یہ دعویٰ کرنا کہ پچھلے بیس پچیس برسوں میں کچھ خاص یا بہتر لکھا ہی نہیں جا رہا، یہ دراصل ادب کی کم مائگی کا نہیں کہنے والے کے اپنے مطالعے کی کمزوری کا اعتراف ہے۔ ہر نیا عہد اپنے سوالات، اپنی جمالیات اور اپنے داخلی اضطراب کے ساتھ ادب کو تشکیل دیتا ہے۔ اگر نقاد اور قاری اپنے ذہنی سانچوں میں تبدیلی نہ کریں اور وقت کے ساتھ خود کو اپ ڈیٹ نہ کریں تو انہیں ہر نئی تحریر غیر مانوس، نامکمل یا غیر معیاری محسوس ہوگی۔
مسئلہ ادب کا نہیں، نظریاتی دائروں کی قید بندی کا ہے ۔حقیقت یہ ہے کہ اردو تنقید طویل عرصے تک تین بڑے نظریاتی دھاروں کے گرد ہی گھومتی رہی ہے ۔ ترقی پسندی، جدیدیت، اور مابعد جدیدیت ۔ جب بھی ادب پر گفتگو کی جاتی ہے تو گفتگو کا محور بس یہی تین نظریاتی دھارے رہتے ہیں ۔
یہ سچ ہے کہ یہ تینوں تحریکیں اپنے عہد میں ناگزیر تھیں، مگر سوال یہ ہے کہ کیا اکیسویں صدی کا ادب انہی خانوں میں سما سکتا ہے؟ کیا آپ آج کے ادب کو پچاس سال پرانی کہنہ کسوٹی پر ہی پرکھیں گے ؟ جو فریم ترقی پسندی،جدیدیت اور مابعد جدیدیت کے نظریے سے متاثر ہوکر بنایا گیا تھا کیا آج کا ادیب اور شاعر اس فریم میں فٹ ہو سکتا ہے ؟
سن 2000 کے بعد کا فکشن نہ خالص ترقی پسند ہے، نہ جدیدیت کا اسیر، اور نہ ہی محض مابعد جدید بازی گری۔ اس میں نئی سماجی نفسیات، عالمی ثقافتی دباؤ، اور ڈیجیٹل عہد کی پیچیدگیاں شامل ہیں۔ اگر آپ اس عہد کے ادب کو سمجھنا چاہتے ہیں تو ایک نئی کسوٹی ایجاد کرنی ہوگی ۔ دیکھنا ہوگا سن 2001 سے لے کر اب تک پچیس سالوں میں کیا تبدیلیاں آئیں ۔ زمانہ کہاں سے کہاں تک پہنچا ۔ اسکے اثرات ادب پر کس طرح پڑے اور لکھنے والوں کی جو نئی کھیپ سامنے آئی ہے ان کے موضوعات کیا ہیں ؟ اب زمانہ ایک سو اسی ڈگری کے زاوئے پر بدل چکا ہے ۔ ترقی کی رفتار بیحد تیز ہے ۔ انٹرنیٹ اور اے آئی نے سوچ کو ہی نہیں پوری زندگی کو تبدیل کر دیا ہے. آج کے انسانوں کو ان نئے مسائل کا سامنا ہے جس کا تصور سن دو ہزار سے پہلے کیا ہی نہیں جا سکتا تھا ۔
ستر اور اسی کی دہائی کے نوجوان اور آج کے نوجوانوں میں زمین آسمان کا فرق ہے ۔ آج بارہ چودہ سال کے بچے ڈپریشن کا شکار ہو رہے ہیں۔ چھوٹے بچے آرٹیفیشیل آرٹیزم کا شکار ہو رہے ہیں ۔ سوشل میڈیا انسانی شناخت کو مسلسل چیلنج کر رہا ہے۔عالمی ثقافت براہ راست گھروں میں داخل ہو چکی ہے۔خودکشی جیسے سانحات عام ہو چکے ہیں ۔ پہلے طلاق مرد دیتے تھے اور عورت کو بے بس و لاچار سمجھا جاتا تھا ۔ اب آپ طلاق کے کیسیز کا مطالعہ کریں گے تو آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ طلاق لینے کی شرح عورتوں میں زیادہ ہے اور مرد لاچار ہے ۔ خاندان کی ساخت اور اقدار میں نمایاں تبدیلی آ چکی ہے۔ زبان تبدیل ہو چکی ہے ۔ ہم جنسیت عام ہو چکی ہے ۔ یہ وہ مسائل ہیں جن کا تصور پچھلے عہد میں اس شدت کے ساتھ ممکن نہ تھا۔
بہترین ادب وہی ہے جو اپنے وقت ، عہد اور حالیہ زندگی کی ترجمانی ہو ، عہد جدید میں جو کچھ لکھا جا رہا ہے وہ اپنے زمانے اور سماج کا مکمل عکاس ہے ۔ اس دور میں بہترین شعری اور نثری ادب ہمیں دیکھنے پڑھنے کو مل رہا ہے ۔ پچھلے پچیس سالوں میں کئی اہم ناول منظرِ عام پر آئے جنہوں نے بدلتے ہوئے سماجی اور نفسیاتی منظرنامے کو بیان کیا۔ خالد جاوید کا ناول نعمت خانہ، محسن خان کا ناول اللہ میاں کا کارخانہ ، علی اکبر ناطق کا ناول نو لکھی کوٹھی، سید محمد اشرف کا ناول آخری سواریاں ، اشعر نجمی کا ناول کانگریس ہاؤس ،صغیر رحمانی کا ناول تخمِ خوں ،شبیر احمد کا ناول ہجور آما وغیرہ اسکی بہترین مثال ہیں۔
یہ تمام ناول اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہیں کہ اردو ادب نہ صرف زندہ ہے بلکہ اپنے عہد کی باریک ترین تبدیلیوں کو محسوس بھی کر رہا ہے۔ سن دو ہزار کے بعد آنے والی نسل زیادہ بے باک ہے۔ زیادہ نڈر ہے۔ نفسیاتی پیچیدگیوں کو براہ راست بیان کرنے کا ہنر جانتی ہے اور اخلاقی ابہام سے خوف زدہ نہیں ہے ۔صنفی، سماجی اور ثقافتی مسائل اور سوالات کو نئے زاویے سے دیکھتی ہے۔ یہ نسل ستر اور اسی کی دہائی کی جمالیات کو دہرانا نہیں چاہتی۔ وہ اپنے عہد کی سچائیوں کو اپنے اسلوب میں بیان کرتی ہے۔ اگر ہم اسے پرانی کسوٹی پر پرکھنے کی کوشش کریں گے تو لازماً اختلاف پیدا ہوگا۔
بات کڑوی ہے مگر سچی ہے کہ اصل بحران تخلیق کا نہیں، تنقید کا ہے۔ جب تک پرانے تنقید نگار خود کو اپ ڈیٹ نہیں کریں گے وہ نئی تحریر کو یا تو نظرانداز کریں گے کمتر ثابت کرنے کی کوشش کریں گے یا سرے سے خارج کریں گے ۔ ایمانداری یہ ہے کہ ہر عہد کی تخلیق کو اسی عہد کی سماجی، نفسیاتی اور تہذیبی تناظر میں سمجھناچاہیے ۔
وہ ناقدین جو اب کہنہ ہو چکے ہیں انہیں ڈیجیٹل عہد کی نفسیات کو سمجھے کی ضرورت ہے ۔ عالمی ثقافتی اثرات کو سنجیدگی سے لے کر نوجوان نسل کے ذہنی بحران کو ادبی تناظر میں پرکھنے کی سعی کرنی ہوگی ۔ نئے بیانیے کی ساخت اور زبان کو قبول کرنا ہوگا
یہ کہنا کہ "کچھ لکھا ہی نہیں جا رہا" دراصل اس بات کا اعتراف ہے کہ آپ نے نئے ادیبوں شاعروں کو پڑھنا چھوڑ دیا ہے۔ آپ ابھی تک پرانی فینٹیسی کا شکار ہیں ۔ ادب ہر عہد میں لکھا جاتا ہے، مگر اسے دیکھنے کے لیے تازہ بینائی چاہیے۔
سن 2000 کے بعد اردو ادب میں ایک نئی کھیپ سامنے آئی ہے جو اپنے عہد کی سچائیوں کو شاعری اور فکشن میں پوری شدت کے ساتھ بیان کر رہی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے پرانے دائروں سے باہر نکلیں، اپنے مطالعے میں تازہ ادیبوں کو شامل کریں۔ اپنے نظریے کو وسیع کریں، اور نئی صدی کے ادب کو اس کے اپنے تناظر میں سمجھیں۔ ناقدین کا سوال یہ ہے کہ کیا اس نئے اور ڈیجیٹل عہد میں ادب زندہ ہے ۔ میرا سوال یہ ہے کہ کیا ہماری تنقید ابھی زندہ ہے؟
تنقید کے نئے ٹولز اور emerging موضوعات سے نابلدی ہماری تنقید کا ایک ناقابل تلافی المیہ ہے۔ ہمارے نقاد تھیوری پر سرقہ شدہ خیالات بنا سمجھے بوجھے پیش کردیتے ہیں لیکن ان تھیوریز کا اطلاق آج کے ادب پر کرنے سے قاصر ہیں۔ مثلا" ردّتشکیل اور معنی کے التواء کا ذکر عام ہے لیکن شاید ہی کسی نے دریدا کا باالاستعاب مطالعہ کرکے سمجھا ہو۔ اردو فکشن اور شعری تخلیقات میں زمانی نفسیات، جمالیاتی عصریت اور موضوعاتی تنوع تو موجود ہے لیکن وہ پاریکھ خودبینی کہاں ہے جو انہیں گہرے مطالعاتی بصیرت کے ساتھ ہمارے سامنے لاسکیں۔ اسی طرح آج کے ناول نگار کندیرا کے پولی فونک تکنیک کا استعمال کررہے ہیں مگر تنقید اس پس منظر میں تخلیق کو دیکھنے سے قاصر ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کے لیے جدید علوم سے آشنائی ضروری ہے جو کہ ہمارے ناقدین کے یہاں بقدر ظرف بھی نہیں۔
ایسی صورتحال میں تخلیقی ادب کے تعلق سے مایوسی کا اظہار نقاد کی بے بصیرتی، تہی دامنی اور روایتی ذہنیت کو برہنہ کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ میں یہ کہتی ہوں اپ ڈیٹ ہو جائیے۔
