( تدویں اور ترجمہ : ریٹا کوٹھاری ۔ Rita Kothari)
بغیرسرحد کی کہانیاں (Unbordered Memories ) ،سندھ کے بٹوارے کی سندھی زبان میں لکھی ہوئی کہانیاں بہت ہی حساس نہیں ایک تبدیل ہوتی معاشرت اور تمدن کا ایک ایسا سانحاتی رزمیہ ہے جو افسانوی تو ہے جس میں اجتماع کی یاد نگاری اور سوانح بھی پوشیدہ، ہے۔ جس میں ثقافتی شناخت کے مسمار ہونے سے لے کربشری نا انصافیاں اورانصرامی ڈھانچے کی نالائقیاں اور آئیڈیالوجی کی صعیف تشریح ،کمزوراورعدم آگاہی کی وجہ سے سندھی معاشرہ اب بھی قریب 77 سال بعد بھی تذبذب اور تشکیک سے دوچار ہےاور اپنے انفردی اور اجتمائی وجود کی جنگ لڑ رہا ہے
اگر تقسیم نے سندھی ہندوؤں کی زندگیوں کو بدل دیا جنہوں نے گھر، زبان اور ثقافت کو نقصان پہنچایا، اور اپنے نئے وطن میں ناپسندیدہ محسوس کیا، تو اس نے سندھی مسلمانوں کے لیے بھی چیزیں بدل دیں۔ مسلمانوں کو ایک ایسی قوم سے نبرد آزما ہونا پڑا جو اچانک ناقابل شناخت ہو گئی تھی اور جہاں وہ خود کو دوسرے درجے کا شہری سمجھتے تھے۔ اردو، مساجد اور تسلط کے نئے اوتاروں کے عادی نہ تھے، وہ نئی اسلامی مملکت پاکستان سے چکرا کر رہ گئے۔ سندھ بحیثیت قوم بیک وقت دونوں برادریوں کے لیے ناسور بن چکا تھا۔
غیر سرحدی یادوں میں ہم ہندوستان اور پاکستان کے سندھیوں کو ایک دوسرے کی دنیا میں تصوراتی طور پر داخل ہوتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ اس جلد میں بہت سی کہانیاں ہندوؤں کے زیرِ آباد دنیا کے لیے سندھی مسلمانوں کی ہمدردی اور پاکستانی سندھیوں کے ہنگامے کے ساتھ ہندوستانی سندھیوں کی یکجہتی کی گواہی دیتی ہیں۔ سرحد کے دونوں طرف سے یہ تحریریں مذہب اور قومی سرحدوں کے نام پر انسانی وقار کے غلط استعمال پر شدید تنقید کرتی ہیں۔ وہ قوموں کی حدود میں برصغیر کی شناخت رکھنے اور قوموں کو مذاہب کے ساتھ مساوی کرنے کی مضحکہ خیزی یا لایعنیت کا مذاق اڑاتے ہیں اور وہ مستقل طور پر تمام سندھیوں - ہندوؤں اور مسلمانوں کے لیے ایک مشترکہ، غیر سرحدی جگہ پیدا کرتے ہیں۔ جہاں زندگیاں تقسیم ہوگی۔ ایک مشترکہ معاشرت ٹوٹ کر سیاسی اورمذہبی جنونیت کی صورت میں سامنے آئی۔
کتاب کی تجرید یا خلاصہ ::
یہ سچ ہے کہ تقسیم ہند نے سندھی ہندوؤں کی زندگیوں کو بدل دیا جنہوں نے گھر، زبان اور ثقافت کو نقصان پہنچایا، یہ ایک بہت بڑا تمدنی بحران ہے اور اسے اپنے نئے وطن میں ناپسندیدہ محسوس کیا، تو حالت اور صورتحال نے سندھی مسلمانوں کے لیے بھی حالات کو تبدیل کردیئے ۔ مسلمانوں کو ایک ایسی قوم سے نبردآزما ہونا پڑا جو اچانک ناقابل شناخت ہو گئی تھی اور جہاں وہ خود کو دوسرے درجے کا شہری سمجھتے تھے۔ اردو، مساجد اور تسلط کے نئے اوتاروں کے عادی نہ تھے، وہ نئی اسلامی مملکت پاکستان سے چکرا کر رہ گئے۔ سندھ بحیثیت قوم بیک وقت دونوں برادریوں کے لیے ناسور بن چکا تھا۔ غیر سرحدی یادوں میں ہم ہندوستان اور پاکستان کے سندھیوں کو ایک دوسرے کی دنیا میں تصوراتی طور پر داخل ہوتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ اس جلد میں بہت سی کہانیاں ہندوؤں کے زیرِ آباد دنیا کے لیے سندھی مسلمانوں کی ہمدردی اور پاکستانی سندھیوں کے ہنگامے کے ساتھ ہندوستانی سندھیوں کی یکجہتی کی گواہی دیتی ہیں۔ سرحد کے دونوں طرف سے یہ تحریریں مذہب اور قومی سرحدوں کے نام پر انسانی وقار کے غلط استعمال پر شدید تنقید کرتی ہیں۔ وہ قوموں کی حدود میں برصغیر کی شناخت رکھنے اور قوموں کو مذاہب کے ساتھ مساوی کرنے کی مضحکہ خیزی کا مذاق اڑاتے ہیں۔ اور وہ مسلسل تمام سندھیوں - ہندوؤں اور مسلمانوں کے لیے ایک مشترکہ، غیر سرحدی جگہ پیدا کرتے ہیں۔ مذہبی آئیڈیالوجی نے سندھی معاشرت اور ثقافت کو مجروح کیا مگر عہد عصر میں سندھی زبان پاکستان اور ہندوستاں میں اس کا اظہار اورلہجہ میں فرق تو آیا ہے اور یہ سوال بھی اہم ہےکی سندھی کو دیوناگری لپی میں لکھا جائے یا عربی رسم الخط میں زیر قلم لایا جائے۔
یہ کہانیاں تقسیم سے ٹھیک پہلے اور اس کے بعد سندھ کی زندگی کی ایک جھلک پیش کرتی ہیں، اور گزرے ہوئے زمانے کے رسوم و رواج، عادات اور زندگی کے ناقابل رسائی طریقوں کو پکڑتی ہیں۔ اپنے گھر چھوڑنے والے ہندوؤں کے لیے، زندگی آگے بڑھ گئی ہے، اور یہ صرف وہ جگہ نہیں ہے جہاں وہ رہتے تھے جہاں تک اب ان کی رسائی نہیں ہے بلکہ ان کی قریبی برادری کو بھی دور دور تک بکھرنا پڑا ہے۔ سب کچھ بدل گیا ہے۔ پناہ گزینوں کے کیمپوں اور نئی بستیوں میں، ہم دیکھتے ہیں کہ ان لوگوں کے ساتھ کیا ہوتا ہے جن کی زبان کوئی نہیں سمجھتا، اور جن کی اچانک بے گھر حالت کو بے حسی کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔
یہ بیانیہ مجھے سمجھ میں آیا، اور میں نے اس کتاب میں پیش کردہ حقیقی اور خیالی واقعات کے بارے میں پڑھ کر اطمینان بخش پایا۔ان میں سے کچھ واقعات کتابوں میں پڑھے تھے اورکچھ اپنے بزرگوں سے سنے تھے۔ اس میں نے نگار خانے(اسٹوڈیو) کی وہ تصویر تھی جو ایک خاندان لینے گیا تھا، یہ نہیں معلوم تھا کہ وہ سب کب اکٹھے ہوں گے۔ کندھے اچکانے کے عادی اور وطن سے الگ ہونے کے بارے میں ایک فلسفیانہ رویہ، مجھے اس کتاب کا جذباتی تانے بانے نے سب سے زیادہ تازگی بخشی۔ جو آنکھوں کو نم آلود کردیتی ہے۔
میرا خیال ہے اس کتاب کی سب سے دلچسپ کہانیاں وہ تھیں جو ہمیں پرانے سندھ میں لے جاتی ہیں جس میں گم کشتی یادیں ہیں اور ہمیں دکھاتی ہیں کہ تقسیم ہند سے پہلے ہندو اور مسلم سندھی کتنے قریب سے مربوط اور کس قدل مل جل کرر ہتےتھے۔ یہ ایک ایسی تبدیلی تھی جس میں مذہب روحانیت سے جڑا ہوا رسم سے پیدا ہونے والے مذہب میں بدل گیا۔ اس کتاب کو پڑھنے کے چند ماہ بعد ہی میں نے اپنے آپ کو بار بار، سندھ کے سندھیوں اور بیرون ملک رہنے والوں کی اندرونی یکجہتی کا تجربہ کرنا شروع کیا۔
میرے جیسے ہزاروں لوگ ہیں جو اس کتاب کو تاریخ کے اس دور کے لیے قیمتی سمجھیں گے جو اس نے اتنی اچھی طرح سے حاصل کی ہے۔ لیکن جذباتی طور پر کم سرمایہ کاری کرنے والے دوسروں کے لیے بھی، کہانیاں دلکش اور خوبصورتی سے پیش کی جاتی ہیں۔ کچھ ایک کرکرا رپورٹنگ کے انداز کی پیروی کرتے ہیں، دوسرے شاعرانہ اور خود پسند ہیں۔ جس کی اپنی ہی افسانوی شعریات کی جمالیات ہیں میں نے محسوس کیا کہ یہ کتاب ایک شاندار ترجمہ ہے کیونکہ یہ اچھے معیار کی انگریزی میں لکھی گئی ہے اور یہ سوچ کی باریکیوں کو بھی پہنچانے کا انتظام کرتی ہے جو سندھیوں کے لیے مقامی ہیں، دنیا بھر میں آباد تارکین وطن اور سندھ میں رہنے والے دونوں ہی شامل ہیں۔
:: کتاب میں شامل کہانیوں کی فہرست::
جب میں نے زندگی اور موت کا بیک وقت تجربہ کیا--/ پوپتی ہیرانندنی
بھوری / سندری اتم چندانی
بائیکاٹ/ گوردھن بھارتی
ہولی/ امر جلیل
کافر، کافر/ نسیم کھرل
خانواہن/کالا پرکاش
زندگی، ایک خواب / شیخ ایاز
گمشدہ قومیں/ گلزار احمد
بھوک، محبت، اور ادب / موہن کلپنا
محمد، کوچ ڈرائیور/رام پنجوانی
میری اماں / کیرات بابانی
فرض / گوبند ملہی
واقف اجنبی / گوردھن بھارتی
دعوی/نارائن بھارتی
دستاویز / نارائن بھارتی
پڑوسی/ شیخ ایاز
مہاجر/ گوبند ملہی
اکھڑ گیا/ وشنو بھاٹیہ
ذمہ دار کون تھا؟ /لچھمن ککریجا
اللہ کے نام پر / ابراہیم جویو
بیل / محمد داؤد بلوچ
خوف کی موت/ شوکت حسین شورو
جلاوطنی میں / موہن کلپنا۔
۔۔۔۔۔۔۔
::مصنفہ کا احوال ذات ::
ریٹا کوٹھاری کی ولادت 30 جولائی 1969میں بھارتی ریاست گجرات میں ہوئی۔ یہ ایک زہین اور فطین طبع بھارتی عالمہ اور مترجم ہیں۔انھوں نے اپنے سندھی پس منظر کے وجہ سے اپنی یادوں اور اپنی شناخت کو محفوظ رکھنے کی بڑی شاندار،عمدہ اور قابل تعریف کوششس کی، ریٹا کوٹھاری نے تقسیم اور لوگوں پر اس کے اثرات پر کئی کتابیں لکھیں۔ انھون نے کئی گجراتی تحریروں کا انگریزی میں ترجمہ کیا ہے۔
ریٹا کوٹھاری نے 1989 میں سینٹ زیویئر کالج، احمد آباد میں بیچلر آف آرٹس کی سند حاصل کی۔ ، اس کے بعد دو سال بعد پونے یونیورسٹی میں انگریزی ادب میں ماسٹر آف آرٹس کی ڈگری حاصل کی۔ انہیں 1995 میں ماسٹر آف فلسفہ کی ڈگری اور 2000 میں گجرات یونیورسٹی سے ڈاکٹر آف فلاسفی کی ڈگری سے نوازا گیا، ان کے تحقیقی کام کے لیے بالترتیب ہندی نثر اور ترجمہ ہند کا تجربہ: انگریزی کی ثقافتی سیاست پر مشتمل ہیں۔
ریٹا کوٹھاری اشوکا یونیورسٹی، سونی پت میں انگریزی کے شعبہ میں پڑھاتے ہیں۔ اس نے 2007 سے 2017 تک انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی گاندھی نگر میں ہیومینٹیز اینڈ سوشل سائنسز ڈیپارٹمنٹ میں عالمانہ مطالعات اور تحقیق کی۔ انہوں نے 1992 سے 2007 تک سینٹ زیویئر کالج، احمد آباد میں ہندوستانی ادب انگریزی اور ترجمہ درس وتدریس کے صیغیے سے منسلک رہی ۔ اس کے بعد انھوں نے وہ مدرا انسٹی ٹیوٹ آف کمیونیکیشن، احمدآباد میں پڑھاتی ہیں MICA (انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹجک مارکیٹنگ اینڈ کمیونیکیشن) میں بطور پروفیسر کلچر اور کمیونیکیشن میں شمولیت اختیار کی۔
ریٹا کوٹھاری کی تدریسی دلچسپیوں میں ادب، سنیما، نسلیات اور ثقافتی تاریخ شامل ہیں۔ زبانوں، سیاق و سباق اور ثقافتوں کے درمیان نقل و حرکت اس کی دلچسپیوں کا مرکز بنتی ہے، ترجمہ کو وہ گہری نظرڈال کے اس میں نئی معنویت خلق کرتی ہیں اور اسی عدسے سے نہایت مہارت کے ساتھ وہ ہندوستانی سیاق و سباق کو دیکھتی اور پرکھتی ہیں ۔
ریٹا کوٹھاری ٹرانسلیٹنگ انڈیا: دی کلچرل پولیٹکس آف انگلش اور دی برڈن آف ریفیو: دی سندھی ہندوز آف گجرات کی مصنفہ ہیں۔ اس نے گجراتی سے انگریزی میں بڑے پیمانے پر ترجمہ کیا ہے۔ اس کے نوٹ کے کچھ ترجمے ہیں دی سٹیپ چائلڈ: انگلیات اور تقریر اور خاموشی: گجراتی خواتین کے ادبی سفر۔ ریٹا کوٹھاری فی الحال کچھ، گجرات میں سرحدی برادریوں کے مطالعہ پر کام کر رہی ہیں، اور ہنگلش( ہندی انگریزی کالسانی ملغوبہ) پر ایک مطالعہ کی شریک تدوین کار ہیں۔ وہ مدرا انسٹی ٹیوٹ آف کمیونیکیشن، احمدآباد میں پڑھاتی ہیں۔ ان دنوں ریٹا کوٹھاری احمد آباد گجرات ، بھارت میں قیام پذیر ہیں۔
