صبح منہ اندھیرے بکریوں کا ریوڑ لیکر سنگلاخ پہاڑوں کی گھاٹیوں میں روا دواں نحیف و ناتواں بچہ جو اپنے کمزور شانوں پر اپنے خاندان کی کفالت کا بوجھ اٹھائے ہوئے تھا اور جس کی سانولی رنگت کو تپتی دوپہروں کی کرخت دھوپ اور حالات کی سختیوں نے جھلسا کر سیاہی مائل کر دیا تھا۔ اپنے مالک کی بکریوں کی رکھوالی کرتے اس ذمہ دار و مفلوک الحال بچے کی ذہانت سے روشن آنکھیں اس کی بلند ہمتی کا اظہار کرتیں۔
اس نے آنکھوں پہ ہاتھوں کا چھجہ بنا کر دور سے آتے دو مسافروں کو دیکھا۔ آنے والوں میں سے ایک نے قریب آ کر پیاس کی شدت کے سبب دودھ کا سوال کیا۔ بچے نے متانت سے جواب دیا کہ دودھ تو ہے مگر میں دے نہیں سکتا کہ میں اس ریوڑ کا مالک نہیں اور میں خیانت نہیں کر سکتا۔ دونوں نو واردان اس جواب سے بہت محظوظ ہوئے اور دونوں میں سے پرنور شکل والے نے پوچھا کہ اس ریوڑ میں کوئی ایسی بکری ہے جس نے بچہ نہ دیا ہو۔ چرواہے نے ایک بکری کی جانب اشارہ کر دیا۔ اس پرنور پیکر نے کچھ پڑھتے ہوئے بکری کے تھنوں پر ہاتھ پھیرا ، یہاں تک کہ تھن دودھ سے لبریز ہو گئے۔ اس بکری سے اتنا دودھ حاصل ہوا کہ تینوں نے سیر ہو کر پیا۔ جب دونوں مسافر چلنے لگے تو ننھا چرواہا لپک کر اس روشن چہرے والے سے درخواست گزار ہوا کہ جو کلمے آپ نے پڑھے ہیں وہ مجھے بھی سکھا دیں تا کہ میں بھی اسی آسانی سے دودھ دوہ لیا کروں۔ اس پیکر نورانی نے شفقت سے بچے کے سر پر دست مبارک پھیرتے ہوئے کہا کہ "تم خود علم سکھانے والے بچے ہو۔"
یہ خوش نصیب بچہ عبداللہ اور دونوں معزز مسافروں میں ایک حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور دوسرے رحمت العالمین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تھے۔ یہ دین اسلام سے اس بچے کا پہلا تعارف تھا اور اس ملاقات نے ایسا اثر چھوڑا کہ اگلے دن صبح ہی صبح اس چرواہے نے مکہ کے سوق میں حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو جا لیا اور ان سے ان مسافروں کی حلیہ مبارک کی پوچھ تاچھ کی اور یوں ان کے جواب کی روشنی میں اپنے گوہر نایاب کو کھوجتا ہوا قصر اسلام میں داخل ہوا۔ وہ یتیم تھے اور اجرت پر عقبہ بن ابی معیط کی بکریاں چرایا کرتے تھے۔ اس دور جہالت میں بھی آپ طلب علم سے سرشار تھے اور مکتب جایا کرتے۔ قبول اسلام کے وقت حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عمر گیارہ بارہ برس تھی۔
نام۔ عبداللہ، کنیت۔ ابو عبدالرحمان۔
نسب۔ عبداللہ بن مسعود بن غافل بن حبیب بن شمخ بن فار بن مخزوم بن صاہلی بن کاہل بن الحارث بن تمیم بن سعد بن ہذیل بن مدرکہ بن الیاس بن مضر۔
ماں کا نا ام عبد اور یہ بھی ابتدا ہی میں مشرف بہ اسلام ہو گئی تھیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، حضرت عبداللہ کو زیادہ تر
" ابن ام عبد" کہ کر مخاطب کیا کرتے تھے۔
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ مفسر، محدث، فقہہ اور مجتہد تھے اور
بلا واسطہ خود مہبط وحی و الہام سے ستر سورتوں کی تعلیم حاصل کی تھی۔ وہ فرمایا کرتے تھے کہ قرآن پاک میں کوئی ایسی آیات نہیں جن کی نسبت میں یہ نہ جانتا ہوں کہ کب، کہاں اور کس کے بارے میں اتری ہے۔ حضرت عبداللہ کا ارشاد گرامی تھا کہ اگر کسی شخص کے پاس قرآن مجید کا مجھ سے زیادہ علم ہوتا تو میں اس کے پاس سفر کر کے جاتا۔
مدینہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو مسجد نبوی سے متصل ایک قطعہ زمین مرحمت فرمائی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جانب سے انہیں اذن عام تھا کہ جب چاہو پردہ اٹھا کر خلوت میں شریک ہو جاؤ۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ خادم خاص تھے اور سفر حضر، غزوات و امن ، مسجد گھر اور خلوت و جلوت میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ہوتے۔ رحمت عالم کا بستر بچھانا ہو یا وضو کا پانی فراہم کرنا، مسواک پیش کرنی ہو یا سفر میں کجاوہ کسنا یا قصواء یا عضباء کی مہار پکڑنی ہو ہر خدمت میں پیش پیش۔ حضرت عبداللہ بن مسعود حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نعلینِ مبارک کو اپنے بغل میں دبائے رکھتے تھے یہاں تک کہ آپ کا مبارک لقب ہی "صاحب نعلین" پڑ گیا۔ ان تمام خدمات کے ساتھ ساتھ آپ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمدم و ہمراز بھی تھے۔
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم یمن سے آئے تو کچھ عرصہ مدینہ منورہ میں قیام کیا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود کو اس کثرت سے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آتے جاتے دیکھا کہ عرصے تک ہم لوگ انہیں خاندان رسالت کا ایک رکن ہی گمان کرتے رہے۔
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ جلیل القدر صحابی رسول اور دائرہ اسلام میں داخل ہونے والوں میں آپ کا نمبر چھٹا تھا۔ آپ کا شمار سابقون اور الاولون میں ہوتا ہے۔ حضرت عبداللہ ابن مسعود نے دو دفعہ حبشہ اور پھر مدینہ منورہ ہجرت کی، اس لیے آپ کا شمار اصحاب الہجرتین میں ہوتا ہے۔
حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد مبارک تھا کہ قرآن مجید چار آدمیوں سے حاصل کرو۔
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ
حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ
حضرت سالم مولیٰ ابی حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ، حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نہایت دبلے پتلے اور کوتاہ قامت تھے اور ان کی پنڈلیاں غیر معمولی طور پر پتلی تھیں۔ کسی سفر میں وہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے مسواک توڑنے کے غرض سے پیلو کے درخت پر چڑھے اور کپڑے کے ہٹ جانے کے سبب آپ کی پنڈلیاں نمایاں ہو گئیں۔ کچھ صحابہ یہ دیکھ کر بے ساختہ ہنس پڑے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اصحاب سے ہنسنے کا سبب دریافت کیا اور وجہ سن ارشاد فرمایا کہ محشر کے دن میزان عمل میں عبداللہ کی یہ کمزور پنڈلیاں احد کے پہاڑ سے بھی زیادہ وزنی ہوں گی۔
ایک دفعہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، حضرت ابو بکر صدیق اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ سمت مسجد نبوی میں آئے تو حضرت عبداللہ بن مسعود نماز میں مصروف تھے اور سورہ النساء کی آیات تلاوت فرما رہے تھے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کی خوش الحانی سے اس قدر خوش ہوئے کہ فرمایا اسئل تعطہ، اسئل تعطہ، جو کچھ سوال کرو پورا کیا جائے گا، جو کچھ سوال کرو پورا کیا جائے گا۔ دوسری صبح حضرت ابو بکر نے ان کے در دولت پہ حاضر ہو کر ان کی دعا کے بابت استفسار کیا۔ حضرت عبداللہ نے بتایا کہ میں نے اللہ تعالیٰ سے دعا مانگی کہ
" اے خدا ! مجھے ایسا ایمان عطا کر جس کو کبھی جنبش نہ ہو، ایسی نعمت دے جو کبھی ختم نہ ہو اور جنت میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دائمی رفاقت نصیب فرما۔"
سبحان اللہ کس قدر جامع دعا۔
حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک روز حضرت عبداللہ بن مسعود کو بیٹھے دیکھا تو فرمایا کہ یہ شخص علم و معرفت سے بھری چھاگل ہے۔
حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا قول تھا کہ قرآن اور سنت کا علم عبداللہ بن مسعود پر ختم ہو جاتا ہے
حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں کسی کو نہیں جانتا، جو طور و طریق میں ابن مسعود سے زیادہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مشابہ ہو۔
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس زمانے میں ایمان لائے تھے جب مکہ کی سر زمین میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سوا کسی اور نے علانیہ بلند آہنگی سے تلاوت قرآن کی جرت نہیں کی تھی۔ ایک روز مسلمانوں نے باہم جمع ہو کر اس مسئلہ پر گفتگو کی اور سب نے بالاتفاق کہا کہ ، خدا کی قسم قریش نے ابھی تک بلند آواز میں قرآن پڑھتے نہیں سنا، اس پر خطر فرض کو کون انجام دے گا؟
حضرت عبداللہ نے جوش ایمانی سے مغلوب ہو کر کہا میں۔ ساتھیوں نے سمجھایا کہ تم قریشی نہیں بلکہ قریش کے حلیف ہو، ناتواں اور مفلوک الحال بھی، تمہیں قریشیوں کے غضب سے بچانے کوئی آگے نہیں بڑھے گا مگر وہ اپنی بات پر قائم رہے۔
حضرت عبداللہ بن مسعود پہلے صحابی رسول تھے جنہوں نے حرم پاک میں چاشت کے وقت جب کہ تمام مشرکین قریش اپنی انجمن میں حاضر تھے، ایک طرف کھڑے ہو کر بلند آواز میں سورہ رحمان کی تلاوت شروع کی۔ مشرکین نے تعجب اور غور سے سن کر پوچھا کہ
ابن ام عبد کیا کہ رہا ہے؟
کسی نے کہا محمد ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) پر جو کتاب اتری ہے اسے پڑھ رہا ہے۔ یہ سننا تھا کہ تمام مجمع غیظ و غضب سے مشتعل ہو کر آپ پر ٹوٹ پڑا اور اس قدر مارا کہ آپ بے ہوش ہو گئے۔ وہ جوش ایمانی سے مغلوب اگلے دن پھر حرم کعبہ جا کر تلاوت کرنے کو تیار تھے کہ لوگوں نے کہا جانے دو، اس قدر کافی ہے۔ جس کا سننا وہ ناپسند کرتے تھے اس کو تم نے بلند آہنگی کے ساتھ ان کے کانوں تک پہنچا دیا۔
حضرت عبداللہ بن مسعود کے جوش و غیرت ایمان نے رفتہ رفتہ تمام مشرکین قریش کو ان کا دشمن بنا دیا یہاں تک کہ مکہ کی سر زمین ان پر تنگ کر دی گئی لہذا وہ دو دفعہ حبشہ اور پھر مدینہ منورہ ہجرت کر گئے۔ مدینہ منورہ میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپ کی مواخات حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کی۔
جنگ بدر میں ابو جہل کو حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے واصل جہنم کیا۔ قصہ کچھہ یوں ہے کہ جنگ زوروں پر تھی کہ دو انصار بچے معاذ اور معوذ آپ کے قریب آئے اور پوچھا کہ چچا، ابو جہل کون سا ہے؟
حضرت عبداللہ بن مسعود نے انگلی سے اشارہ کر دیا اور دونوں بچے کڑکتی بجلی بن کر اس پر ٹوٹ پڑے۔ جنگ کے اختتام پر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ابو جہل کا پتہ کرو۔ حضرت عبداللہ بن مسعود نے اس کی تلاش میں میدان جنگ چھان مارا۔ وہ لاشوں کے ڈھیر تلے دبا اپنی آخری سانسیں گن رہا تھا۔ اسے زندہ دیکھ کر یہ غیض کے عالم میں اس کی چھاتی پر سوار ہو گئے اور اسی کی تلوار سونت کر اس کا گلا کاٹنے لگے۔ ابو جہل نے انہیں اپنی چھاتی پر سوار دیکھا تو کہا
"اے حقیر بھیڑیں چرانے والے تو نے مشکل کام کو ہاتھ ڈالا ہے "
انہوں نے اس کا کام تمام کر کے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اطلاع دی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ یہ اس امت کا فرعون تھا اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خوش ہو کر ابو جہل کی تلوار حضرت عبداللہ کے حوالے کر دی۔
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ہر غزوہء میں شرکت کی۔ غزوہء احد، خندق، حدیبیہ، خیبر اور فتح مکہ میں بھی رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمرکاب تھے۔ مکہ سے واپس آتے ہوئے راہ میں غزوہء حنین پیش آیا۔
اس جنگ میں مشرکین اس طرح یکایک مسلمانوں پر ٹوٹ پڑے کے مسلمان بدحواسی کے ساتھ منتشر ہو گئے اور دس ہزار کی جماعت میں صرف اسی اصحاب ثابت قدمی کے ساتھ شمع نبوت کے ارد گرد پروانہ وار اپنی فدویت کے جوہر دکھاتے رہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارد گرد باقی رہ جانے والے اسی جانثاروں میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی شامل تھے۔
حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحلت نے ان کو اس قدر دل شکستہ کیا کہ وہ دنیا سے تقریباً کنارہ کش ہی ہو گئے۔
جنگ یرموک میں حضرت ابو بکر صدیق نے غنائم کی محافظت حضرت عبداللہ بن مسعود کے سپرد کی۔
بیس ہجری میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ عبداللہ بن مسعود کو کوفہ کا قاضی مقرر کیا، اس کے علاؤہ خزانہ کی افسری، مسلمانوں کی مذہبی تعلیم اور والی کوفہ کی وزارت کے فرائض بھی ان سے متعلق تھے۔ چنانچہ فرمان تقرری کے الفاظ یہ ہیں کہ
میں نے تم پر عمار بن یاسر کو امیر اولین، عبداللہ بن مسعود کو معلم اور وزیر بنا کر بھیجا ہے۔ ابن مسعود کو بیت المال کی افسری بھی دی ہے۔ یہ دونوں حضرات حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ان ذی عزت اصحاب میں سے ہیں جو معرکہ بدر میں شریک تھے۔ اس لیے ان کا اتباع کرو، حقیقت یہ ہے کہ میں نے تمہارے لیے ابن ام عبد کو اپنی ذات پر ترجیح دی ہے۔
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ میں انتظامی قابلیت، بیدار مغزی اور حساب فہمی درجہ کمال کی تھی اور انہوں نے کامل دس برس نہایت خوش اسلوبی سے اپنے فرائض انجام دیے۔
حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اخیر عہد حکومت میں جب سازشں و مفسدہ پردازی کا بازار گرم ہواتو حضرت عبداللہ یکایک معزول کر دیے گئے۔ معزولی کی خبر نے کوفہ کی علمی دنیا کو ماتم کدہ بنا دیا۔ احباب، معتقدین، تلامذہ اور اعیان شہر کی بڑی جماعت نے اس فرمان پر سخت برہمی کا اظہار کیا اور حضرت عبداللہ سے مصر ہوئے کہ آپ کوفہ سے تشریف نہ لے جائیں، اگر اس کے پاداش کوئی مصیبت پیش آئے گی تو ہم سب اپنی جانیں قربان کرنے کو تیار ہیں۔ دوسرا تنازعہ قرآن شریف سے متعلق تھا۔ حضرت عبداللہ کے پاس عہد نبوت کا جمع کیا ہوا ایک مصحف تھا، جیسے وہ عزیز از جان رکھتے تھے، چنانچہ امیر المومنین حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جب مصحف صدیقی کے سوا تمام مصاحف کو تلف کر دینے کا حکم دیا تو یہ حکم حضرت عبداللہ کو سخت ناگوار ہوا۔ شاگردوں اور معتقدین کی کثیر تعداد کی ہمنوائی کے باوجود وہ اپنے فیصلے پر اٹل رہے کہ امیر المومنین کی اطاعت مجھ پر فرض ہے اور میں نہیں چاہتا کہ فتنہ و فساد جو عنقریب برپا ہونے والا ہے اس کی ابتدا میری ذات سے ہو۔ غرض وہ عمرہ کی نیت کر کے ایک جماعت کے ساتھ حجاز روانہ ہو گئے اور عمرے سے فارغ ہو کر مصحف حضرت عثمان غنی کے حوالے کر دیا۔
حضرت عبداللہ بن مسعود کے جملہ مرویات کی تعداد 848 ہے، ان میں سے 64 بخاری اور مسلم دونوں میں ہیں ، انکے علاؤہ 21 بخاری میں ہیں اور 35 مسلم میں ہیں۔
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوفہ میں باقاعدہ حدیث، فقہ اور قرآن پاک کی تعلیم دیتے تھے۔ ان کی درس گاہ میں شاگردوں کا بڑا مجمع رہتا تھا اور ان کے شاگردوں کی تعداد اٹھ ہزار سے زیادہ تھی۔
جن میں علقمہ رحمہ اللہ، اسود رحمہ اللہ، مسروق، عبیدہ حارث، قاضی شریح اور ابو اوائل نہایت نامور تابعین تھے۔
ابو عمر شیبانی کہتے ہیں کہ میں ابن مسعود کی صحبت میں کامل ایک سال رہا ، حدیث بیان کرتے وقت وضع احتیاط کا یہ عالم تھا کہ میں بہت ہی کم ان کے منہ سے "قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم" ادا ہوتے سنا۔ ایک مرتبہ انہوں نے ایک حدیث بیان کی تو تمام جسم میں رعشہ آ گیا اور کہنے لگے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسی طرح فرمایا تھا، یا اس کے قریب قریب یا اسی سے مشابہ۔
آخری عمر میں قرآن مجید کی تلاوت کے دوران کثرت گریاں کے سبب ان کے رخساروں پر مستقل دھاریوں کا نشان ثبت ہو گیا تھا۔ 32 ھ میں ان کا سن مبارک ساٹھ برس سے متجاوز ہو چکا تھا۔ حضرت عبداللہ کو جب سفر آخرت کا یقین ہو گیا تو انہوں نے حضرت زبیر بن العوام اور ان کے صاحب زادے عبداللہ بن زبیر کو بلا کر اپنے مال و اسباب و اولاد اور خود اپنی تجہیز و تکفین کے متعلق وصیت فرمائی۔
حضرت عبداللہ کے لیے بیت المال سے پانچ ہزار درہم کا سالانہ وظیفہ مقرر تھا جو ان کے انتقال سے دو سال پہلے خلیفہ ثالث کے حکم پر روک دیا گیا تھا۔ ان کے انتقال کے بعد ، حضرت زبیر بن العوام کی سفارش پر وظیفہ دوبارہ حضرت عبداللہ کی اولاد کو جاری کیا گیا۔
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نماز جنازہ حضرت زبیر بن العوام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پڑھائی اور جنت البقیع میں انہیں حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پہلو میں سپرد خاک کیا گیا۔
انا اللہ وانا الیہ راجعون
حوالہ جات
اسد الغابہ 2 تذکرہ عبداللہ بن مسعود
مسند ابن حنبل
طبقات ابن سعد قسم اول جلد 3, تذکرہ عبداللہ بن مسعود
اسد الغابہ 2/173
طبقات ابن سعد، صفحہ 110
مستدرک 3/316
طبقات ابن سعد قسم اول، جز ثالث 109
امابۃ تذکرہ عبداللہ بن مسعود
تہذیب الکمال 234
لیکچر شیخ یاسر قاضی
