اس صورتحال میں پاکستان اور ترکیہ جیسے ممالک ایران کو بچانے اور جنگ روکنے کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں کیونکہ انہیں بخوبی ادراک ہے کہ اگر ایران کا دفاعی ڈھانچہ کمزور ہوا تو ممکنہ طور پر لسٹ میں اگلا نمبر ان کا ہی ہو سکتا ہے۔ پاکستان کے لیے یہ بات کسی صورت قابلِ قبول نہیں کہ اسرائیل اس کے بالکل ہمسائے میں آ بیٹھے کیونکہ یہ ہماری قومی سلامتی اور نظریاتی سرحدوں کے لیے ایک مستقل خطرہ بن جائے گا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جہاں متحدہ عرب امارات کھل کر اسرائیل کا ساتھ دے رہا ہے، وہیں سعودی عرب بھی اب اندرونی طور پر امریکی ڈکٹیشن سے تنگ آ چکا ہے اور اپنی راہیں جدا کرنے کی فکر میں ہے۔
میرا یہ پختہ اندازہ ہے کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پالیسیوں سے امریکہ کو وہ ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا ہے جس سے نکلنے اور دوبارہ خود کو سنبھالنے میں امریکہ کو کم از کم 15 سے 20 سال لگیں گے۔ اس دوران ایشیا کی ابھرتی ہوئی طاقتیں خلا کو پُر کر چکی ہوں گی اور پاکستان جیسے ممالک کے لیے اب دو کشتیوں کی سواری ممکن نہیں رہے گی بلکہ اسے جلد یا بدیر کسی ایک بلاک کا مکمل حصہ بننا ہی پڑے گا۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ جب طاقت کا توازن بدلتا ہے تو پرانے بت ٹوٹ جاتے ہیں اور آج ڈالر کی حکمرانی اور امریکی ہیمنی کا سورج ڈھلتا ہوا محسوس ہو رہا ہے۔
