بے چراغ بستیاں(افسانہ)... لہر نیازی

"کتنے لوگ اس زمین پر آباد ہوئے۔ ان میں سے کتنوں کو آج ہم جانتے ہیں، بس مٹھی میں ریت کے چند ذروں کے برابر۔ بس یہی خاک رہ جاتی ہے۔"
رحیم شاہ نے لائبریری کے کمرے کے کونے میں پڑی گرد اور خشک تنکوں کو سمیٹتے ہوئے سارم سے مخاطب تھا۔ گزشتہ شب آنے والی آندھی نے لائبریری کے سامنے والے کمرے کو اچھا خاصا گرد آلود کردیا تھا۔ سارم نے رحیم شاہ کی بات آگے بڑھاتے ہوئے کہا، "کچھ بے چراغ بستیوں کے تذکرے کتابوں میں شاید مل جاتے ہونگے۔ مجھے ایسی ہی بستی کی تلاش ہے۔"
رحیم شاہ نے سارم کی کتابوں والی بات سنی تو اسے لائبریری کا پرانے والا کمرہ کھولنے کا وعدہ یاد آگیا۔ اس نے ہاتھ جھاڑتے ہوئے چابیوں کا گچھا ہاتھ میں اٹھایا اور بولا، "آؤ پہلے تمھاری بے کار سی خواہش پوری کر دیتا ہوں۔ آؤ۔" دونوں کونے والے پرانے کمرے کی طرف بڑھے۔ 
دیودار کی لکڑی سے بنا پرانا دروازہ کہیں کہیں دیمک زدہ ہو چکا تھا۔ اس پر کندہ کاری اپنی تاریخ بتا رہی تھی۔رحیم شاہ نے قدیم طرز کا ٹھوس لوہے سے بنا گول تالا مشکل سے چابی گھما گھما کر آخر کھول ہی لیا۔
"یہ مکڑی کے جالے بھی عجیب چیزیں ہیں۔ یہ چیز کی قدامت کا پتہ دیتے ہیں۔ لگتا ہے برسوں کسی نے اس کمرے کا رخ ہی نہیں کیا۔"
سارم نے میونسپل کمیٹی میانوالی کی لائبریری کے بند کمرے کو کھولا تو مکڑی کے جالے اس کے چہرے سے لپٹ گئے۔ وہ چہرے کو دونوں ہاتھوں سے صاف کرتے ہوئے لائبریرین سے مخاطب ہوا۔ 
رحیم شاہ نے بتی جلاتے ہوئے کہا، "ادھر آتا کون جناب۔ یہ آپ کی ہیں جو ہمیں بھی ادھر کو گھسیٹ لاۓ۔"
بلب کی پیلی روشنی میں لکڑی کی کچھ الماریاں نظر آئیں جو اپنی بوسیدگی کا ماتم کر رہی تھیں۔ ساون کے مہینے میں ان الماریوں پر کیڑے مار سپرے کیے جانے کے باوجود دیمک کی کارستانی صاف دکھائی دے رہی تھی۔ سارم نے چشمہ اتار کر ٹشو پیپر سے صاف کرنے کے دوبارہ لگایا۔ اور ایک لکڑی کی الماری کی طرف بڑھا۔ بند الماری کے کواڑ کو ہاتھ لگایا تو وہ خود ہی ایک طرف کو لڑھک گیا۔ کچھ بوسیدہ کتابیں گر پڑیں اور کچھ صفحات بکھر گئے۔
سارم نے فوراً پیچھے مڑ کر دیکھا تو کوئی نہ تھا۔ رحیم شاہ شاید کچھ دیر پہلے ہی کمرے سے جا چکے تھے۔ سارم نے جلدی سے جیب سے رومال نکال کر ناک پر رکھ دیا۔ ان بوسیدہ کتابوں کے گرنے سے عجیب سی بو سارے کمرے میں پھیل گئی۔
 چپ چپی سی گرد کتابوں سے اڑ کر سارم کے جوتوں پر گر چکی تھی جسے سارم نے نذر انداز کرتے ہوئے الماری میں جھانک کر بقیہ کتب کو غور سے دیکھا۔ کچھ کتب کی جلدیں دیمک چاٹ چکی تھی۔ سارم نے چشمہ اتارا اور ایک بار پھر سے اسے ٹشو پیپر سے صاف کیا۔ چشمہ لگا کر الماری کے نچلے خانے میں جھانکنے ہی لگا تھا کہ کسی کے قدموں کی آہٹ سنائی دی۔ رحیم شاہ بکھری ہوئی کتب کو دیکھتے ہی سارم پر غصہ ہونے لگے۔ "ایک تو آپ جیسے جوانوں کو ایڈونچر کا بڑا شوق ہوتا ہے۔ ہر چیز کو کھوجنے میں لگے ہوتے ہیں۔ اس بوسیدہ الماری کو بھلا یوں چھیڑنے کا کیا تک بنتا تھا۔ حال میں ڈھیروں کتب سجی ہیں۔ انہیں پڑھو میاں۔ ان کونے کھدروں کو بخش دو۔" سارم نے خاموشی سے اس کی بات سنی اور تحمل سے جواب دیا، "شاہ جی! مجھے قدیم سفر ناموں کی کتب کی تلاش ہے۔" رحیم شاہ یہ سن کر سٹپٹا کر بولے، "او بادشاہو اس کباڑ سے کچھ نہیں ملنے والا۔ نرا میرا کام بڑھا دیا۔ آئیں باہر! مجھے کمرے کو تالا لگانے دیں۔" لائبریری کا وقت ختم ہوچکا تھا۔ رحیم شاہ نے ہال میں موجود تمام الماریوں کو تالے لگائے اور بڑی میزوں پر بکھرے آج کے تمام اخباروں کو ترتیب دینے لگا۔ سارم لائبریری سے نکل کر صحن میں کچھ دیر کے لیے رکا۔ اتنے میں اس کی نظر بوڑھے مالی پر پڑ گئی۔ مالی خشک ٹہنیوں کی کانٹ چھانٹ میں مصروف تھا۔ سارم نے پودوں کی تزئین و آرائش کی تعریف کی تو مالی اس کی طرف متوجہ ہوا اور گپ لگانے لگ گیا۔ باتوں ہی باتوں میں سارم نے معلوم کرلیا کہ رحیم شاہ سے پہلے یہاں جو لائبریرین تھا وہ اکثر ہاتھ سے لکھی گئی کتاب کا ذکر کرتا تھا۔ جس کو موچی سے سلائی کرا کر کتابی شکل دی گئی تھی۔ یہ گمنام قلمی نسخہ تھا جو کسی نے مرنے سے پہلے اس پہلے والے لائبریرین کے حوالے کیا تھا۔ سارم کو ایسے لگا جیسے اسے اسی قلمی نسخے کی تلاش تھی۔ جھٹ سے اس پرانے لائبریرین کے گھر کا تھوڑا بہت پتہ معلوم کیا اور شام سے پہلے گھر لوٹ آیا۔ انسان کی خواہشات بعض اوقات رسم دنیا سے ہٹ جاتی ہیں اور یوں انسان خالی پلاسٹک کے لفافوں کی طرح تیز آندھیوں کا شکار ہو کر کسی ببول کے درخت پر اٹک کے رہ جاتا ہے یا پھر کچرا کنڈی کی زینت بن جاتا ہے۔ سارم کے دل و دماغ پر گمنام قلمی نسخے کے بارے معلومات نے اچھا خاصا اثر کیا تھا۔ انسان کی عجیب نفسیات ہے۔ جب کبھی کوئی تمنا دل میں بس جائے تو باقی تمام معاملات پھیکے لگنے لگتے ہیں۔ دل کا سودا عجیب سودا ہوتا ہے۔ یہ سود و زیاں سے کہیں آگے کی بات ہوتی ہے۔ دل کی نگہبانی عقل نے کرنا ہوتی ہے، مگر کبھی کبھی دل نا فرمان ہو جایا کرتا ہے۔ سارم اگلی صبح ریشماں گلی میانوالی میں پرانے لائبریرین سے ملنے جا پہنچا۔
سلطان لائبریرین نے جوان کا شوق دیکھا تو اس کا مدعا تسلی سے سنا اور تفصیلات بتاتے ہوئے کہا، "میونسپل کمیٹی لائبریری میانوالی بہت قدیم لائبریری ہے۔ اس میں کئی قدیم قلمی نسخے زمانے کی عدم توجہی کا شکار ہو کر دیمک کی نظر ہو چکے ہیں۔ جس نسخے کے متعلق تم پوچھ رہے ہو۔ اسے ایک بوڑھے گمنام آثار قدیمہ کے متلاشی شخص نے مجھے لائبریری میں رکھوانے کو دیا تھا۔ میں نے سبز کپڑے میں بندھے اس نسخے کو بہت سنبھال کے رکھا۔" لائبریرین کچھ دیر خاموش رہا۔ سارم نے بیتابی سے پوچھا، "اس قلمی نسخے کے لکھاری نے اس نسخے کے بارے میں کچھ تو کہا ہوگا؟"
وہ لائبریرین کچھ سوچ کر بولا، "وہ آثار قدیمہ کا کھوجی تھا۔" اس نے ذہن پر زور ڈالتے ہوئے کہا، "اس قلمی نسخے کو میں نے جلد کرا کر کتابی شکل میں محفوظ کر لیا تھا۔ جسے لائبریری کے عقب میں چھوٹے کمرے میں پرانی لکڑی کی الماری میں رکھ دیا تھا۔ وہاں اس جیسے بیسیوں قلمی نسخے رکھے گئے تھے۔
اس قلمی نسخے میں روکھڑی شہر کے کئی صدیوں پہلے تعمیر ہونے والے کھگل قلعہ جو گندھارا دور سے تعلق رکھتا تھا کے کھنڈرات کی نشان دہی کی گئی تھی، جو دریائے سندھ میں آنے والے بہت بڑے سیلابی ریلے کی نظر ہو گیا تھا۔ وہ کھنڈرات موجودہ روکھڑی شہر کے مغرب میں تھے۔"
"شاہی قلعہ کے کھنڈرات؟" سارم نے حیرت سے پوچھا تو لائبریرین نے چشمہ صاف کرتے ہوئے جواب دیا، "جی، جی، وہ لکھتے ہیں کہ یہاں راجہ کلک کی عملداری میں ایک کھگل نام کا قلعہ تھا۔"
 "یہ کب دریا برد ہوا؟" سارم نے مزید حیرت زدہ ہو کر پوچھا تو وہ ذہن پر زور دے کر بولا، "غالباً 1773 میں دریائے سندھ میں ایک بڑا سیلابی ریلا آیا تھا۔ چند سالوں بعد جب دریا کا پانی اترا، تو اس قلعے کے کھنڈرات ظاہر ہو گئے۔ ان کھنڈرات میں سے 1868 میں ہندوؤں اور سکھوں نے بہت سے نوادرات سمیٹے تھے۔ کافی عرصہ بعد دوبارہ سیلابی ریلے نے ان کھنڈرات کو ڈھانپ لیا۔ کئی سالوں بعد 1935 میں دوبارہ کھگل کے کھنڈرات نکل آئے۔ مقامی لوگوں نے بہت قیمتی سکے، مورتیاں اور قیمتی پتھر یہاں سے ڈھونڈ لیے۔ انگریز دور میں انگریزوں نے ان کھنڈرات سے ملنے والے نوادرات ولایت بھجوا دیے۔" سارم بوڑھے لائبریرین کی باتوں میں گم ہو چکا تھا۔ اسے ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ خود 1868 میں سیلابی ریلے کو پسپا ہوتے اور روکھڑی کے کھنڈرات ظاہر ہوتے اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہو۔ وہ لائبریرین کی باتوں میں کھویا ہوا تھا۔ لائبریرین نے مزید بتایا، "روکھڑی کا میدانی علاقہ کافی عرصے بعد خشک ریتلے ٹیلوں میں بدل چکا تھا۔ وہاں سے جو مورتیاں اور بت ملے وہ سونے کے تھے۔ اور چاندی کے سکوں پر ایک طرف گھوڑا اور دوسری طرف بیلوں کی جوڑی کا نشان نمایاں تھے۔ یہ مورتیاں اور بت نقش و نگار کے حساب سے یونانی تھے۔"
 سارم اپنے خیالوں میں روکھڑی کے ریتلے ٹیلوں میں بھٹک رہا تھا۔ اچانک لائبریرین کی کھانسی نے اسے پھر سے ماضی سے حال میں لا پھینکا۔ لائبریرین بولا، "اچھا بیٹا اب میں آرام کرتا ہوں زیادہ دیر بیٹھ نہیں سکتا. بڑھاپا زیادہ دیر بیٹھنے کی اجازت نہیں دیتا." یہ کہہ کر لائبریرین کھانستے ہوئے رخصت ہوا۔ سارم مین بازار آ نکلا اور نیو نفیس بکس ڈپو سے میانوالی کے نقشہ جات جو چارٹ کی صورت میں پڑے تھے وہ خریدے۔ اب سارم اپنے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش میں تھا۔ اس نے قلمی نسخے کے متعلق پہلے سے ایک رائے قائم کر لی تھی۔ 
 ریت کے ٹیلوں کے نیچے چھپے راز کب کس پر کھلیں کوئی نہیں جانتا تھا۔ سارم خیالات کی دنیا میں غوطہ زن تھا۔ ساون کے آخری دن تھے۔ سارم پسینے میں شرابور گھر داخل ہوا اور پنکھا آن کیا ہی تھا کہ بجلی چلی گئی۔ حبس بڑھا تو برآمدے میں آ کر اس نے سولر پنکھا چلا دیا اور کرسی پر بیٹھے بیٹھے آنکھیں بند کرکے روکھڑی کے ریتلے ٹیلوں میں بھٹکنے لگا۔ وہ سوچ رہا تھا کہ آج تک کسی نے اس قدیم اجڑے شہر کی کیوں خبر نہ لی گئی۔ یہاں خزانے اور دفینے یقیناً آنکھ سے اوجھل ہوں گے اور دیکھنے والی آنکھیں منتظر ہوں گی کہ وہ کیسی دنیا ہوگی جو زمین کے نیچے دب چکی ہوگی۔ اور وہ کیسے لوگ ہوں گے جو کبھی اس دنیا کو آباد کئے ہوئے تھے؟ یہ قلمی نسخے کچھ نہ کچھ راہنمائی ضرور کریں گے۔ اگلے دن سارم لائبریری جا پہنچا۔ رحیم شاہ نے پہلے تو اپنے مخصوص انداز میں آئیں بائیں شائیں کی، مگر کچھ دیر بعد کمرہ کھول دیا اور کئی ایک نصیحتیں بھی کر ڈالیں۔ سارم نے احتیاط سے لکڑی کی بوسیدہ الماری کو کھول کر گرد کو جھاڑا اور الماری کے آخری شلف میں کپڑے میں لپٹی بوسیدہ کتاب کو باہر نکالا۔ کمرے میں پنکھا نہیں تھا۔ ایک عجیب سا حبس بھی تھا اور ایک عجیب سی بو بھی آ رہی تھی۔ مگر شوق نے اس شدت کو سہنے پر اکسایا ہوا تھا۔ سارم نے قلمی نسخے کے موبائل فون میں فوٹو محفوظ کئے اور کتاب کو واپس رکھ کر کمرے سے نکل آیا۔ انسان میں جلد بازی اور بے صبرا پن پایا جاتا ہے۔ قلمی نسخے کی کاپیاں نکلوا کر شد و مد سے مطالعہ شروع کر دیا۔ اگلے روز موسم کی خرابی کی وجہ سے ریتلے ٹیلوں کا سفر کرنا ممکن نہ تھا۔ سہ پہر کے وقت آندھی نے جھلک دکھائی اور جب موسم صاف ہوا تو سارم بائیک نکال کر شیرشاہ سوری والے قدیمی کچے راستہ پر چل پڑا۔
سرکنڈوں سے ہوتا ہوا روکھڑی کی ریتلے ٹیلوں کی طرف نکل آیا۔ یہ وہ قدیمی راستہ تھا جسے شیر شاہ سوری نے 1530 اور 1540 کی درمیانی مدت میں اپنے قافلوں کے لیے بنوایا تھا۔
کبھی یہاں سے بادشاہ کے قافلے گزرا کرتے تھے۔ سندھ کے مشرقی کنارے پر بہت چوڑا راستہ تھا جو آج ریت میں زیادہ تر گم ہو چکا تھا۔ اس کے دونوں اطراف جھاڑیاں اور سرکنڈوں نے اسے تنگ بنا دیا تھا۔ 
اس راستے سے دور مغرب کی طرف کھجور کے پرانے درخت نظر آرہے تھے۔ یہی کھجور کے پرانے درخت قلمی نسخے میں مذکور تھے۔ سارم نے موٹر سائیکل ایک درخت کے نیچے کھڑی کر کے ہاتھ میں قلمی نسخے لئے کھجوروں کے جھنڈ تک پہنچا۔ وہ نقشے کے مطابق چند قدم مغرب کی طرف بڑھا۔سارم خیالات کی دنیا میں کھو گیا۔ اسے ایسا لگا جیسے وہ قدیم بستی کے چوراہے میں کھڑا ہے اور ہر طرف قدیم روایتی لباس پہنے لوگ اپنے معاملات زندگی میں مشغول ہیں۔ اسے کہیں ریوڑ ادھر ادھر ہانکتے چرواہے نظر آرہے تھے۔ اسے ادھر ادھر چرواہوں کی سیٹیوں کی آوازیں اور کہیں بکریوں کے من منانے کی آوازیں کانوں میں پڑتی سنائی دینے لگی تھیں۔ 
سارم نے مغرب کی طرف کچھ فاصلے پر سندھ ساگر کو بہتا دیکھا۔ جس کی لہروں میں ڈوبتی سورج کی کرنیں غسل صحت کر رہی تھیں۔ ریت کے ٹیلوں پر جھاڑیاں سر جوڑے لہرا رہی تھیں۔ شام کا سورج آخری کرنیں سمیٹ رہا تھا۔
 سارم اس ویرانے میں ریت میں نظر آنے والے مٹی کے برتنوں کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں کو اٹھا اٹھا کر کچھ محسوس کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ وہ ان چھوٹے چھوٹے مٹی کے قدیم برتنوں کے ٹکڑوں کو ہاتھ میں اٹھا کر انگلی کی پوروں سے ایسے محسوس کر رہا تھا جیسے ان کے ذریعے وہ ان لوگوں تک پہنچ پا رہا ہو جو کبھی ان برتنوں کو بنانے والے تھے اور کبھی ان برتنوں میں کھایا کرتے تھے۔ سارم ان لوگوں کو بھی خیالی نظروں سے دیکھ اور سن رہا تھا۔
شام ہونے کو تھی۔ درختوں پر پرندے دھما چوکڑی مچانے کے لیے منڈلا رہے تھے۔ شیشم اور بیری کے درختوں پر چڑیوں نے گھونسلے بنا رکھے تھے اور بیا کے تھیلی والے گھونسلے کھجور کے درختوں پر جگہ جگہ لٹک رہے تھے۔ گندھارا دور کا قدیمی شہر یہیں کہیں صدیوں پہلے آباد و شاد تھا۔ غزنی اور کابل سے آنے والے قافلے یہیں سے گزر کر ملتان اور سندھ جایا کرتے تھے۔ مگر آج یہاں ریت کے ٹیلے اور ویرانے ہی ویرانی راج کر رہی تھی۔ ریت نے ٹھنڈک بکھیرنا شروع کر دی تھی۔ ہوا کے ساتھ سرکنڈوں اور ککری کی جھاڑیوں نے سرگوشیاں شروع کر دی تھیں۔ پرندوں نے خاموشی اختیار کر لی اور چپ سادھ کر بیٹھ رہے۔ گیدڑوں اور لومڑیوں کے قہقہے بلند ہونے لگے۔ ریت پر رینگنے والے جانور گوہ، سانے اور چوہے دوڑتے نظر آنے لگے۔ صحرا میں ہو کا عالم تھا۔ سارم کو احساس ہونے لگا کہ خیالات کی راہ میں بہہ کر وہ ریتلے ٹیلوں میں بہت آگے تک نکل آیا۔ اس کی موٹر بائیک تو بہت پیچھے رہ گئی تھی۔
ریت میں پاؤں دھنسے چلے جا رہے تھے۔ صحرائی کانٹے دار جھاڑیاں پاؤں جکڑ رہی تھیں۔ سارم کا خوف سے وجود کانپ رہا تھا۔ خزانے کی تلاش کا سارا جوش اور ولولہ کافور ہو چکا تھا۔ اس ویرانے سے اڑ کر گھر واپس آنا چاہتا تھا مگر ریت کے ٹیلے سب ایک طرح کی لگ رہے تھے۔ سارم ان بھول بھلیوں میں گم ہو چکا تھا۔
یاد ہی نہ پڑتا تھا کہ کس طرف سے آیا تھا اور کس طرف کو جانا ہے۔
 دور دور تک کہیں آبادی نظر نہیں آرہی تھی۔ ہاں البتہ کہیں کہیں دور بکریوں کی آوازیں آ رہی تھیں۔ وہ آوازیں دور کہیں جھگیوں کا پتہ دیتی تھیں۔ سارم جھاڑیوں سے الجھتا گرتا پڑتا کافی آگے تک آ گیا تھا۔ 
اسے کسی لالٹین کی ہلکی ہلکی پیلی روشنی کی جھلک نظر آئی تو اس کی جان میں جان آئی۔ 
  سارم درود اور وظیفے پڑھ پڑھ کر بالآخر موٹر بائیک تک آ پہنچا۔ اللہ اللہ کر کے گھر پہنچا اور اسے شدید بخار چڑھ گیا۔ اب اسے احساس ہوا کہ پرانی بے چراغ بستیوں کی کھوج بہت ہی مشکل مرحلہ ہوتا ہے۔ 
سارم نے اس تگ و دو سے بہت کچھ سیکھا تھا۔ وہ بستر پر پڑے سوچ رہا تھا کہ اس بستی کے لوگ اس قدیم زمانے میں کیسے جیا کرتے تھے۔ لیکن آج وہاں پر جانوروں اور جنگلی جھاڑیوں کا راج تھا۔ وہ لوگ اب نہیں رہے تھے نہ ہی ان کی آوازیں اور کوئی گھروندے باقی تھے۔ انہی خیالوں میں کھویا ہوا سارم جانے کب سو گیا۔

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !