ہماری زبان بھی عجیب شے ہے۔ ایک ہی لفظ اٹھا کر مختلف موقعوں پر رکھ دیتی ہے اور معنی ایسے بدل جاتے ہیں جیسے ایک ہی آدمی نے کبھی امام مسجد کا لباس پہن رکھا ہو اور کبھی جادوگر کا۔ لفظ "کھانا" بھی ایسا ہی ایک کرشمہ ساز لفظ ہے۔ عام آدمی سمجھتا ہے کہ کھانا صرف اس چیز کا نام ہے جو دستر خوان پر رکھی جاتی ہے، مگر ہمارے معاشرے نے اس لفظ کو اتنی وسعت دے دی ہے کہ اب انسان صرف روٹی، سالن اور چاول ہی نہیں کھاتا، بلکہ جوتے، ڈانٹ، دھکے، طعنے، دوسروں کے پیسے اور کبھی کبھار عزت اور خواب بھی کھا جاتا ہے۔
بچپن ہی سے انسان کی تربیت اس فنِ لطیف میں شروع ہو جاتی ہے۔ ماں کے ہاتھ کی پہلی چپت کھاتے ہی بچہ سمجھ جاتا ہے کہ زندگی میں کھانے کی دو قسمیں ہیں، ایک وہ جو منہ کو خوش کرتی ہے اور دوسری وہ جو منہ کو خاموش کرا دیتی ہے۔ سکول جاتے ہی یہ تربیت باقاعدہ نصاب کا حصہ بن جاتی ہے۔ ماسٹر صاحب کا ڈنڈا ایسا استاد ثابت ہوتا ہے کہ ضرب کے پہاڑے سے پہلے ہی بچہ ضرب کھانے کا ماہر ہو جاتا ہے۔ اور جو طالب علم گھر کا کام نہ کرے، وہ اسکول کے ڈنڈے اور گھر کی جھاڑ کے درمیان ایک متوازن خوراک پر پلتا ہے، جسے موجودہ دور میں شاید "بیلنسڈ ڈائٹ" کہا جائے۔
جوانی میں قدم رکھتے ہی یہ فن اپنے عروج پر پہنچتا ہے۔ محبت میں ناکامی ہو تو دل شکستگی کھائی جاتی ہے، رقیب سے مقابلہ ہو تو مکے کھائے جاتے ہیں، اور اگر معاملہ لڑکی کے بھائیوں تک پہنچ جائے تو پھر انسان ایک ہی رات میں پوری زندگی کا کھانا کھا لیتا ہے۔ بس کے سفر میں دھکے کھانا، دفتر میں افسر کی جھاڑ کھانا، اور محلے کی پنچایت میں بلاوجہ شرمندگی کھانا، یہ سب اسی خوراک کے ذائقے دار پہلو ہیں جن کا ذکر کسی کھانے کی کتاب میں نہیں ملتا مگر زندگی کے ہر باورچی خانے میں پکتے ضرور ہیں۔
مگر اصل کمال کھانے والے تو وہ ہیں جو دوسروں کا رزق ہڑپ کر جاتے ہیں۔ کوئی امانت میں خیانت کر کے دوست کی جمع پونجی چٹ کر جاتا ہے، کوئی یتیم کا حق کھا جاتا ہے، اور کوئی سرکاری خزانے کو یوں نگل جاتا ہے جیسے دستر خوان پر رکھا سالن ہو۔ یہ کھانے والے اتنے صاحبِ ہنر ہوتے ہیں کہ دوسروں کا پیسہ کھا کر بھی ڈکار نہیں لیتے، بلکہ الٹا یہ ثابت کرنے پر تلے رہتے ہیں کہ یہ لقمہ تو ان کا اپنا حق تھا۔ اور کچھ لوگ اس سے بھی آگے نکل جاتے ہیں، وہ صرف پیسہ نہیں کھاتے بلکہ دوسروں کے خواب کھا جاتے ہیں۔ کسی نوجوان کا شوق، کسی بیٹی کی امنگ، کسی غریب کی امید، سب اسی دستر خوان پر پروسی جاتی ہے اور بڑی بے دردی سے ہضم کر لی جاتی ہے۔ خواب کھانے والوں کی خوراک میں کیلوریز تو نہیں ہوتیں، مگر ضمیر پر بوجھ ضرور بڑھ جاتا ہے، سوائے ان کے جن کا ضمیر پہلے ہی کسی اور دعوت میں کھایا جا چکا ہو۔
سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کھانے کی کوئی ایکسپائری تاریخ نہیں ہوتی۔ بچپن میں کھایا ہوا طعنہ برسوں بعد بھی ویسے کا ویسا تازہ رہتا ہے اور موقع ملتے ہی دوبارہ ہضم ہونے کے لیے واپس آ جاتا ہے، اور جس کا خواب کھایا گیا ہو وہ بھی ساری عمر یہ ذائقہ نہیں بھولتا۔ جبکہ عام کھانا تو رات گزرتے ہی باسی ہو جاتا ہے۔ شاید اسی لیے بڑے بوڑھے کہتے ہیں کہ "جو کھانا آسانی سے ہضم نہ ہو، وہ زندگی بھر یاد رہتا ہے۔"
شادی کے بعد تو یہ فن مزید نکھر جاتا ہے۔ میاں بیوی کی نوک جھونک میں دونوں ایک دوسرے کو باتیں کھلاتے ہیں اور خود بھی خوب کھاتے ہیں، مگر عجیب بات یہ ہے کہ اس کھانے کے بعد بھی دونوں کا وزن نہیں بڑھتا، البتہ برداشت کا وزن ضرور بڑھ جاتا ہے۔ گھر کے بڑے اکثر یہ بھی سمجھاتے ہیں کہ زندگی میں کامیاب ہونے کے لیے صرف اچھا کھانا کافی نہیں، برا کھانا ہضم کرنے کا ہنر بھی آنا چاہیے۔ اور واقعی، جو یہ ہنر سیکھ لے، وہی زندگی کے میدان میں ڈٹا رہتا ہے۔
دفتروں میں تو یہ فن باقاعدہ ترقی کی سیڑھی سمجھا جاتا ہے۔ جو ملازم افسر کی جھاڑ خاموشی سے کھا جائے، وہ "مہذب" اور "قابلِ ترقی" کہلاتا ہے، اور جو جواب دے بیٹھے، اسے "بدتمیز" اور "منہ پھٹ" کا خطاب مل جاتا ہے۔ گویا دفتر کی کامیابی کا راز صرف کام میں نہیں، اس بات میں بھی ہے کہ روزانہ کتنی خاموشی سے کتنا کچھ کھایا جا سکتا ہے۔ کچھ لوگ تو اس فن میں اتنے طاق ہو جاتے ہیں کہ افسر کی ڈانٹ کھاتے ہوئے چہرے پر ایسی مسکراہٹ سجا لیتے ہیں جیسے کوئی میٹھی چیز چکھ رہے ہوں، اور وہی لوگ موقع ملتے ہی دفتر کا فنڈ بھی اسی مہارت سے چٹ کر جاتے ہیں۔
سچ تو یہ ہے کہ ہم سب اسی کھانے پر پل کر بڑے ہوئے ہیں۔ کسی نے کم کھایا کسی نے زیادہ، کسی نے صرف طعنے اور دھکے کھائے اور کسی نے پیسہ اور خواب بھی ہڑپ کر لیے، مگر جس نے یہ کھانا نہیں کھایا، وہ زندگی کا اصل ذائقہ چکھنے سے محروم ہی رہا۔ سو اگلی بار جب کوئی ڈانٹ پڑے، دھکا لگے، طعنہ ملے، یا کوئی آپ کا حق اور خواب ہڑپ کر جائے، تو دل برا کرنے کے بجائے مسکرا کر کہہ دیجیے: "شکر ہے، آج کا کھانا مل گیا۔"
