حوا کی مجبور بیٹی (افسانہ) ۔۔۔ لہر نیازی

"چہرے پڑھنے والے ہمیشہ چہرہ تو پڑھ لیتے ہیں لیکن دل کے احساسات تک پہنچنا ان کے لیے کافی حد تک مشکل ہو جاتا ہے جب تک کہ وہ کسی کے خوابوں میں اتر کر نہ دیکھیں۔"
شازیہ نے نم آنکھوں کو جھپکاتے ہوئے گلدان میں پڑے سوکھے پودے کی طرف دیکھنا شروع کر دیا۔ وہ ثمینہ سے اپنا چہرہ چھپانا چاہتی تھی تاکہ اس کے چہرے پر جو مایوسی کے اثرات تھے وہ کسی اور پر نہ کھل جائیں اور اس کے اندر کا کھوکھلا پن کسی اور پر ظاہر ہو جائے۔ وہ اپنا بھرم رکھنا چاہتی تھی جس طرح کہ وہ پہلے بھی کئی برسوں سے اپنا بھرم رکھے ہوئے تھی۔
"کل تمہارے لیے جو رشتہ آیا تھا وہ کافی معقول تھا۔ لیکن جانے بھائی آپ کے بارے میں کیا سوچے بیٹھے ہیں انہوں نے بڑی بے رحمی سے اس معقول رشتے کو ٹھکرا دیا۔" ثمینہ نے شازیہ کے ہاتھوں کی لکیروں کو کریدتے ہوئے کہا تو شازیہ بولی، "میں تو حوا کی مجبور بیٹی ہوں مجھ سے میری رائے کوئی کیا پوچھے گا۔ معقول اور نامعقول کا فیصلہ تو میں نے کرنا تھا ۔ مجھے تو نمائشی پھول کی طرح ایک کونے میں سجا کر رکھ دیا گیا ہے۔ کسی کو میرے احساسات اور جذبات کی فکر ہی کب ہے۔"  
باہر برآمدے میں بوڑھی ماں کے کھانسنے کی آواز آئی تو شازیہ نے اٹھ کر دوا کی شیشی اٹھائی اور ماں کو جا کر دوا پلا دی۔ ماں نے دوا پی اور کھوکھلی نگاہوں سے بیٹی کی طرف دیکھا۔ ماں کے چہرے سے بے بسی چھت پر لٹکے مکڑی کے جالوں کی طرح صاف جھلک رہی تھی۔ والدین جب بوڑھے ہو جاتے ہیں تو اقتدار کی ساری کمان اپنے بیٹوں کے ہاتھوں میں دے دیتے ہیں۔ اب بیٹے چاہیں تو سیاہ کو سفید کہیں اور سفید کو سیاہ۔ شازیہ اور ثمینہ دونوں بہنیں تھیں۔ ثمینہ کی لا ابالی طبیعت کی وجہ سے اسکی شادی بہت عرصہ پہلے ہو چکی تھی مگر اس کے ہاں ابھی اولاد نہیں تھی ۔شازیہ بڑی تھی اور سگھڑ بھی۔ یہی سگھڑ پن شاید اس کا جرم بن گیا تھا ۔باپ ایک دفتر میں ملازم تھا۔ باپ کھاتے پیتے گھرانے کے لڑکے کی تلاش میں وقت ضائع کر بیٹھا۔ اسے معلوم بھی نہ ہوا کہ بیٹی کب سے جوان ہو کر باپ کے فیصلے کی منتظر بیٹھی ہے۔ لیکن باپ کو اپنی حیثیت کے کے برابر کوئی رشتہ نہ ملا۔ اچھے رشتے آئے مگر باپ اور بھائیوں کی انا کی بھینٹ چڑھ گئے۔ کیونکہ وہ ان کی حیثیت اور مرتبے سے کم گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔
وقت تو بہتا دریا ہے یہ کب لوٹ کے آتا ہے۔ پل کے نیچے سے جو پانی گزر گیا سو گزر گیا۔دیکھتے ہی دیکھتے شازیہ کے بالوں میں چاندی اترنے لگی۔شازیہ آسمان پر اڑتے پرندے گنتے گنتے بوڑھی ہونے لگی تھی۔ کوئی بھی سرخاب کا پر اس کے آنگن میں نہ گرا۔
باپ جب ملازمت سے سبکدوش ہوا تو شدید بیمار پڑگیا۔ باپ کو سنبھالنے کے ساری ذمہ داری شازیہ پر آن پڑی۔ ماں بھی بوڑھی تھی وہ تو خود کسی کے سہارے کے بغیر نہیں اٹھ سکتی تھی۔ دونوں بھائی شادی شدہ تھے، لیکن ماں باپ کے لیے ان کی بیویاں ہاتھ بٹانے کو تیار نہ تھیں۔ شازیہ دل و جان سے ماں باپ کی خدمت کرتی رہی۔ شازیہ بھی گھر بسانا چاہتی تھی۔ اس کے بھی بڑے بڑے ارمان تھے۔ لیکن اس کے ارمانوں کا گلا گھونٹا جا رہا تھا اور اسے قربانی کے لیے ہی وقف کر دیا گیا تھا۔ کچھ عرصہ بعد والد کی طبیعت بہت زیادہ بگڑ گئی تو اسے ہسپتال میں داخل کرا دیا گیا۔ ڈاکٹروں نے بتا دیا کہ اب ان کی حالت سنبھلنے والی نہیں ہے تو بیٹوں نے جھٹ سے جائیداد کے کاغذات پر انگوٹھے لگوا لیے۔ابھی وہ انگوٹھے لگوا ہی رہے تھے کہ والد کی سانسیں رک گئیں ۔ بیٹوں نے اس طرف دھیان نہ دیا اور باپ کی آنکھیں اسی طرح کھلی کی کھلی رہ گئیں اور وہ آخری سانس بھی لے چکا۔ بیٹے خوش تھے کہ جاتے جاتے باپ کی جائیداد اپنے نام کرا لی ورنہ تو بیٹیوں کو بھی جائیداد میں حصہ دیا جانا تھا۔ باپ کا سایہ اٹھ گیا اب ماں تھی جو آخری سانسیں لے رہی تھی۔ باپ شاید آخری سانسیں لینے سے پہلے اپنی کسی آخری خواہش کا اظہار کرنا چاہتا تھا لیکن ناخلف بیٹوں نے ذرا بھی اپنے باپ کے جذبات کا احترام نہ کیا بلکہ لالچ میں اپنے ہی خواب بننے لگ گئے۔ باپ کے جانے کے بعد شازیہ کا جیسے آخری سہارا بھی چھن چکا تھا۔ ماں تو ویسے ہی بولنے سے قاصر تھی۔ وہ تو خود آخری سانسیں لے رہی تھی۔ ماں کی بے بسی شازیہ خوب جانتی تھی۔ وہ ماں سے آنکھیں نہیں ملانا چاہتی تھی۔ کیونکہ جب بھی وہ ماں سے آنکھیں ملاتی تھی تو ماں کی آنکھوں سے بے بسی کے آنسو چھلک پڑتے تھے۔ماں کی آخری خواہش یہی تھی کہ اس کی بیٹی اس کی زندگی ہی میں اپنے گھر کی ہو جائے تو تب وہ سکھ کا سانس لے اور ہمیشہ کے لیے دنیا سے آنکھیں موڑ لے۔ بھائیوں نے خود غرضی کی انتہا کر ڈالی۔ وہ ماں کی آخری سانس تک شاید شازیہ کو بٹھائے رکھنے کا تہیہ کر چکے تھے، تاکہ ان کی بیویوں کو ان کے بوڑھے والدین کی خدمت نہ کرنا پڑ جائے۔ ابھی باپ کا چالیسواں بھی نہیں گزرا تھا کہ ماں بھی اس دنیا سے رخصت ہو گئی۔
شازیہ کی تو جیسے دنیا ہی اجڑ چکی تھی۔ ماں جس بستر پر سویا کرتی تھی اب اس پر خالی تکیہ اور چادر پڑی تھی، جسے دیکھ دیکھ کر شازیہ دل ہی دل میں چیختی تھی، آنسو بہاتی تھی لیکن اب اس کے آنسو دیکھ کر اس کی ڈھارس بندھانے والی روح اس دنیا سے رخصت ہو چکی تھی۔ سردیوں کی یخ بستہ راتوں کو شازیہ تڑپ تڑپ کر اٹھ بیٹھا کرتی اور ماں سے شکوہ کرتے ہوئے کہتی، "ماں !عمر کے اس حصے میں تم نے مجھے پیدا ہی کیوں کیا تھا اگر چھوڑ کے جانا تھا۔میں اب کس کے کندھے پر اپنا سر رکھ کے روؤں۔" وہ تنہائی میں خود کلامی کرتے کرتے فرطِ جذبات میں ماں کے تکیے سے لپٹ کر خوب رویا کرتی۔ رات کی اس خاموشی میں اسے چپ کرانے والا کوئی نہ تھا۔
تنہائیاں اب شازیہ کا مقدر بن گئی تھیں۔ اسے ناکردہ جرم کی سزا سنا دی گئی تھی۔

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !