کمرہ نمبر 427۔۔شازیہ رباب

نصف شب ہو چکی تھی مگر اس کی آنکھیں نیند سے بے خبر تھیں۔ اس کی الجھنیں منفرد تھیں جنہیں اس کا دماغ جگہ دینے سے انکاری تھا اور دل انہیں دور پھینکنا چاہتا تھا۔ لیکن وہ ان الجھنوں سے بیزار نہیں تھی۔
یہی الجھنیں اس کا زاد راہ تھیں، اسے مستقل ایک جگہ سے دوسری جگہ دھکیل رہی تھیں، اس کی بے چینی کا باعث تھیں اور اس کے نزدیک بے چینی زندگی کی علامت ہے اور ٹھہراؤ موت ہے۔
مگر آج وہ ان الجھنوں سے بیزار نہ ہونے کے باوجود بھی تھکن محسوس کر رہی تھی اور یہ تھکن اس کی روح میں حلول کر رہی تھی۔ جو الجھن اسے درپیش تھی، اس کے حوالے سے کسی فیصلے کا اختیار اس کے پاس نہیں تھا۔ سالوں کی مسافت، ایک شخص کا ادھورا ساتھ، زندگی کے کٹھن راستوں پر اپنوں کی بے اعتنائیاں، عورت ہو کر اس معاشرے میں سر اٹھا کر جینے کے اسباب پیدا کرنا، لوگوں کے ہجوم میں تنہا رہ جانا، اپنے ساتھ خاندان بھر کا بوجھ اٹھانا، کئی شکووں کے باوجود خاموش رہ جانا، سینکڑوں امیدوں کا ٹوٹ جانا اور اپنے ہی خوابوں کی کرچیاں چننا، یہ سب اس نے تنہا کیا تھا۔ اتنی لمبی مسافت اکیلے طے کی اور زمانے کے سرد و گرم اپنے نازک تن پر خود جھیلے۔
اس کے ارد گرد کے لوگ کہتے تھے کہ اس میں مردوں جتنی طاقت ہے۔ یہ اتنی مضبوط ہے کہ روتی نہیں ہے اور اتنی نرم دل ہے کہ کسی کو تکلیف نہیں دے سکتی۔ اپنی ضروریات کو پس پشت ڈال کر پہلے دوسروں کے بارے میں سوچتی ہے۔ رشتے نبھانے کے لئے آخری حد تک بھی چلی جاتی ہے۔ بہت با ادب اور با اخلاق ہے مگر اس کی الجھنیں اس کے خیالوں کی ڈور کو ادھر ادھر گھما رہی تھیں اور وہ سوچ رہی تھی کہ کیا کمی رہ گئی، کہاں کمی رہ گئی کہ ذہن و دل سکون سے خالی ہیں اور زندگی بے مقصد لگنے لگی ہے۔ یہ تمام خصوصیات جو لوگ اس کی شخصیت میں دیکھتے اور ان کا اظہار کرتے تھے، بے معنی اور بوجھ لگنے لگیں۔ 
 کیا کسی کی ذات میں اتنی خصوصیات کے باوجود تنہائی اور اداسی مقدر بن سکتی ہے؟ 
اس نے خود سے سوال کیا۔
ہاں، انسان جب اپنی اصل سے دور ہوتا ہے تو تنہا ہو جاتا ہے۔ اس کے اندر سے کوئی سرگوشی ابھری۔
اور ہر انسان اپنے اصل سے دور ہے، اس لئے تنہا محسوس کرتا ہے اور اداس رہتا ہے۔ 
ہجوم دوستاں میں تنہائی، عزیز و اقربا کی موجودگی میں تنہائی، اپنی ہم نوائی میں بھی تنہائی۔ شاید اس زندگی میں تنہائی کا کوئی علاج نہیں اور نہ ہی اداسی کا۔
کیونکہ ہم سب اپنے اصل سے جدا ہیں اور اس کی یاد میں تنہا اور اداس۔
 اصل سے جدائی اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی تنہائی اور اداسی نے اسے مزید الجھا دیا۔
مگر اس الجھن کا حل اس کے پاس نہیں ہے۔ 
شاید کسی کے پاس بھی نہیں۔
کیونک ہم اپنے اصل سے ملاقات کا وقت خود مقرر نہیں کر سکتے۔

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !