حقیقی درویش۔۔۔۔ اسماعیل حسنی

شاہ ایران رضا شاہ پہلوی کا ایک جرنیل ایران ہی کے ایک درویش صفت آدمی کے پاس آیا، تعظیم و احترام کے تمام احکام بجا لاتے ہوئے جاری نشست میں دوزانو ہوکر بیٹھ گیا۔ مجلس میں لوگ ایک ایک کرکے اٹھتے چلے گئے، جب جرنیل کے ملنے کی باری آئی تو درویش نے جرنیل سے پوچھا:

”جی! کیسے آنا ہوا ہے؟“

جرنیل بولے:

”حضور! قاصد بن کر آیا ہوں۔“

درویش نے کہا:

”جی فرمائیے!“

جرنیل نے سر جھکاتے ہوئے کہا:

”شاہ کی طرف سے آپ کے نام ایک پیشکش ہے کہ آپ ہجرت کرجائیں، نان و نفقہ کےلیے آپ کی خدمت میں 2 ملین ڈالر پیش کیے جاسکتے ہیں۔“

درویش کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی، چمکتی آنکھوں سے جرنیل کی طرف دیکھتے ہوئے دھیمے لہجے میں کہا:

”میری طرف سے شاہ ایران کا شکریہ ادا کیجیے!“

جرنیل بہت خوش ہوئے اور بولے:

”جی حضور! ضرور بالضرور“

درویش نے کہا ٹھہریے ایک لمحہ، پھر سرگوشی کے انداز میں جرنیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا:

”شاہ سے جاکر کہیے کہ اگر آپ ہجرت کر جائیں تو آپ کے نان و نفقہ کےلیے بھی اتنی ہی رقم ہماری طرف سے پیش کی جاسکتی ہیں۔“

جرنیل نے ادب و آداب بجا لاتے ہوئے رخصت ہوئے اور یہ پیغام لیکر شاہ کے دربار میں پہنچے۔ اگلے روز تپتی ہوئی گرمی میں دوپہر کے وقت یہی جرنیل پھر حاضر ہوئے اور درویش کے فقیر خانے میں حاضری دی، درویش مراقبے میں تھے، سر اٹھا کر دیکھا، وہی جرنیل ہاتھ باندھے پھر کھڑا ہیں، پوچھا:

”شاہ نے آج کیا حکم دے کر بھیجا ہے میرے نام؟“

جرنیل ہانپتے کانپتے ہوئے نحیف لہجے میں گویا ہوئے:

”حضور! شاہ نے پوچھا کہ اگر یہ پیشکش ہم قبول بھی کرلیں تو آپ دو ملین ڈالر کہاں سے لا دیں گے ہمیں؟“

درویش کا چہرہ غصہ سے تمتما گیا، کھڑے ہوکر انگشتِ شہادت سے جرنیل کی ٹھوڑی اوپر اٹھائی اور کہا:

”جاکر شاہ سے کہہ دینا، میں ایران میں کسی سڑک پر کھڑے ہوکر لوگوں کو صدا دیکر کہوں کہ اے اہل ایران! شاہ سے نجات چاہتے ہو تو دو دو تومان (ایرانی کرنسی) لے کر میرے پاس پہنچو، میں تمہیں چار ہزار برس کی شاہی غلامی سے ازادی دلادوں گا۔“

یہ کہہ کر درویش رُکے اور جرنیل کی ٹھوڑی کے نیچے سے انگلی کسکائی اور پھر بولے:

”مجھے یقین ہے کہ ایک ہی روز صبح سے شام تک دو ملین نہیں بلکہ چار ملین ڈالر اہل ایران کی طرف سے جمع ہوجائیں گے۔“

یہ گزشتہ صدی کی نصف حصے کا ایک عظیم واقعہ ہے، یہ واقعہ سن 60ء کی دَہائی کا ہے، یہی وہ ایام تھے جب شاہ ایران رضا شاہ پہلوی کو ایک طرف امریکی آشیرباد پر بڑا غرور تھا کہ کوئی میرا کچھ بھی نہیں بگاڑ پائے گا۔ دوسرا اقتدار کی طاقت کی مدہوشی میں سیاسی مخالفین پر زمین تنگ کردی تھی، کسی کو لالچ دیکر خریدتا تھا تو کسی کو تنگ کرکے جلاوطنی پہ مجبور کر رہا تھا۔ ان دنوں اقتدار بچانے کےلیے عوام کو خوہشات کے پیچھے لگا کر شُتر بے مُہار کی طرح نہ صرف بے ہنگم لبرل ازم کو سرکاری طور پر فروغ دے رہے تھے بلکہ اس سے آگے وہ سعودی فرمانروا شاہ فیصل کو بھی ترغیب دے رہے تھے کہ دنیا ماڈرن ازم کی طرف بڑھ رہی ہے، اقتدار بچانا ہے تو عوام کو حیوانات کی طرح ان کی خواہشات اور نفسیات کے مطابق کھلا چھوڑ دو، رہنے دو مذہبی طبقہ کو خوش رکھنے کی پالیسیاں اور منصوبہ بندیاں۔ شاہ فیصل نے جواب دیا کہ میں تو آپ کو بھی کہتا ہوں کہ مذہبی طبقہ کو نہ چھیڑیں، آپ کے ہاں کے مذہبی میرے مذہبیوں سے زیادہ خطرناک ہیں، ہم نے معاہدے کی تحت انہیں کچھ اقتدار سے بے دخل رکھ مذہبی امور سپرد کرکے خاموش اور محدود کر رکھی ہے، آپ انہیں نہ دبا سکتے ہیں اور نہ ہی لالچ دے کر خاموش کرسکتے ہیں۔ شاہ ایران اپنے لیے ڈاکٹر علی شریعتی کی تحریک کو چیلنج سمجھ رہے تھے، اس کے علاوہ کئی مولویوں کو وظائف دیکر ہمنوا بنا لیا تھا۔ جب درویش کی باری آئی تو انہوں نے الٹا شاہ کو ہجرت کرنے اور نان و نفقہ کے مد میں دگنی دولت کی پیشکش کی، شاہ نے یہ پیشکش سن کر بات ہنسی مذاق میں اڑادی، پتہ ہے یہ درویش کون تھے؟ جی ہاں یہ درویش خمین کے آیت اللہ روح اللہ المعروف بامام خمینی تھے۔ امام خمینی نہایت پرامن حکمت عملی اور پرتاثیر جدوجہد سے شاہ ایران کے چار ہزار سالہ بادشاہت کو یوں زمین بوس کردیا کہ امریکہ جیسے سپرپاور بھی اپنے اس کٹھ پتلی بادشاہ کو بچانے میں ناکام رہے۔ گزشتہ صدی میں دنیائے اسلام میں بہت سارے واقعات رونما ہوئے، انقلاب ایران ان سب واقعات میں سے سب اہم واقعہ ہے۔ اختلافِ فقہ اپنی جگہ مگر یہ تسلیم کرنا پڑے گی کہ دورِ حاضر کی سیاست میں دنیا میں انقلاب ایران مسلمانوں کےلیے ایک بہترین رول ماڈل ہے، اسی ماڈل استبدادی نظام کے سامراجی قوتوں سے چھٹکارا پاسکتے ہیں۔

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !