رسول اللہ ﷺ نے اِس دعوت وپیغام کو دُنیا بھر میں پہنچانے کے لئے اپنی ہر ممکنہ کوشش فرمائی۔ ترغیب، تالیف قلبی اور صلح و دوستی کا ہر انداز اختیار فرمایا۔ بعض مواقع پر تالیف و ترغیب سے بات نہ بنی اور جہاد وقتال کرنا پڑا۔آپ ﷺ سے قبل جس طرح مقاصدِ جنگ وحشیانہ تھے اسی طرح اندازِ جنگ بھی ہولناک اور پُرتشدد تھا۔ جنگ پورے معاشرے پر خونخوار پنجے گاڑھ لیتی۔ ہر فرد اُس آگ کی لپیٹ میں آجاتا ۔ عورتیں اور بچے بھی اس کی بھینٹ چڑھا دئیے جاتے۔ دشمن کوآگ میں زندہ جلا دینا، اعضاء کا قطع وبرید اور زندہ انسان کی کھال اُتار لینا، یہ معمولی سزائیں تھیں۔ ایک ایک لڑائی صدیوں تک چلتی اور بے گناہ ہزاروں جانوں کو کھا جاتی۔ رسول اللہ ﷺ نے جنگ کو مشن کا آخری حل بتایا، جب صلح ،صفائی اور جزیہ ادائیگی کے تمام راستے بند ہو جائیں۔ پھر جنگ کے بھی منظم اصول مقرر فرمائے۔کمزوروں کی جان و عزت کا پورا پورا لحاظ فرمایا۔ دشمن اگر درندگی کا مظاہرہ کرے تب بھی اپنے پیرو کاروں کو اخلاقی و شرعی حدود سے تجاوز کی اجازت نہ دی۔ جنگ کو جہاد فی سبیل اللہ اور اعلاء کلمۃ اللہ کا نام دے کر مقصدِ جہاد واضح فرمایا ۔ کم سے کم قوت صرف کرکے زیادہ سے زیادہ مقاصد حاصل کرنے کی حکمت عملی کو بنیاد بنایا۔
روئے زمین پر کوئی کچا پکا گھر، کوئی اینٹ پتھر کا گھرانہ اور کوئی کپڑے چمڑے کا خیمہ باقی نہیں رہے گا جس میں اسلام کا کلمہ داخل نہیں ہو جائے گا، رغبت سے مانے یا مجبور ہوکر۔
آپ ﷺ نے ریاست کے داخلی استحکام کے سلسلہ میں ایک تدبیر یہ بھی اختیار فرمائی کہ جو خاندان یا افراد دائرۂ اسلام میں داخل ہوں وہ سب اپنے اپنے علاقوں سے ہجرت کرکے مدینہ منورہ کی رہائش اختیار کریں۔ اس سے دو بڑے فائدے حاصل ہوئے، ایک تویہ کہ مسلمانوں کی آبادی تعداد اور فوج میں دن بہ دن اضافہ ہوتا گیا۔ دوسرا فائدہ جغرافیائی لحاظ سے یہ ہوا کہ دُور دراز سے آنے والے ان افراد سے ان کے علاقوں کی صحیح معلومات حاصل ہوئیں اُن مقامی افراد کی راہنمائی سے اُن کے علاقوں تک پہنچنا وہاں جہاد کرنا صدقات و زکوٰۃ کی وصولی جیسے معاملات میں آسانیاں پیدا ہوئیں۔ یہ کسی نبی کے شایان نہیں ہے کہ زمین میں دشمن کو کچل دینے سے پہلے اس کے پاس قیدی ہوں، تم لوگ دنیاوی مفاد چاہتے ہو جب کہ اللہ تمہارے لیے آخرت چاہتا ہے، یقینا اللہ بڑا غالب آنے والا، حکمت والا ہے۔ اسلامی جنگی حکمت عملی کے مطابق یہ دستور پہلے دیا جا چکا تھا کہ جنگ کے دوران دشمن کی طاقت کو کچلنے پر توجہ مرکوز ہونی چاہیے اور قیدی بنانے کا عمل اس کے بعد شروع ہونا چاہیے۔ لیکن بدر میں اس ترتیب کا لحاظ نہیں رکھا گیا۔ چنانچہ جب دشمن کی فوج بھاگ نکلی تو مسلمانوں کا ایک بڑا گروہ غنیمت لوٹنے اور کفار کے افراد کو قیدی بنانے میں مصروف ہو گیا۔ اگر مسلمانوں کی پوری طاقت دشمن کے تعاقب پر صرف ہوتی تو دشمن کا خاتمہ ہو چکا ہوتا۔ اس لیے اس عمل پر رسول کریم ﷺ کو خطاب کر کے مسلمانوں کی سرزنش کی جو کہ اللہ تعالیٰ کا اسلوب خطاب ہے۔ اسلام کی تاریخ میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذاتِ اقدس محض ایک مذہبی پیشوا کے طور پر نہیں بلکہ ایک بے مثال قائد، مدبر، سیاستدان اور عسکری ماہر کے طور پر بھی نمایاں ہے۔ آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی حکمت عملی نہ صرف جزیرۂ عرب میں اسلام کے فروغ کا سبب بنی بلکہ دنیا کے عسکری و سیاسی ماہرین آج تک آپ کے اصولوں کو حیرت و تحسین کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ جنگوں میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقصد کبھی ذاتی غلبہ یا اقتدار کا حصول نہ تھا بلکہ ظلم کا خاتمہ، عدل کا قیام اور دینِ حق کی سربلندی تھا۔ آپ نے کم وسائل، محدود لشکر اور کٹھن حالات میں جو جنگی تدابیر اختیار کیں وہ دنیا کے عسکری تاریخ میں سنہری حروف سے لکھی جاتی ہیں۔ مکی زندگی میں تیرہ سال کے عرصے میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ کرام کو مسلسل ظلم و ستم سہنا پڑا۔ اس دور میں براہِ راست قتال کا حکم نہیں دیا گیا بلکہ صبر و برداشت کی تلقین ہوئی۔ تاہم یہ زمانہ مستقبل کے لیے ایک مضبوط افرادی قوت کی تیاری کا تھا۔ صحابہ کرام کی ایمانی تربیت، اتحاد و بھائی چارے کا قیام، اور قربانی کے جذبے نے بعد میں اسلامی لشکر کو وہ طاقت بخشی جس کی بنیاد ایمان پر تھی، نہ کہ مالی وسائل پر۔
مدینہ منورہ کی ہجرت کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پہلی مرتبہ ایک ریاستی ڈھانچہ میسر آیا۔ مدینہ کا "میثاق" اس بات کی روشن دلیل ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک منظم سیاسی و دفاعی حکمت عملی مرتب کی۔ اس معاہدے کے ذریعے مدینہ کے مسلمان، یہودی اور دیگر قبائل ایک اجتماعی دفاعی معاہدے میں شریک ہوئے تاکہ خارجی حملوں کے وقت سب متحد ہو کر شہر کا دفاع کریں۔ یہ ایک نہایت دانشمندانہ سیاسی و عسکری قدم تھا۔
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تمام جنگیں دفاعی نوعیت کی تھیں۔ بدر، احد، خندق یا دیگر معرکوں میں ہمیشہ دشمن کی جارحیت کے جواب میں اقدام کیا گیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دشمن کی نقل و حرکت پر گہری نظر رکھتے تھے۔ مختلف غزوات سے قبل آپ نے جاسوس اور چھوٹے دستے روانہ کیے تاکہ دشمن کی تیاریوں اور راستوں کا علم ہو۔ مثلاً غزوہ بدر سے پہلے حضرت علی اور دیگر صحابہ کو دشمن کے قافلے کی خبر لانے کے لیے بھیجا گیا۔ یہ طریقہ جدید فوجی حکمت عملی میں انٹیلی جنس کے طور پر رائج ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کبھی بھی بغیر منصوبہ بندی کے میدانِ جنگ میں نہیں اترے۔ غزوہ بدر میں پانی کے چشمے پر قبضہ کرنا، خندق میں دفاعی خندق کھودنا، یا حدیبیہ میں صلح کی میز پر بیٹھنا یہ سب غیر معمولی حکمت عملی کے مظاہر ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دشمن کے مقابلے میں مسلمانوں کے حوصلے بلند رکھنے پر توجہ دیتے۔ بدر کے دن بار بار فرمایا: "اٹھو اس جنت کی طرف جس کی چوڑائی آسمانوں اور زمین کے برابر ہے۔" صحابہ کرام کے ایمان کو تقویت ملی اور قلیل لشکر نے کثیر دشمن کو شکست دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نئے ہتھیار اور حکمت عملی اپنانے سے ہچکچاتے نہیں تھے۔ خندق کھودنے کا طریقہ فارس سے لیا گیا تھا۔ اسی طرح غزوہ طائف میں منجنیق کا استعمال کیا گیا جو اس زمانے کی جدید عسکری ٹیکنالوجی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اصل ہدف دشمن کو نیست و نابود کرنا نہیں بلکہ ہدایت کی طرف لانا تھا۔ فتح مکہ اس کی سب سے بڑی مثال ہے جہاں آپ نے عام معافی کا اعلان فرمایا۔
غزوہ بدر (2 ہجری)
مسلمان 313 اور قریش 1000 کے قریب۔ حکمت عملی یہ کہ پانی کے قریب ڈیرے ڈالنا، صف بندی، اور دعا و استقامت پر زور۔ ایمان کی بنیاد پر ایک چھوٹی جماعت نے بڑی فوج کو شکست دی۔
غزوہ احد (3 ہجری)
مسلمانوں کو تیر اندازوں کی حکم عدولی کے باعث نقصان ہوا۔
اس معرکے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ سبق دیا کہ فوجی ڈسپلن جنگی کامیابی کی بنیادی شرط ہے۔
غزوہ خندق (5 ہجری)
کفار نے مدینہ پر بڑا حملہ کیا۔
سلمان فارسی کی رائے پر خندق کھود کر شہر کو محفوظ بنایا گیا۔ یہ دفاعی حکمت عملی دشمن کے لیے حیرت کا باعث بنی۔
صلح حدیبیہ (6 ہجری)
اگرچہ یہ جنگی معرکہ نہ تھا لیکن ایک عظیم سیاسی و عسکری تدبیر تھی۔ وقتی طور پر بظاہر مسلمانوں کے لیے سخت شرائط قبول کی گئیں مگر بعد میں یہی صلح اسلام کی تیز رفتار اشاعت کا ذریعہ بنی۔
فتح مکہ (8 ہجری)
مکمل حکمت عملی کے ساتھ مختلف جانب سے لشکر کو مکہ میں داخل کیا گیا۔ خونریزی کے بجائے عام معافی دی گئی۔
یہ کامیابی اسلامی عسکری اخلاقیات کا سب سے روشن نمونہ ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جنگی حکمت عملی کی سب سے منفرد بات یہ ہے کہ آپ نے جنگ کے دوران بھی اخلاقی اصولوں کی پاسداری کی۔ عورتوں، بچوں، بوڑھوں اور غیر مسلح افراد کو قتل کرنے سے منع فرمایا۔ کھیتوں اور عبادت گاہوں کو نقصان پہنچانے سے روکا۔ قیدیوں کے ساتھ حسن سلوک کی تعلیم دی۔ یہ اصول آج کے بین الاقوامی قوانینِ جنگ سے صدیوں پہلے آپ نے عملی طور پر نافذ کر دیے۔
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جنگی حکمت عملی ایک مکمل نظامِ فکر اور عمل ہے جس میں سیاسی تدبر، عسکری منصوبہ بندی، اخلاقی اقدار اور روحانی قوت سب شامل ہیں۔ آپ نے کم وسائل کے باوجود نہ صرف دشمنوں کو شکست دی بلکہ انسانیت کے لیے ایک ایسا ضابطہ جنگ چھوڑا جو ہر دور میں قابلِ عمل ہے۔ آج کے دور کے عسکری ماہرین، سیاسی رہنما اور بین الاقوامی ادارے اگر آپ کی جنگی حکمت عملی سے رہنمائی لیں تو دنیا امن، انصاف اور انسانی بھائی چارے کا گہوارہ بن سکتی ہے۔
لا نبی بعدی!
