چڑیا کی چیخ و پکار۔۔۔ آسیہ عمران

  شدید گرمی تھی۔فضا ساکت۔پتوں نے سرسرانا تو کیا ہلنا بھی بند کر دیا تھا۔بے چین چڑیا نہ جانے کس مسئلے میں پھنسی تھی۔زرا جو چپ ہوتی۔درخت کے نیچے بیٹھی دادو امی نے معاملہ جیسے بھانپ لیا۔لگتا ہے درخت پر سانپ ہے۔سب یہاں سے ہٹ جائیں۔لمحوں میں سب چارپائیوں سے اٹھ کھڑے ہوئے۔سب غور سے گھنے درخت کی شاخوں میں نگاہیں دوڑانے لگے۔چڑیا اب بھی بے چین چکر لگا رہی تھی۔چچا جان جلدی میں بندوق اٹھا لا?۔سب بچوں کو ہٹاکر دیکھا۔بلآخر سانپ نظر آہی گیا۔انھوں نے نشانہ باندھا۔اور گولی چلادی۔سانپ پتوں سے لڑھکتا نیچے آرہا۔گولی نے اس کا سر اڑا ڈالا تھا۔۔ننھی چڑیا مطمئن ہو کر گھونسلے میں جا بیٹھی اس نے چیخ وپکار سے ہلچل مچادی تھی۔ بلاآخر خود کو محفوظ کرنے میں کامیاب ہو ئی۔ تھوڑی ہی دیر بعد بچوں کا قافلہ مردہ سانپ  ڈنڈے پر اٹھائے گلیوں میں گھوم کر شو مار رہا تھا۔

            میں سوچ رہی تھی ہم تو چڑیا سے بھی گئےگزرے ہیں۔چشم دید دشمن ہر پہلو سے مکمل تیاری کے ساتھ ہم پر حملہ آور ہے۔ اور ہمارا پیارا سا گھونسلہ جسے آبا نے بڑے ارمانوں اور قربانیوں سے بنایا تھا۔ان کے ہمہ پہلو زد میں ہے۔کہیں میڈیا کی زہرناکی،کہیں تہذیب مغرب کے ناسور تو کہیں دور فتن کے پنجے ہیں۔ نظریاتی تشخص پربھی سوال ہیں۔معاملہ یہاں تک ہی نہیں دشمن نے گھر میں گھس کر محافظوں کو یرغمال بنا ڈالاہے۔عقل وخرد پر  بھی پہرے اور دہائیاں ہیں۔ نہ کچھ کر نے کی سکت ہے۔ نہ سوچنے کا حوصلہ۔گھر کا مینیو تک انھی کا ترتیب دیا ہوا ہے۔ہمارے تو سونے کے اوقات تک اپنے نہیں۔ آنکھیں اندھی اور کان بہرے بنیہیں۔پہناوے اور معیار بھی اغیار کا ہے۔ انکی پیمانوں پر ہماری اقدار پرکھی جاتیں اور نئی ایڈاپٹ کی جاتی ہیں۔ابحاث کے موضوع بھی ان کے نتائج بھی انھی کی حسب منشا ہیں۔ دگرگوء کے کیا کہنیہیروں کی کان میں بیٹھے اغیار کے پتھروں پر فخر کرتے ذلت کی گہرائی میں سربلندی کے گیت گا رہے ہیں۔اس وقت ہم پر حملے کے لئے ریفریمنگ کی ٹیکنیک استعمال ہو رہی ہے۔کسی بھی خیال تصور اور عقیدے کو ایک نئےمعنی اور مفہوم کے ساتھ پیش کیا جا تا ہے۔جو اس کے اصل سے بالکل الٹ اور متضاد ہوتا ہے۔اسی ٹیکنیک سے جہاد کو فساد،بے حیائی کو اعتماد میں بدلا گیا ہے۔عورت کی بے توقیری  آزادی کے نام پر ہوئی ہے۔ توہین نسواں  جمال نسواں کے نام سے ہوئی ہے۔ لبرلزم کے مہیب سائے تحفظ کے نام پرقانون میں ڈھلنے لگے ہیں۔ نظام تعلیم کے معیارات تاریخ انسانی میں پہلی بار مادیت کی بنیاد پر استوار ہو ئے ہیں۔ ایسا باڈی آف نالج کریٹ کیا گیا ہے جس میں عورت صرف عورت ہے۔ماں،بہن، بیٹی،بیوی کی محترم و مکرم صورت میں کہیں نہیں۔ بچے بوڑھے ہوں یا جواں انھیں فطرت سے کاٹنے کی مکمل منصوبہ بندی ہے۔محبت بھرے لمس کے بجا? ان کی عاقبت پیشہ ور ہاتھوں میں دینے کے اقدامات اٹھائے جا چکے ہیں۔  المیہ در المیہ ہے اور ہم ہیں کہ بیخبر چین کی نیند سوئے گھونسلے ہی نہیں خود سے بھی بے خبر ان دیکھے نشے کے زیر اثر ہیں۔

            کاش چڑیا جتنا ہی شور ہم نے بھی مچایا ہوتا۔توسرمایہ داری کا نانگ  مادیت کے ڈنگ کے ساتھ گھونسلے کی طرف بڑھتے دیکھ کر   مالک کائنات کو رحم آتا کہ  اس دنیا میں وسائل  کی کمی تو نہیں۔کچھ تو ہمارے بھی مدد گار ٹھہرتے۔ کوئی زمانہ ساز ہمارا مسئلہ بھی سمجھ جاتا۔دوسروں کو زہرناکی سے بچاتا۔اسکی پکار پر کہیں سے بندوق بردار بندوق تھامے نشانہ لیتا اور مرکز شر کو اڑا دیتا۔ہم بھی محفوظ ہوتے اور کسی کو سامان ذوق وشوق میسر آتا۔

Tags

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !