یہ سوچ ہمارے اندر کافی لیٹ پیدا ہوتی ہے جب بچے لڑکپن میں داخل ہو چکے ہوتے ہیں۔ بچپن میں ہم خود بچوں کے لئے برانڈڈ اشیاء خرید کر لاتے ہیں شاید لاشعوری طور پر یہ ظاہر کرنا مقصود ہوتا ہے کہ ہمیں اولاد اپنے مال سے زیادہ پیاری ہے۔ لیکن ہمارے اس طرزعمل سے بچوں میں شروع سے ہی احساس تفاخر پیدا ہونے لگتا ہے۔
جو چیز برانڈڈ سٹیمپ کے بغیر 100 روپے کی ملتی ہے اسے خریدتے وقت ہم ناک منہ چڑاتے ہیں جبکہ اسی چیز پر کسی مشہور برانڈ کی سٹیمپ لگی ہو تو 500 میں بھی خوشی سے خرید لیتے ہیں۔
بنیادی طور پر برانڈنگ مارکیٹنگ کی ایک تکنیک ہے۔ بھرپور میڈیا ایڈورٹائزمنٹ کے ذریعے لوگوں کے ذہنوں میں اس کا نام بٹھا دیا جاتا ہے۔ ٹی وی، سوشل میڈیا اشتہارات اور سڑکوں پر بل بورڈز کے ذریعے۔۔ جابجا لگے پینافلیکسز۔۔ بڑے سٹورز پر ان ناموں کے سٹالز۔۔۔ غرض کسٹمر کو چاروں اطراف سے گھیر کر اسکے ذہن میں یہ بات بٹھا دی جاتی ہے کہ یہ برانڈ اعلٰی کوالٹی کی اشیاء بناتا ہے اور عوام ان مہمات سے متاثر ہو کر اس بات پر یقین بھی کر لیتے ہیں۔
ہر برانڈ اپنی مارکیٹنگ اور ایڈورٹائزمنٹ کے لئے ایک بڑا بجٹ مخصوص کرتا ہے اور یہ ساری رقم اس برانڈ کی پراڈکٹس کی قیمتوں میں ہی شامل ہوتی ہے اور ہم ان کی میڈیا کمپئین سے متاثر ہو کر نان برانڈڈ اچھی کوالٹی کی سستی اشیاء چھوڑ کر برانڈڈ لیکن مہنگی چیزیں خریدنے پر تیار ہو جاتے ہیں۔
ہمیں بچوں کو برانڈز کی اس دوڑ میں شامل ہونے سے روکنے کے لئے بچپن سے ہی انہیں سادگی کی عادت ڈالنے کی ضرورت ہے۔
ہمارے بچپن میں جب بھی سر کے بال انچ ڈیڑھ انچ تک بڑے ہو جاتے تو ابا حضور نائی کو بلا کر مشین سے ٹنڈ کروا دیتے اور کبھی کبھار تو یہی کام استرے سے بھی لیا جاتا۔۔ کالج دور تک بالوں میں کنگھی یا برش کرنے کی کوئی صورت ہی نہ بن پائی کہ بال اتنے سخت ہوتے تھے جن پر کسی کنگھی برش کا کوئی اثر نہ ہوتا تھا۔
ان جا بجا ٹنڈوں نے ہمیں فیشن اور برانڈز کے بارے سوچنے کا موقع ہی نہیں دیا اور اب بھی اس دوڑ سے باہر ہی ہیں۔ اس کا ایک فائدہ یہ ہوا کہ بال اب تک الحمدللہ گھنے اور سیاہ ہی ہیں۔ بہت سے لوگ پوچھتے ہیں کہ بالوں پر کونسا کلر لگاتے ہو۔۔۔ جواب یہ ہوتا ہے کہ بھائی میں تو شیمپو بھی استعمال نہیں کرتا صرف نہانے والے صابن کے ساتھ ہی دھو لیتا ہوں بس۔ اور کلر تو کبھی لگانے کا سوچا بھی نہیں۔
