صنفِ لاغر۔۔مشتاق احمد یوسفی

" آج کل عورتوں کو دو قسموں میں بانٹا جا سکتا ہے ۔ ایک وہ جو موٹی ہیں ۔ دوسری وہ جو دُبلی نہیں ہیں ۔ آپ کہیں گے ، آخر ان دونوں میں فرق کیا ہوا ؟ یہ تو وہی الف دو زبر اً ، اور الف زبر نون اَن والی بات ہوئی ۔ مگر آپ یقین جانیے کہ دونوں قسموں میں دُبلے ہونے کی خواہش کے علاوہ اور کوئی بات مشترک نہیں "

زمانہءِ قدیم میں ایران نسوانی حُسن کا معیار چالیس صفات تھیں ( اگرچہ ایک عورت میں ان کا یکجا ہونا ہمیشہ نقضِ امن کا باعث ہُوا ) اور یہ مشہور ہے کہ شیریں اِن میں اُنتالیس صفات رکھتی تھی۔ چالیسویں صفت کےبارے میں مورخین متفقہ طور پر خاموش ہیں ۔ لہذا گمان غالب ہے کہ اُس کا تعلق چال چلن سے ہو گا ۔ اس زمانے میں ایک عورت عموماً ایک ہی صفت پائی جاتی تھی ۔ اس لیے بعض بادشاہوں کو بدرجہء مجبوری اپنے حرم میں عورتوں کی تعداد بڑھانا پڑی ۔ ہر زمانے میں یہ صفات زنانہ لباس کی طرح سکڑتی ، سمٹتی اور گھٹتی رہیں ۔ بالآخر صفات تو غائب ہو گئیں ، صرف ذات باقی رہ گئی ۔ یہ بھی غنیمت ہے ۔ کیونکہ ذات و صفات کی بحث سے قطع نظر ، یہی کیا کم ہے کہ عورت صرف عورت ہے ، ورنہ وہ مرد بھی ہو جاتی تو ہم اُس کا کیا بگاڑ لیتے ؟؟

آج کل کھاتے پیتے گھرانوں میں دُبلے ہونے کی خواہش ہی ایک ایسی صٖت ہے جو سب خوبصورت لڑکیوں میں مشترک ہے ۔ اس خواہش کی محرک دورِ جدید کی ایک جمالیاتی دریافت ہے ، جس نے تن درستی کو ایک مرض قرار دے کر بدصورتی اور بدہیئتی سے تعبیر کیا ۔ مردوں کی اتنی بڑی اکثریت کو اس رائے سے اتفاق ہے کہ اُس کی صحت پر شبہ ہونے لگتا ہے ۔ جہاں یرقان حُسن کے اجزائے ترکیبی میں شامل ہو جائے اور چشمِ بیمار و تنِ لاغر حُسن کا معیار بن جائیں ، وہاں لڑکیاں اپنے تندرست و توانا جسم سے شرمانے اور بدن چُرا کر چلنے لگیں تو تعجب نہیں ہونا چاہیے ۔ یوں سمجھئے کہ حوا کی جیت کا راز آدم کی کمزوری میں نہیں بلکہ خود اُس کی کمزوری میں مضمر ہے ۔۔اگر آپ کو یہ نچڑے ہوئے دھان پان ، بدن ، ستے ہوئے ہوئے چہرے اور سوکھی ہوئی بانہیں پسند نہیں تو آپ یقیناً ڈاکٹر ہوں گے ۔ ورنہ اہلِ نظر تو اب چہرے کی شادابی کو ورم ، فربہی کو جلندھر اور پنڈی کے سڈول پن کو " فیل پا" گردانتے ہیں ۔۔۔

بدن کی ناپ تول کا حق پہلے صرف درزی اور گورکن کو حاصل تھا ، مگر اب دُنیا کی ہر خوبصورت عورت کا جغرافیہ ، جس میں وزن اور محرم کا سائز نمایاں ہیں ، معلوماتِ عامہ کا جزو بن گیا ہے اور بلاشبہ یہ جزو کُل پر بھاری ہے ۔

وزن حُسن کا دشمن ہے ( یاد رکھیے رائے کے علاوہ ہر وزنی چیز گھٹیا ہوتی ہے ) اس لیے ہر سمجھ دار عورت کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ اپنی چربی کی دبیز تہوں کے خول کو سانپ کی کینچلی کی طرح اُتار کر اپنی عزیز سہیلیوں کو پہنا دے ۔ عقدِ ناگہانی کے بعد کہ جس سے کسی کو مفر نہیں ، ہر لڑکی کا بیشتر وقت اپنے وزن اور شوہر سے جنگ کرنے میں گزرتا ہے ۔ جہاں تک زن و شوہر کی جنگ کا تعلق ہے ، ہم نہیں کہہ سکتے کہ شہید کون ہوتا ہے اور غازی کون ؟ لیکن زن اور وزن کی جنگ میں پلہ فریقِ اول کا بھاری رہتا ہے ۔ اس لیے جیت فریقِ ثانی کی ہوتی ہے ۔ مٹاپے میں ایک خرابی یہ ہے کہ تمام عمر کو گلے کا ہار ہو جاتا ہے ۔ اور بعض خواتین گھر کے اندیشوں اور ہمسایوں کی خوش حالی سے بھی دُبلی نہیں ہوتیں :

" تن " کی دولت ہاتھ آتی ہے تو پھر جاتی نہیں

دراصل گرہستی زندگی کی آب و ہوا ہی ایسی معتدل ہے کہ مولسری کا پھول دو تین سال میں گوبھی کا پھول بن جائے تو عجب نہیں ۔

موٹاپا عام ہو یا نہ ہو ، مگر دُبلے ہونے کی خواہش جتنی عام ہے اتُنی ہی شدید بھی، آئینے کی جگہ اب وزن کرنے کی مشین نے لے لی ہے ۔ ہم نے دیکھا ہے کچھ عورتوں کی قسمت کے خانے میں صرف اُن کا وزن لکھا ہوتا ہے ۔ عورتوں کو وزن کم کرنے کی دواؤں سے اُتنی ہی دلچسپی ہے جتنی ادھیڑ عمر مردوں کو یونانی دواؤں کے اشتہاروں سے ۔ اگر یہ دلچسپی ختم ہو جائے تو دواؤں کے کارخانوں کے ساتھ ، بلکہ اُن سے کچھ پہلے ، وہ اخبارات بھی بند ہو جائیں جن میں یہ اشتہارات نکلتے ہیں ۔ اگر آپ کو آسکر وائلڈ کی رائے سے اتفاق ہے کہ آرٹ کا اصل مقصد قدرت کی خام کاریوں کی اصلاح اور فطرت سے فی سبیل اللہ جہاد ہے ، تو لازمی طور پر ماننا پڑے گا کہ ہر بدصورت عورت آرٹسٹ ہے ۔ اس لیے کہ ہوش سنبھالنے کے بعد اُس کی ساری تگ و دو کا منشا سیاہ کو سفید کر دکھانا ، وزن گھٹانا اور ہر سال گرہ پر ایک موم بتی کم کرنا ہے ۔

عمر کی تصدیق تو شاید بلدیہ کے " رجسٹر پیدائش و اموات" سے کی جا سکتی ہے لیکن ایک دوسرے کے وزن کے متعلق بھاری سے بھاری بہتان لگایا جا سکتا ہے ۔ رائی کا پہاڑ اور گرمی دانے کا مسّا بنانا لُتری عورتوں کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے ۔ وہ عورت جسے خود اپنی آنکھوں کے گرد ساہ حلقے نظر نہیں آتے ، دوسرے کی جھائیاں پر بے جھجھک اپنی بڑھے ہوئے ناخن والی انگلی اُٹھاتے وقت یہ بھول جاتی ہے کہ ہر گُل کے ساتھ خار اور ہر منہ پر مہاسا ہوتا ہے ۔

عورتیں فطرتاً بہت راسخ العقیدہ ہوتی ہیں اور اپنے بنیادی عقائد کی خاطر عمر بھر سب کچھ ہنسی خوشی برداشت کر لیتی ہیں ، مثلاً سات نمبر پاؤں میں پانچ نمبر جوتا ۔ وزن کم کرنے کے لیے کیا کیا جتن نہیں کرتیں ۔ غسلِ آفتابی ، جاپانی مالش ، یونانی جلاب ، انگریزی کھانا ، چہل قدمی ، ورزش ، فاقہ ـــــــپہلے چہل قدمی کو لیجئے کہ امرت دھارا کی طرح یہ ہر مرض کی دوا ہے ۔سوکھے سوکھے مرد اپنا وزن بڑھانے اور عورتیں اپنا وزن گھٹانے کے لیے ٹہلتی ہیں ۔ جس طرح چائے گرمی میں ٹھنڈک پہنچاتی ہے اور سردی حدت، اسی طرح چہل قدمی دُبلے کو موٹا اور موٹے کو دُبلا کرتی ہے ۔اگر ہماری طرح آپ کو بھی الفنسٹن اسٹریٹ پر ٹہلنے کا شوق ہے تو آپ نے بعض میاں بیوی کو ان مختلف بلکہ متضاد عزائم کے ساتھ پابندی سے " ہَوا خوری" کرتے دیکھا ہو گا ۔ 

عورتوں کا انجام تو ہمیں معلوم نہیں ، لیکن یہ ضرور دیکھا ہے کہ بہت سے " ہَوا خور " رفتہ رفتہ " حوا خور" ہو جاتے ہیں ۔

جو عورتیں دواؤں سے پرہیز کرتی ہیں ، وہ صرف ورزش سے خود کو " سِلم " رکھ سکتی ہیں ، " سِلمنگ" کے موضوع پر عورتوں کی رہبری کے لیے بے شمار باتصویر کتابیں ملتی ہیں ، جن کے مضامین عورتیں پڑھتی ہیں اور تصویروں سے مرد جی بہلاتے ہیں ۔اُن میں بتایا جاتا ہے کہ مرد کاٹھ کے پُتلے کے مانند ہے ۔ لیکن عورت موم کی طرح نرم ہے ۔ چنانچہ مرد کو ہر سانچے میں ڈھال سکتی ہے ۔ پھر اُس کے اپنے گوشت پوست میں قدرت نے وہ لوچ رکھا ہے کہ  
" سمٹے تو دلِ عاشق پھیلے تو زمانہ " 

" عورتوں کے رسالوں کا حال یہ ہے کہ اُن (رسالوں کے) تین ٹکڑے کیے جا سکتے ہیں ، اول ، آزادیِ اطفال اور شوہر کی تربیت و نگہداشت ، دوم ، کھانا پکانے کی ترکیبیں ، سوم کھانا نہ کھانے کی ترکیبیں۔۔

ان مضامین سے ظاہر ہوتا ہے کہ تشخیص سب کی ایک ہی ہے ، بس نسخے مختلف ہیں ۔پرہیز بہر صورت یکساں !! اِس امر پر سب متفق ہیں کہ افزائشِ حُسن کا واحد طریقہ یہ ہے کہ ایسی غذا کھائی جائے جس سے خونِ صالح پیدا نہ ہو اور جو غذا جزوِ بدن نہ ہو سکے ۔ ہماری رائے میں کسی پڑھی لکھی عورت کے لیے اس سے سخت اور کون سی سزا ہو سکتی ہے کہ اُسے چالیس دن تک اُس کے ہاتھ کا پکا ہُوا کھانا کھلایا جائے۔ دُبلے ہونے کا اس سے بہتر اور زود اثر طریقہ اور کوئی نہیں ہو سکتا ۔

چائے کی پتی سے گھٹ سکتا ہے عورت کا شکم

دُبلے آدمی کینہ پرور سازشی اور دغا باز ہوتے ہیں ۔ یہ ہماری نہیں چولیس سیزر کی رائے ہے ۔ جس نے ایک مریل سے درباری کے ہاتھوں قتل ہو کر اپنے قول کو سچا کر دکھایا ۔ گو کہ ہمارے موزے کا سائز صرف سات اور بنیان چونتیس ہے ۔ لیکن ہمیں اس نظریے سے اتفاق ہے ، کیونکہ۔۔

ہم نے دیکھا ہے کہ موٹی عورتیں فطرتاً ملنسار ، ہنس مکھ اور صلح جو ہوتی ہیں ۔ وہ نہ خود لڑتی ہیں اور نہ مرد اُن کے نام پر تلوار اٹھاتے ہیں ۔ ممکن ہے کوئی صاحب اس کا یہ جواز پیش کریں کہ چونکہ ایسی گج گامنی کی نقل و حرکت بغیر جرِِّ ثقیل کے ممکن نہین ۔ لہذا وہ نہ ڈٹ کر لڑ سکتی ہے اور نہ میدان چھوڑ کر بھاگ سکتی ہے ۔لیکن تاریخ شاہد ہے کہ آج تک کسی موٹی عورت کی وجہ سے کوئی جنگ نہیں ہوئی ۔

خدانخواستہ اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم حُسن میں ہارس پاور کے متلاشی ہیں اور اکھاڑے کی رونق کو چھپر کھٹ کی زینت بنانے کی سفارش کر رہے ہیں ۔ ہمارے ذہن میں حُسنِ بے پروا کا یہ سراپا نہیں کہ ہر خطِ بدن ایک دائرہ بنا رہا ہے ۔ پیٹ پر ٹائر بندھا ہوا ہے ۔ چہرے سے لگتا ہے ابھی ابھی بھڑوں نے کاٹا ہے ۔ اگر یہ صحیح ہے کہ اس بیچاری کا سینہ ارمانوں کا مدفن ہے تو یہ صاف ظاہر ہے مرحومین کی تعداد کچھ زیادہ ہی تھی ۔ کھلے ہوئے گلے کے بلاؤز کا یہ عالم کہ کوئی شیر خوار بچہ دیکھ پائے تو بلبلا اُٹھے ۔ تنگ پوشی کا یہ حال کہ کوزے میں دریا بلکہ پہاڑ بند ۔۔۔ ٹانگیں جیسے بوڑھے ہاتھ کی سونڈ جن پر غرارہ بھی چوڑی دار پاجامہ معلوم ہوتا ہے ۔ 

ایسی ہی چوڑی چکلی خاتون کا لطیفہ ہے کہ اُنہوں نے بس ڈرائیور سے بڑی لجاجت سے کہا ، " بھیا ذرا مجھے بس سے اُتروا دے " ڈرائیور نے مڑ کر دیکھا تو اُس کا چہرہ فرشتوں کی طرح تمتما اُٹھا ۔ ان فرشتوں کی طرح جنہوں نے بارِ خلافت اُٹھانے انکار کر دیا تھا ۔ پھر بولیں ، " میری عادت ہے کہ دروازے سے اُلٹی اُترتی ہوں مگر تمہارا اُؒلٹی کھوپڑی کا کنڈکٹر سمجھتا ہے کہ چڑھ رہی ہوں اور ہر دفعہ زبردستی سے اندر دھکیل دیتا ہے ۔ تین اسٹاپ نکل گئے ""

ہم یہاں یہ پرچار نہیں کر رہے کہ حُسن اور وزن کا چولی دامن کا ساتھ ہے ، اس لیے کہ اب خود اس مثالی رشتے کے بند ٹوٹ چُکے ہیں ۔ ہم تو صرف قارئینِ کرام کو ا طمینان دلانا چاہتے ہیں کہ تندرستی کوئی لاعلاج نسوانی مرض نہیں ہے ۔ ہمیں کم زوری میں ، جب تک وہ اخلاقی نہ ہو ، بظاہر کوئی دل کشی نظر نہیں آتی ۔ اس طرح فاقہ کشی صرف دو صورتوں میں جائز ہے ۔ کسی شرعی ضرورت یا بطور ستیہ گرا ، مگر وزن گھٹانے کی غرض سے جو فاقہ کشی کی جاتی ہے اُس کی محرک کوئی روحانی حاجت یا سیاسی مصلحت نہیں بلکہ خُدائے مجازی کی پسند ہے ۔ اس پیکرِ تصور کے خطوط کی بے کیف سادگی اور پھیکا پن مرد کے عجزِ تصور کے فریادی ہیں ۔ یہ کہنا تو زیادتی ہو گی کہ حُسن بیمار کے پیچھے ایک چھکے چھکائے تھکے ہوئے حُسن پرست کی جنسی اکتاہٹ کار فرما ہے ۔ لیکن اس میں کوئی شک نہیں ۔

کہ " مرد کی پسند وہ پُل صراط ہے جس پر کوئی موٹی عورت نہیں چل سکتی "

مشتاق احمد یوسفی 
کتاب : چراغ تلے  
مضمون : صنفِ لاغر ( منتخب اقتباسات )
انتخاب : محمد اکرام قاسمی
Tags

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !