غصہ اور انسانی نفسیات ۔۔۔نیّر تاباں

اینگر مینجمنٹ پر لیکچر شروع ہوا توہم نے سوال کر ڈالا:
غصہ کرنے والا زیادہ نقصان میں ہے یا جس پر غصہ اتارا جائے؟
جواب حسبِ توقع تھا: 
“جس بیچارے پر غصہ اتارا گیا، اس کا نقصان ہے۔”

حقیقی بیچارہ وہ تھوڑی ہے جس پر غصہ اتارا جائے۔ اس کے پاس تو ڈھیر چوائسز ہیں۔ ممکن ہے وہ ایک کان سے سنے، دوسرے سے اڑا دے۔ آپ نے دیکھا ہو گا کہ جن بچوں پر بہت غصہ کیا جاتا رہے، وہ ڈھیٹ ہو جاتے ہیں۔ 

یہ بھی ممکن ہے وہ خاموش رہ کر معاملہ رب کے حوالے کرے اور پر سکون ہو جائے۔ ہو سکتا ہے جوابی غصہ آئے تو اسے چینلائز کرنے کو تیز واک یا ورک آؤٹ کر لے۔ سوشل میڈیا پر تو بلاک کر کے اپنی زندگی میں مگن ہو جانے کی آپشن موجود ہے۔ 

حقیقی بے چارہ تو وہ ہے جو کسی ایک دن دوسرے پر زہر اگلنے کے لئے کئی ہفتے، مہینے، سال وہ سارا زہر اپنے اندر لئے لئے پھرتا ہے۔ جس پر غصہ ہو اس کے پاس کافی چوائسز ہیں، لیکن وہ بیچارہ جو غصہ کر رہا ہے اس کے پاس تو بس یہی چوائس ہے کہ سلگتے رہو۔ 

مزے کا لیکچر تھا اینگر مینجمنٹ والا۔ وہیں کہیں ہم نے “لیٹ دیم” تھیوری پڑھی۔ 
لوگوں کی اپنی ان سیکیوریٹیز ہوا کرتی ہیں۔ ہمیں ان کے لیول پر نہیں آنا ہوتا۔ کسی کی کوئی بات ایسی سنیں، کوئی ایسی حرکت جو خون کو جوش میں لائے تو مکمل مائنڈ فل نیس کے ساتھ کہیں 
“Let them!”
یعنی “کرنے دو۔ کہنے دو۔ سانوں کی!” 

یہ تھیوری Mel Robbins کی حالیہ کتاب میں سے ہے جس نے کافی دھوم مچائی ہے۔ میں ورک آؤٹ کرنے گئی تو خیال آیا کہ سب کو سب کچھ اچھے سے آتا ہے، اور مجھے سکارف میں لپٹ کر اوٹ پٹانگ ورک آؤٹ کرتے دیکھ کر یہ لوگ کیا سوچیں گے؟

اگلے ہی لمحے خود کو یاد کروایا کہ 
Let them! 
سوچنے دو۔ تم اپنا کام کرو۔ 
میں پر سکون ہو کے ورک آؤٹ کرنے لگی۔ 

جے شیٹھی نے مصنفہ سے اپنی پوڈ کاسٹ میں پوچھا کہ let them اور let go میں کیا فرق ہے؟ 
کہنے لگی: لیٹ گو یہ ہے کہ ماضی میں جو گرہیں دل میں باندھ رکھی ہیں، اب انہیں جانے دو۔ جبکہ لیٹ دیم لمحہ موجود کی کہانی ہے۔ آپ شعوری طور پر خود کو یاد کرواتے ہیں کہ دوسروں کی سوچ، ان کی زبان، ان کے عمل کا ذمہ دار میں نہیں ہوں۔ کرنے دو جو کرتے ہیں۔ لیٹ دیم!

اس ضمن میں اضافی نکتہ زبردست تھا۔ کہنے لگی: 
لیٹ گو کرنے کے لئے آپ اس تکلیف سے گزرتے ہیں پھر خود کو لیٹ گو پر مائل کرتے ہیں۔ جبکہ لیٹ دیم میں آپ کسی کے کھردرے رویے کو اپنی ریشمی روح کے ساتھ مس نہیں ہونے دیتے۔ آپ اون ہی نہیں کرتے۔ آپ خود کو ڈی ٹیچ کر دیتے ہیں۔ 

یہ پڑھنا پڑھانا آسان ہوتا ہے۔ لیکن جس دن ضرورت پڑے، اس دن سبق یاد آ جائے تو کمال ہے۔ پریکٹس کرتے رہیے کہ ہم دنیا میں رہتے ہیں اور ہر طرح کے رویے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ وہ تو جنت ہو گی کہ جس میں داخل ہونے سے پہلے بغض کی آخری رمق تک دل سے مٹا دی جائے گی اور ایک دوسرے پر نگاہ پڑنے پر اہل جنت کا کلام سلامتی سلامتی ہو گا۔ 

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !