میں سوچ رہی تھی ہم تو چڑیا سے بھی گئےگزرے ہیں۔چشم دید دشمن ہر پہلو سے مکمل تیاری کے ساتھ ہم پر حملہ آور ہے۔ اور ہمارا پیارا سا گھونسلہ جسے آبا نے بڑے ارمانوں اور قربانیوں سے بنایا تھا۔ان کے ہمہ پہلو زد میں ہے۔کہیں میڈیا کی زہرناکی،کہیں تہذیب مغرب کے ناسور تو کہیں دور فتن کے پنجے ہیں۔ نظریاتی تشخص پربھی سوال ہیں۔معاملہ یہاں تک ہی نہیں دشمن نے گھر میں گھس کر محافظوں کو یرغمال بنا ڈالاہے۔عقل وخرد پر بھی پہرے اور دہائیاں ہیں۔ نہ کچھ کر نے کی سکت ہے۔ نہ سوچنے کا حوصلہ۔گھر کا مینیو تک انھی کا ترتیب دیا ہوا ہے۔ہمارے تو سونے کے اوقات تک اپنے نہیں۔ آنکھیں اندھی اور کان بہرے بنیہیں۔پہناوے اور معیار بھی اغیار کا ہے۔ انکی پیمانوں پر ہماری اقدار پرکھی جاتیں اور نئی ایڈاپٹ کی جاتی ہیں۔ابحاث کے موضوع بھی ان کے نتائج بھی انھی کی حسب منشا ہیں۔ دگرگوء کے کیا کہنیہیروں کی کان میں بیٹھے اغیار کے پتھروں پر فخر کرتے ذلت کی گہرائی میں سربلندی کے گیت گا رہے ہیں۔اس وقت ہم پر حملے کے لئے ریفریمنگ کی ٹیکنیک استعمال ہو رہی ہے۔کسی بھی خیال تصور اور عقیدے کو ایک نئےمعنی اور مفہوم کے ساتھ پیش کیا جا تا ہے۔جو اس کے اصل سے بالکل الٹ اور متضاد ہوتا ہے۔اسی ٹیکنیک سے جہاد کو فساد،بے حیائی کو اعتماد میں بدلا گیا ہے۔عورت کی بے توقیری آزادی کے نام پر ہوئی ہے۔ توہین نسواں جمال نسواں کے نام سے ہوئی ہے۔ لبرلزم کے مہیب سائے تحفظ کے نام پرقانون میں ڈھلنے لگے ہیں۔ نظام تعلیم کے معیارات تاریخ انسانی میں پہلی بار مادیت کی بنیاد پر استوار ہو ئے ہیں۔ ایسا باڈی آف نالج کریٹ کیا گیا ہے جس میں عورت صرف عورت ہے۔ماں،بہن، بیٹی،بیوی کی محترم و مکرم صورت میں کہیں نہیں۔ بچے بوڑھے ہوں یا جواں انھیں فطرت سے کاٹنے کی مکمل منصوبہ بندی ہے۔محبت بھرے لمس کے بجا? ان کی عاقبت پیشہ ور ہاتھوں میں دینے کے اقدامات اٹھائے جا چکے ہیں۔ المیہ در المیہ ہے اور ہم ہیں کہ بیخبر چین کی نیند سوئے گھونسلے ہی نہیں خود سے بھی بے خبر ان دیکھے نشے کے زیر اثر ہیں۔
کاش چڑیا جتنا ہی شور ہم نے بھی مچایا ہوتا۔توسرمایہ داری کا نانگ مادیت کے ڈنگ کے ساتھ گھونسلے کی طرف بڑھتے دیکھ کر مالک کائنات کو رحم آتا کہ اس دنیا میں وسائل کی کمی تو نہیں۔کچھ تو ہمارے بھی مدد گار ٹھہرتے۔ کوئی زمانہ ساز ہمارا مسئلہ بھی سمجھ جاتا۔دوسروں کو زہرناکی سے بچاتا۔اسکی پکار پر کہیں سے بندوق بردار بندوق تھامے نشانہ لیتا اور مرکز شر کو اڑا دیتا۔ہم بھی محفوظ ہوتے اور کسی کو سامان ذوق وشوق میسر آتا۔
