بھی حاصل نہیں کر سکتی تھی۔ اس نے ناکامی کا مزہ چکھ لیا ہے۔ اب اس میں زندگی کی سختیاں جھیلنے کا حوصلہ آ گیا ہے۔ زندگی میں آگے بڑھنے کے لئے ایسے سبق بہت ضروری ہیں۔ 

نہ جانے کیوں بچے فیل ہونے پر اپنی جان لینے پر تُل جاتے ہیں۔ انہیں کوئی کیوں نہیں بتاتا کہ یہ پاس فیل محض ایک مرحلہ ہے۔ یہ فیل ہونا ہماری تربیت کا اہم ترین حصہ ہے۔ اٹس پارٹ آف دی گیم۔ ہمیں ناکامی کا بھی باوقار طریقے سے سامنا کرنا آنا چاہیئے۔ اصل ناکام تو ہم تب ہوں گے جب کوئی ناکامی ہم سے ہماری عزت، وقار اور حوصلہ چھین لے۔ اگر ہمارا حوصلہ قائم ہے تو ایسی سینکڑوں ناکامیاں بھی ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتیں۔ یہ ناکامی نہیں، کامیابی کے زینے ہیں جن پر قدم قدم چڑھ کر ہم اپنی منزل تک پہنچ جاتے ہیں۔

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !